میری پہلی مزدُوری ۔ ۔ ۔ بسلسلہ یوم مزدور

18157689_1301199039964027_6072727593635516728_n.jpg

یہ غالباً انیس سو بانوے کی بات ہے ۔بالی عمریا سترہ کے ہندسے کو روند چکی تھی۔گیارہویں جماعت پری میڈیکل کے امتحانات سے فراغت کے بعد جون جولائی کی عیاشی دستک دے رہی تھی ۔کراچی میں قیام کا پہلا سال دم توڑ رہا تھا۔کراچی میں بلاتخصیص ہر ایسے شخص کو چھڑا کہا جاتا ہے جو گھر والوں کو چھوڑ کر آیا ہو یا جسے گھر والے چھوڑ کر جا چکے ہوں ۔ہمارا تعلق اول الذکر گروہ سے تھا ۔ایک سال میں آٹا گوندھنا ، جھاڑو پوچا ، کپڑے برتن دھونا ،روٹی پراٹھا پکانا اور کچن میں نمکین میٹھا بنانا سب سیکھ چکے تھے ۔ان تمام کمالات میں سے ہر ایک کی اپنی ایک کہانی ہے جو بشرط زندگی پھر کبھی ۔فی الوقت تذکرہ ہے اپنی پہلی مزدوری کا ۔۔چونکہ چھوٹے کنوئیں سے نکلے اور بڑے کنوئیں میں آئے ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا اس لیے مبلغ گیارہ جماعتیں ہمیں یہ یقین دلانے کے لیے کافی تھیں کہ ہم بہت پڑھے لکھے ہیں ۔آج کی طرح اُس زمانے میں بھی بروز اتوار روزنامہ جنگ کا صفحہ “ضرورت ہے “” بہت مقبول اور ضخیم ہوا کرتا تھا ۔قلم ہاتھ میں تھامے ہم صرف اُن اشتہارات پر نشان لگاتے جاتے جہاں واضع طور پر پڑھے لکھے نوجوان کی ضرورت ہے کی شرط موجود ہوتی ۔مزدا بسوں کا کرایہ فی اسٹاپ ڈیڑھ روپیہ ہوا کرتا تھا ۔حسب ترتیب نشان زدہ دفتروں کی یاترا شروع کرتے ۔ ہم آج بھی حیران ہیں کہ ہماری یاداشت میں کوئی ایک دفتر ایسا نہیں تھا جس میں بیٹھے صاحب لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لیا ہو۔ہماری شکل پر نظر پڑتے ہی وہ دھیمی سی ہوں ں ں کی آڑ میں اپنی ہنسی ضبط کرتے نظر آتے ۔البتہ اتنا ضرور یاد ہے کہ اکثر دفاتر اسٹیٹ لائف انشورنس کے ہوا کرتے تھے ۔یہ دور بمشکل دو ہفتوں پر مشتمل رہا ہو گا ۔آخری کوشش کی مبہم سی یاد آج بھی دماغ کے کسی کونے میں محفوظ ہے ۔وہ حسن اسکوائر پر موجود ایچ ایم ایچ اسکوئر کے دوسرے فلور کا دفتر تھا۔ہم نے قسم کھا رکھی تھی کہ اگر یہ بھی اسٹیٹ لائف کا دفتر نکلا تو نوکری کی تو بات ہی نہیں کرنی ۔صاحب کی ایسی عزت افزائی کرنی ہے کہ آئندہ وہ اشتہار دیتے ہوئے سو بار سوچے گا۔ ہماری خیالی بھرم بھازی بھی اللہ کو ہمشہ سے سخت ناپسند رہی ہے ۔کیونکہ جہاں ہم نے سوچا اگر ایسا ہوا تو زمانہ دیکھے گا کہ ہم کیسا کرتے ہیں اور اللہ کی مشیت سے ہمارے ساتھ ایسا ہی ہو جاتا ہے لیکن ہم ہمیشہ کیسا کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں ۔صبر اور مصلحت بہادروں کے لیے اعزاز اور ہم جیسوں کے لیے بہانوں کا درجہ رکھتے ہیں ۔سو اس آخری دفتر میں بھی ہم نے انکل سے اس التجا کے ساتھ اجازت چاہی کہ آپ کم از کم اخبار میں لکھ تو دیا کریں کہ یہ اسٹیٹ لائف کا دفتر ہے “اور یہاں کسی نوجوان لڑکے کے لیے کوئی کام نہیں ۔”
بہرحال تازہ سبق یہ تھا کہ مینڈک صاحب ہر دس جماعت پاس ڈائریکٹ حوالدار نہیں ہوتا ۔اپنی اوقات کی تشخیص کے بعد جب ہم نے حسبِ اوقات روزگار کے لیے ماحول پر نظر دوڑائی تو ہر طرف کام ہی کام نظر آیا ۔ہماری نظرِ انتخاب اپنے ہی گاؤں سے آئے آدھا درجن چھڑوں کے ڈیرے پر پڑی ۔تحقیقات پر پتا چلا کہ اس چھ کے گروپ میں چار کلفٹن میں کسی بلڈنگ میں پلمبنگ کے ٹھیکیدار سے وابستہ ہیں ۔ وہ منہ اندھیرے اُٹھ کر جاتے ہیں اور مغرب سے کچھ دیر پہلےپر جھاڑتے واپس آ جاتے ہیں ۔ ہم نے مہینوں کا سفر دِنوں میں طے کرتے ہوئے اُن سے تمام تفصیلات حاصل کر لیں اور پورے ذوق و شوق سے اپنی عرضی بھی پیش کر دی ۔ہماری حیرت کی انتہا نہ رہی جب ہم نے اُن کے چہرے پر بھی وہی طنزیہ مسکراہٹ دیکھی جس کا سامنا ہم اس سے قبل مختلف دفاتر میں کر چکے تھے ۔وہ ہمارے نرم و نازک ہاتھوں کو دیکھنے لگے اور اگلے لمحے انہوں نے اپنے ہاتھ ہمارے سامنے دھر دیے ۔صاحب جی یہ کام آپ کے بس کا نہیں ۔آپ نے تو گاؤں میں بھی صرف روٹیاں ہی توڑی ہیں ۔نہ تو آپ نے کبھی مال مویشی پالے اور نہ ہی کبھی کھیتی باڑی کی ۔ہمیں معلوم ہے کہ گاؤں کے کنوئیں پر آپ جو برتن پانی بھرنے کے لیے لے کر جاتے تھے وہ آپ کے بڑے بھائی جان واپس لاتے تھے کیونکہ آپ اپنا برتن بھول کر فٹبال گراؤنڈ میں غرق ہو جایا کرتے تھے ۔یہ بھی شاید اُن کی کوئی چال تھی کیونکہ نام نہاد غیرت میں آ کر ہم التجا سے ضد پر اُتر آئے تھے کہ اب تو یہ کام کرنا ہی کرنا ہے ۔اُن کی خوشی سنبھالے نہیں سنبھل رہی تھی کہ مستقبل قریب میں اُن کو شاندار تماشا دیکھنے کو مِلنے جا رہا تھا۔
اگلے دِن ہم اپنا بہترین لباس زیب تن کیے اُن کے ہمراہ خراماں خراماں مزدے کے دروازے میں لٹکے جارہے تھے ۔وہ دو تلوار یا تین تلوار کے دائیں یا بائیں واقع کوئی نو منزلہ بلڈنگ تھی ۔باقی تینوں تو وہاں پہنچتے ہی غائب ہو گئے البتہ سینئیر پلمبر ہمیں ہمراہ لیے ٹھیکدار کے پاس جا پہنچے ۔ٹھیکیدار نے ہمارے سفارشی کی عرضی پوری توجہ سے سُنی ۔لیکن اُس کی نگاہوں کا مرکز بھی ہمارا لباس ہی تھا۔بھرپور جائزے کے بعد اُس نے صرف ایک جملہ بولا کہ کل کام کے کپڑے ساتھ لانا ۔تمھاری انٹری ہیلپر کے طور پر کر رہا ہوں رجسٹر میں ۔پینسٹھ روپے دیہاڑی ہو گی اور تمھاری ڈیوٹی سیوریج کی لائنیں ڈالنے میں مصروف بڑے اُستاد کے ساتھ ہو گی ۔جو وہ کہے گا وہ کرنا ہو گا بدتمیزی کرو گے تو اُسی وقت چھٹی ہو جائے گی ۔محض تین دِن جائزہ لُوں گا کارکردگی دکھاؤ گے تو کام کرتے رہو گے ورنہ مجھے بندے پالنے کا کوئی شوق نہیں ۔
ہمارے کانوں نے فقط ایک ہی جملہ سُنا اور وہ تھا “”کل کام کے کپڑے ساتھ لانا ۔تمھاری انٹری ہیلپر کے طور پر کر رہا ہوں رجسٹر میں ۔پینسٹھ روپے دیہاڑی ہو گی”” باقی باتیں تو ہم ابھی بنا رہے ہیں ۔
اگلے روز ہم شاپر میں کام کے کپڑے تھامے اور دِل ہی دِل میں پینسٹھ کو تیس سے اور اُس کے حاصل کو بارہ سے ضرب دیتے کلفٹن کی طرف رواں دواں تھے ۔بڑے اُستاد سے مُلاقات بھی کچھ زیادہ خوشگوار نہ تھی ۔پتا نہیں ہمارے خدوخال میں کیا تھا کہ اجنبی بھی ہم سے ایسے مِلنے لگے تھے جیسے ہماری ذات سے اُنہیں بہت ضرر پہنچ چُکا ہو۔”ٹھیکیدار صاحب میرے پاس لکھت پڑھت کا کوئی کھاتہ نہیں یہ بابو لونڈا میرے کسی کام کا نہیں ۔کام میں حرج ہوا تو ذمہ داری آپ پر ہو گی”اُستاد نے انتہائی سرد لہجے میں کہا ۔ٹھیکیدار کے کون سے ہم سگے تھے اُس نے بھی کھٹاک سے تین دِن والا آپشن بڑے اُستاد کے سامنے رکھ دیا اور سفارشی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اُسے منع نہیں کر سکتا تھا۔
“چل لڑکے گودام سے دو چھوٹی بڑی چھینی اور ایک درمیانی ہتھوڑی اُٹھا اور سیدھا ساتویں منزل پر پہنچ تیرا انتظار کر رہا ہوں وہاں” ۔اُستاد نے نام پوچھنے کی زحمت بھی گوارا نہ کی تھی ۔”جی اُستاد جی” کہتے ہوئے ہم نے چند قدم دور جاتے ایک دوسرے لڑکے سے گودام کا جغرافیہ پوچھا۔مطلوبہ سامان تھامے جب ہم ساتویں منزل پر پہنچے تو بڑا اُستاد سیڑھی کے اُلٹے ہاتھ پر واقع ایک فلیٹ کی کھڑکی والی جگہ سے باہر جھانک رہا تھا ۔ہمارے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ہمیں کیا کام کرنا ہے ۔”آ جا شاباش ” ہمیں دیکھتے ہی اُستاد نے نعرہ لگایا اور پلک جھپکنے میں اُس نے کھڑی کی جگہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے باہرر چھلانگ لگا دی ۔ ہم جب تک کھڑکی کے قریب پہنچے اُستاد ہماری نظروں سے اوجھل ہو چکا تھا۔کھڑکی سے سر نکال کر جب ہم نے دیکھا تو بڑا اُستاد رسیوں سے بندھے بانسوں پر رکھے لکڑی کے تختے پر کھڑا دیوار پر چاک سے دائرہ لگا رہا تھا ۔آ جا شاباش ” اُستاد کی کڑاکے دار آواز گونجی “کدھر سے آجا چاچو “ہم نے دِل ہی دِل میں جواب دیا ۔بانس اتنا موٹا تھا کہ اُس پر ہماری مٹھی بمشکل اٹک رہی تھی ۔کمزور گرفت کے ساتھ تختے پر چھلانگ لگانے کا مطلب ہم خوب سمجھتے تھے ۔ساتویں منزل سے نیچے پانچ یا چھ تختے بچھے ہوئے تھے لیکن ضروری تو نہیں کہ بندہ تختے سے تختے پر ہی گِرے ۔”ابے کیا سوچ رہا ہے ؟؟میں کیا تیرے انتظار میں شام تک یہاں کھڑا رہوں گا ؟؟” اُستاد ہماری مجبوری سے بے خبر تھا یا پھر جان بوجھ کر اُس نےہمارے لیے اس جان لیوا امتحان کا انتخاب کیا تھا۔دُنیا میں شاید نصف سے زیادہ اموات کے پیچھے غیرت ہی ہوتی ہے۔اور دوسرے ہی لمحے کھڑی کی دیوار پر پنجوں کے بل بیٹھتے ہوئے اور بانس کو تھامے تختے کا نشانہ لیتے ہوئے ہم نے بھی چھلانگ لگا دی۔ یہ کوئی لمبی چوڑی چھلانگ نہیں تھی ۔ہلکا پھلکا جمپ کہہ لیں کیوں کہ اس دوران ہمارے ہاتھوں نے بانس کو نہیں چھوڑا تھا ۔تختے پر توازن برقرار کرتے ہی ہم نے متکبرانہ انداز میں اُستاد کی طرف سرکتے ہوئے کپکپاتے لہجے میں نعرہ لگایا ” جی اُستاد جی ” ہمارے تئیں اُستاد کو حیران ہونا چاہیے تھا لیکن اُستاد پتا نہیں کس مٹی کا بنا ہواتھا کہ اُس کے کان پر جوں تک نہ رینگی ۔”یہ دائرہ دیکھ رہا ہے ؟؟ یہاں سے واش روم کی سیوریج لائن باہر آئے گی ۔اس دائرے کے برابر دیوار میں سوراخ کرنا ہے ۔آٹھویں اور نویں منزل پر بھی نشان لگاتا جاؤں گا ۔یہاں سے فارغ ہوتے ہی اوپر چلے جانا ۔آج یہ تین بھی کر دے تو بہت ہے پہلے دِن کے لیے ۔”اُستاد جی نیچے والی منزلوں پر بھی نشان لگاتے جائیں”ہم ڈرتے ڈرتے دِل کی بات زبان پر لے آئے ۔” نیچے دیکھ ذرا جھانک کر “” اُستاد نے عجیب طنزیہ لہجے میں کہا ۔ہم نے جھانک کر دیکھا تو جس لڑکے سے ہم نے گودام کا پتا پوچھا تھا دے دھنا دھن چھوتھی منزل پر سیوریج لائن کے لیے جگہ بنا رہا تھا ۔ٹھیک ہے اُستاد جی ۔اتنی دھیمی آواز میں ہم نے زندگی بھر کبھی کوئی جملہ نہیں بولا تھا۔اُستاد
ہمیں کوئی اضافی ہدایت ،طریقہ ،احتیاط بتائے بغیر یہ جا وہ جا ۔آ گیا بڑا اُستاد ۔انتہائی نفرت اور غصے سے ہم نے ہتھوڑے اور چھینی کو گھورتے ہوئے سوچا۔جی ہاں اب تک تینوں چیزیں ہمارے پاس ایک تھیلے میں موجود تھیں۔اب تازہ مسئلہ یہ تھا کہ چھینی پر ہتھوڑے کو چلانے کے لیے ہمیں دونوں ہاتھ بانسوں پر سے ہٹانے تھے ۔ساتویں منزل ، پاؤں کے نیچے کپکپاتا لکڑی کا تختہ اور دونوں ہاتھ چھوڑ کر صرف کھڑے نہیں ہونا بلکہ پوری طاقت استعمال کرتے ہوئے اُن سے کام بھی لینا ہے ۔سچی بات یہی تھی کہ ہمیں یہ نوکری والا آئیڈیا زہر لگ رہا تھا ۔لیکن اب تو سوال روزگار سے ہوتا ہوا مردانگی تک آ پہنچا تھا۔حاصل شدہ مبلغ تعلیم کو استعمال میں لاتے ہوئے ہم نے فیصلہ کیا کہ پہلے خود کو ماحول کا عادی کیا جائے ۔لہذا چھینی ہتھوڑا دوبارہ تھیلے میں ڈال کر ہم نے اپنے قدمون میں رکھ دیا ۔اب ہم نے اباؤٹ ٹرن کرتے ہوئے یعنی اپنا منہ دیوار سے مخالف سمت میں کر لیا۔اُف کیا نظارہ تھا ۔ہمارے قدموں میں تاحدِ نگاہ بنگلے ہی بنگلے تھے ۔وسیع و عریض بنگلے ۔انواع و اقسام کے پودوں اور پھولوں سے لدے لان ۔عجیب و غریب ڈیزائن والی چھتیں ۔دروازوں پر چوکیدار نقطعوں کی صورت اُونگھ رہے تھے ۔اِکا دُکا بنگلوں میں سوئمنگ پُول کے نیلے چوکور ڈبے بھی نظر آ رہے تھے ۔چند لمحات کے لیے واقعی ہم بے خبر ہوگئے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں ۔خوف کی جگہ حیرت در آئی ۔ اچانک دماغ میں گھنٹیاں بجنے لگیں ۔اُستاد ،دائرہ ،آٹھواں نواں فلور ، ایک دن کی مہلت ۔لو جی ایک اور اباؤٹ ٹرن ۔آہستگی سے تختے پر بیٹھتے ہوئے ہم نے نیچے دیکھے بغیر ٹٹول کر تھیلے سے ہتھوڑی اور بڑے سائز کی چھینی نکالی ۔دوبارہ انتہائی سلو موشن میں کھڑے ہوئے ۔آیت الکرسی کا ورد کیا ۔معوذتین کی اونچی آواز میں تلاوت کی چھینی دائرے کے مرکز پر رکھی ہتھوڑی بلند کی اور پہلی ضرب چھینی کی پشت پر ٹکا دی ۔بانسوں پر تختے جمانا بھی کمال فن ہے ۔ بظاہر یہ تختے دیوار سے جدا نظر آتے ہیں لیکن حقیقت میں یہ دیوار کے ساتھ ہی ہوتے ہیں ۔اگر وہ تختہ جس پر ہم کھڑے تھا کسی اناڑی نے جمایا ہوتا تو آج ہم یہ مضموں نہ لکھ رہے ہوتے بلکہ شاید اب تک ہماری ہڈیاں بھی گل چکی ہوتیں ۔کیونکہ چھینی پر لگائی جانے والی پہلی ضرب ہمارے اُلٹے ہاتھ کے انگوٹھے کی جڑ پر پڑی تھی ۔اور اگلے ہی لمحے ہم گھٹنوں کے بل پھٹے پر اس طرح بیٹھے تھے کے ہمارا پہلو دیوار سے ٹکا ہوا تھا ۔ہمیں یقین تھا کہ ہماری غیرت میں ملفوف دبی دبی چیخ اتنی بلندی سے کسی نے نہیں سُنی تھی ۔اللہ کاخاص کرم ہوا کہ چھینی کی زد میں کوئی نہیں آیا اور وہ نیچے زمین پر کہیں چپکے سے جا دُبکی ۔ہوش و حواس بحال ہوتے ہی ہم براستہ کھڑکی واپس عازم زمین ہوئے ۔آمنا سامنا بہت سوں سے ہوا جان پہچان نہ ہونے کی وجہ سے کسی سوال کا سامنا نہیں کرنا پڑا ۔ٹہلتے ہوئے چھینی تلاش کی اور واپس براستہ کھڑی اپنا مورچہ سنبھال لیا۔حیرت انگیز طور پر اب ہم کافی پر اعتماد ہو چکے تھے ۔حکمتِ عملی بدلتے ہوئے ہم نے چھینی دیوار پر رکھ کر ہلکی ہلکی ضربیں لگانی شروع کر دیں ۔ہمارا مقصد قطعاً دیوار کو اذیت پہنچانے کا نہیں تھا اور نہ ہی دیوار کو کوئی نقصان پہنچ رہا تھا۔ ہم تو اپنا نشانہ پکا کر رہے تھے ۔ ایک ڈیڑھ گھنٹے بعد ہم نے ضربوں میں شدت لانی شروع کر دی ۔ جہاں بازو شل ہوتا ہم اباؤٹ ٹرن ہو کر اپنے پاؤں میں بچھی جنتوں کے نظارے کرنا شروع کر دیتے ۔صبح کے دس بج رہے تھے لیکن کسی جنت کے کسی کونے میں کوئی نقطعہ حرکت کرتا دکھائی نہیں دے رہا تھا ۔وہم سا ہونے لگا جیسے ہماری ہتھوڑی جب تک حرکت میں ہے جنت کے اِن باسیوں کو کیا پڑی کہ حرکت کریں ۔ہمارا کام پوری منصوبہ بندی سے جاری و ساری تھا ۔ایک دو ضربات مزید بھی ہم اپنے ہاتھ پر سہہ چکے تھے۔دائرے کا قطر شاید ایک مربع فٹ رہا ہو گا۔ایک دو بار سیمنٹ کے ریزے اُڑ کر آنکھوں میں بھی پڑ چکے تھے ۔حیرت انگیز طور پر چھینی پر ہماری گرفت ڈھیلی پڑ چکی تھی اور وہ ہر ضرب کے ساتھ بسہولت ہماری ہتھیلی میں آگے پیچھے پھسل رہی تھی ۔پورے دائرے کو ہم برابر حساب سے گہرائی دیے چلے جا رہے تھے ۔لیکن اُس دِن ایسا لگ رہا تھا جیسے دیوار کی چوڑائی کلو میٹرز میں ہو ۔آنکھیں ترس رہی تھیں کہ کمرے کی سمت کا خلا دکھائی دے ۔لنچ بریک تک یہ خواب خواب ہی رہا۔پہلے دِن کا لنچ ہمارے لیے ہمارے سفارشی اینڈ کمپنی کی طرف سے اعزازی تھا۔لنچ کے دوران ہی ہمیں بتایا گیا کہ روٹی مشترکہ آتی ہے سالن گھر سے لانا پڑتا ہے اور اگر کوئی سالن بھی نہ لائے تو اُسے روٹی مین حصہ ڈالنے کے علاوہ پاؤ دہی بھی منگوانا پڑتا ہے ۔مقامِ شکر یہ تھا کہ اُستاد وہاں نہین تھا اور نہ ہم نے کسی سے پوچھا کہ وہ لنچ کہاں کرتا ہے ۔لنچ کے بعد مزدوروں کے دو گروپ بن گئے ایک گروپ تو وضو کر کے نماز میں مشغول ہو گیا اور دوسرا وہیں کچے فرش پر سستانے لیٹ گیا ۔ہمیں خبر تھی کہ اللہ صرف بندوں کے حقوق معاف نہیں کرتا اس لیے ہم دوسرے گروپ میں شامل ہو گئے ۔ یہ ایک سے دو بجے تک کی بریک تھی ۔ٹھیک دو بجے ہم دوبارہ اپنے محاذ پر موجود تھے جہاں نوکدار دائرے جیسا سوراخ ہمارا منہ چڑا رہا تھا۔قیلولے اور کیلوریز نے ہمین تازہ دم کر دیا تھا لیکن بلندی کا خوف اب تک ہمارا پیچھا نہیں چھوڑ رہا تھا ۔چار و ناچار ہم نے بتدریج والی حکمت عملی دوبارہ اپنا لی ۔نشانہ بیٹھتے ہی ہم نے دوبارہ ضرب کی شدت میں اضافہ کر دیا ۔ساڑھے تین بجے کے قریب خوشخبری اور ذلالت ایک ساتھ آ دھمکیں ۔خوشخبری یہ تھی کہ ایک ضرب پر ہماری چھینی بے اختیار کمرے کے خلا میں جا دھمکی اور زلالت ہم سے دو فٹ کے فاصلے پر کھڑے اُستاد کی صورت مین گھور رہی تھی ۔”چھٹی میں تیس منٹ باقی ہیں اور تم ابھی ایک فلور سے بھی فارغ نہین ہوئے ۔نواب صاحب آپ جیسا ہیلپر تو مجھے اُستاد سے بھی مہنگا پڑے گا ۔تم سے چھوٹا لڑکا روزانہ تین فلور فائنل کر کے دے رہا ہے ۔آج کے پینسٹھ روپے دلوا دوں گا ۔یہ تمھارے بس کی بات نہیں ۔گِر گِرا کر مر گئے تو میرے متھے لگ جاؤ گے ۔اپنے ہاتوں کا حشر دیکھ !! پُتر تیری ہتھوڑی اندھی ہے کام کرنے والوں کی ہتھوڑی کی اپنی آنکھیں ہوتی ہیں ۔یہ کہتے ہوئے اُستاد نے ہم سے ہتھوڑی چھین لی اور بمشکل دس منٹ میں پورا دائر ہ خلا بنا دیا ۔ہمیں پتا تھا کہ یہ اِتنا آسان نہیں جتنا اُستاد ثابت کرنا چاہ رہا تھا کیوں کہ اُس جگہ پر نوے فیصد کام ہم پہلے ہی مکمل کر چُکے تھے ۔چل ٹھیکیدار کے پاس شاباش وہیں بات کرتے ہیں ۔۔ٹھیکیدار نے اُستاد جی کی پوری کتھا تحمل سے سُنی ، ہمارے نیلوں سے سجے ہاتھوں کو گھورا اور اُستاد سے کہا ” دو دِن اور دے دو پہلا دِن تھا آج تو لڑکے نے تختے پر کھڑا ہونا سیکھا ہے “۔اُف اُس آخری جملے کی مٹھاس جیسے کوئی ٹرافی مِل گئی ہو ۔آپ شاید اسے مبالغہ سمجھیں لیکن اگلے دِن ہمارا اسکور تھا دو فلور ۔اور تیسرے دِن ہمارا اسکور تھا تین فلور اور دسویں دِن ہم نے ایک دِن میں پانچ فلور فائنل کر کے ہیلپرز کے درمیان ایک ریکارڈ کھڑا کر دیا ۔ اور اب ہم کسی بھی فلور سے زمین پر اور زمیں سے کسی بھی فلور پر جانے کے لیے سیڑھیاں استعمال نہیں کرتے تھے بلکہ کسی افریقی بندر کی طرح بانسوں پر جھولتے لٹکتے مطلوبہ فلور تک پہنچ جاتے ۔خلاف توقع اُستاد اب بھی ہم سے خوش نہیں تھا۔
گیارہویں دِن اُستاد نے فرمان جاری کیا کے لڑکے سیوریج کی جگہ بناتے رہیں گے ہم آج سے پائپ بٹھانا شروع کریں گے۔ہم دِل ہی دِل میں خوش ہوئے کہ اتنی جلدی پروموشن ہو گئی ۔کیونکہ تختوں پر کھڑے ہو کر کام کرنے سے مشکل بھی کیا کوئی کام ہو گا ۔ جی اُستاد جی ” ہم نے کمال عاجزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سر خم کر دیا ۔ہم دو لڑکے اُستاد کے نئے مشن میں اُس کے معاون تھے ۔ہمیں اب تک کام کی ترتیب کا کوئی اندازہ نہیں تھا اُستاد نے تین تین بلاک اوپر تلے رکھ کر تکونی چولہا بنایا ۔اُس پر ایک بڑا کڑاہا رکھا ۔نیچے چند لکڑیاں اور ایک ٹائر رکھ کر آگ جلائی ۔کڑاہے میں کسی دھاتی چیز کے بڑے بڑے ٹکڑے ڈالے ۔تھوڑی دیر میں وہ دھاتی شے سیال مادے میں تبدیل ہو گئی ۔استفسار پر پتا چلا کہ یہ سیسہ ہے ۔ایک لوہے کا چمچہ جس کا منہ یعنی پیالی شاید ڈیڑھ یا دو لٹر گنجائش کی ہو گی ۔چمچے کا دستہ تین فٹ لمبا رہا ہو گا ۔ اُستاد نے کسی لکڑی کی چھال کے دھاگے نما لچھوں کا ایک بنڈل اُٹھایا اور ہمیں لیے سیدھا پانچویں فلور پر جا نکلا۔اُستاد نے دوسرے لڑکے کو اپنے ساتھ تختے پر بُلا لیا ۔پائپ وہ پہلے اٹکا چکا تھا ۔ہر فلور پر مطلوبہ تعداد میں یہ پائپ پہنچانے میں بھی ہمارا پورا حصہ تھا ۔وہ کُرکُرے ٹائپ لوہے کے پائپ ہوتے تھے ۔اور اُن کی لمبائی ہمارے قد سے دُگنی تھی اور چوڑائی ایک فٹ کا تیسرا حصہ سمجھ لیں پائپ کے ایک طرف کپ سا تھا ارو دوسری طرف سے سادہ تھا ۔ساد ہ حصہ کپ میں اس طرح آکر بیٹھتا تھا کہ اُس کی سائیڈوں میں کافی خلا رہ جاتا تھا ۔اُستاد نے اپنے ہاتھوں میں موجود لچھا نما چھال کے بنڈل سے لٹیں بنا بنا کر اُس خلا میں گھما کر پھنسانی شروع کر دیں ۔خوب ٹھونس کر چھال پھنسانے کے بعد اُستاد نے چھینی کی مدد سے مزید چھال ٹھونسی ۔اب اُستاد ہم سے مخاطب ہوا کہ تُم تین چوتھائی چمچہ سیسے سے بھر کر تیز سے یہاں کھڑکی تک لاؤ گے اور دوسرے لڑکے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اسے تھما دو گے ۔اس پائپ تک پہنچنے میں سیسہ ٹھنڈا نہیں ہونا چاہیے ۔ورنہ واپس جانا پڑے گا ۔اور ہاں چمچہ احتیاط سے لانا اگر سیڑھیاں چڑھتے ہوئے چمچے میں سے سیسیہ تمھارے پاؤں پر گر گیا تو چپل اور پاؤں دونوں میں سوراخ کرتے ہوئے گزر جائے گا ۔اب جاؤ شاباش !!!! ہم نے دِل ہی دِل میں اُستاد کو ایک غلیظ دعا دیتے ہوئے اس نئی مصیبت کی طرف دوڑ لگا دی ۔ خالی چمچہ کڑاہے میں ڈالا تین چوتھائی کے حساب سے باہر نکالنے کی کوشش کی تو چمچہ صاحب تو جیسے چپک ہی گئے ہوں وہاں ۔کیونکہ ہم نے زور پانی کے حساب سے لگایا تھا اور وہاں وزن لوہے کے حساب سے تھا۔ خیر زور لگا کر چمچہ نکالا اور بلندی کی طرف سفر کا آغاز کر دیا۔ لرزتے ہاتھوں سے چمچہ ہم نے ایسے اٹھا رکھا تھا کہ دونوں پاؤں ننھی ننھی قدمچیاں لیتے ہوئے چمچے سے پیچھے چل رہے تھے ۔ہماری خوشی کی انتہا نہ رہی جب ہم پانچویں فلور پر پہنچے۔ آناً فاناً چمچہ لڑکے کے حوالے کیا لڑکے نے اُستاد کو تھما دیا ۔ابھی ہم شاباش کا انتظار ہی کر رہے تھے کہ چمچہ ہمارے پہلو سے اُڑتا ہوا پیچھے کمرے میں جا گِرا ۔”تیری ٹانگوں میں جان نہیں کیا ۔اس ٹھنڈے سیسیے سے صرف تیرا سر توڑا جا سکتا ہے پائپ کو سِیل نہیں کیا جا سکتا جا گرم سیسیہ لے کر آ اور میرے پاس اتنا وقت نہیں جو ادھر کھڑا تیرے ڈرامے دیکھتا رہوں ” اُستاد کی گرجتی ہوئی دھاڑ سُنائی دی ۔ہم نے چمچہ اُٹھا یا اور خودکلامی کرتے ہوئے واپس دوڑے کہ بیٹا احتیاط سے صرف جان ہی بچائی جا سکتی ہے منزل تو گرم قدموں سے ہی حاصل ہوتی ہے ۔اگلی کوشش ہی کچھ یوں تھی کہ پہلی سیڑھی دوسری سیڑھی اور پھر چوتھی سیڑھی یعنی ہر دو سیڑھی کے بعد ایک جمپ لے رہے تھے ۔ہاں یہ چالاکی ضرور کی تھی کہ سیسیے کی مقدار تین چوتھائی چمچ کے بجائے آدھا چمچ کر لی ۔اُستاد نے پوچھا تو کہہ دیا کہ چمچ چھلک گیا تھا۔۔۔اولین مزدوری کا یہ سلسہ کُل اٹھارہ دِن ہی چل سکا ۔اُستاد نے بہت کوشش کی ہم ہار مان لیں لیکن ہر نیا چیلنج ہمارے شوق کو مزید ہوا دیتا چلا گیا ۔آخر تنگ اکر اُستاد نے ایک معمولی غلطی پر بہت ہی سنگین گالی دے ڈالی وہ غالبًا لنچ سے کچھ پہلے کا وقت تھا ۔ اور لنچ ہم نے اپنے گھر پر ہی آ کر کیا ۔ اٹھارہ دیہاڑیوں کے پینسٹھ روپے روزانہ کے حساب سے گیارہ سو ستر روپے اگلے دِ ن ہمارے سفارشی نے ہم تک پہنچائے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عابی مکھنوی
٭نشرِ مکرر

عابی مکھنوی

عابی مکھنوی مصنف اور شاعر ہیں اور معاشرے کے مختلف پہلووں پر لکھتے اور شاعری کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top