سجن جندل: مودی اور نواز شریف کے ‘غیر رسمی ایلچی‘

article-38.jpg

انڈیا کے ارب پتی صنعت کار سجّن جندل ایک بار پھر سرحد کے دونوں جانب خبروں میں ہیں۔
جندل بدھ کو ایک چھوٹے وفد کے ہمراہ نجی طیارے پر پاکستان پہنچے اور مبینہ طور پر مری میں وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات میں انھیں انڈین وزیراعظم نریندر مودی کا پیغام پہنچایا۔
ریاست ہریانہ سے تعلق رکھنے والے سجن جندل انڈیا کے سٹیل ٹائیکون ہیں۔ وہ ایک بڑی سٹیل کمپنی جے ایس ڈبلیو کے مالک ہیں۔ 2016 میں ان کے اثاثوں کی مالیت کا تخمینہ تقریباً چار ارب ڈالر تھا۔
ان کے بھائی نوین جندل بھی سٹیل کے کاروبارمیں ہیں اور وہ بھی ارب پتی ہیں۔ وہ کانگریس پارٹی سے رکن پارلیمان رہ چکے ہیں اور سیاست میں بھی سرگرم ہیں۔
سجن جندل نسبتاً ‘لو پروفائل’ رکھنے والی شخصیت ہیں۔ وہ ملک کی سیاست یا میڈیا میں بہت کم سامنے آتے ہیں اور ان کے بارے میں بہت کم معلومات عام ہیں۔

جندل کے بارے میں کہا جا تا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف سے ان کے عشروں پرانے خاندانی تعلقات ہیں
تاہم جب 25 دسمبر 2015 میں انڈین وزیر اعظم نریندر مودی پاکستانی وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کے لیے افغانستان سے واپسی پر اچانک کسی پروگرام کے بغیر لاہور پہنچے تو کہا گیا کہ دونوں وزرائے اعظم کے درمیان اس ملاقات کا اہتمام جندل نے ہی کروایا تھا۔
سجن جندل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف سے ان کے عشروں پرانے خاندانی تعلقات ہیں۔ نواز شریف مئی 2014 جب وزیراعظم مودی کی تقریبِ حلف برداری میں دلی آئے تھے اس وقت بھی انھوں نے جندل سے ملاقات کی تھی۔
اس کے علاوہ 2014 میں نیپال میں سارک سربراہی اجلاس کے دوران بھی اس طرح کی خبریں میڈیا میں آئی تھیں کہ جندل نے ہی دونوں وزرائے اعظم کے درمیان خفیہ ملاقات کرائی تھی جو ایک گھنٹے تک چلی تھی۔

یہ واضح نہیں کہ سجن جندل نریندر مودی کے اتنا قریب کس طرح آئے۔ اس کا ایک سبب نواز شریف سے ان کی قربت بھی ہو سکتا ہے لیکن یہ بات ضرور واضح ہو چکی ہے کہ وہ ایک عرصے سے دونوں رہنماؤں کے درمیان رابطہ کار کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
انڈیا کی معروف صحافی اور تجزیہ کار برکھا دت نے ان کے بارے میں لکھا ہے کہ جندل مودی کے ایک ‘غیر رسمی ایلچی’ ہیں جو دنوں رہنماؤں کے درمیاں ایک ‘خفیہ پل’ کا کام کر رہے ہیں اور ‘انتہائي دشوار’ حالات میں بھی وہ دونوں رہنماؤن کے درمیان رابطے کی کڑی ہیں۔جندل کا حالیہ دورۂ پاکستان ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب انڈین بحریہ کے کمانڈر کلبھوشن جادھو کو پاکستان میں جاسوسی اور تخریب کاری کے جرم میں موت کی سزا سنائی گئی ہے۔

کلبھوشن کی گرفتاری اور پھر موت کی سزا، دونوں ہی مودی حکومت کے لیے داخلی طور پر شدید سبکی و پریشانی کا سبب ہے۔
خیال یہی ہے کہ جندل نے جو پیغام نواز شریف کو دیا ہے اس میں کلبھوشن کا معاملہ ضرور شامل رہا ہوگا۔ اس کے علاوہ جون میں ‍‍قزاقستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس بھی ہونے والا ہے تو عین ممکن ہے کا آ‎ستانا میں دونوں رہنماؤں کی ملاقات کی بھی بات ہوئی ہو۔

شکیل اختر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

انتطامیہ اُردو صفحہ

انتطامیہ اُردو صفحہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top