کیا تاریخ تبدیل ہونے جارہی ہے؟ – اوریا مقبول جان

article-14.jpg

پاکستان کی عدالتی تاریخ میں‌پہلا سیاسی مقدمہ رٹ درخواست نمبر1954/43 جوعدالتِ عالیہ، سندھ میں قومی اسمبلی کے بنگالی سپیکرمولوی تمیزالدین بنام وفاقِ پاکستان کے نام سے جانی جاتی ہے. اس مقدمے سے پہلے کی سیاسی تاریخ درونِ خانہ ہنگاموں‌اوربرسرِعام احتجاجوں‌کی تاریخ‌ہے. سیاسی سازشیں‌تو محلاتی راہداریوں میں‌ہورہی تھیں لیکن شاہراہوں‌پرقادیانیوں‌کے خلاف ایک تحریک جاری تھی، جس کے تین مطالبات تھے. (1) قادیانیوں‌کوغیرمسلم اقلیت قراردینا، (2)سرظفراللہ خان کی وزارتِ خارجہ سے برطرفی اور(3)قادیانیوں‌کی کلیدی عہدوں‌پرپابندی، یہ وہ زمانہ تھا جب سول بیوروکریسی ملٹری بیوروکریسی کی سینئرپارٹنرتھی. سکندرمرزاجوسیکرٹری ڈیفنس تھا اس کے اقتدارکاعالم یہ تھا کہ جب تحریک اپنے زوروں‌پرتھی تو وزیراعظم کی زیرِصدارت کابینہ کا اجلاس ہو رہا تھا، رپورٹیں‌پیش ہو رہی تھیں. اتنے میں سکندرمرزامیٹنگ سے اٹھا، آرمی انٹیلی جنس کے دفتر پہنچا، خاص فون جسے اس زمانے میںSeera Phoneکہا جاتا طلب کیا، لاہورکےکمانڈنگ آفیسرجنرل اعظم خان سے بات کرتے ہوئےکہا، اعظم! لگتا ہےلاہورمیں‌سول انتظامیہ ناکام ہوچکی ہے، تم فوراََ کنٹرول سنبھال لو اور مارشل لاء کا اعلان کردو، مزید احکامات کا انتظارنہ کرو، میں پوری ذمہ داری لیتاہوں‌. اس ملک کے عوام نے پہلی دفعہ مارشل‌لاء کا ذائقہ چکھا، گولیوں‌اورٹینکوں‌کا سامنا کیا. جنرل اعظم نے اپنے فوجی اندازمیں روزانہ وزیراعظم کو رپورٹ پیش کرناشرع کی کہ “آج اتنے ملاّماردیئے گئے”. ایک دن وزیراعظم نے سنکدرمرزا کو بلایااورکہا “میں سونہیں سکتا” فوج کے ہاتھوں‌اللہ کے برگزیدہ بندے مارےجارہےہیں. سنکدرمرزا نے دفترجاکرجنرل اعظم کو فون کیا اورڈانتے ہوئے کہا “جب ان ملاؤں کومارتےہوتواس کی تشہیرکرنے کی کیا ضرورت ہےکہ تم ملاؤں کوماررہےہو”. جنرل اعظم نے پوچھا، پھر کیا کہوں؟ سکندرمرزا نے جواب دیا کہ کہواس قدر”شرپسند” مارے گئے ہیں. یوں‌پہلی دفعہ یہ لفظ ایجاد کیا گیا، انگریزی میں‌اسے “Miscreants” کہاجاتاتھااور دہشت گرد یا”Terrorist” کے لفظ ایجاد ہونے سے پہلے انتظامیہ کی رپورٹوں‌میں یہی لفظ مستعمل رہا، اور آج بھی ویسے ہی لاشوں کو گنتے ہوئے ویسی ہی رپورٹیں مرتب ہوتی ہیں. اس کے بعد طلباء کی تعلیمی اصلاحات کے لئے تحریک کا آغاز ہوا، کچھ عرصے بعد گندم کی مصنوعی قلت پیدا کی گئی اورذخیرہ اندوزون کو اندرونِ خانہ گندم روکنے کےلیے کہا گیا. گورنرجنرل غلام محمدسیکرٹری دفاع سکندرمرزا اور فیلڈ مارشل ایوب خان کو اکثر بلاتے اور اپنی فالج زدہ زبان میں کہتے کہ اس وزیرِاعظم کے ساتھ ملک نہیں چل سکتا اوریوں‌انہوں‌نے 17اپریل 1953ءکوخواجہ ناظم الدین کو برخواست کردیا. حیرت کی بات ہے کہ اس وقت کے تمام سیاستدانوں‌نے اس اقدام کوسراہا. لیکن اسمبلی ابھی تک موجودتھی، ایک سابق بیوروکریٹ اورامریکہ میں پاکستان کے سفیرمحمدعلی بوگرہ کو بلاکر “شوکت عزیز” کی طرح اسمبلی سے وزیراعظم منظورکروالیاگیا. لیکن اس اسمبلی نے کروٹ لینے کی کوشش کی. انہوں نے 6جولائی 1954ءکوایک ترمیم منظورکی جس کے تحت ہائیکورٹ کی سماعت کا اختیاردےدیاگیا. یہ ایک بظاہربےضررسی ترمیم لگتی تھی لیکن اس نے عدلیہ کی تاریخ میں‌ایک نئےباب کا آغازکیااورجیسے ہی گورنرجنرل غلام محمد نے 1956ء میں اسمبلی برطرف کی، ہنگامی حالت کا اعلان کیا تو مولوی تمیزالدین ہائی کورٹ کو دیئے جانے والے اس اختیارکےتحت سندھ اسمبلی جاپہنچے. مولوی تمیزالدین اپنی اسمبلی کی بحالی کے لئے وہاں گئے تھے. سندھ ہائی کورٹ کے فل بنچ ، جسٹس کانسٹنٹائن(چیف‌جسٹس)،جسٹس ویلانی، جسٹس محمدبچل اورجسٹس محمد بخش نے 9 فروری 1955ء کو‌حکومتِ وقت کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے مولوی تمیزالدین کی اسمبلی کو بحال کیا، انہیں‌ سپیکر کے عہدے پر بحال کیا اورتمام عبوری حکومت کے عہدیداروں‌ بشمول وزیراعظم اوروزیراعلیٰ کوقائم کرنے سے روک دیا.
سندھ ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ پاکستانی عدلیہ کا ایک سنہرا آغاز تھاجس کے بعد کی تاریخ مصلحت کیش، صاحبان اقتدارکی مضبوطی کی علم برداراورانصاف وعدالت کےقتل کے مترادف رہی. اس فیصلے کے خلاف اپیل پاکستانی عدلیہ کے سب سے متنازعہ کردارجسٹس منیرچیف جسٹس پاکستان کی عدالت میں کی گئی یہ پاکستانی تاریخ کا وہ جھوٹا اوربددیانت کردارہے جس نے چیف جسٹس ہوتے ہوئے جب قادیانی مسئلہ پر اپنی رپورٹ تحریر کی تو قائداعظم کے رائٹر کو دیئے جانے والے انٹرویو میں اپنے فقرے شامل کئے جس کو جب سلیقہ کریم نے اصل ماخذ پر تحقیق کی تو اس راز کوافشاءکیا. اس نے سب سے پہلے سندھ ہائی کورٹ کے اختیارات کی اپنے فیصلے میں نفی کرتے ہوئے کہا کہ “حکومت کوبحال کرناعدالت کی دانشمندانہ صوابدید میں نہیں‌آتا” اور یوں‌سندھ ہائی کورٹ کے تاریخی فیصلے کو کالعدم قراردیتے ہوئے آمرِ مطلق، ڈکٹیٹرگورنرجنرل غلام محمد کےفیصلوں پر مہرتصدیق ثبت کردی.

عدلیہ کے اس اعلان کے بعد ہر طالع آزما کو حوصلہ مل چکا تھا. جسٹس منیرکی مدتِ ملازمت بھی بہت تھی. ادھر سٹالن کی موت کے بعد خطے میں امریکی بالادستی مزید مستحکم ہو رہی تھی. مئی 1958ء میں سکندرمرزا اور ایوب خان علیحدہ علیحدہ امریکی سفیرسے ملے اور یہ طے ہوا کہ پاکستان میں‌ آمرانہ حکومت ہی کامیاب ہو سکتی ہے. اب پاکستان کی فوج سول بیوروکریسی کے ساتھ رہ کر شاطراورچالاک ہو چکی تھی. امریکہ سرکارسے براہِ راست ملاقاتوں کا آغاز بھی ہوچکا تھا. ایوب خان نے آئین کو منسوخ کرنے کا فیصلہ خود نہیں بلکہ اس وقت تک سینئر پارٹنرسول بیوروکریسی کے نمائندے جنرل سکندرمرزا نے سات اکتوبر1958ء کوایک طویل فرمان جاری کرتے ہوئے مارشل لاء نافز کردیا. اس اقدام کے خلاف اسی چیف جسٹس منیرکی عدالت میں چار مختلف اپیلیں دائر کی گئیں جسے عرفِ عام میں “ڈوسوکیس” کہا جاتا ہے. 13 اور 14 اکتوبر 1958ء کو اس کی سماعت ہوئی اور 27 اکتوبر 1958ء کو عدالت نے مارشل لاء اور فوجی بغاوت کویہ کہ کر جائز قراردے کیا کہ “ایک اچانک سیاسی تبدیلی ایک انقلاب کے مترادف ہے اور ہر کامیاب انقلاب کو بین الاقوامی طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا ہے اور اسے آئین ںوتبدیل کرنے کا طریقہ قراردیا جاتا ہے. ایسا انقلاب از خود قانون ساز ادارے میں تبدیل ہوجاتا ہے”. عدالت کے کہے گئے یہ فقرے پاکستان کی آئندہ آنے والی تاریخ کا رخ متعین کرگئے. اس کے بعد یحییٰ خان ہو یا ضیاءالحق، نواز شریف ہو، بے نظیر ہو یا پرویز مشرف سب کے اقتدار پر اسی فقرے کی مہر تصدیق ثبت کی گئی. جس کو برطرف کیا جاتا اس کے ماتھے پر ملامت کی مہرہوتی اور جو اقتدارکے سنگھاسن پر بیٹھ کر عدالت سے اپنے انقلاب کی تصدیق اورتوثیق چاہتااسے مل جاتی. اس ماحول میں اس مملکتِ خداداد پاکستان کے عوام میں یہ تاثر مضبوظ کردیا کہ اقتدارپر قابض کوئی بھی شخص ہو وہ انصاف، قانون اور عدالت سے بالاتر ہے. اسے اقتدار سے ہٹانا تو ایک طرف اس کے اس کے بارے میں یہ بحث‌کرنا کہ وہ بددیانت ہے، چور ہے، کرپٹ ہے ،جھوٹا ہے، قاتل ہے، یہ بھی ممکن نہیں رہا، اس لئے حکمرانوں نے طاقتور میڈیا اور حکومتی مشینری سے یہ تاثر عام کردیا کہ ان کی جانب انگلی اٹھانا، دراصل ان عوام کی توہین ہے جنہوں نے انہیں منتخب کیا ہے. اس لئے عدالت کو ایسا کرنے کا اختیار نہیں. ہمارا احتساب تو صرف عوام ہی کر سکتے ہیں. ہمیں‌ پانچ سال تک کھل کھیلنے کی آزادی ہے. ہم چوری کریں، لوٹ مارکریں، قتل کریں، ہماری سب سے بڑی سزا صرف ی یہ ہے کہ ہمیں‌ ووٹ مت دو، تم ہمیں ہمارے جرائم پر عدالتون میں گھسیٹتے ہو، تمہاری یہ مجال، تم عدالتوں سے توقع رکھتے ہوکہ وہ ہمارے خلاف فیصلہ دیں ایک زمین پر بسنے والے بیس کڑوڑ حشرات الارض نما انسانوں. لیکن کیا کریں ان بیس کڑوڑعوام نے ایک توقع لگا لی ہے ایک ایسی توقع جو خواب ہے لیکن جس کے پورا ہونے کے بعد اس ملک کی تاریخ بدل سکتی ہے. 27 اکتوبر 1958ء کو جسٹس منیرکے فیصلے کے بعد جو تاریکی 59 سال اس ملک پر چھائی رہی. 20 اپریل 2017 کو روشنی میں بھی تبدیل ہو سکتی ہے.

اوریا مقبول جان

اوریا مقبول جان

اوریا مقبول جان پاکستان کے معروف کالم نگار، شاعر، دانشور، ناٹک نگار اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ بطور ستون نگار و دانشور ان کے ستون باقاعدگی کے ساتھ پاکستان کے معروف اردو اخبار روزنامہ ایکسپریس میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ وہ اپنی شاعری اور منفرد انداز تحریر کے باعث کئی ادبی اعزازات حاصل کر چکے ہیں، ا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top