یادش بخیر عہدِ گزشتہ کی صحبتیں

article-103.jpg

یومِ تکبیر ہے آج غالباً. ارادہ تو کسی کو بھی مبارکباد دینے یا مطلع کرنے کا نہیں تھا لیکن اچانک نظر سے ایک پروفیسر صاحب کی تحریر گزری… جس میں انہوں نے لکھا کہ اگر بھٹو کے قتل کی تصیح کروائی جا سکتی تھی تو ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے قومی ملکی سیاسی اور عدالتی سطح پہ معافی مانگ کر انکی عزت بھی بحال کروائی جا سکتی تھی…

یہ بات پڑھتے ہی حسبِ معمول گردِش ایام نے پیچھے کی طرف دوڑنا شروع کر دیا اور مجھے اپنی مادرِعلمی پنجاب یونیورسٹی میں گزرا ایک گرم دن یاد آ گیا…

ایسے ہی تپتے ہوئے دن تھے… اور لوڈ شیڈنگ ہاسٹلز میں بھی ڈیرے جما چکی تھی… کلاس سے نکلتے ہوئے سوچا کرتے کہ ہاسٹل میں بجلی نہ ہوگی تو گھڑی دو ادھر ہی اے سی میں بیٹھ جائیں… اتنی دیر میں یونیورسٹی میں بھی بجلی چلی جاتی تو
چار و ناچار ہاسٹل کا رُخ کرتے. اور آگے بھی بجلی والوں کو کوستے ہوئے کتابیں بستے کھالے کے کنارے پھینک کر پانی میں پیر ڈبو کے بیٹھ جاتے. اگر کوئی جی دار لڑکی جامن کے درخت پہ چڑھ جاتی تو بجلی کا غم غلط ہو جاتا بس.

انہی گرم دنوں میں نوٹس بورڈ پہ نوٹ لگا کے اگلے دن ڈاکٹر عبدالقدیر خان فیصل آڈیٹوریم میں طلبا سے خطاب کریں گے… ہم دوستوں نے ارادہ کر لیا کہ صبح ضرور جلد از جلد آڈیٹوریم میں پہنچ جائیں گی.

یہ بھی سوچا کہ چھٹی کے وقت نوٹیفکیشن لگا ہے یقیناً رش کم ہو گا. اپنے تئیں یہ خبر ہر طالب علم دوسرے گروپ سے چھپا کے رکھ رہا تھا تا کہ اگلے دن رش کم پڑے اور آڈیٹوریم میں مناسب جگہ سیٹ مل سکے.

تیاریاں رات ہی مکمل کر لی گئیں تا کہ صبح سات بجے آڈیٹوریم پہنچ جائیں، ہاسٹل میں رہتے ہوئے وہ سات بجے ہمارے لیے ایسے ہی تھے گویا سحری میں اٹھ کھڑے ہوئے ہوں.

خیر جب ہماری سحری ہو گئی تو ایک دوسرے کے کمرے کے دروازے بجاتے جلدی جلدی کے کاشن دیتے لڑتے بھڑتے، لپکتے جھپکتے سات بجے ہاسٹل سے نکل ہی آئے. فیصل آڈیٹوریم آ کے پتہ چلا کہ ادھر تو لوگوں کی دوپہر ہے. حقیقی معنوں میں کھڑکی توڑ رش تھا.. دھکم پیل میں دھکے دے دلا کے اپنی طرف سے کچھ آگے تک پہنچ ہی گئے لیکن انتظامیہ نے دروازہ کھولنے سے انکار کر دیا اور بتایا کہ لوگ زمین پہ بھی بیٹھ چکے ہیں اور اندر تل دھرنے کی جگہ بھی نہیں.

خیر ہم لوگ تو شریفوں کی طرح پیچھے کھڑے ہو کر اہک دوسرے سے لڑنے اور دیر ہونے کا الزام ایک دوسرے کے سر
ڈالنے میں مصروف ہو گئیں لیکن طلبا نے دروازے کے آگے سے ہٹنے کا نام نہ لیا.

اچانک تڑاخ کی زور دار آواز نے ہم سب کو متوجہ کیا تو پتہ چلا کہ دھکم پیل اور شدید دباؤ کے باعث آڈیٹوریم کا شیشے کا دروازہ ٹوٹ گیا ہے. اتنے میں گارڈ بڑے بڑے ڈنڈے اٹھائے باہر نکل آئے… یاد رہے کہ یہ سارا ہنگامہ ایک ایسے شخص کی ایک جھلک دیکھنے کو ہو رہا تھا جسکو مشرف حکومت میں اچھی طرح ذلیل کیا جا چکا تھا، جسکی نظر بندی اور دعا کی خبر نوائے وقت
میں باقاعدگی سے شائع کی جاتی رہی تھی. آج وہ نظر بندی ختم کر کے طلباء سے خطاب کرنے کو بیٹھا تھا.

خیر خدا خدا کر کے کہیں سے کانوں میں آواز پڑی کے باہر سکرینز لگا کر بیٹھنے کا انتظام کیا جا رہا ہے، اور ہم سر پٹ بھاگے. کرسی تو وہاں بھی کوئی خالی نہیں تھی لیکن سکرین کے سامنے زمین پر چوکڑی لگا کر بیٹھنے کو جگہ بن گئی تو سکون کا سانس لیا.
تین چار گھنٹے ڈاکٹر صاحب باتیں کرتے رہے اور پورا پنڈال اور اندر ہزاروں کی گنجائش رکھنے والا فیصل آڈیٹوریم یوں ہمہ تن گوش تھا کہ گویا ملہار راگ سن رہے ہیں. صرف کبھی کبھی زوردار قہقہے پڑتے جب ڈاکٹر صاحب باتوں باتوں میں کوئی چٹکلہ چھوڑ دیتے یا کسی بات پر تالیوں سے پنڈال گونج اٹھتا، یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ ستائش اندر بیٹھے بندے تک نہیں پہنچ رہی.

خیر خطاب ختم ہوا، اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی واپسی کا بھی ایک الگ نظارہ تھا. ہال سے لے کر گیٹ نمبر دو تک ایلیٹ فورس کے جوان ہاتھوں کی زنجیر بنائے سڑک کے دونوں طرف چٹانوں کی مانند کھڑے تھے اور ڈاکٹر صاحب کی ایک جھلک دیکھنے کو لڑکے درختوں پر چڑھ رہے تھے کچھ دوستوں کے کندھوں پر سوار تھے. ڈاکٹر صاحب نے بس ایک بار ہاتھ ہلایا اور سیاہ شیشوں والی گاڑی میں جا بیٹھے. تینوں ایک جیسی گاڑیاں ایک منٹ میں آگے پیچھے ہوئیں اور پھر ہمیں پتہ نہیں چلا کہ وہ کس گاڑی میں سوار ہیں.

لہذا واپسی کا قصد کیا. آج عزت بحال ہونے سے یاد آ گیا… کہ بلاشبہ معافی تو ڈاکٹر صاحب سے مانگی جانی چاہیے لیکن قومی سطح پر قوم اپنے محسن سے، اس کے احسانات سے، اسکی خدمات سے کچھ ایسی بے خبر بھی نہیں.

نوجوانوں میں یہ شعور زندہ ہے کہ ہمیں سر اٹھانے کے قابل بنانے کو اللہ نے کس کو چنا تھا اور ہمارا سر جھکا کون رہے ہیں. لیکن یہ شعور رفتہ رفتہ چھین ہی لیا جائے گا جب تک کہ ملکی، سیاسی اور عدالتی سطح پر واقعی ڈاکٹر صاحب سے معافی نہیں مانگی جاتی.

مجھے یاد ہے کہ اس دن ہم ہزاروں لوگوں میں سے ہر ایک کی خواہش تھی کہ ڈاکٹر صاحب اپنی فیلڈ میں واپسی کے بارے میں کوئی اعلان فرمائیں. ہم اس دن کے بعد تک بھی یہ سمجھتے تھے کہ توانائی کے بحران جیسے مسائل کا حل اس بندے کے پاس لازمی ہو گا. لیکن ان کے پر کاٹ کر ہی نظر بندی سے رہائی ملی تھی. لہٰذا ایسا کوئی اعلان نہ ہوا.

اگر نظر بندی کسی آمر کی وجہ سے تھی تو جمہور نے انہیں یہ کیسی آزادی سے نوازا تھا جس میں انہیں صرف اس قابل چھوڑا کہ وہ عضو معطل کی طرح صرف اپنی یادیں ہی بیان کر سکتے تھے.

فیس بک رمضان المبارک کے بارے میں چند لطائف… گھٹیا مزاح، گھسے پٹے پیاس نہ لگنے کے ٹوٹکوں سے بھری پڑی ہے اور یومِ تکبیر کی اکا دکا پوسٹیں نظر آتی ہیں. ایٹمی طاقت ہونے کا ایک ہی مقصد سمجھا گیا کہ دفاع کو ناقابل تسخیر بنا لیا، بہت ہے.. اگر اسکے دیگر ثمرات عوام تک پہنچانے کی کوشش کی جاتی خاص طور پر یہ ایٹمی توانائی… توانائی کا بحران دور کرنے کے قابل ہوتی تو شاید لوگ یومِ تکبیر مناتے ہوئے زیادہ خوشی اور فخر محسوس کرتے.

تحریر : مصباح یوسف

مصباح یوسف

مصباح یوسف ٹیچر اور شعلہ بیاں مقرر ہیں ۔ دہم جماعت سے ہی مقامی اخبار میں کالم لکھنا شروع کر دیا تھا لیکن بیچ میں بوجہ تعلیمی مصروفیت یہ سلسلہ منقطع رہا. اب شوقیہ لکھتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top