پڑھے لکھے اور معزز گھرانوں کے بچے دہشت گرد کیسے بنتے ہیں۔۔۔ ؟

article-12.jpg

پچھلے چار گھنٹوں سے پہلو بدل رہا ہوں لیکن نیند نہیں آرہی، یہ تحریر پچھلے چھ ماہ سے مجھ پر قرض اور بوجھ ہے.
راحیل قریشی کو 22 اکتوبر 2016 کو رینجرز نے ان کے گھر فقیر کا پڑ حیدرآباد سے گرفتار کیا، ان کے ساتھ ان کے بڑے بھائی انتخاب عالم و تسنیم عالم کو بھی گرفتار کیا گیا، بلکہ یوں کہا جائےکہ انتخاب عالم کو گرفتار کیا گیا اور ان کے ساتھ ان کے چھوٹے بھائیوں راحیل قریشی و تسنیم عالم کو بھی گرفتار کیا گیا۔
انتخاب عالم ایم کیوایم کے دیرنہ کارکن ہے، اور اب ایم کیوایم لندن کے، بلکہ اس سے بڑھ کر یہ کہ وہ الطافسٹ ہیں۔
رینجرز ان تینوں بھائیوں کو گھر سے لے کر گئی، رینجرز کا گھر میں آنا، پورے گھر میں تلاشی لینا اور پھر ان تینوں کو ساتھ لے کر جانا، سب کچھ پرسکون ماحول میں ہوا اتنا پرسکون کہ دو رینجرز اہلکاروں نے گھرمیں پانی پیا اور ایل اہلکار نے خود انتخاب سے (یعنی جسے گرفتار کرنے آئے تھے) سگریٹ لے کر پی۔۔۔
ان تینوں افراد کو ہیڈ کوارٹر منتقل کیا گیا اور کچھ دیر بعد انتخاب کوواپس لے جایاگیا، واپسی پر رینجرز بمعہ اسلحہ انتخاب کو لیکر آئی، اس دوران راحیل اور انتخاب رینجرز کے پاس با عزت مہمانوں کی طرح رہے (یعنی انہیں کلین چٹ مل چکی تھی)۔ رینجرز نے ان کے گھر سےسولہ موبائل بھی جمع کئے، چونکہ ویک اینڈ تھا تو گھر پر تمام بہن بھائی اور بھانجے بھتیجے آئے ہوئے تھے اس لئے اتنی تعداد میں گھر میں موبائل تھے۔
رینجرز نے ان تینوں افراد کو گھر سے ملنے والے موبائل و دیگر اشیاء سمیت سوائے اسلحہ کے پولیس کے حوالے کردیا۔۔
اس ہی دن رینجرز/ پولیس نے ایم کیوایم لندن کے دیگر افراد کو بھی حیدرآباد سے گرفتار کیا تھا جن میں سابق کمیونسٹ طالب علم رہنما مومن خان مومن، سابق ضلع نائب ناظم حیدرآباد ظفر راجپوت (قائمخانی) و دیگر لوگ شامل تھے۔ ظفر راجپوت کو “اوپر” سے سیٹنگ کے بعد چھوڑ دیا گیا۔
یہ سارا واقعہ 22 اکتوبر ہفتہ کی رات کا ہے۔ اگلے دن ان گرفتاریوں کی خبریں چند اخبارات میں بھی لگیں۔
پولیس 24 اکتوبر بروز سوموار ایف آئی آر کاٹتی ہے کہ “23 اکتوبر بروز اتوار پولیس نے اپنے ایک مخبر کی اطلاعات پر بلدیہ ورکشاپ حالی روڈ پر ایک چھاپہ مار کاروائی کی جہاں پر ایم کیوایم لندن کے کچھ شر پسند عناصرشہر میں بڑے پیمانے پر بد امنی پھیلانے کا پروگرام بنا رہے تھے پولیس پارٹی کے پہنچتے یہ فلاں فلاں لوگ بھاگ گئے اور فلاں فلاں (راحیل تسنیم انتخاب مومن وغیرہ) گرفتار ہوگئے۔ گرفتار افراد کے پاس سے ہینڈ گرنیڈ، رائفل جی تھری، گولیاں ٹی ٹی پسٹل اور بہت سا اسلحہ برآمد ہوا”۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ 60 65 سال والے ظفر راجپوت و کچھ اور لوگ بھاگ نکلے اور 35 40 سال والے جوان پولیس کے ہاتھ آگئے۔
خیر اصل مدعا یہ ہے کہ ۔۔۔۔۔
عمران خان نواز شریف کے دوست ہوسکتے ہیں، ایران سعودی عرب سے کی بادشاہت قبول کرسکتا ہے، ٹی ٹی پی پاکستان آرمی کے ہاتھ پر بیعت کرسکتی ہے لیکن راحیل قریشی و تسنیم عالم کا ایم کیوایم لندن میں شامل ہونا تو دور کی بات الطاف حسین و ایم کیوایم لندن پاکستان و پی ایس پی کے لئے یہ دونوں خیر کا ایک لفظ بھی نہیں بول سکتے۔
راحیل قریشی کے سر میں آج بھی وہ ٹانکے موجود ہیں جو ایم کیوایم نے اپنے کالج میں گھسنے پر دئے تھے، یہ وہ وقت تھا جب الطاف حسین کو کراچی حیدرآباد میں صرف “الطاف” کہہ دینے والے پر بھی گستاخیِ الطاف حسین بھائی کا چارج لگتا تھا۔ الطاف حسین کے خلاف بات کرنے والے کو مشال کی طرح بے دردی سے مارا جاتا تھا۔ ایم کیوایم کے لڑکے ہماری گورنمنٹ کالج حیدرآباد دھلائی کررہے ہوتے تھے اور راحیل قریشی ڈگری کالج لطیف میں حق پرستوں کے ہاتھوں سر کھلوا کر ہسپتال میں پڑے ہوتے تھے
پچھلے 14 سال میں مجھے راحیل قریشی سے زیادہ کوئی نفیس انسان نہیں ملا۔ انتہائی بردبار، سلجھا ہوا انسان، جیب میں ہر وقت سفید رومال، ہاتھ میں ڈائری صوم و صلاۃ کا پابند۔
حیدرآباد میں راحیل کو جو بھی جانتا ہے اگر اسے گرم توے پر بھی بٹھا کر بتایا جائے کہ راحیل کا تعلق ایم کیوایم سے ہے تو وہ نہیں مانے گا۔
البتہ راحیل کے بھائی انتخاب کا تعلق ہے برسوں سے ہے اور “بہت آگے تک” ہے۔
راحیل کے معاملے پر گھر والوں اور دوستوں نے ہر دروازہ کھٹکھٹایا، ونگ کمانڈر سے لیکر ڈی جی رینجرز تک اور ایس ایچ او سے لیکر ڈی آئی جی تک۔
راحیل کی ہمشیرہ و اہلیہ بھی اپنی جوتیاں گھسا چکی ہیں، کہیں سے دھتکارے گئےم کسی نے سر سری سا سن لیا، کسی نے جھوٹی تسلی دیدی۔۔۔۔۔
رینجرز مانتی ہے کہ راحیل اورتسنیم کو غلط اٹھالیا، لیکن پھر یہ کہا جاتا ہے کہ ” ہم نے تو پولیس کے حوالے کردیا تھا، پولیس نے ایف آئی آر کاٹی ہے” حالانکہ دنیا جانتی ہے کسی بھی کیس کو سلجھانے یا الجھانے کے لئے کس کا کتنا اثر و رسوخ استعمال ہو سکتا ہے۔۔۔
راحیل ایک لکھاری ہے، سوشل ورکر ہے، اپنا اسکول اور کوچنگ سینٹر چلاتا ہے ہے، ان کی اہلیہ بھی ٹیچر ہیں۔ راحیل حیدرآباد میں دو ادارے انسٹیوٹ آف کرنٹ افئیرز اور نیو ایرا چلاتے رہے ہیں، جس کے 35 سے زائد پروگرامات میں پاکستان خاص طور پر سندھ کے نامور سیاستدان (سوائے ایم کیوایم کے)، محقق، ماہرین تعلیم و سماجی لوگ شرکت کرتے رہے۔
میں راحیل کو 14 سال سے جانتا ہوں، آپ اس وقت بھی سینٹرل جیل حیدرآباد میں جاکر راحیل سے ملئے اور گفتگو کریں، آپ واپس آکر بتائیں گے
راحیل ” پرو اسٹبلشمنٹ” ہے
راحیل ایک سلجھا ہوا، دیانتدار اور محبت وطن انسان ہے
راحیل کی جیب میں رومال موجود تھا جسے وہ بار بار نکال کر بڑی نفاست اور نزاکت سے اپنے چہرے پر پھیرتا ہے
راحیل کی گفتگو اتنی محظوظ کن تھی کہ دل کرتا تھا راحیل گھنٹوں بولتا رہے۔
لیکن ایف آئی آر کہتی ہے راحیل کی جیب سے ہینڈ گرنیڈ نکلا، راحیل کے پاس پستول تھی، راحیل شہرمیں افراتفری پھیلانے کا منصوبہ بنا رہا تھا۔
میں رات کے اس پہر قسم کھا کر کہتا ہوں کہ پستول اور ہینڈ گرنیڈ رکھنا تو دور کی بات راحیل کسی کو آہستہ سے گالی بھی نہیں دے سکتا۔
راحیل اور تسنیم کے لئے ہر در پر دستک دی لیکن کسی نے سنجیدہ نوٹس نہیں لیا، ڈی پی او حیدرآباد عرفان بلوچ کو ان کی نیک نامی کے واسطے دئے گئے لیکن کوئی حل نا نکلا، کیس انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ہے جس کی منظوری وزارت داخلہ نے ابھی تک دی ہی نہیں، اسلئے کیس چلتا ہی نہیں اور ہر تاریخ پر نئی تاریخ مل جاتی ہے۔
راحیل کے کیس اور راحیل کو کوئی سنجیدہ نہیں لے رہا، اور ابھی شاید لے بھی نا۔
راحیل کالم نگار ہے زرا سوچئے، اگر اس نے جیل سے نکل کر، رینجرز اور اسٹبلشمنٹ کے خلاف ایک کالم بھی لکھ دیا تو کتنا مشہور ہوگا ، اتنا مشہور ہوگا کہ اس کی لاش کچھ دن بعد کوٹری کے نزدیک دریائے سندھ کے کنارے سے ملے گی۔ راحیل اگر ردعمل کے طور پر کسی داعش، القاعدہ یا ٹی ٹی پی ٹائپ تنظیم میں شامل ہوجائے تو نورین لغاری سے زیادہ مشہور نہیں ہوجائے گا ؟
لیکن راحیل ایسا نہیں کرے گا، اس نے جس ماں کی گود میں بن باپ پرورش پائی ہے، جن حالات میں اس نے اپنی جوانی گزاری ہے وہ ایسا نہیں کرے گا۔ وہ جیل میں بیٹھ کر بھی کالم لکھتا ہے، تعلیم پر، قیدیوں کی تربیت پر، سماج کے سدھار پر، معاشرے میں پرامن اور دیرپا تبدیلی پر۔۔۔
پر راحیل کے بھانجے کے الفاظ آج بھی میرے سر پر ہتھوڑے کی طرح برس رہے ہیں۔ کچھ ماہ پہلے اس نے کہا تھا “کیا ملا راحیل اور تسنیم ماموں کو یہ نیک نامی کما کر جس کا آپ ذکر کر رہے ہیں جیل میں تو وہ بھی انتخاب ماموں کی طرح سڑ رہے ہیں۔ ہم نے بھی شاید غلطی کردی، ایم کیوایم میں ہی ہوتے کم از کم کسی سے بدلہ تو لے سکتے” اس بچے کے اس غصے کی وجہ یہ ہے کہ راحیل کا گھرانہ ان کی والدہ کے فلاحی و دینی کاموں کی وجہ سے علاقے کا معزز ترین گھرانہ ہے، سوائے انتخاب کے سب ایم کیوایم مخالف ہیں (فقیر کا پڑ حیدرآباد میں رہتے ہوئے)۔ اس وقت گھر کے تینوں مرد جیل میں ہیں، گھر میں کیا گز رہی ہوگی ہر درد دل رکھنے والا جان سکتا ہے۔
ڈی پی او حیدرآباد جنہیں کچھ عرصہ پہلے یہ تک پتا لگ گیا تھا کہ نورین لغاری شام چلی گئی (جس کی تردید آئی ایس پی آر نے کردی) ہے اپنی ناک کے نیچے موجود راحیل اور تسنیم کی نیک نامی اور بے قصور ہونے کا نہیں پتا۔
لوگ ردعمل، احساس محرومی، ریاست کے دوہرے اور تہرے معیار کی وجہ سے سماج دشمن اور دہشت گرد گروہ کے ہاتھ چڑھتے ہیں۔
تعلیم یافتہ اور حساس لوگ ریاست و ریاستی اداروں کے دوہرے معیار کو ایک کم علم انسان سے زیادہ جلدی سمجھتے ہیں۔ انہیں میڈیا کی منافقت، مظلوم کی بے چارگی اور بے گناہ کی لاچارگی زیادہ بہتر دکھائی دیتی ہے۔
ناامیدی انہیں ردعمل پر اکساتی ہے
صاحب لوگوں کی دھتکارچنگاری لگاتی ہے
سماج کی بے حسی تیل چڑکھتی ہے
اور پھر جو ہوتا ہے وہ “بریکنگ نیوز” بن جاتی ہے۔
کوئی دہشت گرد ماں کے پیٹ میں دہشت گرد نہیں بنتا، ہمارے رویے انہیں دہشت گرد بناتے ہیں۔
بیوروکریسی اور انتظامیہ کی دھتکار انہیں ریاست کے مقابلے میں لاکھڑا کرتی ہے۔
صدارت، وزارت اور عدالت میں بیٹھے وطن فروشوں کو ملنے والی سہولیات انہیں وطن سے نفرت پر اکساتی ہیں۔
دہشت بھی اقتدار کی طرح دس بیس سال بعد ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ اور ایک گروہ سے دوسرے گروہ منتقل ہوتی ہے، کچھ عرصہ پہلے بائیں بازو میں تھی، جب الذوالفقار، ایم کیوایم، اے این پی اور جئے سندھ کے پاس اس کی فرنچائز تھی
آج کل یہ ٹی ٹی پی، سپاہ صحابہ، سپاہ محمد، القائدہ برصغیر اور لشکر جھنگوی کی صورت دائیں بازوہ میں ہے۔ کل پھر بائیں بازو میں ہوگی۔۔۔۔
اور یہ دہشت گردی بیانیہ تبدیل کرنے اور ٹنوں بارود جلانے سے نہیں، بلکہ بیوروکریسی، اداروں اور اسٹبلشمنٹ کے رویوں میں تبدیلی سے ہوگی۔
اپنے کالے کرتوتوں پر جب یہ ریاست شرمائے گی
وہ صبح کبھی تو آئے گی
بے ربط خیالات

زبیر منصوری

انتطامیہ اُردو صفحہ

انتطامیہ اُردو صفحہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top