واسکوڈاگاما 1524ء۔1460ء

article-52.jpg

واسکوڈاگاما ہر تگیذی مہم جو تھا جس نے افریقہ کے گردچکر کاٹ کریورپ سے ہندوستان تک درست بحری راستہ دریافت کیا۔
پرتگیزی شہزادہ ہنری ملاح(1460ء۔1394ء) کے دور سے ایسے ہی بحری راستے کی کھوج میں تھا۔1488ء میں بارٹولومیوڈیاس کی زیرقیادت روانہ ہونے والی بحری مہم افریقہ کے جنوبی کنارے پر ”کیپ آف گڈہوپ“ تک پہنچی اور پھرواپس پر تگال آئی۔اس کامیابی سے پرتگالی بادشاہ نے سمجھ لیا کہ ”انڈیز“ تک بحری راستے سے پہنچنے کی طویل کاوشیں بس اب کامیابی سے ہم کنار ہونے کوہیں۔ تاہم اگلی مہم کی روانگی ملتوی ہوگئی۔کہیں 1997ء میں ”انڈیز“ کی طرف بحری مہم روانہ ہوئی۔اس کے سربراہ کے طور پر بادشاہ واسکوڈاگاماکو منتخب کیا جو ایک معمولی رئیس تھا اور پرتگال کے شہر سائنیز میں 1460ء کو پیدا ہوا تھا۔
8جولائی 1497ء کو واسکوڈاگاما چار جہازوں اور170آدمیوں پر مشتمل عملے کے ساتھ روانہ ہوا۔چند ترجمان بھی ان میں شامل تھے جو عربی بول سکتے تھے۔یہ جہاز پہلے کیپ وردی “جزیروں تک پہنچے۔ پھر ڈیاس کے برعکس ‘جو افریقی ساحل کے ساتھ ساتھ آگے بڑھا تھا‘واسکوڈاگاما پرے جنوب کی طرف بحراوقیا نوس میں نکل آیا۔جنوب میں وہ بہت آگے بڑھا‘اور پھر ” کیپ آف گذہوپ “پہنچنے کے لیے مشرق کی سمت مڑا۔یہ ایک بہترراستہ تھا‘زیریں ساحلی راستے سے کہیں مختصر لیکن اس کے لیے کہیں زیادہ جرات اور جہاز رانی کی مہارت کی ضرورت تھی۔اس کے منتخب کردہ راستے میں ترانوے دن تک خشکی انہیں دکھائی نہ دی۔یہ اس مدت سے ڈھائی گنازیادہ وقفہ تھا ، جس سے کولمبس کے جہاز دوچار ہوئے تھے۔
22نومبر کو واسکوڈاگامانے ”کیپ آف گذہوپ“ کاچکر مکمل کیا اور افریقہ کے مشرقی ساحل سے آگے بڑھنے لگا۔شمال کی طرف وہ چند شہروں پر رکاجو مسلم قلمرو میں شامل تھے جیسے مومباسااور مالدینی جسے آج کل کینیا کہا جاتا ہے۔مالدینی میں اس نے ایک ہندوستانی ملاح کوساتھ لیا جس نے بحیرہ عرب سے ہندوستان تک تیئس دنوں کے سفر میں ان کی رہنمائی کی۔20مئی 1498ء میں پرتگال سے اپنی روانگی کے دس ماہ بعد ڈاگاما جنوبی ہندوستان کے اہم تجارتی مرکز کالی کٹ کے ساحل پر لنگر اندازہوا۔ کالی کٹ کے ہندوحکمران زامورن نے ڈاگاما کاخیر مقدم کیا۔تاہم جلد ہی وہ ان ہیچ مایہ اشیا سے اوب گیا جوڈاگاما اس کے لیے تحفتالایا تھا۔بحرہند کے تجارتی راستوں پر مسلم تاجروں کاغلبہ تھا۔سووہ ان سے بدگمان تھا ‘ ان تمام باتوں نے ڈاگاما کوزامورن سے کسی تجارتی معاہدے کی معاملہ بندی سے روکے رکھا۔تاہم اگست میں وہ کالی کٹ سے روانہ ہوا تو اس نے اپنے حکمران کو پیش کرنے کے لیے اشیاء کاعمدہ ذخیرہ جمع کرلیا جس میں چندہندوستانی بھی شامل تھے۔
اس مہم کی واپسی کا سفر زیادہ دشوار ثابت ہوا۔انہیں واپس بحیرہ عرب تک پہنچنے میں تین ماہ لگے۔ جبکہ اسقربوط(Scuruy) کے مرض نے اس کے عملے کے متعدد افراد کو نگل لیا۔آخر صرف دوجہاز حفاظت سے واپس پہنچ سکے۔پہلا10جولائی 1499ء میں پرتگال پہنچا جبکہ خود ڈاگاما کاجہاز دوماہ وہاں لنگر انداز ہوا۔کل عملہ کے ایک تہائی سے بھی کم یعنی جملہ پچپن افراد زندہ واپس آسکے۔ 9ستمبر 1499ء کو جب ڈاگاماواپس لسبن پہنچا تو اس کابادشاہ اور خود وہ یہ بات سمجھ چکے تھے کہ یہ دو برس طویم سفرشاندار انداز میں کامیاب رہا تھا۔
چھ ماہ بعد تگیزی بادشاہ نے ایسی ہی ایک مہم پیڈروالواریز کبیرل کی کمان میں روانہ کی۔کبیرل ہندوستان پہنچ کیا مگر راتے میں اس نے برازیل کودریافت کیا (چندمورخین کاخیال ہے کہ اس سے بہت پہلے تگیزی مہم جو یہ دریافت کرچکے تھے۔)وہ بڑی مقدار میں مصالحہ جات کے ساتھ لوٹا۔تاہم کبیرل کے چند افراد کالی کٹ میں مارے گئے۔واسکوڈاگاما کووہاں ایک قصاصی مہم پربیس جہازوں کے بیڑے کے ساتھ روانہ کیا گیا۔
ڈاگامانے اس مہم میں نہایت بے دردی کا مظاہرہ کیا۔ہندوستانی ساحل سے پرے انہوں نے ایک عرب جہاز کو روکا ‘اس کااسباب چھین لیا‘ تاہم مسافروں کو جہاز میں ہی رہنے دیا اور پھر اسے آگ لگادی۔اس میں موجود سینکڑوں لوگ جن میں بچے اور عورتیں بھی تھیں ‘ اسی میں جل کرخاک ہوگے۔ کالی کٹ پہنچ کراس نے زامورن سے مطالبہ کیا کہ مسلمان اس بندرگاہ سے دست بردار ہوجائیں۔ زامورن نے ہچکچاہٹ کامظاہرہ کیا توڈاگاما نے اڑتیس ہندوملاحوں کو گرفتار کرکے قتل کردیا اور بندرگاہ پر گولہ باری کی۔بے بس زامورن نے ڈاگاماکے مطالبات تسلیم کرلیے۔واپس جاتے ہوئے ڈاگامانے مشرقی ایشیا میں چندپرتگیزی کالونیاں بھی قائم کیں۔
ان تمام اقدامات کے نتیجے میں بادشاہ نے اسے مال ودولت سے لاددیا۔اسے خطبات ‘جاگیریں وطیفے اور دیگر مالی انعامات دیے۔دوبارہ وہ 1524ء میں ہندوستان آیا جب نئے پرتگیزی بادشاہ نے اسے وائسر ائے مقررکیا۔یہاں اپنی آمد کے چند ماہ بعد ہی وہ بیمار ہوگیا۔یہیں 1524ء میں فوت اور مدفون ہوا۔آخراس کو دوبارہ لسبن میں دفن کیا گیا۔ڈاگامانے شادی کی اور اس کے سات بچے تھے۔ واسکوڈاگاما کے اس سفر کی بنیادی افادیت یہ ہے کہ اس نے پورپ سے ہندوستان اور مشرقی بعید تک براہ راست بحری راستے کھول دیے ‘ جس کے اثرات آنے والی صدیوں کی تاریخ پرپڑے۔
فوری طور پر اس سے پرتگال پہ سب سے پہلے متاثر ہوا۔مشرق لے نئے تجارتی راستے پر اپنی اجارہ داری کے ذریعے یہ مہذب دنیا کے مضافات میں آباد غریب ملک یورپ کے امیرترین ممالک میں شمار ہو نے لگا۔پرتگیذیوں سرعت سے بحر ہند کے گرد ایک کالونیاتی سلطنت استوار کی۔ان کے مراکز ہندوستان ‘ انڈونیشیا ‘ میڈگاسکر‘ افریقہ کے مشرقی ساحل اور دوسری جگہوں پر قائم تھے۔برازیل اور مغربی افریقہ میں اپنی کالونیاتی سلطنت ‘جوانہوں نے واسکوڈاگاما کے سفر سے پہلے ہی قائم کرلی تھی اس کے علاوہ ہے۔پرتگیزی بیسویں صدی کے آخری نصف تک ان میں سے بیشتر کالونیوں پر قابض رہے۔
واسکوڈاگاما کے ہندوستان تک ایک نئے تجارتی راستہ دریافت کرنے کے واقعہ کا مسلمان تاجروں پربڑابرا اثر ہوا۔جنہوں نے اس سے بیشتر بحرہند کے تجارتی راستوں پر اپنی اجارہداری قائم کرلی تھی۔ جلد ہی پرتگیذیوں نے انہیں شکست دے کروہاں سے ہٹادیا۔مزید برآں ہندوستان سے یورپ تک خشکی کے راستے ناکارہ ہوگئے کیونکہ پرتگذیوں کا بحری راستہ زیادہ مختصر تھا۔یہ امراوٹومان ترکوں اور اطالوی تجارتی شہروں جیسے وینس دونوں کے لیے نقصان دو تھا۔بقیہ یورپ کے لیے اس تبدیلی کا مطلب یہ تھا کہ اب پہلے کی نسبت کہیں ارزاں نرخوں پر وہ مشرق بعید سے اشیاء حاصل کرسکتے تھے۔
تاہم واسکوڈے گاما کے سفر کااصل اثر یورپ یامشرق وسطی پر نہیں ہوا بلکہ ہندوستان اور جنوب مشرقی ایشیا پر ہوا۔1498ء سے قبل ہندوستان کے یورپ سے روابط نہ ہونے کے برابر تھے۔تاریخ میں ہندوستان کا کردار ایک خود کفیل علاقے کارہاہے۔جبکہ صرف شمال مغرب سے آنے والی اقوام کے غیر ملکی اثرات اس پر ظاہرہوئے۔ڈاگاما کے سفر نے بذریعہ سمندر ہندوستان کو براہ راست یورپی تہذیبوں سے متعارف کیا۔یورپی اقوام کا ہندوستان میں اثرورسوخ بڑی استقامت سے بڑھا۔حتیٰ کہ انیسویں صدی کے آخری نصف میں تمام برصغیر برطانوی قلمرومیں شامل ہوگیا (یہ امرذہن نشین رہنا چاہیے کہ ہندوستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا جب وہ سارے کاسارا کسی ایک فرمانرواکے تحت متحدہوا)۔جہاں تک انڈونیشیا کا تعلق ہے‘ پہلے یہ یورپی اثرتلے آیا اور پھر مکمل طور پر اس کی ماتحتی میں ۔ بیسویں صدی کے وسط میں کہیں انہیں آزادی ملی۔
واسکوڈے گاما کا موازنہ جس شخصیت سے ہوسکتا ہے‘ وہ قدرتی طور پر کر سٹوفر کولمبس ہے۔ چند حوالوں سے ڈاگاما بھاری رہتا ہے۔مثال کے طور پر فاصلے اور دورانیہ کے اعتبار سے اس کا سفر کالمبس سے کہیں زیادہ طویل تھا۔قریب تین کنازیادہ جس کے لیے اعلیٰ جہاز رانی کی مہارت کی ضرورت ہوتی ہے(اس سے قطع نظر کہ کولمبس کتنی دور گیا‘وہ نئی دنیا کو کھونہیں سکتا تھا جبکہ ڈاگاما ”کیپ آف گذہوپ“ سے ہی راستہ کھوٹا کربیٹھا اور بحرہندکی وسعتوں میں بھٹک گیا) مزید یہ کہ کولمبس کے برعکس ڈاگاما واقعتا اپنی اصل منزل تک جاپہنچا تھا۔
یہ دلیل دی جاسکتی ہے کہ واسکوڈے گامانے توکوئی نئی دنیا دریافت نہیں کی تھی۔بلکہ محض یورپی اقوام اور ایک پہلے سے گنجان آباد علاقے کے بیچ رابطہ قائم کیا تھا ۔جبکہ بالکل یہی بات کولمبس کے بارے میں بھی کہی جاسکتی ہے۔
کولمبس کے سفر نے مغربی کرے میں آباد تہذیبوں پربے پایاں اثرات چھوڑے۔ڈاگاما کا سفر ہندوستان اور انڈونیشیا کی تہذیبوں کی تبدیلی پرمنتج ہوا۔کولمبس اور ڈاگاما کی قدرو فضیلت کاتعین کرتے ہوئے ہمیں یہ بات نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ اگرچہ جنوبی اور شمالی امریکہ ہندوستان سے کہیں زیادہ بڑے خطے ہیں۔تاہم ہندوستان کی آبادی مگربی کرے میں آباد میں ممالک کی مشترکہ آبادی سے بھی زیادہ تھی۔
تاہم یہ امرواضح ہے کہ کولمبس کی اثرانگیزی واسکوڈے گاماسے کہیں زیادہ ہے۔اوال افریقہ سے ہندوستان کاسفر واسکوڈے گاماکو اس بحری مہم کاسربراہ متعین کرنے سے بہت پہلے ‘ اس مہم کی روانگی کا فیصلہ کرلیاتھا۔اگر کولمبس نہ ہوتا تویہ نئی دنیا (جوبہرطورجلد یابدیردریافت ہوہی جاتی) مزید کچھ دیر بعد اور کسی دوسرے مغربی ملک کے ذریعے دریافت ہوئی۔دوسری طرف اگرواسکوڈاگامانہ ہوتا پرتگیذی بادشاہ کسی دوسرے شخص کومہم کاسربراہ بنادیتا۔حتیٰ کہ اگروہ شخص نااہل ہوتا اور ناکامیاب لوٹتاتو کامیابی کوسامنے پاکر پرتگیذی ہندوستان تک بحری راستہ کھوجنے کی اپنی کاوش کو ہرگرترک نہ کرتے ۔مزید یہ کہ افریقہ کے مغربی ساحلی علاقوں پر پرتگیذی مراکزکی موجودگی میں یہ واضح ہوجاتا ہے کہ ان سے پہلے کسی دوسری قوم کے ہندوستان تک پہنچنے کاامکان کم رہ جاتاہے۔
دوئم ہندوستان اور مشرق بعید یورپی اثرات ویسے دیرپانہیں تھے‘جتنے مغربی کرے پرتھے۔ ہندوستان کی تہذیب مغربی سے اپنے رابط کے بعد بہت زیادہ تبدیلی ہوئی۔تاہم کولمبس کے سفر کے بعد دہائیوں میں ہی دنیا کی تہذیبیں آخر کارتباہ ہوگئیں۔ نہ ہی ہندوستان میں ‘مغربی کرے میں امریکی ریاستوں کی تخلیق جیسا کوئی واقعہ ہوا۔
جس طرح مغربی کرے میں ہونے والے واقعات کا الزام یا ذمہ داری کولمبس کے سرنہیں تھوپی جاسکتی ۔اسی طرح یورپ کے مشرق سے براہ راست رابطے سے پیدا ہونے والے نتائج کی ذمہ داری بھی واسکوڈے گاما پرنہیں ڈالی جاسکتی ۔واسکوڈاگاما نے ایک بڑی زنجیر کی ایک کڑی تشکیل دی‘جبکہ اس زنجیر میں اور بھی بہت نام آتے ہیں۔جیسے ہنری ملاح پرتگیذی کپتانوں کاوہ پورا گر وہ جس نے افریقہ کے مغربی ساحلی علاقہ کودریافت کیا۔بارٹولومیاڈیاس ‘چودڈاگاما‘اس کے جانشین جیسے فرانسکوڈی المیدہ اور الفونسوڈی البوکیورکیو‘اور متعدد دیگر افراد۔میراخیال ہے کہ واسکواڈگاما اس تمام زنجیر کی ایک انتہائی اہم کڑی تھا۔لیکن وہ مغربی کرے کویورپی تہذیب سے جوڑنے کے حوالے سے اس میں شامل افراد کی زنجیر میں کولمبس کاہم پلہ نہیں قراردیا جاسکتا۔اور یہی بنیادی وجہ ہے کہ اسے کولمبس کے بعد اس فہرست میں شمار کیاگیاہے۔

سورس : اُردو پوائنٹ

انتطامیہ اُردو صفحہ

انتطامیہ اُردو صفحہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top