پچاس سال پہلے کا رمضان

article-112.jpg

بازاروں میں تل دھرنے کی جگہ نہیں۔ پھلوں کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں لیکن یہ رونا شاید ان چند سالوں میں پیدا ہوا ہے، پہلے تو کبھی ایسا نہ تھا۔ میں چند ایک ماہ میں 62 برس کا ہو جاؤں گا۔ میرے سامنے میری یادداشت کم ازکم 52 برس کی تو ہو گی۔ روزے وہ لوگ بھی رکھتے تھے شاید اس زمانے میں پورا پاکستان ہی غریب تھا۔ کھانا کو کم ہی ملتا تھا لیکن لوگ زندہ تو تھے۔ یہ جو دھما چوکڑی مچی ہوئی ہے یہ میں ان حالیہ چند سالوں میں دیکھ رہا ہوں۔ اس میں بڑا ہاتھ ان ٹی وی چینلوں کا بھی ہے۔ حرام ہے کہ کوئی چینل بچیوں یا خواتین خانہ کو بتا رہا ہوکہ کے انتظام میں نماز قرآن کی تلاوت، دن بھر کی مصروفیا ت میں اللہ کی کتاب سے لگاؤ، غریبوں کا خیال کرنا کیا اور کیسے ہوتا ہے۔ دو بجتے نہیں ہیں کہ خواتین کو نت نئی ڈشوں کو سکھانے کی ترغیبات دینی شروع ہو جاتی ہیں۔

بہرحال، ہمارا زمانہ تھا کہ بچوں کو ترغیب دی جاتی تھی کہ آپ بھی اٹھیں، سحری کریں، نماز پڑھیں اور سب کے ساتھ مل کر روزہ رکھیں، چاہے وہ چڑی روزہ ہی کیوں نہ ہو لیکن اب “علموں بس کریں او یار”، یہ بتایا جاتا ہے کہ “و بصوم غدا نویت من شھر رمضان” والی تو دعا ہی غلط ہے، یعنی ہم ایویں ہی مغز ماری کرتے رہے؟ جب ماں جی کے ہاتھ کے بنے دیسی گھی کے پراٹھوں کی خوش نتھنوں میں آتی تھی تو آنکھ کھل جاتی۔ سیڑھی کے نیچے بنے چولہے کے پاس سخت سرد موسم میں چولہے کے قریب والی نشست حاصل کرنے کی کوشش ہوتی۔ پھر پہلی روٹی کی تکرار، رات کے سالن، دہی اور چائے پراٹھے کے ساتھ۔ پھر نماز کے لیے مسجد اور واپسی پر رضائی میں بیٹھ کر قرآن کی تلاوت۔ کئی بار ایسا ہوا کہ رمضان میں تین، تین بار بھی قرآن مجید مکمل طور پر بڑھا۔

ریکارڈ البتہ جیل میں قائم ہوا جب مشرف عہد میں ہمیں قید خانے کا رخ کرنا پڑا۔ وہاں دن میں دس سپارے پڑھا کرتے تھے اور ایک لاکھ بار درود شریف۔ باہر آنے کے بعد ان 15 سالوں میں بھی وہ عبادت نہیں ہو سکی جو ان 71 دنوں میں ہوئی تھی۔ خیر، ان دنوں بڑے بھائی کی بہن کے ساتھ مسابقت رہتی تھی کہ کون زیادہ قرآن مجید پڑھے گا؟ بے جی بہت آہستہ پڑھتی تھیں، پہاڑی طرز میں تلاوت کرتیں تو سماں بندھ جاتا۔ بعد دعوت اسلامی کی تبلیغ میں شامل ہوکر قرآن مجید دوبارہ سیکھا اور آج ان کے نقش قدم پر پوتیاں چل رہی ہیں۔ بہرحال جب میں نے دیکھا کہ روز نیا پھڈا رہتا ہے کہ کون کہاں کس پارے پر ہے، تو سردیوں کی ایک اتوار کو دس سپارے پڑھ ڈالے۔ اگلے روز جب رضائیوں میں دبک کر قرآن کھلے تو سب کی آنکھیں کھلی رہ گئیں۔ مجھے کہا گیا کہ تم غلط کر رہے ہو، دھوکہ دے رہے ہو۔ میں نے کہا میرا اللہ جانتا ہے اور قرآن ہاتھ میں ہے میں جھوٹ نہیں بولتا۔ یو ں میں نے مقابلہ بازوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔ سب کچھ محنت سے ہوتا ہے اور یہی محنت گوجرانوالہ کے محلے باغبانپورہ کا رہائشی افتخار کرتا رہا۔

افطاری کا شوق اپنی جگہ مگر سحری کے وقت جو رونق ہوتی، اس کے کیا کہنے؟ کوئی ڈھول والا آ جاتا تو کوئی ٹولی نعتیں پڑھنے نکل پڑتی۔ افطار سے پہلے “عرش بریں تے آ ذرا میرے محمد پیاریا” اب تک کانوں میں رس گھول رہی ہے۔والد صاحب بڑے مزے کی عادتوں کے حامل تھے، سخت غصیلے مگر مزاح کی حس بھی سب سے اعلیٰ تھی۔ گھر میں ایک چھوٹی سی بیٹھک تھی اور وہی ان کا کمرہ تھا۔ ایک ٹین والا روزانہ ان کی کھڑکی کے پاس آ گر تین بار ٹین میں ڈنڈا گھما دیتا جس سے بڑی بے ہنگم آواز پیدا ہوتی تھی۔ ایک بار انہوں نے سمجھایا کہ یہ “نیک کام” کسی اور جگہ کر لیا کر۔مگر وہ باز نہ آیا ایک دن انہوں نے اس سے ڈنڈا اور پیپا چھین لیا۔ بے جی بڑی نرم خو تھیں، کہنے لگیں اللہ کا بندہ ہے، لوگوں کو جگاتا ہے، ایسا نہ کر۔ کہنے لگے اللہ کو پتہ ہے میں ٹائم پر جاگ جاتا ہوں، یہ لوگ جاگے ہوؤں کو کیوں جگاتے ہیں؟

ہم پانچ بھائی اور ایک بہن ہیں۔ ہر کوئی اپنے طور پر تیز و طرار اور شرارتی، مگر سجاد کا جواب نہیں۔ سجاد اور اس کا دوست ساجد محلے کے انتہائی شرارتی لڑکوں میں شمار ہوتے تھے۔ ایک بار والد صاحب کے سامنے افطار کا سامان رکھا ہوا تھا۔ سامان کیا تھا کھجوروں کے چند دانے اور رنگیلا پانی۔ وہ افطار کے بعد نماز کے لئے چلے جاتے۔ ایک دن کیا ہوا سجاد چھت پر چلا گیا اور افطار کے منتظر والد صاحب کان لگائے اس بات کے منتظر تھے کہ کب اذان ہو۔ ایسے میں اوپر سے آواز آئی۔ بالکل محلے کی مسجد کے مؤذن کی طرح کی آواز۔ مگر یہ سجاد نے کوئی افطار سے پانچ منٹ پہلے اذان دے دی تھی۔ والد صاحب نے روزہ کھول لیا اور جیسے ہی پتہ چلا، کچھ دیر بعد چھت سے سجاد کی آوازیں آنا شروع ہو گئیں۔ والد صاحب دھلائی کرنے میں بڑے ماہر تھے۔ ہم اپنی مسجد کی اذان پر روزہ کھولتے تھے۔ ایک بار کچھ دیر ہوگئی اور اذان نہ ہوئی۔ والد صاحب غصے میں مسجد گئے تو کیا دیکھتے ہیں مؤذن چاول کھا رہا ہے۔ اس روز مؤذن نے اپنے حصے کی خوب سنی ۔

ہم ان دنوں اس معاملے میں پھنسے رہتے کہ اگر کھجور نہ ملے تو روزہ کس سے کھولنا ہے؟ اکثر اوقات نمک چاٹ کر اور پانی پی کر روزہ افطار ہو جاتا۔ ایسے میں ہماری خواہش ہوتی کہ محلے کی مسجد میں روزہ کھولا کریں۔ میں بھی غائب ہو جاتا وہاں چنے والے چاول آیا کرتے تھے جو آج بھی میری پسندیدہ ڈش ہیں۔ ایک تو بالو کڑیو شیرینی ونڈی دی آواز اب بھی کوئی لگائے تو ہو سکتا ہے میں دوڑ پڑوں۔ جھولی پھیلا کر اس میں اچھے خاصے چاول اکٹھے ہو جایا کرتے تھے، پھر ایک اور ڈائیلاگ “میرے بھرا دی وی دے۔”

رمضان میں نماز اور قرآن مجید اپنی جگہ لیکن پتنگیں اڑانا بھی ہمارا شوق تھا۔ ایک روز افطار میں دیر ہوگئی کیونکہ میں پتنگیں لوٹنے میں لگا ہوا تھا۔ رفیق شیخ کے کوٹھے پر شام کے وقت ایک گڈی آئی۔ میں اس کے پیچھے دوڑ رہا تھا اور بالکل احساس نہیں رہا کہ ساتھ میں خالی صحن ہے۔ میں دوڑتا دوڑتا آگے بڑھا تو دیکھا شیخ خاندان کے لوگ چارپائی پر افطاری کی تیاری کرکے بیٹھے ہوئے ہیں لیکن گڈی ہاتھ لگ چکی تھی اور میں فل سٹاپ نہیں لگا سکتا تھا۔ چھت سے صحن میں چھلانگ لگا دی، چاولوں والی کنالی میں گرا اور گرنے کے ساتھ ہی چارپائی بھی ٹوٹ گئی۔ میں اٹھا اور گڈی لے کر بھاگ گیا۔ اللہ تعالیٰ خالہ شیخنی کو جنت میں جگہ دے، ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہو گئیں اور پھر شکایت لگانے بھی آئیں۔ پھر والد صاحب گرامی نے حسب عادت باٹا کے سلیپر سے تواضح کی۔

نماز تراویح کے دوران لڑکے شرارتی کرتے تھے۔ پہلی رکعت کے آخر میں دوڑ دوڑ کر شریک ہوتے۔ آٹھ اور بیس تراویح کا پھڈا بھی چلتا رہتا۔ وہابیوں کی مسجد میں میں نہیں جاتا تھا، پتہ نہیں کیوں لیکن دیوبندیوں کی مسجد میں جاتا رہا کیونکہ یہ لوگ بیس تراویح پڑھاتے تھے ۔اللہ قاری یوسف کو صحت اور تندرستی دے، ان کے پیچھے قرآن سنتا تھا۔رمضان کے آخری عشرے میں عبادات پر بھی زور رہتا مگر صاحب لوگ اس معاملے میں اپنا زور پتنگ بازی اور اس سے جڑے معاملات میں لگانے میں مصروف رہتے۔

بات کہاں سے کہاں جا نکلی؟ آج کل افطار کے دستر خوان کتنے سجا دیے گئے ہیں، ہر کوئی اپنی پسند کو میز پر دیکھنا چاہتا ہے۔ کئی رنگوں کے مشروب، دہی بھلے، فروٹ چاٹ اور نجانے کیا کیا؟ آج کا انسان تو رمضان میں تین گنا زیادہ کھا جاتا ہے بمقابل عام دنوں کے لیکن کوئی مانگنے آ جائے تو جھڑک دیا جاتا ہے۔

آج رمضان میں کیا ہمارے بچے قرآن خوانی میں ایک دوسرے کا مقابلہ کر رہے ہیں؟ کیا ہم رمضان میں سادگی سے کھا رہے ہیں؟ سچ پوچھیں تو ایک ہفتہ بھی ہم رمضان میں اپنے کھانے پینے کے معمولات کو عام دنوں جیسا رکھیں تو چیزوں کی قیمتیں کم ہو جائیں۔ کوشش کریں، باقی راستے اللہ پیدا کردے گا۔

تحریر : افتخار چودھری

جاوید چوہدری

جاوید چوہدری پیشے کے لحاظ سے شعبہ صحافت سے منسلک ہیں، ان کے سب سے قابل ذکر کالم ’’ زیرو پوائنٹ ‘‘ خاص طور پر پاکستان کے عوام یوتھ اور پاکستان کے مسلمانوں پر بہت بڑا اثر ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top