روشن خیالی ؟ حامد میر

article-11.jpg

دنیا میں‌روشن خیالی کا سب سے بڑا منبع قرآن مجید ہے. یہ عظیم کتاب کہتی ہے کہ اللہ تعالٰی کسی قوم کی حالت کو اس حد تک بدلتا ہے جتنا کہ وہ قوم خود اپنی حالت کو بدلتی ہے. زندگی اور موت کا فیصلہ تو اللہ تعالٰی کے ہاتھ میں‌ہےلیکن انسان بے بس نہیں‌ہے. محنت اور جدوجہد سے ایک انسان اپنا مستقبل خود بنا سکتاہے اور ایک قوم بھی اپنے آپ کو بدل سکتی ہے. دوسرےالفاظ میں‌قوموں‌کے عروج وزوال کے ضمن میں‌قدرت نے فیصلے کا اختیار اپنے پاس نہیں‌رکھا بلکہ یہ اختیارانسان کو عطاکردیاہے. انسان کو اللہ تعالٰی پر بھروسہ کرتے ہوئے مشکل سے مشکل حالات میں بھی اپنے آپ کو بدلنے کی کوشش کرنی چاہیےاورجب کوئی اپنے آپ کو بدل لیتا ہے تو اس کے حالات بھی بدل جاتےہیں. قرآن مجیدکہتا ہے کہ اللہ تعالٰی قادرِ مطلق ہے لیکن مشیت ایزدی رہی ہے جسے قانون قدرت بھی کہا جاتا ہے. اچھے اعمال کا اچھانتیجہ اور برے اعمال کا برا نتیجہ قرآن کا وعدہ ہے. قرآن نےواضح کردیا کہ دین میں جبر نہیں لیکن افسوس کہ آج کچھ مسلمان روشن خیالی کا تمغہ حاصل کرنے کےلئے کسی اور کی طرف دیکھ رہے ہیں. بحث یہ ہو رہی ہے کہ دہشتگردی کے مقابلے کے لئے بیانیے کی تشکیل حکومت کی ذمہ داری ہےیا علماء کی ہے؟ کیاقرآن مجید کی شکل میں دنیا بھر کے مسلمانوں‌کے لئے ایک بیانیہ پہلے سے موجود نہیں؟ کیا اس بیانیےمیں‌بے گناہوں‌کا خون بہانے کی ممانعت نہیں ؟ اگراس بیانیے میں ایک بے گناہ انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قراردیاگیاہےتوپھرآپ کوئی اوربیانیہ تلاش کیوں کرتے ہیں؟ زیادہ دن نہیں‌گزرےجب سانحہ کوئٹہ کہ انکوائری کرنے والے کمیشن کے جج جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں دہشت گردی کے مقابلے کے لئے قرآن مجید کو جوابی بیانیے کے طورپرپیش کیالیکن افسوس کہ اس رپورٹ کے بہت سے پہلوؤں‌کواجاگرکرنےکی بجائےحکومت نے اس رپورٹ کو کچھ تنازعات کی تاریکی میں‌دھکیل دیا. نیتوں‌کاحال تو اللہ تعالٰی کو پتہ ہےلیکن قول‌وفعل کاتضادہمارےلئے ایک لعنت بن چکی ہے. ہم اپنے مسلمان ہونے پر تو فخرکرتےہیں‌لیکن قرآن‌مجید کو ریاست کا بیانیہ قراردینے سے گریز کرتےہیں کیونکہ کچھ طاقتورلوگوں کے ذاتی مفادات قرآن کی تعلیمات سے متصادم ہیں. مثلاََقرآن نےربٰوی کوحرام قرار دیا. پاکستان کے آئین‌کے آرٹیکل 38ایف میں وعدہ کیا گیا ہے کہ ربٰوی کوختم کیاجائےگا لیکن جب کوئی عدالت ربٰوی کو ختم کرنے کا حکم دیتی ہے تو جمہوری حکومت بھی نظرِثانی کی اپیل دائر کردیتی ہےاورفوجی حکومت بھی نظرثانی کی اپیل دائر کردیتی ہےحالانکہ ربٰوی کوبرقرار رکھنا نہ صرف قرآنی حکم بلکہ آئینِ پاکستان کی بھی خلاف ورزی ہے. مجھے پتہ ہے کہ میری اس گستاخی کو بنیادپرستوں کی حمایت قراردیاجائے گا لیکن عرض یہ ہے کہ میں‌وہی کہہ رہا ہوں جوصرف قرآن اورآئین کے مطابق نہیں بلکہ قائداعظم محمد علی جناح کی تعلیمات کے بھی عین مطابق ہے. قائداعظم نے 1948ء میں اسٹیٹ بنک آف پاکستان کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بنکنگ کےنظام کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ مغرب کے اقتصادی نظام نے پوری انسانیت کو مسائل سے دوچار کر دیاہے، لہٰذا ہمیں اپنے اقتصادی مسائل حل کرنے کے لئے اسلام سے رہنمائی لینی چاہیے.
کیسی ستم ظریفی ہے کہ ہمارے کئی روشن خیال رہنما تو کہتے ہیں کہ اسلام میں جبر نہیں اور کسی غیر مسلم کو زبردستی مسلمان نہیں بنایاجاسکتالیکن جب عدالت کہتی ہے کہ ربٰوی ختم کروکیونکہ یہ اللہ تعالٰی کے خلاف جنگ کے مترادف ہے تو نظرثانی کی اپیل دائرکردی جاتی ہے، حالانکہ اب غیر مسلم ممالک میں غیرسودی کاروبارکرنے والےبنک فروغ پارہے ہیں. کہنا صرف یہ ہے کہ روشن خیالی کا مطلب یہ نہیں کہ آپ قرآن کی ان تعلیمات کا حوالہ دیں جن میں غیرمسلموں‌کے حقوق کو تحفظ دیا گیا ہے. ان تعلیمات کا ذکرکابھی ذکر کیاجائے جس میں مسلمانوں‌اورغیرمسلموں‌دونوں‌کے حقوق کو تحفظ دیاگیاہےاور ربٰوی ختم کرنے کا مقصد غریب لوگوں کو امیر لوگوں کے استحصال سے بچاناہے. آئین‌وقانون کی بالادستی کی بات کرنے والوں کو سب یادرہتا ہےلیکن 38ایف یاد نہیں رہتا. یاد بھی کیسے رہےکیونکہ یاددلاناجس کی ذمہ داری ہےان کے لئے فاٹا کوالگ صوبہ بنانازیادہ اہم ہے. جمیعت علماءاسلام(ف)مرکزمیں‌مسلم لیگ(ن)کی اتحادی ہے. ہمیں انتظارہےکہ یہ جماعت کبھی آئین کے آرٹیکل 38ایف کی طرح بھی اپنے روشن خیال وزیراعظم کی توجہ دلائے. یہ وزیرِاعظم کا کمال ہے کہ انہوں‌نےمرکزمیں جے یوآئی(ف)کواپنااتحادی بنا رکھا ہے. آزادکشمیرمیں جماعتِ اسلامی ان کا دایاں بازوہےاوربلوچستان میں محمودخان اچکزئی ان کا بایاں بازوبنے ہوئے ہیں. بہاریں پھول برسارہی ہیں اوروہ بیک وقت فضل الرحمن اوراچکزئی کے محبوب بنے ہوئے ہیں. انہیں‌یقین ہے کہ پانامہ کیس کا فیصلہ بھی ان کے حق میں آئے گالیکن اصل فیصلہ تو دنیا کی عدالت میں‌نہیں کہیں اورہوناہے. دنیا کی عدالت میں بچت ہو سکتی ہے اصل عدالت میں کوئی بچت نہیں. دنیا کی عدالت سے تو حسین حقانی بھی بچ گئے تھے لیکن اب انہوں‌نے خود ہی اعتراف جرم کرلیاہے. فرماتے ہیں کہ انہوں نے اپنے دورِسفارت میں ایسے اقدامات کئے جن کے نتیجے میں امریکہ کو ایبٹ آبادمیں اسامہ بن لادن کو ڈھونڈنےمیں‌آسانی ہوئی. پیپلزپارٹی نے فوری طورپرحسین حقانی کوغدارقراردے کر اپنی جان چھڑالی ہے لیکن یہ ناچیزاپنے قارئین کو یاددلاناچاہتاہے کہ جوحسین حقانی نے کیا وہی کچھ 1999ء میں‌بھی تو ہوا تھا. 30 مئی 2000ء کو دی نیوزکےصفحہ اؤل پر نسیم زہرہ صاحبہ نے دعوی کیا تھا کہ اگست 1999ء میں واشنگٹن میں‌پاکستانی سفارتخانے کی طرف سے سی آئی اے کے 25 اہلکاروں‌کو ویزےدیئے گئےجنہوں‌نےپاکستان آکر50سابق کمانڈوزکو خصوصی تربیت دینی شروع کی تاکہ اسامہ بن لادن کےخلاف آپریشن کیاجاسکےلیکن 12اکتوبر1999ءکونوازشریف کی حکومت ختم کردی گئی. سوال یہ پیداہوتاہے کہ حسین حقانی نے سی آئی اے والوں‌کوویزے دےتوغدارلیکن نوازشریف کے دورمیں سی آئی اے کوویزےملیں توروشن خیالی؟ سچ یہ ہے کہ دونوں‌نے غلط کیا. نوازشریف صاحب کا شکریہ کہ انہوں‌نے سوشل میڈیاپرناموسِ رسالت کے دشمنوں‌کی سرگرمیوں‌کے خلاف بیان دیا لیکن انہیں سوشل میڈیا پرمسلم لیگ(ن)کی طرف سے جاویدلطیف کے حق میں چلائی جانےوالی مہم پربھی غورکرناچاہیے. مسلم لیگ(ن)ایک ایسے شخص کی حمایت کررہی ہےجس نے کسی دومعصوم بہنوں‌پرجھوٹ الزام لگایا، کیا یہ ہےآپ کی روشن خیالی؟

تحریر : حامد میر،

انتطامیہ اُردو صفحہ

انتطامیہ اُردو صفحہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top