زمانہ آیا ہے بےحجابی کا

article-105.jpg

ایک زمانہ تھا جب ٹیلی-ویژن انٹرینمنٹ کا واحد ذریعہ تھا، بچوں سے لے کر بوڑھوں تک کے لیے معیاری پروگرام نشر کئے جاتے تھے، تمام فیملی ممبرز اکٹھے بیٹھ کر دیکھنا پسند کرتے تھے. چند ایک چینلز تھے جو آرام و سکون سے اپنی نشریات کا سمندر ناضرین کے لیے پھیلائے ہوئے تھے… اس سمندر میں پہلا پتھر تب پھینکا گیا، جب نجی ٹی وی چینلز کی شروعات ہوئی. اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے چینلز کی بھرمار ہو گئی. تمام چینل ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش میں نت نئے پروگرام دکھانے لگے. اس بھونچال کے نتیجے میں معیار کہیں پیچھے، بہت پیچھے رہ گیا. ایسی نشریات آنے لگیں جن کو شریف خاندانوں کے لوگ اکٹھے بیٹھ کر دیکھنا تو کجا، اکیلے دیکھنے سے بھی کترانے لگے. پھر وہ دور شروع ہوا جو آج کا دور ہے. آج کا میڈیا..
الیکٹرانک میڈیا، جس کا ہماری زندگیوں میں آج کل سب سے زیادہ عمل دخل ہے، یقین جائیے کہ ہماری زندگیوں میں بہت سی نامحسوس تبدیلیوں کا باعث بن رہا ہے، ہمارے ملک کی آبادی کا ایک بڑا حصہ اب بھی انٹرٹینمنٹ کے لیے ٹی وی کا شوقین ہے،جس کے مارننگ شوز ہماری خواتین، ڈرامے ہماری نوجوان نسل اور اشتہارات ہمارے بچوں کے پسندیدہ ہیں…

سوال یہ ہے کہ دن رات دکھائے جانے والے یہ پروگرام ہمارے لوگوں کی تربیتوں پر کیا اثر ڈال رہے ہیں..؟؟؟
جواب یہ ہے کہ ہمارے لوگوں میں سے حیا کا تصور ختم کیا جا رہا ہے…. کیا مارننگ شوز، کیا ڈرامے، کیا اشتہارات…. عورت کو ایک ایسا ماڈل بنا دیا گیا ہے جس کا چادر اور چار دیواری کا کوئی تعلق دکھائی نہیں دیتا …
اور جب معاشرے سے حیا اٹھ جاتی ہے…. تو ایسے ایسے حادثات رونما ہوتے ہیں کہ آسمان کانپ اٹھتا ہے اور زمین خون کے آنسو روتی ہے…

وہ عورت، جس کو نسلوں کی تربیت کی ذمہ داری سونپی گئی، جب غلط راہ پر چل پڑتی ہے… توکیسا ظلم کرتی ہے… یہ اسی میڈیا کے اثرات ہیں جو ہمارے شعور اور آگہی کو کھا جاتے ہیں.. عورتوں کو بلاضرورت گھروں سے باہر نکلنے اور مردوں کی برابری کا شوق دلاتے ڈرامے، ہمارے معاشرے کو بلاشبہ تباہی کی جانب دھکیل رہے ہیں. لوگوں کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ ہر کوئی اپنی حدود میں رہ کر اپنا کام کرے گا تو وہ اس کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو گا اور معاشرے کے لئے بھی…

دوسری طرف روزمرہ کے استعمال کی اشیاء کے وہ اشتہارات ہیں جو ہمارے بچوں کے معصوم ذہنوں پر اپنا رنگ جما رہے ہیں… ہر . چائے، بسکٹ، کے اشتہار پر تھرکتے لوگ، بچوں کی توجہ کا مرکز بن کر ان کے لاشعور میں رقص و موسیقی ایسی بٹھا دیتے ہیں کہ وہ اس کام کو ناپسند کرنا تو درکنار، اپنانے کے خواہشمند نظر آتے ہیں.. کہاں ملتے ہیں اب وہ بچے جو اپنا رول ماڈل صحابہ کرام اور ہمارے اسلامی ہیروز کو بناتے تھے. اچھی شہرت پا جانے والے اداکار اور فنکار اور موسیقار اور گلوکار آج کل رول ماڈل بنائے جاتے ہیں .. موسیقی ، جو دلوں میں نفاق پیدا کرتی ہے، اب ہر اشتہار کی زینت بن چکی ہے. Rio جیسے خاص بچوں کے لیے بنائے گئے اشتہارات میں بچوں کو جس قسم کا پیغام دیا جا رہا ہے وہ یقیناً ان کے بگاڑ کا سبب ہے.

اگر مارننگ شوز کی بات کی جائے، تو rating کے چکر میں ایسے ایسے ناپسندیدہ اور غیر اخلاقی موضوعات کا چناؤ کیا جاتا ہے جو زیر بحث لائے جانے کے قابل ہی نہیں ہیں.ان کے علاوہ زیورات اور ملبوسات کی نمائش نے، معذرت کے ساتھ، عام خاتون خانہ کا خانہ تو خراب کیا ہی ہے، شادی کی تقریبات تمام فضول اور بے ہودہ رسموں کے ساتھ ہوں دھوم دھڑکے سے دکھائی جانے لگی ہیں کہ گویا شادی کرنا ہی زندگی کا اصل مقصد ہے، ایک fantasy ہے.اس کے بعد عائد ہونے والی ذمہ داریوں کا کوئی وجود نہیں. اس سب سے ہماری نوجوان نسل کا رخ جس جانب موڑا جا رہا ہے اس کے نتائج اچھے نہیں ہیں….

ہمارے فنکاروں کے مطابق، آج کا دور پاکستانی ڈرامے کے عروج کا دور ہے. تو آئیے ذرا ایک نظر اس پر بھی ڈال لیتے ہیں، عشق و محبت کی غیر معیاری داستانوں (ڈرامہ سیریل صنم) ، مرد و زن کے اختلاط اور مقدس رشتوں کی پامالی (ڈرامہ سیریل کدورت) پر مبنی ڈرامے تو گویا کئی سال سے بن رہے ہیں، اب کچھ حساس موضوعات کو بھی چھیڑا جانے لگا ہے. “اڈاری” اور “خدا میرا بھی ہے” اس کی موجودہ مثالیں ہیں. نجانے ان کو دکھانے کا مقصد کیا ہے. کیونکہ یہ ڈرامے پہلے سے موجود مسائل کو اچھالتے تو ہیں، لیکن حل نہیں دیتے… دوسرا بڑا معاملہ شرعی مسائل کا ہے، جن کو غلط انداز میں پیش کیا جاتا ہے. ناضرین میں مقبول ڈرامے “پاکیزہ”، اور “ذرا یاد کر ” میں ایسے ہی معاملات کو دکھایا گیا ہے، جن کا پیمرا کو نوٹس لینا چاہیے. “اڈاری” جیسے موسیقی سے محبت سکھانے والے ڈرامے ہوں یا “صدقے تمہارے” جیسے ماں باپ کی نافرمان اولاد کی کہانیوں پر مبنی سیریل، ان کے غلط اثرات ہماری ابھرتی ہوئی نئی نسل پر پڑ رہے ہیں، جو کسی صورت قابل قبول نہیں ہیں..

از:
نخلہ مطہرہ

انتطامیہ اُردو صفحہ

انتطامیہ اُردو صفحہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top