افسانہ اوورکوٹ – غلام عباس

article-79.jpg

جنوری کی ایک شام کو ایک خوش پوش نوجوان ڈیوس روڈ سے گزر کر مال روڈ پر پہنچا اور چیئر نگ کر اس کا رخ کرکے خراماں خراماں پٹری پر چلنے لگا۔یہ نوجوان اپنی تراش خراش سے خاصا فیشن ایبل معلوم ہوتا تھا۔لمبی لمبی قلمیں چمکتے ہوئے بال،باریک باریک مونچھیں گویا سرمے کی سلائی سے بنائی گئی ہوں۔بادامی رنگ کا گرم اوورکوٹ پہنے ہوئے جس کا کاج میں شربتی رنگ کے گلاب کا ایک ادھ کھلا پھول اٹکا ہوا ،سر پر سبز فلیٹ ہیٹ ایک خاص انداز سے ٹیڑھی رکھی ہوئی، سفید رنگ کا گلو بند گلے کے گرد لپٹا ہوا ایک ہاتھ کوٹ کی جیب میں،دوسرے میں بید کی ایک چھوٹی چھڑی پکڑے ہوئے جسے کبھی کبھی مزے میں آگے گھمانے لگتا تھا۔
یہ ہفتے کی شام تھی۔بھر پور جاڑے کا زمانہ تھا۔ سرد اور تند ہوا کسی تیز دھار کی طرح جسم پر آکے لگتی تھی مگر ا س نوجوان پر اس کا کچھ اثر معلوم نہیں ہوتا تھا اور لوگ خود کو گرم کرنے کے لئے تیز قدم اُٹھا رہے تھے مگر اسے اس کی ضرورت نہ تھی جیسے اس کڑ کڑاتے جاڑے میں اسے ٹہلنے میں بڑا مزا آرہا ہو۔
اس کی چال ڈھال سے ایسا بانکپن ٹپکتا تھا کہ تانگے والے دور ہی سے دیکھ کر سر پٹ گھوڑا دوڑاتے ہوئے اس کی طرف لپکتے مگر وہ چھڑی کے اشارے سے نہیں کردیتا ۔ایک خالی ٹیکسی بھی اسے دیکھ کر رُکی مگر اس نے “نو تھینک یو” کہہ کر اسے بھی ٹال دیا۔
جیسے جیسے وہ مال کے زیادہ بارونق والے حصے کی طرف پہنچتا جاتا تھا۔ اس کی چونچالی بڑھتی جاتی تھی۔وہ منہ سے سیٹی بجاکے رقص کی ایک انگریزی دھن نکالنے لگا۔اس کے ساتھ ہی اس کے پاﺅں بھی تھرکتے ہوئے اٹھنے لگے۔ایک دفعہ جب آس پاس کوئی نہیں تھا تو یکبارگی کچھ ایسا جوش آیا کہ اس نے دوڑ کر جھوٹ موٹ بال دینے کی کوشش کی گویا کہ کرکٹ کا میچ ہورہا ہو۔
راستے میں وہ سڑک آئی جو لارنس گارڈن کی طرف جاتی تھی مگر اس وقت شام کے دھند لگے اور سخت کہرے میں اس باغ پر کچھ ایسی اداسی برس رہی تھی کہ اس نے ادھر کا رخ نہ کیا اور سیدھا چیئرنگ کر اس کی طر ف چلتا رہا۔
ملکہ کے بت کے قریب پہنچ کر اس کی حرکات وسکنات میں کسی قدر متانت آگئی۔اس نے اپنا رومال نکالا جسے جیب میں رکھنے کی بجائے اس نے کوٹ کی بائیں آستین میں اڑس رکھا تھا اور ہلکے ہلکے چہرے پر پھیرا۔تاکہ کچھ گرد جم گئی ہوتو اتر جائے۔پاس گھاس کے ایک ٹکڑے پر کچھ انگریز بچے بری سی گیند سے کھیل رہے تھے۔وہ بڑی دلچسپی سے ان کا کھیل دیکھنے لگا۔ بچے کچھ دیر تک اس کی پرواہ کئے بغیر کھیل میں مصروف رہے مگرجب وہ ان کے برابر تک ہی چلا گیا تو وہ رفتہ رفتہ شرمانے لگے اور پھر اچانک گیند سنبھال کر ہنستے ہوئے ایک دوسرے کے پیچھے بھاگتے ہوئے گھاس کے اس ٹکڑے ہی سے چلے گئے۔
نوجوان کی نظر سیمنٹ کی ایک خالی بنچ پر پڑی اور وہ اس پر آگے بیٹھ گیا۔اس وقت شام کے اندھیرے کے ساتھ ساتھ سردی اور بھی بڑھتی جارہی تھی۔ اس کی یہ شدت ناخوشگوار نہ تھی۔بلکہ لذت پرستی کے ترغیب دیتی تھی۔شہر کے عیش پسند طبقے کا توکہنا ہی کیا وہ تو اس سردی میں زیادہ ہی کھل کر کھیلتا ہے۔تنہائی میں بسر کرنے والے بھی اس سردی سے ورغلائے جاتے ہیں اور وہ اپنے اپنے کونوں کھدروں سے نکل کر محفلوں اور مجمعوں میں جانے کی سوچنے لگتے ہیں تاکہ جسموں کا قرب حاصل ہو۔حصول لذت کی یہی جستجو لوگوں کو مال پر کھینچ لائی تھی۔اور وہ حسب توفیق ریستورانوں ،کافی ہاﺅسوں،رقص گاہوں ،سینماﺅںاورتفریح کے دوسرے مقاموں پر محفوظ ہورہے تھے۔
مال روڈ پر موٹروں،تانگوں اور بائیسکلوں کا تانتا بندھا ہوا تو تھا ہی پٹری پر چلنے والوں کی بھی کثرت تھی۔علاوہ ازیںسڑک پر مشتمل دکانوں میں خرید وفروخت کا بازار بھی گرم تھا جن کم نصیبوں کو نہ تفریح طبع کی استطاعت تھی نہ خرید وفروخت کی وہ دور ہی سے کھڑے کھڑے ان تفریح گاہوں اور دکانوں کی رنگا رنگ روشنیوں سے جی بہلا رہے تھے۔
نوجوان سیمنٹ کی بنچ پر بیٹھا اپنے سامنے گزرتے ہوئے زن ومرد کو غور سے دیکھ رہا تھا۔ اس کی نظر ان کے چہروں سے کہیں زیادہ ان کے لباس پر پڑتی تھی۔ ان میں ہر وضع اورہر قماش کے لوگ تھے۔بڑے بڑے تاجر،سرکاری افسر،لیڈر ،فنکار،کالجوں کے طلباءاور طالبات،برسیں،اخباروں کے نمائندے ،دفتروں کے بابو(زیادہ ترلوگ اوورکوٹ پہنے ہوئے تھے)ہر قسم کے اوورکوٹ قراقلی کے بیش قیمت اوورکوٹ سے لے کر خالی پٹی کے پرانے فوجی اوورکوٹ تک جسے نیلام میں خرید ا گیا تھا۔
نوجوان کا اپنا اوورکوٹ تھا تو خاصا پرانا مگر اس کا کپڑا خوب بڑھیا تھا پھر وہ سلا ہوا بھی کسی ماہر درزی کا تھا۔ اس کو دیکھنے سے معلوم ہوتا تھا کہ اس کی بہت دیکھ بھا ل کرجاتی ہے۔کالر خوب جما ہوا تھا۔ باہوں کی کریزیں بڑی نمایاں،سلوٹ کہیں نام کی نہیں۔بٹن سینگ کے بڑے بڑے چمکتے ہوئے نوجوان اس میں بہت مگن معلوم ہوتا تھا۔
ایک لڑکا پان بیڑی سگریٹ کا صندوقچہ گلے میں سامنے سے گزرا نوجوان نے آواز دی۔
“پان والا”۔
” جناب ”
دس کا چینج ہے؟“
“ہے تو نہیں۔لادوں گا۔ کیا لیں گے آپ؟”
“اجی واہ۔ کوئی چوروچکا ہوں جو بھاگ جاﺅں گا۔اعتبار نہ ہوتو میرے ساتھ چلئے۔لیں گے کیا آپ؟”
“نہیں نہیں” ہم خود چینج لے لوں گا۔”لو یہ ایک آنا نکل آیا ۔گولڈ فلیک کا ایک سگریٹ دے دو اور چلے جاﺅ”۔
لڑکے کے جانے کے بعد مزے مزے سے سگریٹ کے کش لگانے لگا۔ وہ ویسے ہی بہت خوش نظر آتا تھا۔ گولڈ فلیک کے مصفاد ھوئیں نے اس پر سرور کی کیفیت طاری کردی۔
ایک چھوٹی سی سفید رنگ کی بلی سردی میں ٹھٹھی ہوئی بنچ کے نیچے اس کے قدموںمیں آکر میاﺅں میاﺅں کرنے لگی۔اس نے پچکارا تو اچھل کر بنچ پر آچڑھی۔ اس نے پیار سے اس کے پیٹھ پر ہاتھ پھیر اور کہا۔
” پورلٹل سول ”
اس کے بعد وہ بنچ سے اٹھ کھڑا ہوا اور سڑک کو پار کرکے اس طر ف چلا گیا جدھر سینما کی رنگ برنگی روشنیاں چھلملا رہی تھیں۔تماشا شروع ہوچکا تھا۔سینما کے برآمدے میں بھیڑ نہ تھی۔صرف چندلوگ تھے جو آنے والی فلموں کی تصویروں کا جائزہ لے رہے تھے۔یہ تصویریں چھوٹے بڑے کئی بورڈوں پر چسپاں تھیں۔ان میں کہانی کے پچیدہ پچیدہ مناظر دکھائے گئے تھے۔
تین نوجوان اینگلو انڈین لڑکیاں ان تصویروں کو ذوق وشوق سے دیکھ رہی تھیں۔ایک خاص شان استغنا مگر صنف نازک کا پورا پورا احترام ملحوظ رکھتے ہوئے وہ بھی ان کے ساتھ ساتھ مگرمناسب فاصلے سے ان تصویروں کو دیکھتا رہا۔لڑکیاں آپس میں ہنسی مذاق کی باتیں بھی کرتی جاتی تھیں اور فلم پر رائے زنی بھی۔ ایک لڑکی نے،جو اپنی ساتھ ہنستی ہوئی باہر نکل گئیں۔نوجوان نے اس کا کچھ اثر قبول نہ کیا اور تھوڑی دیر کے بعد وہ خود بھی سینما کی عمارت سے باہر نکل آیا۔
اب سات بج چکے تھے اور وہ مال کی پٹری پر پھر پہلے کی طرح مٹر گشت کرتا ہوا چلا جارہا تھا۔ ایک رستوران میں آرکسٹر ا بج رہا تھا۔اندر سے کہیں زیادہ باہر لوگوں کا ہجوم تھا۔ ان میں زیادہ تر موٹروں کے ڈرائیور،کوچوان،پھل بیچنے والے جو اپنا مال بیچ کے خالی ٹوکرے لئے کھڑے تھے ۔کچھ راہ گیر جوچلتے چلتے ٹھہر گئے تھے۔کچھ مزدوری پیشہ لوگ اور کچھ گداگر۔یہ اندر والوں سے کہیں زیادہ گانے کے رسیا معلوم ہوتے تھے۔کیونکہ وہ غل غپاڑ ہ نہیں مچارہے تھے بلکہ خاموشی سے نغمہ سن رہے تھے۔حالانکہ دھن اور ساز اجنبی تھے۔نوجوان پل بھرکے لئے رکا اور پھر آگے بڑھ گیا۔تھوڑی دور چل کے اسے انگریزی موسیقی کی ایک بڑی سی دکان نظر آئی اور وہ بلا تکلف اندر چلا گیا۔ہر طرف شیشے کی الماریوں میں طرح طرح کے انگریزی ساز رکھے تھے ۔ایک لمبی میز پر مغربی موسیقی کی دو ورقی کتابیں چھپی تھیں۔یہ نئے چلنتر گانے تھے۔سرورق خوبصورت رنگدار مگر دھنیں گھٹیا۔ایک چھلتی ہوئی نظر ان پر ڈالی اور پھر وہاں سے ہٹ آیا اور سازوں کی طرف متوجہ ہوگیا۔ایک ہسپانوی گٹار جو ایک کھونٹی سے ٹنگی ہوئی تھی ناقدانہ نظر ڈالی اور اس کے ساتھ قیمت کا جو ٹکٹ لٹک رہا تھا اسے پڑھا ۔اس سے ذرا ہٹ کر ایک بڑ اجرمن پیانو رکھا ہوا تھا۔اس کا کور اٹھا کرانگلیوں سے بعض پر دوں کو ٹٹولا اور پھر کور بند کردیا۔
دکان کا ایک کارکن اس کی طرف بڑھا۔
” گڈایوننگ سر۔سرکوئی خدمت؟”
“نہیں شکریہ”۔ہاں اس مہینے کی گرموفون ریکارڈوں کی فہرست دے دیجئے۔
فہرست لے کے اوورکوٹ کی جیب میں ڈالی ۔دکان سے باہر نکل آیا اور پھر چلنا شروع کردیا۔ راستے میں ایک چھوٹا سا بک اسٹال پڑا۔نوجوان یہاں بھی رُکا ۔کئی تازہ رسالوں کے ورق الٹے رسالہ جہاں سے اٹھاتا بڑی احتیاط سے وہیں رکھ دیتا۔ اور آگے بڑھا تو قالینوں کی ایک دکان نے اس کی توجہ کو جذب کیا۔مالک دکان نے جو ایک لمبا سا چغہ پہنے اور سر پر کلاہ رکھے تھا۔گرمجوشی سے اس کی آﺅ بھگت کی۔
“ذرا یہ ایرانی قالین دیکھنا چاہتا ہوں۔اتار یئے نہیں یہیں سے دیکھ لوں گا۔کیا قیمت ہے اس کی؟”
“چودہ سو تیس روپے ہے۔”
نوجوان نے اپنی بھنوﺅن کو سکیڑا جس کا مطلب تھا”او ہواتنی”۔
دکاندار نے کہا”آپ پسند کرلیجئے ۔ہم جتنی بھی رعایت کرسکتے ہیں کردیں گے”۔
“شکریہ لیکن اس وقت تو میں صرف ایک نظر دیکھنے آیا ہوں۔”
“شوق سے دیکھئے ۔آپ ہی کی دکان ہے۔”
وہ تین منٹ کے بعد اس دکان سے نکل آیا ۔اس کے اوورکوٹ کا کاج میں شربتی رنگ کے گلاب کا جوادھ کھلا پھول اٹکا ہوا تھا۔ وہ اس وقت کاج سے کچھ زیادہ باہر نکل آیا تھا۔جب وہ اس کو ٹھیک کررہا تھا تو اس کے ہونٹوں پر ایک خفیف اور پراسرارسی مسکراہٹ نمودار ہوئی اور اس نے پھر اپنی مٹر گشت شروع کردی۔
اب وہ ہائی کورٹ کی عمارتوں کے سامنے سے گزر رہا تھا۔اتنا کچھ حال لینے کے بعد اس کی طبیعت کی چونچالی میں کچھ فرق نہیں آیا تھا۔نہ تکان محسوس ہوئی تھی نہ اکتا ہٹ یہاں پٹری پر چلنے والوں کی ٹولیاں کچھ چھٹ سی گئی تھیں۔اور میں ان میںکافی فاصلہ رہنے لگا تھا۔ اس نے اپنی بید کی چھڑی کو ایک انگلی پر گھمانے کی کوشش کی مگر کامیابی نہ ہوئی اور چھڑیزمین پر گر پڑی”اوہ سوری“ کہہ کر زمین پر جھکا اور چھڑی کو اٹھا لیا۔
اس اثناءمیں ایک نوجوان جوڑا جو اس کے پیچھے پیچھے چلا آرہا تھا اس کے پاس سے گزر کر آگے نکل آیا۔لڑکا دراز قامت تھا اور سیاہ کوڈرائے کی پتلون اور زپ والی چمڑے کی جیکٹ پہنے تھا
اورلڑکی سفید ساٹن کی گھیردار شلوار اور سبز رنگ کا کوٹ وہ بھاری بھر کم سی تھی۔ اس کے بالوںمیں ایک لمبا سا سیا ہ چٹا گندھا ہوا تھا جو اس کمر سے نیچا تھا۔لڑکی چلنے سے اس چٹلے کا پھندنا اچھلتا کودتا پے درپے اس کے فربہ جسم سے ٹکراتا تھا۔نوجوان کے لئے جواب ان کے پیچھے پیچھے آرہا تھا یہ نظارہ خاصا جاذب نظر تھا۔ وہ جوڑا کچھ دیر تک تو خاموش چلتا رہا۔اس کے بعدلڑکے نے کچھ کہا جس کے جواب میں لڑکی اچانک چمک کر بولی۔
”سنو میرا کہنا مانو“لڑکے نے نصیحت کے انداز میں کہا”ڈاکٹر میرا دوست ہے۔کسی کوکانوں کان خبر نہ ہوگی۔“
“نہیں ،نہیں ،نہیں”
“میں کہتا ہوں تمہیں ذرا تکلیف نہ ہوگی۔”
“لڑکی نے جواب دیا۔”
“تمہارے باپ کو کتنا رنج ہوگا۔ذرا ان کی عزت کا بھی تو خیال کرو۔”
“چپ رہو ورنہ میں پاگل ہوجاﺅں گی۔”
نوجوان نے شام سے اب تک اپنی مٹر گشت کے دوران میں جتنی انسانی شکلیں دیکھی تھیں ان میں سے کسی نے بھی اس کی توجہ کو اپنی طرف منعطف نہیں کیا تھا۔فی الحقیقت ان میں کوئی جاذبیت تھی ہی نہیں۔ یا پھر وہ اپنے حال میں ایسا مست تھا کہ کسی دوسرے سے اسے سروکار ہی نہ تھا مگر اس دلچسپ جوڑے نے جس میں کسی افسانے کے کرداروں کی سی ادا تھا ۔جیسے یکبارگی اس کے دل کو موہ لیا تھا اور اسے حد درجہ مشتاق بنا دیا کہ وہ ان کی اور بھی باتیں سنے اور ہوسکے تو قریب سے ان کی شکلیں بھی دیکھ لے۔
اس وقت وہ تینوں بڑے ڈاکخانے کے چورا ہے کے پاس پہنچ گئے تھے۔لڑکا اور لڑکی پل کو کور کرکے اور پھر سڑک کے پار کرکے میکلوڈ روڈ پر چل پڑے۔نوجوان مال روڈ پر ہی ٹھہرا رہا۔شاید وہ سمجھتا تھا کہ فی الفوران کے پیچھے گیا تو ممکن ہے انہیں شبہ ہوجائے کہ ان کاتعاقب کیا جارہا ہے اس لئے اسے کچھ لمحے رُک جانا چاہیے۔
جب وہ لوگ کوئی سو گز آگے نکل گئے تو اس نے لپک کر ان کا پیچھا کرنا چاہا مگر ابھی اس نے آدھی ہی سڑک پار کی ہوگی کہ اینٹوں سے بھری ہوئی ایک لاری پیچھے سے بگولے کی طرح آئی اور اسے روندتی ہوئی میکلو ڈ روڈ کی طرف نکل گئی۔لاری کے ڈرائیور نے نوجوان کی چیخ سن کر پل بھر کے لئے گاڑی کی رفتار کم کی ۔وہ سمجھ گیا کہ کوئی لاری کی لپیٹ میں آگیا اور وہ رات کے اندھیرے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے لاری کولے بھاگا۔دو تین راہ گیر جو اس حادثے کو دیکھ رہے تھے شور مچا نے لگے نمبر دیکھو نمبر دیکھو مگر لاری ہوا ہو چکی تھی۔
اتنے میں کئی اورلوگ جمع ہوگئے۔ٹریفک کا ایک انسپکٹر جو موٹر سائیکل پر جارہا تھا رُک گیا۔نوجوان کے دونوں ٹانگیں بالکل کچلی گئی تھیں۔ بہت سا خون نکل چکا تھا اور وہ سسک رہا تھا۔فوراً ایک کا ر کو روکا گیا اور اسے جیسے تیسے اس میں ڈال کر بڑے ہسپتا ل روانہ کردیا گیا۔ جس وقت وہ ہسپتا ل پہنچا تو اس میں ابھی رمق بھر جان باقی تھی۔
نوجوان کے گلو بند کے نیچے لٹک آئی اور کالر سرے سے قمیض ہی نہیں تھی۔اوورکوٹ اتار ا گیا تو نیچے سے ایک بوسیدہ اونی سوئٹر نکلا جس میں بڑے بڑے سوراخ تھے۔ان سوراخوں سے سوئٹر سے بھی زیادہ بوسیدہ اور میلا کچیلا ایک بنیان نظر آرہا تھا۔نوجوان سلک کے گلوبند کوکچھ اس طریقے سے گلے پر لپٹیے رکھتا تھا کہ اس کا سارا سینہ چھپا رہتا تھا۔ اس کے جسم پر میل کی تہیں بھی خوب چڑھی ہوئی تھیں۔ظاہر ہوتا تھا کہ وہ کم سے کم پچھلے دو مہینے سے نہیںنہایا البتہ گردن خوب صاف تھی او راس پر ہلکا ہلکا پوڈر لگا ہوا تھا۔ سوئٹر اور بینان کے بعد پتلون کی باری آئی اور شہناز اور گل کی نظریں پھر بیک وقت اٹھیں۔
دھجی سے جو شاید کبھی نکٹائی ہوگی خوب کس کے باندھا گیا تھا ۔بٹن اوربکسوے غائب تھے۔دونوں گھٹنوں پر سے کپڑا مسک گیا تھا ۔اور کئی جگہ کھونچیں بھی لگی تھیں مگر چونکہ یہ حصے اوورکوٹ کے نیچے رہتے تھے اس لئے لوگوں کی ان پر نظر نہیںپڑتی تھی۔اب بوٹ اور جرابوں کی باری آئی اور ایک مرتبہ پھر مس شہناز اور مس گل کی آنکھیں چارہوئیں۔
بوٹ تو پرانے ہونے کے باوجود خوب چمک رہے تھے مگر ایک پاﺅںکی جراب دوسرے پاﺅں کی جراب سے بالکل مختلف تھی پھر دونوں جرابیں پھٹی ہوئی بھی تھیں۔اسقدر کہ ان میںسے نوجوان کی میلی میلی ایڑیاں نظر آرہی تھیں۔
بلا شبہ اس وقت تک وہ دم توڑ چکا تھا۔اس کا جسم سنگ مرمر کی میز پر بے جان پڑا تھا۔ اس کا چہرہ جو پہلے چھت کی سمت تھا۔ کپڑے اتارنے میں دیوار کی طرف مڑگیا۔معلوم ہوتا تھا کہ جسم اور اس کے ساتھ روح کی برہنگی نے اسے خجل کردیا ہے اور وہ اپنے ہم جنسوں سے آنکھیں چرا رہا ہے۔
اس کے اوورکوٹ کی مختلف جیبوں سے جو چیزیں برآمد ہوئیں وہ یہ تھیں:
ایک چھوٹی سی سیاہ کنگھی،ایک رومال ،ساڑھے چھ آنے ،ایک بجھا ہوا سگریٹ،ایک چھوٹی سی ڈائری جس میں نام اور پتے لکھے تھے۔اس ہسپتا ل کے شعبہ حادثات میں اسسٹنٹ سرجن مسٹر خان اور دونوعمر نرسیں مس شہناز او رمس گل ڈیوٹی پر تھیں۔جس وقت اسے سٹریچر پر ڈال کر آپریشن روم میںلے جایا جارہا تھا تو ان نرسوں کی نظر اس پر پری۔اس کا بادامی رنگ کا اوورکوٹ ابھی تک اس کے جسم پر تھا اور سفید سلک کا مفلر گلے میں لپٹا ہوا تھا۔ اس کے کپڑوں پر جابجاخون کے بڑے بڑے دھبے تھے۔کسی نے ازراہ درد مندی اس کی سبز فلیٹ ہیٹ اٹھا کے اس کے سینہ پر رکھ دی تھی تاکہ کوئی اڑا نہ لے جائے۔
شہناز نے گل سے کہا:
“کسی بھلے گھر کا معلوم ہوتا ہے بے چارہ۔”
گل دبی آواز میں بولی۔
“خوب بن ٹھن کے نکلا تھا بے چارہ ہفتے کی شام منانے”۔
“ڈرائیور پکڑا گیا یا نہیں؟”
“نہیں بھا گیا”۔
“کتنے افسوس کی بات ہے”۔
آپریشن روم میں اسسٹنٹ سرجن اور نرسیں چہروں پر جراحی کے نقاب چڑھا ۔جنہوں نے ان کی آنکھوں سے نیچے کے سارے حصے کو چھپا رکھا تھا۔اس کی دیکھ بھال میںمصروف تھے ۔اسے سنگ مرمر کی میز پر لٹا دیا گیا۔ اس نے سر میں جوتیز خوشبو تیل ڈال رکھا تھا۔ اس کی کچھ مہک ابھی تک باقی تھی۔پٹیاں ابھی تک جمی ہوئی تھیں۔حادثے سے اس کی دونوںٹانگیں تو ٹوٹ چکی تھیں مگر سر کی مانگ نہیں بگڑنے پائی تھی۔
اب اس کے کپڑے اتارے جارہے تھے۔سب سے پہلے سفید سلک گلو بند اس کے گلے سے اتار اگیا۔اچانک نرس شہناز اور نرس گل نے بیک وقت ایک دوسرے کی طرف دیکھا اس سے زیادہ وہ کربھی کیا سکتی تھیں۔چہرے جو دلی کیفیات کا آئینہ ہوتے ہیں،جراحی کے نقاب تلے،چھپے ہوئے تھے اور زبانیں بنائیں۔
نئے گراموفون ریکارڈوں کی ایک ماہانہ فہرست اور کچھ اشتہار جو مٹر گشت کے دوران میں اشتہار بانٹنے والوں نے اس کے ہاتھ میں تھما دیئے تھے اور اس نے انہیں اوورکورٹ کی جیب میں ڈال دیا تھا۔
افسوس کہ اس کی بید کی چھڑی جو حادثے کے دوران میںکہیں کھو گئی تھی اس فہرست میں شامل نہ تھی۔

انتطامیہ اُردو صفحہ

انتطامیہ اُردو صفحہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top