رُخِ روشن

Rukh-e-roshan.jpg

مُلک یا وطن کی مثال ایسی ہی ہے جیسے ایک ماں۔ ماں اپنے بچوں کو لاکھوں
گستاخیوں ،بدتمیزیوں کے باوجود محبت اور کرم کی نگاہ سے ہی دیکھتی ہے۔ خود بھوکی رہ کر اپنے بچوں کا پیٹ پالتی ہے۔ اور بیمار بچہ ہوتا ہے اور تپ ماں رہی ہوتی ہے۔ اسی طرح ایک ملک اپنے باسیوں کو ایسے ہی رکھتا ہے، ماں جیسی محبت دیتا ہے۔ لوگ ملک چھوڑ کر جانا بھی چاہیں تو انکے لیئے جانا مشکل ہوتا ہے کیونکہ بیرون ملک دولت تو ہوتی ہے آسائش تو ہوتی ہے مگر محبت نہیں ہوتی۔ وطن کی مٹی کی خوشبو نہیں ہوتی۔

۲۳ مارچ کے حوالے سے لکھا جانے والا یہ کالم میرے لیئے ایسے ہے جیسے کسی نے کہہ دیا ہو کہ جنت کی خوبصورتی کو اپنی سوچ کے مطابق بیان کر دو۔ ۲۳ مارچ جو کہ پاکستان کی تاریخ میں بہت اہمیت رکھتا ہے بلکہ یوں کہہ لیا جائے کہ پوری امت مسلمہ کے لیئے اہمیت رکھتا ہے۔ اس روز تمام مسلمانانِ برصغیر ایک آسمان تلے جمع ہو کر وعدے کر رہے تھے کہ آزادی کے لیئے دل جان کی بازی لگا دیں گے۔ یہ آزادی بھی اسلام اور مسلمان قوم کی بقا کے لیئے تھی۔ اگر امتِ مسلمہ ایک خاندان تھا تو پاکستان کی پیدائش ان میں اس بچے کی مثال تھی جو پورے خاندان کی قسمت کو تبدیل کرتا ہے۔ ایک بچہ گھرانے میں ایسا ہوتا ہے جو سب کی رہنمائی کر سکتا ہے۔ پاکستان بھی اس بچے کی مثل تھا۔
لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ پاکستان کا اصلی مطلب سب بھول گئے ہیں لا الہ الا اللہ۔ یہ صرف کلمہ نہیں تھا بلکہ ایک مقناطیس ہے جو سب لوہے کے پرزوں کو اکھٹا کر دیتا ہے۔ یہ مقناطیس تو آج بھی موجود ہے مگر لوہے نے اپنی کشش کھو دی ہے۔ یہ لوہا بد عنوانی،نا اتفاقی کے زنگ کا شکار ہو چکا ہے۔ اس زنگ نے بہت نقصان پہنچایا ہے اس قوم کو۔ یہ یاد رکھا جائے کہ زنگ لگنے کے بعد بھی لوہا بیکار نہیں ہوتا۔ اسے پھینکا نہیں جاتا بلکہ کھرچ لیا جاتا ہے مزید خوبصورت بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

اگر ۲۳ مارچ ۱۹۴۰ کی تاریخ میں دیکھا جائے تو ہمیں آج وہ وعدے نظر نہیں آتے وہ احوال نظر نہیں آتے۔ کچھ دن پہلے میرے ایک دوست نے مجھے فون کر کے اخبار پڑھنے کا کہا ،میں نے اخبار کھولا تو خون آلود سرخیاں میرے سامنے تھیں ‘ایک بھائی نے دوسرے بھائی کو مار دیا’ ،’ فلاں بندے نے خودکشی کر لی’۔ یہ تمام چیزیں ۲۳ مارچ پر کیے گئے وعدوں کے منافی نظر آتی ہیں۔ وہ وعدے ایک دوسرے کی آسائش،آرام، خیال رکھنے کے لیئے تھے، یہ آزادی ایک دوسرے کی جان کی حفاظت کی لیئے تھی نہ کہ جان لینے کے لیئے۔ یہ قوم تعصبات کا شکار ہوگئی ہے۔ پاکستانی ہونا ایک پہچان نہیں رہا بلکہ ایک دوسرے کو قوم ،رنگ ، علاقے کی بنیاد پر پرکھا جاتا ہے۔ اس سے بھی زیادہ شرمناک بات یہ ہے کہ بیرونِ ملک پاکستانی قوم کو غلط نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ہم نے اوروں کی پہنائی ہوئی بیڑیاں تو اتار لی ہیں لیکن اپنی ہاتھوں سے بنائی ہوئی بیڑیاں ،زنجیریں پہن لی ہیں۔ پہلے ہم کسی اور کی سوچ کے غلام تھے اب ہم اپنی سوچ کے غلام ہو گئے ہیں۔
پاکستان کا لغوی معنی یعنی پاک جگہ کے ہیں۔ جگہ تو تب ہی پاک ہوگی جب سوچ پاک ہوگی ، سوچ پاک ہوگی تو ہمارے عقائد پاک ہونگے ، عقائد کی پاکی اعمال کی پاکی کی ضمانت ہے اور اعمال کی طہارت ہمارے پاکستان کو حقیقت میں پاک کرے گی۔ ہمارے اعمال ناپاک ہوگئے ہیں اور اسکی وجہ انکا منبع ناپاک ہو گیا یعنی ہماری سوچ ناپاک ہو گئی ہے۔ ہم نے پاکستان کو ایک زمین کے خطے کو طور پر دیکھا شروع کر دیا ہے بجائے اسکے کہ ہم اسے اپنے گھر کے طور پر دیکھیں۔ ہم لوگ دعوٰی کرتے ہیں کہ ہمارے ملک کے لیے جان حاضر ہے۔ ہم پاکستان کی خدمت کریں گے لیکن المیہ یہ ہے ہم خدمت کے وقت بھاگ جاتے ہیں بالکل ایسے ہی جیسے ایک بوڑھا باپ جس نے ساری عمر اپنی ہڈیاں توڑ کر بچوں کو پالا اور اور بڑھاپے میں بچے لڑ پڑے کہ اب ابا جان کو سنبھالے گا کون؟ ہم بھی اس وقت یہ سوچ رکھتے ہیں کہ پاکستان نے ہمیں دیا کیا ہے؟ یہ سوال کوئی نہیں اٹھاتا کہ ہم پاکستان کو کیا دے رہے ہیں؟
وطنِ عزیز ہے اب بڈھے باپ کی مثل،
بچے لڑ رہے ہیں کہ تیرا ہے تیرا ہے،
اس بڈھے کی سبھی پونجی لُٹا کر شیرازی،
کون کہہ رہا ہے کہ میرا ہے یہ میرا ہے؟
میری تو یہی دُعا ہے کہ اللہ پاک ہم سب کو اپنے وطن کی خدمت کی توفیق دے، ہمارے پاکستانی بھائیوں سے محبت عطاء کرے اور ہمیں مخلص کاوشیں عطاء کرے۔اللہ سب کو آسانیاں عطاء کرے آمین

بقلم: سید اسامہ علی شیرازی

انتطامیہ اُردو صفحہ

انتطامیہ اُردو صفحہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top