“غیر المغضوب علیھم”

article-121.jpg

بچپن میں جب رمضان کا مہینہ آتا تھا، تو خصوصی طور پر ٹی وی سے ناطہ توڑ لیا جاتا تھا۔ ہاں اذان کے وقت کو جاننے کے لیے کچھ دیر ٹی وی آن کرتے تھے، اور بار بار ایک ہی مغل سٹیل کا اشتہار چلتا رہتا تھا۔ اس وقت کوئی بھی پروگرام نہ ہوتا تھا، اور یہی بات ذہن نشین رہتی تھی کہ بھئی ظاہر ہے، ٹی وی والوں نے بھی تو روزہ رکھنا ہو گا نا، تو سحر و افطار کے وقت خود تو نہیں آ سکتے نا، اشتہار چلا دیتے ہیں بس اور پھر اذان کے وقت اذان بھی دکھاتے ہیں۔ ایک ماحول تھا، عقیدت و احترام کا، جو دن بھر میسر رہتا تھا۔

بنی اسرائیل کو جب حضرت موسیٰ ؑ کی سربراہی میں اللہ نے ایک لق و دق صحرا میں آباد کیا، تو ان کو من و سلویٰ کی ایک ایسی نعمت عطا کی جو ان کے بعد کبھی کسی کو نہیں عطا کی گئی۔ من اور سلویٰ سادہ، مگر پوری طرح سے ایک مقوی غذا تھی ۔ من و سلویٰ کو روزانہ تیار کھانے کی صورت میں بھیجنے کے دو مقاصد تھے:

1۔ سادگی کی تربیت
2۔ فکر معاش سے آزادی (تا کہ وقت اللہ کے دین کے کاموں میں صرف کیا جا سکے)
اللہ تعالی نے اس خاص کرم کے نزول کے وقت 2 خاص احکامات شرائط کی صورت میں بھی بتا دیے:
1۔ اللہ پر توکل کرنا (تم اس کی راہ میں نکلے ہو تو وہ تمہیں بھولے گا نہیں)
2۔ حریص بن کر اس غذا کو ذخیرہ مت کرنا۔ (جتنا کھا سکو اتنا کھا لینا اور سب کو اپنا حق لینے دینا)
مگر مغضوب قوم اپنی قسمت کے درپے یوں ہوئی، کہ کمزوروں کا حق اپنے اپنے گھروں میں جمع کر کے گلنے سڑنے کے لیے چھوڑنے کا طریقہ اپنا لیا۔ سادگی کا طریقہ نہ پسند آیا اور بے صبری اپنی انتہا کو پہنچی تو گلہ کرنے لگے کہ ہم یہ نہیں کھا سکتے روز روز، ہمیں مزید ذائقے درکار ہیں، اور یوں اللہ کے انعام کو ٹھکرا کر اس کے غضب کا نشانہ بنے۔
نماز کے دوران “غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ” پڑھتے ہوئے تو کبھی ذہن میں ہی نہیں آیا کہ وہ کیسے اعمال تھے جنہوں نے اس قوم کو اللہ کے غضب کی حقدار بنادیا تھا۔ بے صبری تھی، نا شکری تھی، حرص و طمع کا کوئی عالم نہ تھا، ایک دوڑ تھی، جو لگی ہوئی تھی ، پیٹ کو پوجنے کی خاطر۔ اور ایمان لانے کے بعد جنت سے دھتکارے ہوئے ایک مردود نے ان کو پھر سے بہکا کر اور ان کے تربیت یافہ نفوس کو مزید بھڑکا کر ان کے ایمان کو تباہ کر کے ہی دم لیا۔

آج کے دور میں رمضان آنے کے بعد، وہ مردود تو ایک ماہ کے لیے قید کر دیا جاتا ہے، مگر ایمان لانے والوں کی تباہ کاری کی ذمہ داری اپنے چند تربیت یافتہ ہرکاروں کو سونپ جاتا ہے۔ اور صبر، شکر، توکل، قناعت اور تقویٰ کی تربیت دینے والے اس مہینے میں، وہ ہرکارے، یوں آوازیں لگاتے سکرینوں پر آ دھمکتے ہیں کہ،
“جی تو جناب کھا لیجیے جتنا کھا سکتے ہیں، کیونکہ وقت ختم ہونے میں چند ہی منٹ بچے ہیں، اور پھر سارا دن کچھ کھانے کو نہیں ملے گا!”

ارے رمضان مصیبت ہے کیا؟؟ ایک سزا ہے یا بھولے بسرے ایمان کی تازگی کے لیے ایک مسلمان کو میسر آنے والا تربیتی نظام؟

“خواتین کی ذمہ داری تو رمضان میں ویسے بھی بڑھ جاتی ہے، تو آئیے سیکھتے ہیں کچھ نئی ڈشز کی تیاری، اور چکھتے ہیں کچھ نئے ذائقے!”
یہ صبر ہے؟ کیسا “رک جانا “ہے یہ کہ دن بھر کھانے کے بارے میں ہی سوچا جائے؟ چاہے پیٹ بھوکا ہو؟
“ان چار میں سے جو خاتون مجھے پہلے ہاتھ لگائے گی، اس کے لیے ایک مائیکرو ویو اوون!”

پورا سال گندگی کے ڈھیر پر بیٹھنے والی مکھیاں، اس با برکت مہینے میں اپنے کیچڑ زدہ دلوں کے ساتھ کم علم معصوم ایمان والوں کو دنیا کے سامان کے پیچھے “رمضان کی برکتیں” کا لیبل لگا کر بھگانے لگتےہیں۔ مائیکرو ویو اوون، بائیک، سونا، چاندی، نقدی سب اس دنیا کی حقیر سی زندگی میں ایمان لانے والوں کے لیے بچھڑے کی صورت پیش کر دی جاتی ہیں۔ اخروی زندگی کی آسائیشیں جن کا حصول خالصتاً تقویٰ پر اور حقیقتاً رک جانے پر منحصر ہے، کو کسی خاطر میں ہی نہیں لایا جاتا۔ سال بھر ناچنے گانے والے، مخلوط محفلوں میں رقصاں رہنے والے، بے حیائی کے سکینڈلز کا داغ سروں پر سجائے رکھنے والے، رمضان میں ہاتھوں میں تسبیح اور سر پر ہلکا سا دوپٹے کا تکلف کر کے یہ کارندےتربیت دیتے نظر آتے ہیں کہ پورا سال جیسے دل چاہے زندگی گزارو، بھول جاؤ رب کو، وہ زمین پر نہیں آئے گا، ہاں مگر رمضان میں اپنی صورت کو ایسا بنا لو کہ اس با برکت مہینے کی برکتیں (سال بھر کا مال و زر) لوٹ سکو۔ ایک بائیک، ایک، کار اور ذرا سی نقدی کے حصول کی خاطربیوی کو شوہر کے ہاتھوں زمانے بھر یں رسوا کرنے کی اداکاری اور بہو کے ساس کو سارے معاشرے کے سامنےکھری کھری سنانے پر وہ فرعونیت بھری مسکراہٹ جو ان بھیڑیوں کے چہروں پر نمودار ہوتی ہے، کاش اس لٹتے ایمان کو کوئی تو دیکھ کر بچا پاتا؟

کچھ سال پہلے تک، کہا جاتا تھا کہ فلاں تو صرف رمضان کا مسلمان ہے۔ ارے، رمضان کا ہی سہی، کم از کم یہ یقین تو تھا کہ اس کے ایمان میں زندگی کی رمق اب بھی باقی ہے۔ سکتہ کے ایسے مریضوں سے زندگی کی یہ رمق بھی چھین لینے کی خاطر گزشتہ چند سالوں سے، رمضان کاآئینہ بھی ان کے آگے دھندلا اور آلودہ کر کے پیش کر دیا جاتا ہے، تا کہ کوئی شائبہ ہی نہ رہے کہ زندگی کے واپس آنے کے کوئی امکان موجود ہیں بھی یا نہیں، اور مسیحہ کا روپ دھارنے والا درندہ، اپنا کام کر جائے، زندگی اچک لے جائے، مگر کسی کو خبر تک نہ ہو۔ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ پڑھ پڑھ کر گزرتے ہیں مگر ان جانے سے خود ہی مغضوبین کی صف میں جا کھڑے ہوتے ہیں۔ جانتے بوجھتے آگ میں کھڑا ہونے والا دعا مانگے، کہ اے اللہ مجھے آگ سے بچا لے، تو کیا بچ پائے گا؟ فیصلہ نہایت آسان ہے۔

تحریر : ام الھدیٰ

انتطامیہ اُردو صفحہ

انتطامیہ اُردو صفحہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top