سائنس اور دہرئیے

article-8.jpg

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ دہرئے اور سائنس کی بات کرنے والے لادین ہو کر خود کونسا نیوٹن یا آئن اسٹائن بن چکے ہیں؟ نبی ص کی معراج پر سوال اٹھانے والے زمان و مکان کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟ وقت کیا ہے اور انسان کس طرح وقت کا قیدی ہے؟ اگر کوئ انسان روشنی کی دفتار کے آدھے کے برابر بھی سفر کرے تو اس کی گھڑی کے بیس منٹ دنیا کا شاید اسی سال کے برابر ہونگے۔ یعنی جب وہ اپنے وقت کے بیس منٹ بعد واپس آئے گا تو دنیا کے اسی سال گزر چکے ہونگے۔ روشنی کی رفتار سے سفر کرنے پر مکان کی کیفیت ختم ہو جائے گی۔ جس مالک کل نے یہ سب تخلیق کیا کیا وہ اپنے رسول کو اس زمان و مکان سے آزاد کر کے آسمانوں کی سیر نہیں کرواسکتا۔ ؟ یہ بات سائنس مانتی ہے۔ جب انسان بیل گاڑی میں سفر کرتا تھا اگر اس وقت کوئ اس سے یہ کہتا کہ میں ہزار میل کا سفر دو گھنٹے میں طے کر کے یہاں پہنچا ہوں تو وہ یقینا” اس کو کوئ پاگل ہی سمجھتا۔ اور آج تو آپ سپر سونک کے ذریعے ایک گھنٹے میں ڈھائ ہزار کلومیٹر ایک گھنٹہ میں طے کر سکتے ہیں۔ سائنس تو انسان کا خالق پر ایمان مزید مضبوط کرتی ہے کہ سائنس پہلے سے موجود نظام کو یا کسی شے کو دریافت کرتی ہے۔بجلی کروڑوں برس سے کڑکتی چمکتی ہے لیکن انسان نے اس کو کوئ دو سو سال پہلے استعمال کرنا سیکھا۔ کیا سائنس نے ایٹم اور الیکٹرون پروٹون ایجاد کئے ہیں یا دریافت کئے ہیں؟ کیا سورج میں ہونے والے کروڑوں ایٹمی بم اور ہائیڈروجن بموں کے برابر دھماکے کسی سائنسدان نے کئے ہیں یا کہ ازل سے سورج میں یہ عمل ہو رہا ہے؟ کیا پانی کا دو گیسوں کا مرکب ہونا کسی سائنسدان کی کاوشوں کا عمل ہے یا محض دریافت؟ نت نئے علاج اور ادویات انسان جسم کے نظام کو پڑھ کر اور مشاہدہ کر کے بناتا ہے یا بغیر جسمانی نظام کا مطالعہ کئے الل ٹپ ادویات ایجاد کرتا ہے؟ مختلف بلڈ گروپس سائنسدانوں کی ایجاد ہیں یا کہ دریافت؟ یعنی کہ پہلے سے موجود ایک مربوط اور انتہائ جامع و پیچیدہ نظام جو کہ خودبخود کام کر رہا ہے اس کے بنانے والے کو تو آپ مانیں نہیں اور جو اس مربوط سسٹم کی ایک ایک لائن پڑھ کر بمشکل وقت اور تجربات کے ساتھ ساتھ بتدیج اس نظام کے کام کرنے کے اسرار و رموز دریافت کر رہا ہے اس کو اس نظام کا مائ باپ مان لیں؟؟ سچ کہتے ہیں کہ جب اللہ عقلوں پر پردے ڈال دے تو پھر کون ہے جو راہ سجھائے؟

دوسری بات جو بہت سادی سی ہے کہ جب انسان اپنے معبود کو نہیں مانے گا تو اس کو دنیا میں اپنا مقصد، وقعت اور مقام بھی نہیں معلوم ہوگا۔ اپنے آپ کو بندر کی نسل سمجھنے والا بھلا کس طرح ایک انسان کی ایسی عظمت و توقیر برداشت کرسکتا ہے کہ جس کو خالق کائنات کے محبوب کا درجہ حاصل ہو اور جس کے محض نام پر کروڑوں اپنی گردنیں کٹانے کو تیار ہوں۔ ؟ یہاں پر اس کا شدید ترین احساس کمتری اور پستی و ذلت کا احساس اس سے یہ تمام بیہودہ اور غلیظ خیالات اور سوچ کا حامل بناتا ہے۔ وہ رہ رہ کر مقدس شخصیات کی ذات کی بلندی اور پاکیزگی پر کیچڑ اچھالتا ہے لیکن وہ اسی کے منہ پر آکر گرتی ہے؟ بکواس کرتا ہے کہ خدا مجھے قائل کرے! ارے عقل کے اندھے تو اپنے آپ کو دیکھ کر بھی قائل نہیں ہوسکا تو بھلا اس بے نیاز مالک کو کیا ضرورت کہ تجھے قائل کرے؟ کیا تیرے بھیجے میں موجودعقل تجھ کو قائل نہیں کرتی؟ کیا وہ بہت زبردست قدرت والا تیرا محتاج ہے؟ پوچھ اپنے آپ سے کہ یہ تیری انگلیاں اور ہاتھ کس لئے ہیں؟ جواب ملے گا چیزوں کو پکڑنے اور دیگر کام کاج کرنے کے واسطے۔ پوچھ اپنے آپ سے کہ یہ تیری ٹانگیں کس لئے ہیں؟ جواب ملے گا چلنے پھرنے کے لئے۔ پوچھ اپنے آپ سے کہ یہ تجھے سونگھنے، چکھنے، دیکھنے اور سننے کی حس کیوں عطا کی گئی ہے؟ جواب ملے گا کہ اپنے کاحول کے مطابق خود کو سنبھالنے کے واسطے. یہ تیرے چاروں طرف انواع اقسام کے پھل سبزیاں اور جانور کیوں ہیں؟ تاکہ تیرے اسی جسم کی پرورش کا سامان ہو سکے۔ یہ تیرے آس پاس کیسے کیسے طاقتور جانور موجود ہیں جو تجھ سے زیادہ طاقتوراور تجھ سے زیادہ اس ماحول سے مطابقر رکھنے والے ہیں لیکن تو کس بنیاد پر ان سب سے افضل ہے اور کیسے ان سب پر حکومت کر رہا ہے؟ ظاہر ہے اپنی عقل کی بنیاد پر۔ یہ تیرا جسم کیسے غذا کو ہضم کرکے خون بناتا ہے تاکہ تجھے توانائ ملے۔ اب تک تو نے ہر شے کے موجود ہونے اور عمل کرنے کی ایک وجہ بتائ ہے۔ اب بتا کہ خود تیرے مجسم ہونے کی وجہ کیا ہے؟ کیوں تجھے اتنے سارے مربوط نظام دے کر مکمل بنایا گیا اور اس دنیا کی ہر شے کو تیرے لئے تسخیر کردیا؟ بتا کیا جواب ہے تیرے پاس اپنے ہونے کا؟ تیرا کیا مقصد ہے اس دنیا میں؟ کھانا پینا بچے پیدا کرنا اور مر جانا؟؟؟ اگر ایسا ہوتا تو اس زمیں پر اللہ کی بے شمار مخلوق یہ کام تجھ سے کہیں بہتر کر رہی ہے۔ خود تیری سوچ اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ مالک نے ہر شے کے دو رخ بنائے ہیں۔ اندھیرا اجالا، نیکی بدی، سچ جھوٹ، ۔۔۔۔ تو بس تیری سوچ بھی بجائے روشن رخ کے اسفل کی جانب پلٹ گئی ہے۔ تو اب تو رو اپنی سیاہ بختی کو اور طلب کر اس مالک سے ہدایت اور بخشش کی راہ۔

ثناءاللہ خان احسان کے قلم سے

انتطامیہ اُردو صفحہ

انتطامیہ اُردو صفحہ

One thought on “سائنس اور دہرئیے”

  1. ارشاد says:

    بہت اچھی تحریر ہے۔ ماشاء اللہ قلم کار قابل مبارک باد ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top