مزدوراں کا عالمی دن

mazdoron.jpg

یکم مئی 1886ء
مزدوراں کا عالمی دن
تحریر۔۔محمد عظیم حاصل پوری
یکم مئی 1886؁ ء کوامریکہ کے شہرشکاگومیں عالمی مزدورتحریک کے کارکنان اپنے مطالبات منوانے کے لیے جمع ہوئے توسامراجی طاقتوں کے حکم پروحشی سپاہیوں نے انہیں گولیوں سے بھون ڈالاجوبچے توزخمی ہوکراپنے گھروں کولوٹے ۔اس کے تقریباتین سال بعد1889؁ ء میں یہ فیصلہ سنایاگیاکہ ہرسال یکم مئی کواس عظیم سانحے کی یادمیں یوم مئی منایاجائے گا۔جوکہ اب ایک تہوارکی شکل اختیارکرچکاہے جس میں تحفظ حقوق مزدوراں تنظیموں کامقصدصرف یہ رہ جاتاہے ،نشستن ،گفتن وبرخاستن ۔چندلوگ اکٹھے ہوئے نعرے لگے ،شوروغوغاہوااوربس۔
جبکہ مزدورکی حالت یہ ہے کہ وہ مہنگائی کے عفریت کے آہنی پنجوں میںجکڑایاس وناامیدی سے اپنی سانسیں پوری کررہاہوتاہے ۔اس لیے کہ ہیں تلخ بہت بندہ مزدورکے اوقات۔یکم مئی آتاہے مزدوراپنے بچوں کے پیٹ بھرنے کے لیے فکرمعاش میں اس دن سے بے خبرہوکرنکل کھڑاہوتاہے اس لیے کہ وہ جانتاہے یہ دن منانے سے بچوں کی بھوک نہیں مٹ سکتی۔کچھ بطوراحتجاج اورصاحب منصب لوگوں سے نالاں ہوکرخودکشی کاارتکاب کرلیتے ہیں ۔شاعراپنے اندازمیں کچھ یوں ترجمانی کرتاہے:
یہاں مزدوروں کومرنے کی جلدی کچھ یوں بھی ہے محسن
کہیں جیون کی کشمکش میں کفن مہنگانہ ہوجائے
مزدورجن کے آرام وسکون اورترقی وخوشحالی کے لیے اپنی جان مارتاہے وہ اسے صلہ کیادیتے ہیں ،سولہ سولہ گھنٹے یااس سے کم وبیش کام اوراجرت اتنی کہ اچھالباس ،بیماری کی صورت میں کسی اچھے ڈاکٹر سے علاج توکجااپناکچن نارمل چلانابھی مزدورکے لیے مشکل ہوجاتاہے ۔اگرصاحب ثروت لوگ کبھی یہ سوچ لیں کہ ہم جوکچھ اپنے ماتحت افراد سے سلوک روارکھتے ہیں اگرہم ان کی جگہ ہوں توکیابآسانی اتنی اجرت میں اپنی ضروریات پوری کرسکیں گے ۔ایسی فکرکچھ تبدیلی کے امکانات روشن کرسکتی ہے اوربندہ مزدورکی تلخی میں کچھ کمی واقع ہوسکتی ہیں ۔لیکن بدقسمتی ایسی سوچ ناپیدہوچکی ہے جودوسروں کے لیے ہمدردی کاجذبہ پیداکرے ۔یہاں توحالات ہی کچھ اورہیں بندہ جوتابنانے کی فیکٹری میں ملازم ہے لیکن اچھاجوتاپہننانصیب نہیں ،بھٹے پرمزدورہے لیکن اپنامکان نہیں ،سونے کی کان میں ملازم ہے لیکن اپنی بیٹی کے کانوں میں پیتل کی بالیاں ڈال کربیاہ دیتاہے ۔
شایدمزدورکے لیے ہمدردی کاجذبہ اس لیے نہیں رہاکہ سونے کے چمچ لیے پیداہونے والوں نے جب آنکھیں کھولیں تو انہوں نے دولت کی ریل پیل دیکھی انہیں کیاخبرایک مزدورکے مسائل کیاہیں۔؟ اس کے تلخ اوقات کا ادرا ک وہی کرسکتاہے جوخودان حالات سے گزراہو۔
مزدور اور اسلامی تعلیمات
صرف اسلام کی ہی تعلیمات ہیں جوایک مزدورکے لیے ہمدردی کاجذبہ پیداکرتی ہیں جوظلم اس نچلے طبقہ کے افرادپرڈھایاجاتاہے اسلام اس کی یکسرمذمت کرتاہے اوران کے حقوق کی ادائیگی پر زو ر دیتاہے ۔اسلام میں مزدورطبقہ کامقام اورجوان کے حقوق بیان ہوئے ہیں ان کا ذکر کیا جاتا ہے ۔
مزدورکامقام مرتبہ
صحابہ کرامؓے دیکھا کہ ایک ہٹا کٹا نوجوان تیزی کے ساتھ آلات کسب لے کر سامنے سے گزرگیا، کسی نے کہاکاش یہ جوان اللہ کے راستے میں بھی اسی طرح کی تیز رفتار ی کا مظاہرہ کرتا، یہ سن کر سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلمنے ارشاد فرمایا:
’’ایسا مت کہو ، یہ شخص اگر اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کی پرورش کے لیے جد وجہد کررہا ہے تو یہ بھی اللہ کے راستے میں (جہاد کرنے والوں کی طرح )ہے، اگر اپنے ضعیف او ربوڑھے والدین کے لیے جارہا ہے تب بھی اللہ کے راستے میں ہے اور اگر وہ حرام رزق سے بچنے کی خاطر اپنی ذات کے لیے سعی کررہا ہے تب بھی اللہ کے راستے میں ہے، ہاں اگر ریا کاری اور جوانی کے زعم میں اس کے یہ قدم اٹھ رہے ہیں تب یہ شخص شیطان کے راستے میں ہے۔‘‘
المعجم الکبیرللطبرانی(۲۸۲)وصحیح الترغیب والترہیب(۱۹۵۹)
کھاناکھلانا،لباس پہنانااورطاقت سے بڑھ کرکام نہ لینا
معرور کہتے ہیں کہ میں نے ابوذرؓسے(مقام)ربذہ میں ملاقات کی اور ان کے جسم پر جس قسم کا تہبند اور چادر تھا اسی قسم کی چادر اور تہبند ان کے غلام کے جسم پر تھا، میں نے ابوذرؓسے اس کا سبب پوچھا تو وہ کہنے لگے کہ میں نے ایک شخص کو (جو میرا غلام تھا) گالی دی یعنی اس کو ماں سے غیرت دلائی تھی، یہ خبر نبیصلی اللہ علیہ وسلم(کو پہنچی تو آپصلی اللہ علیہ وسلم) نے (مجھ سے) فرمایا کہ اے ابوذر!
’’کیا تم نے اسے اس کی ماں کی غیرت دلائی ہے، تم ایسے آدمی ہو کہ (ابھی) تم میں جاہلیت (کا اثر باقی) ہے تمہارے غلام تمہارے بھائی ہیں، ان کو اللہ نے تمہارے قبضہ میں دیا ہے، جس شخص کا بھائی اس کے قبضہ میں ہو اسے چاہئے کہ جو خود کھائے اس کو بھی کھلائے اور جو خود پہنے وہی اس کو پہنائے اور (دیکھو) اپنے غلاموں سے اس کام کا نہ کہو جو ان پر شاق ہو اور اگر ایسے کام کی ان کو تکلیف دو تو خود بھی ان کی مدد کرو۔‘‘
بخاری ، الإیمان،المعاصی من أمر الجاہلیۃ، ولا یکفر صاحبہا بارتکابہا إلا بالشرک (۳۰) ومسلم:(۱۶۶۱)
ساتھ بٹھاکرکھاناکھلانا
ہمارے معاشرے میں مزدورطبقہ کے ساتھ مل کرکھاناعیب سمجھاجاتاہے اوران کواپنی تقریبات میں بلانااپنی شان کے منافی سمجھاجاتاہے ۔لیکن اسلام آجرواجیرکے درمیان بعدکوختم کرنے کی تلقین کرتاہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓے روایت ہے کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا :
’’جب تم میں سے کسی کا خادم اس کے لیے اس کا کھانا تیار کرے پھر اسے لے کر حاضر ہو اس حال میں کہ اس نے اس گرمی اور دھوئیں کو برداشت کیا ہو تو آقا کو چاہیے کہ وہ اسے اپنے ساتھ بٹھا کر کھلائے پس اگر کھانا بہت ہی کم ہو تو کھانے میں اسے ایک یا دو لقمے اس کے ہاتھ پر رکھ دے۔‘‘
[مسلم،الأیمان، باب إطعام المملوک مما یأکل، وإلباسہ مما یلبس، ولا یکلفہ ما یغلبہ(۱۶۶۳)وابوداود(۳۸۴۶)]
بددعانہ کرنا
عام طورپرایساہوتاہے کہ صاحب اقتداریامال دارلوگ اپنے ماتحت افرادکوگالی گلوچ کرتے ہیں ان کے لیے نازیباالفاظ استعمال کرتے ہیں جنہیں ایک شریف آدمی سن بھی نہیں سکتااوربعض اوقات ان کے لیے تباہی وبربادی کی بددعاکرناشروع کر دیتے ہیں اسلام سلامتی دیتاہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایساکرنے سے منع فرمایاہے۔
حضرت جابر بن عبداللہؓسے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا :
’’بددعا نہ کرو اپنے اوپر، نہ اپنی اولاد پر، نہ اپنے خادموں پر، اور نہ اپنے مالوں پر کیونکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ گھڑی ایسی ہو جس میں دعا قبول ہوتی ہے۔ ‘‘
ابوداود، باب النہی عن أن یدعو الإنسان علی أہلہ ومالہ(۱۵۳۲)
ملازم کوسزادینے سے پرہیز کرنا
حضرت عائشہؓ کابیان ہے :
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمنے کسی خادم اورکسی عورت کوکبھی نہیں مارا۔‘‘ مسنداحمد(۲۵۷۱۵)
حضرت عائشہؓرماتی ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلمکے سامنے بیٹھا اور عرض کیا کہ میرے غلام ،نوکرمجھ سے جھوٹ بولتے خیانت کرتے اور میری نافرمانی کرتے ہیں۔ لہذا میں انہیں گالیاں دیتا اور مارتا ہوں، مجھے بتایئے کہ میرا اور ان کا کیا حال ہوگا۔
آپصلی اللہ علیہ وسلمے فرمایا:
’’ ان کی خیانت نافرمانی اور جھوٹ بولنے کا تمہاری سزا سے تقابل کیا جائے گا۔ اگر سزا ان کے جرموں کے مطابق ہوئی تو تم اور وہ برابر ہوگئے نہ ان کا تم پر حق رہا اور نہ تمہارا ان پر اگر تمہاری سزا کم ہوئی تو یہ تمہاری فضیلت کا باعث ہوگا اور اگر تمہاری سزا ان کے جرموں سے بڑھ گئی تو تم سے بدلہ لیا جائے گا۔‘‘
پھر وہ شخص روتا چلاتا ہوا وہاں سے چلا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم نے قرآن کریم نہیں پڑھا۔؟ اللہ تعالی فرماتا ہے کہ:
’’اور قیامت کے دن ہم انصاف کے ترازو قائم کریں گے پھر کسی پر کچھ بھی ظلم نہ کیا جائے گا اور اگر رائی کے دانہ کے برابر بھی عمل ہوگا تو اسے بھی ہم لے آئیں گے اور ہم ہی حساب لینے کے لئے کافی ہیں۔‘‘ (الانبیاء: ۴۷)
اس نے عرض کیا: یا رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم!میں ان کے اور اپنے لئے اس سے بہتر کوئی چیز نہیں دیکھتا کہ انہیں آزاد کروں میں آپ کو گواہ بنا کر آزاد کرتا ہوں۔
صحیح ترمذی، تفسیر القرآن، باب سورۃ الأنبیاء(۳۱۶۵)وأحمد(۶؍۲۸۰)
معاف کرنے کاحکم
انسان ہونے کے ناطے ملازم طبقہ سے غلطیاں ہوجاتی ہیں اس سے انسان کوآگ بگولہ نہیں ہوجانا چاہیے بلکہ اپنے اندربرداشت پیداکرنی چاہیے اورصبرکادامن تھامناچاہیے جس قدرممکن ہوان سے درگزرہی کی جائے یہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات ہیں ۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضورصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس آیا اور کہا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !
’’ ہم خادم کا کس حدتک جرم معاف کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے اس نے پھر وہی بات کہی آپ صلی اللہ علیہ وسلمھر خاموش رہے جب تیسری مرتبہ اس نے یہ بات کہی تو آپصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ۔ ہر روز ستر مرتبہ اپنے غلام کو معاف کرو۔‘‘
ابوداود،الأدب،باب فی حق المملوک(۵۱۶۴)وترمذی(۱۹۴۹)
اجرت نہ دینا
ایساظالم طبقہ بھی موجودہے جوکام پورالیتاہے اوراجرت کم دیتاہے یاپھربالکل ہی نہیں دیتابلکہ کچھ تومطالبے کہ صورت میں حدظلم پھیلانگتے ہوئے جان سے ماردینے کی دھمکیاں دیتے ہیں ایسے بدنصیب لوگ اللہ تعالیٰ کودشمنی کی دعوت دیتے ہیں۔
ابوہریرہ ؓنبیصلی اللہ علیہ وسلمسے روایت کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
’’میں قیامت کے دن تین آدمیوں کا حریف اورمدمقابل ہوں گا ایک وہ جو میرا نام لے کر عہد کرے پھر توڑ دے، دوسرا وہ شخص جس نے کسی آزاد کو بیچ دیا اور اس کی قیمت کھائی ،تیسرا وہ شخص جس نے کسی مزدور کو کام پر لگایا کام پورا لیا لیکن اس کی مزدوری نہ دی۔‘‘
بٖخاری، البیوع ،باب إثم من باع حرا (۲۲۲۷)وابن ماجہ(۲۴۴۲)
اجرت دینے میں جلدی کرنا
کچھ لوگ مزدوری کی ادائیگی میں سستی کامظاہرہ کرتے ہیں اورکچھ جان بوجھ کرتاخیرکرتے ہیں اسلام ان کواچھانہیں کہتابلکہ حتٰی الوسع جلدازجلد ادائیگی کردی جائے ۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓسے روایت ہے کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا :
((أَعْطُوا الْأَجِیرَ أَجْرَہُ، قَبْلَ أَنْ یَجِفَّ عَرَقُہُ))
’’مزدورکواس کی مزدوری اس کاپسینہ خشک ہونے سے قبل اداکردو۔ ‘‘
ابن ماجہ،الرہونہ،باب أجر الأجراء (۲۴۴۳)شیخ البانیa نے اسے صحیح کہا ہے
مزدوروں کی مزدوری دینے سے مشکلیں آساان

سیدنا عبد اﷲ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تم سے پہلے لوگوں میں سے تین آدمی (ایک ساتھ کام کے لیے) چلے حتی کہ وہ رات کے وقت ایک غار کے پاس پہنچے اور وہ تینوں اس میں داخل ہو گئے۔ (اتفاقاً) ایک پتھر پہاڑ سے لڑھکا اور اس نے غار کا منہ بند کر دیا۔ تو انہوں نے کہا کہ اس پتھر سے ہمیں کوئی چیز نجات نہیں دے سکتی نجات کی صرف یہ ایک صورت ہے کہ تم اپنے نیک اعمال کے وسیلے سے اﷲ تعالیٰ سے دعا کرو۔ چنانچہ ان میں سے ایک شخص کہنے لگا کہ اے اﷲ! میرے ماں باپ بوڑھے تھے اور میں ان سے پہلے نہ تو اپنے بچوں کو دودھ پلاتا تھا اور نہ لونڈی غلاموں کو۔ ایک دن اتفاق سے کسی کام میں مجھ کو دیر ہو گئی حتی کہ جب میں ان کے پاس آیا تو وہ سو چکے تھے لہٰذا میں نے ان کے لیے شام کا دودھ دوہا اور برتن ہاتھ میں اٹھا کر ان کے پاس آیا تو مین نے ان کو سوتا ہوا پایا تو مجھے یہ بات گوارا نہ ہوئی کہ میں ان سے پہلے اپنے گھر والوں کو اور لونڈی غلاموں کو دودھ پلائوں۔ اس لیے میں ٹھہر گیا اور (دودھ کا بھرا ہوا) پیالہ میرے ہاتھ میں تھا اور میں ان کے بیدار ہونے کا انتظار کرنے لگا۔ حتی کہ صبح ہو گئی تب وہ دونوں بیدار ہوئے اور انہوں نے اپنا شام کا دودھ صبح کے وقت پیا۔
اے اﷲ! اگر میں ے یہ کام محض تیری رضا مندی حاصل کرنے کے لیے کیا تھا تو اس پتھر کی وجہ سے پریشانی میں ہم ہیں اس سے ہمیں نجات دے۔ چنانچہ وہ پتھر ہٹ گیا۔
مگر وہ ابھی اس سے نہیں نکل سکتے تھے۔

دوسرے شخص نے کہا اے اﷲ! میرے چچا کی ایک بیٹی تھی جو تمام لوگوں سے مجھے زیادہ محبوب تھی، میں نے اس سے برے کام کی خواہش کی مگر وہ نہ مانی حتی کہ اک سال جب قحط پڑا تو اس کو کچھ ضرورت پیش آئی تو وہ میرے پاس آئی اور میں نے اس کو ایک سو بیس اشرفیاں اس شرط پر دیں کہ وہ مجھے اپنی ذات پر برائی کا موقع دے گی۔ اس نے اس (شرط کو مجبوراً مان لیا) حتی کہ جب مجھے اس پر کنٹرول حاصل ہو گیا تو وہ کہنے لگی کہ میں تیرے لیے اس بات کو جائز نہیں سمجھتی کہ تو مہر (پردہ بکارت) کو ناحق توڑے اے اﷲ پاک میں نے یہ سن کر اس کے ساتھ ہم بستری کرنے کو گناہ سمجھا اور اس سے علیحدہ ہو گیا حالانکہ وہ تمام لوگوں سے مجھے زیادہ محبوب تھی اور میں نے جس قدر اشرفیاں اس کو دی تھیں وہ بھی واپس نہ لیں۔ حالانکہ میں نے یہ کام محض تیری رضا مندی حاصل کرنے کے لیے کیا ہو تو جس مصیبت میں ہم ہیں اس کو ہم سے دور کر دے۔ وہ پتھر مزید ہٹ گیا۔ مگر اب بھی وہ اس سے نہیں نکل سکتے تھے۔
اب تیسرے شخص نے کہا کہ اے اﷲ! میں نے کچھ لوگوں کو مزدوری پر لگایا تھا اور انہیں ان کی مزدوری دے دی تھی۔ سوائے ایک شخص کے کہ اس نے اپنی مزدوری نہ لی اور (ناراض ہو کر) چلا گیا۔ تو میں نے اس کی مزدوری کو کاروبار میں لگا دیا۔ حتی کہ بہت مال اس سے حاصل ہو گیا۔ وہ کافی عرصے کے بعد میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اے اﷲ کے بندے! مجھے میری مزدوری دے دے۔ میں نے اس سے کہا کہ جس قدر اونٹ اور گائیں، بکریاں اور غلام تو دیکھ رہا ہے یہ سب تیری مزدوری کے ہیں۔ اس نے کہا کہ اے اﷲ کے بندے کیا تو میرے ساتھ مذاق کرتا ہے؟ میں نے کہا کہ میں تیرے ساتھ مذاق نہیں کرتا تو اس نے وہ تمام چیزیں لے لیں اور ان کو ہانک کر لے گیا، ایک چیز بھی ان میں سے نہ چھوڑی۔ اے اﷲ اگر میں نے یہ کام محض تیری رضا مندی حاصل کرنے کے لیے کیا تھا تو جس مصیبت میں ہم ہیں اس کو ہم سے دور کر دے۔ چنانچہ وہ پتھر بالکل ہٹ گیا اور وہ اس طرح غارسے باہر نکل (کر اپنے کام کو چل دیے)۔

بخاری، احادیث الانبیاء، باب حدیث الغار( ۳۴۶۵)

انتطامیہ اُردو صفحہ

انتطامیہ اُردو صفحہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top