موٹی موٹی کتابیں چند گھنٹوں میں کیسے پڑھیں؟

article-21.jpg

کم از کم صفحات کی تعداد طے کرلیں، مثال کے طور پر میں روز کے 100 صفحات پڑھوں گا۔ اب چاہے کچھ ہوجائے، آپ نے اپنا ٹارگٹ پورا کرنا ہے۔ ایک مسلمان اب اگر مہینے کے 3 ہزار صفحات بھی نہ پڑھے تو کتنے شرم کی بات ہے۔

پڑھیں کیسے؟ یہ ایک سوال ہے جو گزشتہ کئی مہینوں سے دوست احباب اور سوشل میڈیا پر فالو کرنے والے کثرت سے پوچھ رہے ہیں۔ اب میں خود کوئی پڑھنے پڑھانے والا بندہ تو ہوں نہیں، یہی وجہ ہے کہ جواب دینے سے ہمیشہ معذرت برتی، مگر اب جب کہ اِصرار در اِصرار بڑھتا ہی جارہا ہے تو سوچا صرف اتنا لکھ دوں کہ میں کیسے پڑھتا ہوں۔ صحیح یا غلط کا فیصلہ قارئین اور اہل علم کریں گے۔

پڑھیں کیسے؟ اس سے پہلے بھی کئی سوال ہیں جو پوچھنے چاہئیں۔ مثلاً، پڑھیں کیوں؟ پڑھیں کیا؟ پڑھیں کب؟ وغیرہ وغیرہ اور پڑھیں کیسے کے بعد پوچھنا چاہیئے کہ پڑھنے کے کیا فائدے اور نقصانات ہیں؟ آئیے دیکھتے ہیں۔

پڑھیں کیوں؟

ایک دنیا ہے جو خوش و خرم، موج مستی میں زندگی گزار رہی ہے، دن بھر دوستوں سے واٹس اپ اور فیس بک پر بات اور رات بھر ٹی وی اور نائٹ پیکجز۔ ایسے میں آخر کون اتنا وقت ”برباد“ کرے کہ بیٹھ کر کتابیں پڑھے؟ پڑھنے کے کچھ فوائد جو میری سمجھ میں آتے ہیں وہ یہ ہیں۔
بندے کو اپنے جہل کا پتہ لگتا ہے کہ اُسے کتنا نہیں معلوم۔
پڑھنے سے کسی فیلڈ کا اور دنیا کا ایکسپوژر ملتا ہے کہ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے اور میں کہاں کھڑا ہوں۔
پڑھنے سے بنیاد ملتی ہے جس پر کھڑا ہوکر کوئی کام کرسکے۔
پڑھنے سے دماغی و تخلیقی صلاحیتیں جلا پاتی ہیں۔
پڑھنے سے ہمت و حوصلہ ملتا ہے کہ اگر دنیا یہ سب کچھ کرسکتی ہے تو میں بھی کرسکتا ہوں۔
پڑھنے سے موازنہ کرنے کا موقع ملتا ہے کہ مختلف سوچ و عقائد رکھنے والے حضرات کسی مضمون کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں۔ اختلافِ رائے کو پڑھنے سے ذہن میں وسعت آتی ہے اور برداشت بڑھتی ہے۔
پڑھنے سے وقت فالتو کاموں میں ضائع نہیں ہوتا۔ وہ تمام وقت جو ٹی وی ڈراموں، سوشل میڈیا اور دوستوں کی نذر ہوجاتا ہے، اب پڑھنے میں لگ رہا ہے۔
پڑھنے سے چیزوں کی حقیقت کھلتی ہے اور آدمی اچھے بُرے میں تمیز کرسکتا ہے۔
پڑھنے سے ادبی و جمالیاتی ذوق بنتا ہے جو آپ کو اس قابل بناتا ہے کہ آپ غالب اور رکشہ والے شعر میں تفریق کرسکیں۔
پڑھنے سے جستجو بڑھتی ہے، طلب و پیاس بڑھتی ہے اور آدمی اصل بات کی کھوج میں لگا رہتا ہے۔
اور پڑھنے سے بندے اور رب کے درمیان تعلق مضبوط ہوجاتا ہے کہ جس نے اپنی کتاب کا آغاز ہی اِقراء سے کیا ہے۔

پڑھیں کیا؟

اگر آپ پڑھنے سے شغف نہیں رکھتے تو شروع شروع میں عادت بنانے کے لئے کچھ بھی پڑھیں، بس پڑھیں۔ آن لائن بلاگز، فیس بک اور اخبارات اس پڑھائی میں شمار نہیں ہوتے نہ ہی آپ کے SMS میسجز۔ ابن صفی کو پڑھیں، اثر نعمانی کو پڑھیں، ممتاز مفتی، بانو قدسیہ، قدرت اللہ شہاب، شوکت تھانوی، اشفاق احمد، عصمت چغتائی، وحیدہ نسیم، قرۃ العین حیدر، اجمل نیازی، طارق بلوچ صحرائی، سعادت حسن منٹو، ڈاکٹر امجد ثاقب، مستنصر حسین تارڑ یا انتظار حسین، نیا یا پرانا جو مصنف اچھا لگے، اسے پڑھ ڈالیں، شروع سے آخر تک۔ دینی ذوق ہو تو مولانا منظور نعمانی اور سید سلیمان ندویؒ کے کیا کہنے، آسان سہل زبان میں مشکل سے مشکل بات کہہ جاتے ہیں۔ شاعری کا شوق ہو تو پروین شاکر اور ناصر کاظمی سے شروع کریں، یاس یگانہ اور چراغ حسن حسرت پر سانس بھریں اور حافظ و رومی سے ہوتے ہوئے غالب اور علامہ اقبال پر ختم ہوجائیں۔
کسی مخصوص شعبے میں پڑھانا چاہیں تو اس فیلڈ میں کام کرنے والے سے پوچھیں کہ فیلڈ کے استاد کون ہیں، پھر استادوں سے پوچھیں کہ فیلڈ کے کرتا دھرتا کون ہیں۔ (ان کی تعداد ہمیشہ انگلیوں پر گنی جاسکتی ہے) یا پھر کچھ کتابیں اُٹھالیں، بہت جلد احساس ہوجائے گا کہ سب لوگ معدودے چند اشخاص کا ہی ذکر کرتے ہیں، یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے فیلڈ کی بنیاد رکھی بس انہی سے شروع کردیں۔ مثلاً جینٹک الگورتھم کا ذکر جان ہالینڈ کے بغیر ممکن نہیں، آرٹیفیشیل انٹیلی جنس میں مارون منسکی سرِ فہرست، فزکس کا تذکرہ آئن اسٹائن اور اسٹیفن ہاکنگ کے بغیر ادھورا، ریاضی میں سینکڑوں نام، آپ پال آرڈش اور رامان نجوا سے شروع کردیں، ایلن ٹیورنگ، جان وان نیومین کمپیوٹر سائنس کے روح رواں تو ایڈورڈ ولسن (Edword Wilson) چیونٹیوں پر اتھارٹی۔
آپ خود سوچیں کہ کسی شخص نے اپنی زندگی کے 50 ،40 سال ایک ہی مضمون کو دے دیئے پھر کوئی کتاب لکھی جو آپ کو 1000، 500 روپے میں دستیاب ہے بلکہ انٹرنیٹ سے مفت PDF بھی شاید مل جائے۔ اب آپ اسے چھوڑ کر فیس بک پر دوستوں سے بحث و مباحثہ میں الجھے ہوئے ہیں یہ کہاں کی شرافت ہے؟ نوبل پرائز پانے والوں کو پڑھیں۔ کیسا لگے گا آپ کو اگر کوئی شخص بڑا صوفی ہونے کا دعویٰ کرے اور اس نے شاہ ولی اللہ ؒ، حضرت مجدد الف ثانی ؒ اور ابن عربی ؒ کا نام تک نہ سُنا ہو۔
یہی حال ہم لوگوں کا ہے کہ جس شخص نے زندگی میں گاڑی نہیں چلائی وہ بھی جہاز کے حادثے پر گز بھر کا آرٹیکل لکھ دیتا ہے اور جس کو یہ تک نہیں پتہ کہ گلی کے نکڑ پر پنواڑی کون ہے وہ بھی ٹاک شوز میں آکر یہ ثابت کرتا ہے کہ نیا چیف آف آرمی اسٹاف کون ہوگا۔ پڑھائی سے دوری فراست سے محروم کر دیتی ہے۔ آدمی کے تصورات تک یتیم ہوجاتے ہیں اور عقائد بھیک میں ملنے لگتے ہیں۔
ہمت کیجئے، فیلڈ کا انتخاب کیجئے اور دے دیں زندگی کے 30، 20 سال پڑھنے کو، دنیا دوڑتی، لوٹتی، رینگتی آپ کے قدموں میں خود بخود آجائے گی۔
پڑھیں کب؟

ہر وقت پڑھیں، ایک عام آدمی زندگی میں اوسطاً 7 سال انتظار میں گزارتا ہے۔ بس اسٹاپ پر انتظار، ٹرین و جہاز میں بیٹھے منزل پر پہنچنے کا انتظار، اسپتال میں ڈاکٹر کے آنے کا انتظار، اسکول کے باہر بچوں کی چھٹی کا انتظار، اب اگر آپ کے ہاتھ میں ہر وقت کوئی کتاب ہو تو ایک عام آدمی کے مقابلے میں آپ کی زندگی میں 7 سال کی پڑھائی اضافی ہوگی۔ آپ چاہیں تو پڑھائی کے لئے کوئی وقت مقرر کرلیں مثلاً رات 7 بجے سے 9 بجے تک، سونے سے پہلے یا صبح 6 سے 8، آفس جانے سے پہلے یا عصر تک مغرب، اب اس پر جمے رہیں۔
پڑھیں کس سے؟

کتابوں سے، آن لائن کورسز سے، پڑھانے والے اب کم کم ہی بچے ہیں ٹیچرز کو مال غنیمت سمجھیں، کچھ پڑھا دیا تو ٹھیک ورنہ اُمید نہ رکھیں۔ ہمارے ملک کا المیہ یہ ہے کہ ہر اس شخص کو جسے پڑھنا چاہیئے وہ پڑھا رہا ہے جس نے زندگی میں ایک لائن کا کوڈ نہیں لکھا وہ 110 بچوں کی کلاس میں دو سال سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ پڑھاتا ہے پھر بچے روتے ہیں کہ جاب نہیں ملتی۔ یاد رکھنے کی بات ہے کہ ”پڑھنا“ آپ کی ذمہ داری ہے، جیسے کہ صحت، آپ اپنے آپ کو کھلاتے ہیں، سلاتے ہیں، سردی گرمی کا خیال رکھتے ہیں بالکل اسی طرح پڑھنا بھی آپ کی ذاتی ذمہ داری و فرائض میں شامل ہے، ماں باپ، استاد اور لوگوں پر الزام دھرنا چھوڑ دیں۔
پڑھیں کیسے؟

اب آتے ہیں اصل موضوع کی طرف پڑھیں کیسے؟ اس کا جواب سب سے زیادہ آسان ہے۔ ذہن اور روز مرہ روٹین کو جتنا سادہ اور خرافات سے پاک کرسکتے ہیں وہ کرلیں۔ ہماری زندگی عموماً ریشم کے لچھے کی طرح گنجلک ہوتی ہے اور کوئی سرا ہاتھ نہیں آتا۔ میں نے بچپن میں اپنے ایک استاد مولانا عبدالرحمن صاحب سے پوچھا کہ میں چاہتا ہوں کہ میری یادداشت تیز ہوجائے تو کیا کروں؟ انہوں نے جواب دیا کہ آنکھوں کی حفاظت کرو۔ میں بڑا حیران ہوا کہ آنکھوں کی حفاظت کا یادداشت سے کیا تعلق؟ میں تو سمجھ رہا تھا کہ وہ کوئی دماغی ورزش یا بادام کھانے کا کہیں گے۔ وہ کہنے لگے کہ علم کی آنرشپ اللہ سائیں کے پاس ہے، جب چاہے، جسے چاہے، جتنا چاہے دے دے مگر وہ گندی پلیٹ میں کھانا نہیں ڈالتا۔
اگر آپ پڑھنے بیٹھیں ہیں اور دماغ میں موسیقی کی دھنیں اور فلموں کے ڈانس جاری ہیں تو نہ پڑھا جائے گا اور غلطی سے کچھ پڑھ بھی لیا تو سمجھ کچھ نہیں آئے گا یا یاد نہیں رہے گا۔ لفظ مل جائیں گے، علم اُٹھ جائے گا۔ یہ کتابیں بہت با حیا ہوتی ہیں۔ بدنظروں سے اپنا آپ چھپا لیتی ہیں۔ آپ مندرجہ ذیل امور پر توجہ دیں تو امید ہے انشاء اللہ پڑھائی آسان ہوجائے گی۔
پڑھنے کا وقت متعین کرلیں خواہ 15 منٹ ہی کیوں نہ ہوں۔ اب دنیا اِدھر سے اُدھر ہوجائے مگر سب کو پتہ ہو کہ یہ آپ کا پڑھنے کا وقت ہے۔ جس میں یا تو آپ کتاب پڑھیں گے یا جنازہ اور کچھ نہیں۔ ایک مرتبہ وقت پر قابو ہوجائے تو ہلکے ہلکے دورانیہ بڑھاتے چلے جائیں۔
پڑھنے کے وقت کچھ اور نہ کریں، ماحول کو سازگار بنائیں۔ اگر پڑھتے وقت ہر 30 سیکنڈ میں آپ کو موبائل چیک کرنا ہے، فیس بک پر کچھ لکھنا ہے، واٹس اپ چیک کرنا ہے، فون سننا ہے، ٹی وی کا چینل بدلنا ہے، دروازہ کھولنا ہے، دودھ گرم کرنا ہے، کھانا بنانا ہے، تو ہوگئی پڑھائی، وقفہ پڑھائی (Reading Break) کے دوران کچھ بھی نہ کریں صرف پڑھیں۔ کوشش کرکے کوئی ایسا کمرہ، کونا کھدرا تلاش کریں جہاں آپ پر کسی کی نظر نہ پڑسکے۔ میں اپنے بچپن میں مچان پر جاکر چھپ جاتا تھا۔ موبائل دراز میں لاک کردیں، ٹی وی بند کردیں اور دنیا و مافیہا سے بے نیاز، صرف پڑھتے رہیں۔ میں تو ہر کتاب شروع کرتے وقت اللہ سے دعا مانگتا ہوں کہ اے اللہ، عزرائیلؑ کو نہ بھیج دینا، کتاب ادھوری رہی تو چین سے مر بھی نہیں سکوں گا سارا مزہ کرکرا ہوجائے گا، کتاب پوری کروا دے پھر آتا ہوں۔
کم از کم صفحات کی تعداد طے کرلیں، مثال کے طور پر میں روز کے 100 صفحات پڑھوں گا۔ اب چاہے بارش آئے یا طوفان، دھرنا ہو یا بقرعید آپ نے اپنا ٹارگٹ پورا کرنا ہے۔ ایک مسلمان اب اگر مہینے کے 3 ہزار صفحات بھی نہ پڑھے تو کتنے شرم کی بات ہے۔ جب 100 پر پکے ہوجائیں تو صفحات بڑھاتے چلے جائیں۔ مصروف شخص آرام سے 4 سے 6 سو صفحات تو دن کے پڑھ ہی سکتا ہے، 4 گھنٹے ہی تو لگتے ہیں 20 گھنٹے تو پھر بھی بچے روز کے۔
مختلف کتابیں ایک ساتھ شروع کریں۔ آدمی کا اپنا مزاج اور طبیعت ہوتی ہے۔ طبیعت صرف اچھا لگا یا بُرا لگا بتاتی ہے، دلیل نہیں دیتی۔ مثال کے طور پر اگر آپ نے 100 صفحات پڑھنے تھے، کمپیوٹر سائنس کے اور آپ 10 پڑھ کر اُکتا گئے تو کوئی بات نہیں 40 شاعری کے پڑھ لیں، 20 اسلام کے، 30 تاریخ کے، ہوگئے پورے 100۔ بس جو نمبر آپ نے مقرر کیا ہے اس سے پیچھے نہیں ہٹنا۔
وقفہ لیں

کہتے ہیں آدمی کے فوکس کا دورانیہ 45 منٹ ہے تو آپ 45 منٹ یا گھنٹے بعد آنکھ بند کرکے 10 منٹ کا وقفہ لے لیں۔ اس وقفے میں دماغ ساری معلومات کو بھی کھنگال لے گا۔ مسلسل پڑھائی کے بعد سونا ایک اچھا آزمودہ طریقہ کار ہے، پڑھائی کو یاد رکھنے کا اور اگر بھول بھی جائیں تو فکر نہ کریں زندگی میں جب بھی ان معلومات کی ضرورت محسوس ہوگی یہ خودبخود لاشعور سے نکل کر آپ کے سامنے آجائے گی اور کم از کم آپ کی قوتِ فیصلہ تو بہتر ہو ہی جائے گی۔
نوٹس لیں

خلاصہ کیجئے اور ضروری اور اہم جملوں کو انڈر لائن کیجئے، جو کتاب پڑھیں اس کے باب کے آخر میں یا کتاب کے آخر میں عام فہم جملوں میں اس کا خلاصہ لکھ دیں، سمجھیں کہ آپ نے یہ کتاب کسی ایسے شخص کو سمجھانی ہے جسے پڑھنا لکھنا نہیں آتا۔ اب اگر آپ کتاب کو اس طرح مختصر الفاظ میں بیان کرسکیں تو بے فکر ہوجائیے۔ آپ نے کتاب کو سمجھ لیا ہے اور اگر نہ کرسکیں تو پھر سے پڑھیں یہ صلاحیت دھیرے دھیرے نکھر جائے گی۔
ترجیح بنائیں

فرض کرلیں کہ پڑھنا زندگی کا سب سے اہم کام ہے۔ بس یہی کرنا ہے، بیچ میں وقفہ لے لیں، جاب کا، فیملی کا، نماز کا، کھانے پینے کا، سونے کا، مگر اصل کام پڑھنا ہے، ہر بریک میں خیال پڑھنے کا ہونا چاہیئے اس سے کام آسان ہوجاتا ہے۔
تیز رفتاری سے مقابلہ کریں

جب آپ ایک ہی مضمون کی بہت سی کتابیں پڑھیں گے تو آپ کو احساس ہوگا کہ مختلف لوگوں نے بار بار ایک ہی نظریے کو مختلف انداز میں پیش کیا ہے اور دو چار ہی عام فہم مثالیں ہیں جو ہر کوئی دیتا ہے جیسے ہی آپ کو دیکھی ہوئی جانی پہچانی تصویر، گراف یا ایکویشن نظر آئے آپ صفحہ پلٹ دیں (اگر آپ کو معلوم ہو کہ یہ کیا ہے)۔ یہ صلاحیت زیادہ پڑھنے سے خودبخود پیدا ہوجاتی ہے۔ کبھی آپ حفظ سورتوں کے پڑھنے کی رفتار کا باقی سورتوں کے پڑھنے کی رفتار سے موازنہ کریں آپ کو یہ بات سمجھ آجائے گی۔ ایک جیسی مثالیں بھی حفظ کی طرح ازبر ہوجاتی ہیں۔
آئی فون اور اینڈرائڈ میں درجنوں ایسی ایپلی کیشنز ہیں جو آپ کو اسپیڈ ریڈنگ سکھاتی ہیں۔ ایک اوسط آدمی کی پڑھنے کی رفتار 120 الفاظ فی منٹ ہوتی ہے۔ آپ ذرا سی پریکٹس سے اسے 400 الفاظ فی منٹ تک پہنچاسکتے ہیں اور مادری زبان میں تو یہ اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ ایک صفحے پر کم و بیش 250 سے 300 الفاظ ہوتے ہیں۔ ایک نان فکشن کتاب 50 سے 75 ہزار الفاظ پر مشتمل ہوتی ہے۔ کوئی 200 سے 250 صفحات۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ صرف 400 الفاظ فی منٹ کے حساب سے ایک اوسط کتاب 2 گھنٹوں میں ختم کرسکتے ہیں۔
اگر آپ روزانہ 6 گھنٹے بھی صرف پڑھ لیں تو باآسانی 3 کتابیں ختم ہوسکتی ہیں۔ یعنی سال بھر میں ایک ہزار کتابیں پڑھنا تو بچوں کا کھیل ہے۔ میں نے ذرا سی کوشش کرکے 850 الفاظ فی منٹ تک کی رفتار بنالی ہے۔ آپ محنت کریں اور بہت آگے نکل جائیں۔ اسپیڈ ریڈنگ کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ آپ کم وقت میں دوسروں سے بہت زیادہ پڑھ لیتے ہیں اور پھر بھی وقت بچتا ہے اور سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ جب تک آپ کو پتہ لگتا ہے کہ کتاب کافی بورنگ ہے، کتاب ختم ہوچکی ہوتی ہے۔
مزید تفصیلات اور مشق کیلئے آپ ایبی مارکس اور پام ملن کی اسپیڈ ریڈنگ پر کتاب دیکھ لیں یا اسپیڈ ریڈنگ ورک بک پر کام شروع کردیں یا سب سے بہتر رچرڈ سوٹز کی ’اسپیڈ ریڈنگ احمقوں کیلئے‘ پڑھ ڈالیں۔ یہ ساری کتابیں انٹرنیٹ سے مفت دستیاب ہیں۔
پہلا اور آخری باب

کوشش کریں کہ کتاب کا (Preface Introduction) یا تعارف اور اختتام Conclusion پہلے پڑھ لیں۔ ایسا کرنے سے آپ کا ذہن مصنف کی تخیلاتی حدود کا ناپ لے لے گا اور پھر بیچ کے ابواب سمجھنا آسان ہوجائیں گے کہ آپ کو پتہ ہوگا کہ مصنف کدھر جارہا ہے۔ ہاں، فکشن میں یہ حرکت نہ کریں ورنہ ساری کتاب کا مزہ خراب ہوجائے گا۔
مصنف کو پڑھیں

تحریر سے پہلے اگر آپ کچھ دیر کو مصنف کو پڑھ لیں تو تحریر سمجھنا آسان ہوجاتی ہے۔ کہاں پلا بڑھا، کہاں سے تعلیم حاصل کی، کہاں کام کررہا ہے وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح مصنف کے اچھے یا بُرے تعصب کا بھی اندازہ ہوجاتا ہے اور معاصرین کا بھی۔
پڑھنے کے نقصانات

جی ہاں پڑھنے کے ڈھیروں نقصانات بھی ہیں۔ پہلا تو یہ کہ آدمی کو چپ لگ جاتی ہے، بات کرے تو کس سے کرے؟ بولے تو کس سے بولے؟ کووّں کی کائیں کائیں میں کوئل کی کُوک کون سنے گا؟ آدمی کو چاہیئے کہ کوئی پرندہ یا بلی پال لے تاکہ کم از کم تنہائی کا ڈپریشن تو نہ ہو۔ دوسرا نقصان یہ ہے کہ دوست کم ہونا شروع ہوجائیں گے کہ کسی کو آپ کی باتوں سے اتفاق ہی نہیں ہوگا اور اختلاف کی دلیل لانا تو انہوں نے سیکھا ہی نہیں۔ آپ کتابوں کو ہی دوست بنالیں۔ تیسرا نقصان یہ کہ لوگ آپ پر طعنے کسیں گے۔ بہتان باندھیں گے، آپ کے مسلک اور فرقے اس رفتار سے بدلیں گے جیسے کپڑے بدل رہے ہوں۔ فکر نہ کریں یہ علم کی زکوٰۃ ہے۔ نکلتی رہنی چاہیئے۔
پھر سب سے بڑا نقصان یہ کہ آپ جاہل رہ جائیں گے، پتہ چلے گا کہ کیا کیا نہیں معلوم۔ آج کے لئے اتنا ہی کافی ہے، وقت ملا تو ضرور کچھ تفصیل سے لکھوں گا۔ واصف علی واصف کے شعر پر ختم کرتے ہیں۔

معلوم ہے اتنا کہ ہمیں کچھ نہیں معلوم
جانا ہے کہ کیا جانے گا جو جان گیا ہے

ذیشان الحسن عثمانی

انتطامیہ اُردو صفحہ

انتطامیہ اُردو صفحہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top