پاکستان ڈے بمقابلہ پختون ڈے؟؟

Punjab-Uni.jpg

آج پنجاب یونیورسٹی میں جو کچھ ہوا، انتہائی قابل مذمت ہے۔ ہر محب وطن پاکستانی کو اس جھگڑے پر دلی رنج ہے ۔ چونکہ یہ مارچ کا مہینہ چل رہا ہے اور 23 مارچ 1940( قرارداد پاکستان) کے حوالے سے مارچ کا مہینہ ہم پاکستانیوں کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے ،اسی حوالے سے جماعت اسلامی کے طلبہ ونگ اسلامی جمعیت طلبہ نے پنجاب یونیورسٹی میں “پاکستان ڈے” کا اہتمام کیا تھا، جس میں جماعت اسلامی کے سابق امیر قاضی حسین احمد کی بیٹی سمیعہ راحیل قاضی اور فائقہ سلمان بھی مدعو تھیں۔
اس پروگرام کو “پاکستان ڈے” کا نام دیا گیا جس میں شرکت کرنے والے مہمانوں کے لیےکھانے وغیرہ کا بھی بندوبست کیا گیا تھا۔ یہ پروگرام جاری تھا کہ باچاخان گروپ کے “لبرل “سٹوڈنٹس نے اسلامی جمعیت طلبہ کے مخالف سٹال لگا لیا اور “پختون ڈے” کے نام پر بے ہنگم موسیقی اور اچھل کود شروع کردی۔
جب جمعیت کے طلبہ نے انہیں موسیقی کی آواز آہستہ کرنے کو کہا تو انہوں نے بدتمیزی کرنا شروع کردی اور رفتہ رفتہ جھگڑا بڑھتے بڑھتے ہاتھا پائی ، اینٹوں ، ڈنڈوں اور ننگی گالیوں تک جاپہنچا۔
جمعیت کے طلبہ نے باچاخان سٹوڈنٹس کے اسٹالز اکھاڑ دیئے اور کئی طلبہ زخمی ہوگئے۔ یہ صورتحال دیکھ کر موم بتی والی آنٹیوں نے ایک بار پھر اپنی موم بتیاں نکال لی ہیں اور میڈیا پر یہ باور کرانے کی بھرپور کوشش کی جارہی ہے کہ ساری غلطی جماعت اسلامی کے طلبہ کی تھی اور انہوں نے پہلے حملہ کیا تھا۔
افسوس کی بات یہ کہ کچھ لوگ اس جھگڑے کو پنجابی پٹھان نفرت پھیلانے کے لیے بارود کے طور پربھی استعمال کررہے ہیں۔
غور کرنے کی بات یہ ہے کہ آخر یہ “پختون ڈے” کیا ہے؟ 21 مارچ کو پختونوں کی تاریخ میں کیا ہوا تھا؟ کچھ بھی نہیں۔ صرف اور صرف پاکستان کی مخالفت کرنے کے لیے لبرلز کی طرف سے پختون ڈے کا شوشہ چھوڑا گیا اور اس بنیاد پر میڈیا اور عوام کی ہمدردیاں بٹورنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ نیز یہ باور کرانے کی بھی کوشش ہو رہی ہے کہ اس واقعے کو “پٹھان پنجابی نفرت” کی ایک مثال بنایا جائے۔
.
ثوبان تابش

ثوبان تابش

ثوبان تابش مصنف ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top