کیا محبت ایسی بھی ہوتی ہے؟؟

article-39.jpg

ہفتے کا دن تھا میں نے پروفیسرصاحب کے گھر جانے کا فیصلہ کیا ان سے بات کرنے کا اپنا ہی لطف تھا۔میں جب بھی اداس ہوتا پریشانی ہوتی تو اللہ کے بعد واحد یہ بندہ خدا تھا جس سے میں پریشانی شیئر کرتا ان کے لفظوں میں ایسا جادو تھا کہ دل بہل جاتا تھا دل کو قرار آجاتا تھا۔اسلام آباد میں اپنی فیملی کے ساتھ رہائش پذیر تھے میں نے آج ان کے گھر جانے کا فیصلہ کیا دوپہر تین بجے کے قریب میں ان کے گھر پہنچا ،بیل دی تو ان کی بیوی نے دروازہ کھولا جو پروفیسر صاحب کی طرح بہترین اخلاق خوش مزاج خاتون تھیں۔میں نے سلام کرکے خیریت دریافت کی اور پروفیسر صاحب کا پوچھا انہوں نے مجھے ڈرائنگ روم میں بیٹھا دیا کچھ دیر بعد پروفیسر صاحب بھی آگئے بڑے گرم جوشی کے ساتھ مجھے سے ملے میں نے ان سے خیریت دریافت کی پھر کچھ وقت ادھر اُدھر کی باتیں کرنے کے بعد اچانک اٹھے کھڑکی کی طرف بڑھے۔

پردہ ہٹا کر باہر دیکھنے لگے میں ان کی چال ڈھال دیکھ رہا تھا دل ہی دل میں سوچا شاید کوئی بات بری لگ گئ ہو سوری کرلے پاگل میں یہی سوچ رہا تھا کے پروفیسر صاحب کی آواز نے مجھے ان خیالات سے باہر لا پھینکا بولے 148کبھی محبت کی ہے ؟147 میں اس طرح کے سوال کبھی پروفیسر صاحب سے کم ہی سنتا تھا حیرانگی ہوئی لیکن کبھی ان سے کچھ چھپایا نہ تھا بول دیا ہاں جی کی ہے

کہنے لگے کیسے کی ہے محبت ؟
ہمیشہ اس سوال پر یہ جواب سنتا آیا تھا کس سے کی؟ لیکن یہاں معاملہ الٹ تھا آج یہ سوال بھی سننے کو مل گیا 148کیسے کی ہے؟147
میں نے مسکرا کر کہا۔۔۔۔سچی محبت کی ہے پروفیسر صاحب
بولے : ہمیں بھی بتاؤ کیسے سچی محبت کی ہے آپ نے ندیم صاحب

میں نے فلمی انداز میں اپنی محبت کو بیان کرنا شروع کیا۔ پروفیسر صاحب آج سے تقریباً چار سال پہلے کی بات ہے جب میں ایک لمبے عرصے کے بعد فیملی فنکشن اٹینڈ کرنے گیا تھا کزن کی منگنی تھی اس بار خالہ کے اسرار پر امی نے مجھے بھی لے جانے کے لیے کمر کس لی تھی۔ میں اتنے لمبے عرصے اس لیے کوئی فیملی فنکشن میں نہ جا سکا کیونکہ عین فنکشن والے دن یہ اس سے پہلے میرے پرچے ہوتے تھے اس بار پرچے پہلے ہی ختم ہوچکے تھے خالہ کے اسرار کی وجہ تھی ورنہ میرا موڈ نہیں تھا اس لیے امی کے ساتھ رات کی ٹرین میں لاہور جانے کے لیے تیار ہوگیا تھا۔ مختصراً منگنی والی رات تھی جب کزن کو لڑکی والے کی طرف سے انگوٹھی پہنائی جارہی تھی مجھے کوئی دلچسپی نہیں تھی دلہے میاں کے گرد ہجوم تھا ۔ میں پہلے تو سامنے بیٹھا بور ہورہا تھا موبائل پر گیم کھیل کھیل کر اس کی بیٹری ختم کر ماری تھی اب بس یہ بیٹھا یہ دیکھ رہا تھا اچانک میری نظر عین عقب میں کھڑی لڑکی پر پڑی پہلی دفعہ کسی کو دیکھ کر نظریں نہ ہٹا سکا تھا وہ بالکل اکیلی کھڑی تھی۔

بلیک کپڑے ۔۔۔۔نوٹی سمائل۔۔۔۔ کلپ سے بندھے بال ۔۔اور ایک لٹ جو اس کے چہرے پر باربار آتی وہ بڑی نازکت سے اس کو پیچھے کردیا کرتی۔۔۔
جھمکے کان سے جڑ کر ناجانے کتنی باتیں کررہے تھے مگر وہ اپنی ہی مستی میں گم تھی سن ہی نہیں رہی تھی۔میری ساری بوریت ختم ہوکر رہ گئی وہاں اور بھی لڑکیاں موجود تھی مگر وہ عجیب کشش رکھتی تھی اسے کمال حاصل تھا دل کو اپنے قابو میں کرنے کا یا ہم دل ہار بیٹھے تھے۔

پروفیسر صاحب جو ٹکٹکی باندھ کر مجھے دیکھ رہے تھے بولے پھر کیا ہوا؟؟
میں کہانی کو جاری رکھا

میرے اندر اتنی ہمت نہیں تھی کہ جاکر بات کرلوں اس سے ،بات نہ سہی اس کی آواز سن لوں۔مگر عجیب سی خوشی تھی میں ناجانے کتنی دیر وہاں بیٹھا رہا جب کزن آکر پاس بیٹھا تو میں حسین خیالوں کی دنیا سے واپس لوٹ آیا۔ میں نے بلا خوف اس سے کہہ ڈالا یار بلوّ یہ بلیک ڈریس والی کون ہے؟
اس نے آنکھیں پھاڑ کر مجھے دیکھنا شروع کردیا جیسے پتہ نہیں میں نے کیا بول دیا ہو۔
روایتی انداز میں مذاق کرنے لگا کیوں بھئ اچھی لگ گئی ہے؟
میں نے قدرے سنجیدگی سے تلخ لہجے میں کہا۔۔۔ ہاں پسند آگئی ہے یار بندہ ایویں نہیں پوچھ سکتا بھلا
میں نے چھکا مارا تو اگلی بال پر اس نے ڈیڈلی باونسر دے مارا بولا یہاں اور بھی لڑکیاں ہے جن کو تو نہیں جانتا ان کے متعلق تو نہیں پوچھ رہا صرف اسی کا ہی کیوں؟
میں نے کہاں دیکھ اگر نہیں بتانا تو مت بتا ایویں غصہ کیوں کررہا ہے۔۔۔
اس نے منہ جھٹک کر اپنا رخ سٹیج کی طرف کردیا کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد بولا۔۔جانو یہ قاسم بھائی کی ہونے والی بیوی کی بہن ہے اس کا نام آئزہ ہے۔( یہ فرضی نام ہے اصل نام لکھنا ضرروی نہیں سجمھتا ) بلوّ کی طرف دیکھ کر میں نے غصے سے بھرے لہجے میں کہا

تو کیا کروں؟
اس نے آنکھ مارکر جواباً کہا
پیار کرو پیار کرو بیٹا۔۔۔!

یہ کہہ کے وہ اٹھ کر چلا گیا میں بھی کچھ دیر بعد گھر آگیا تھا وہاں میرا کمرہ مختص تھا میں وہاں جا کر صوفے میں بیٹھ گیا فنکشن اپنے عروج پر تھا مجھے شوروغل سے اور لیٹ نائٹ فنکشن سے سخت نفرت ہے میں لیٹ گیا لائٹ بند کی۔ مگر دماغ کی بتی اب بھی اون تھی وہ چہرہ آنکھوں کے سامنے سے ہٹ ہی نہیں رہا تھا وہ احساس بھی عجیب تھا پرمسرت تھا صوفے پہ بیٹھا بیٹھا جانے اسی تصویر کو لیے کب نیند کی وادیوں میں چلا گیا معلوم ہی نہیں پڑا۔

آنکھ کھلی تو صبح کی اذانیں ہورہی تھی موبائل پر ٹائم دیکھا تو چار بیس ہورہے تھے پاس بیڈ پر سارے بچے بلونگڑے سو رہے تھے باہر صحن کی لائٹ جل رہی تھی کمر درد سے ٹوٹی جارہی تھی میں ہمت کرکے اٹھا وضو کیا مسجد کی طرف چل دیا معلوم نہیں کیسے یہ ہورہا تھا میں نے عرصہ ہوا تھا نماز نہیں پڑھی تھی صرف جمعے جمعے کی نماز مسجد میں جاکر پڑھتا تھا آج باجماعت نماز ادا کی دعا کیلئے جیسے ہاتھ اٹھائے تو بے اختیار منہ سے نکل گیا یااللہ اسے میرے حق میں لکھ دے۔
مجھے یقین نہیں تھا میں کیا بول رہا ہوں؟ کیا مانگ رہا ہوں ؟ کافی دیر بغیر کچھ بولے میں ہاتھ اٹھائے بیٹھا رہا کتنی دیر میں وہاں بیٹھا رہا معلوم نہیں لیکن عجیب سا سکون تھا جو آج مجھے ملا تھا مسجد سے باہر نکلا تو قریب واقع پارک میں چلا گیا ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی کالے کالے بادل تھے میں جاکر وہاں بینچ پر بیٹھ گیا آج نہ موسم کی پرواہ تھی نہ پارک میں آئے ہوئے حسیناؤں کی میں کہیں اور ہی گم تھا یہ سوال بار بار ذہن میں آرہا تھا محبت تو نہیں ہوگئی؟ جسے میں جھٹک دیتا بہرحال میں واپس گھر آیا تو ناشتہ تیار تھا سب ناشتہ کررہے تھے مجھے دیکھ کر بڑی بی پوچھنے لگی کل آدھا فنکشن چھوڑ کر کہاں چلے گئے تھے؟اور اب صبح صبح ہی نکل گئے میں نے طبیعت ناسازی کا بہانہ کیا اور دوسرے سوال کا جواب خاموشی تھا چپ کرکے ناشتے کیلئے بیٹھ گیا۔

ناشتہ کیا تو بلوّ کے پاس چلا گیا اس سے بیٹھا کر یہ سب بیان کردیا اک وہ ہی تھا جو میری اس وقت مدد کرسکتا تھا۔میں نے قدرے سنجیدگی سے اسے کہا

یار میں نے اس سے بات کرنی ہے تو مجھے اس کا فون نمبر لا کر دے سکتا ہے؟

بلوّنے بغیر کچھ کہے حامی بھر لی شام کو اس نے موبائل نمبر لانے کا وعدہ کیا اور پھر کسی کام سے چلا گیا وہ دن تھا گزر ہی نہیں رہا تھا میری زندگی کا طویل ترین دن تھا جب مغرب کی نماز پڑھ کر میں واپس آرہا تھا تو موبائل کی تھر تھراہٹ محسوس ہوئی بلوّ کا پیغام تھا کہاں ہو تم جلدی آؤ تیکے کھانے چلتے ہیں
میں نے جواباً کہا
آتا ہوں۔۔۔!
گھر پہنچا تو دروازے پر بلوّ میرا پہلے سےانتظار کررہا تھا بولا بیٹھو چلیں

میں بیٹھ گیا کچھ دیر بعد ہم ایک ہوٹل میں بیٹھے اپنے آرڈر کا انتظار کررہے تھے کے بلوّ نے جیب سے ایک پرچی نکال کر میری طرف بڑھائی میں نے تھام کر دیکھا تو اس پر نمبر درج تھا میری خوشی دیدانی تھی بلوّ دیکھ کر مسکرا رہا تھا پر معلوم نہیں اس مسکراہٹ کے پیچھے کیا تھا جو چھپا رہا تھا میں نے جیب میں نمبر ڈالا اور تیکوں کا خاتمہ کیا مگر مجھے ناجانے کچھ عجیب لگ رہا تھا راستے میں بلوّ نے کہا آج میرے گھر رات رک جانا صبح پھر چلے جانا میں نے حامی بھری آج رات وہاں ہی رک گیا عشاء کی نماز پڑھ کر میں آیا تو بلوّ نے مجھے کمرے میں آنے کا کہا بولا اب بات کرلو اس نے کمرے کا دروازہ بند کیا میں نے پرچی نکالی نمبر ڈائل کرنا شروع کیا بلوّ کی طرف دیکھا تو وہ پریشان تھا یا کچھ کہنا چاہ رہاتھا مگر بول نہیں پا رہا تھا میں نے جیسے ہی کال ملانے کے لیے سبز بٹن دبانا چاہا بلوّ نے مجھ سے موبائل چھین کر فوراً کہہ دیا
ندیم اس کا نکاح ہوگیا اب کوئی فائدہ نہیں ان سب کا ۔

یہ سب سننے کے بعد ایسے محسوس ہوا جیسے جلاد نے تختہ کھینچ دیا ہو اور پھند ے پر لٹکا مجرم پانی سے باہر آنے والی مچھلی کی طرح تڑپ رہا ہو۔آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھا گیا رونے کا من کرنے کے باوجود رونا نہیں آرہا تھا مگر میں نے اپنے آپ کو سنبھالا بلوّنے کندھے پر ہاتھ رکھ کر مجھے موبائل تھما دیا وہ رات پتہ نہیں کیسی گزری لیکن بھیانک رات تھی میں ساری رات نہیں سویا جاگتا رہا میں کسی کے لیے کیوں اتنا سنجیدہ ہورہا ہوں کیوں اسے اپنا ریموٹ پکڑا رہا ہوں یہ کیا تھا محبت تھی۔اسے بہت سے سوالات میں رات بھر الجھ رہا۔

آج بھی اذان کی آواز سنی تو اٹھ کر وضو کیا مسجد چلا گیا نماز ادا کی دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو کل کی مانگ کے لیے معافی مانگی آج اک عرصے کے بعد آنسو نکل ہی آئے تھے دل کا غبار اترنے لگا تھا میں آج اپنے گناہوں پر شرمندہ تھا توبہ کر رہا تھا کہتے ہیں جب دل دکھتا ہے تو آنسو نکل آتے ہیں میں نے آج اس کے لیے خوش رہنے کے لیے دعا مانگی تھی کیا ؟محبت ایسی بھی ہوتی ہے ؟سوچ بھی رہا تھا لیکن آج رو دیا تھا دل کھول کر رویا تھا اس آنسو کی سخت ضرورت تھی۔ جب دعا سے فارغ ہوا تو عجیب سا سکون تھا دل پر سے بوجھ ہٹ گیا تھا گھر گیا تو زلیخہ باجی نے ناشتہ کرنے کو کہا میرے لاکھ بہانوں کے باوجود ناشتہ زبردستی کروایا ناشتہ کرکے میں واپس خالہ کے گھر آیا دروازے سے اندر آیا تو امی واش بیسن کے پاس کھڑی ہاتھ دھو رہی تھی مجھے آتا دیکھ کر کہا ادھر آؤ میرا اوپر سے نیچے جائزہ لینے کے بعد بولیں ۔رات بھر جاگ رہے تھے نہ سوئے نہیں ایک تو ماں بھی نہ سب جان جاتی ہیں آنکھیں کتنی سرخ ہے میں نے ہاتھ تھام کر چوما نہیں امی جان ایسی بات نہیں بس ویسے ہی
سرخ ہوگی ۔ناشتہ کیا؟
امی نے فکرمندنا لہجے میں پوچھا
میں نے کہا جی باجی نے کروادیا تھا ۔

اسی دوران پروفیسر صاحب کی بیوی ہماری تواضع کے لیے ٹھنڈا شربت لے آئیں اور یہ کہہ کر چلی گئی کہ شام کا کھانا ہمارے ساتھ کھانا پروفیسر صاحب نے تجسس سے پوچھا

کیا آج بھی اسی سے محبت کرتے ہو اور کیوں کرتے ہو؟ میں نے پروفیسر صاحب کی طرف گلاس بڑھاتے ہوئے کہا
جی آج بھی صرف اسی سے محبت کرتا ہوں کیونکہ اس کی محبت نے مجھے اللہ کے قریب کردیا میں چاہتا تو اسے حاصل کرسکتا تھا لیکن میں اپنی خوشی کے لیے دو بندوں کی خوشی نہیں مار سکتا تھا کسی کا دل نہیں توڑنا چاہتا تھا کسی کا دل توڑ کر انسان خوش نہیں رہتا پروفیسر صاحب، محبت ایسی بھی کی جاتی ہے یہ یکطرفہ محبت نہیں تھی نہ اور عاشقوں والی تھی میں ہاتھ کاٹ دیتا پاگل پھرتا وہ محبت نہیں ہوتی پاگل پن ہوتا ہے وہ محبت ہی کیا جو اللہ کے قریب نہ کرے آج وہ جہاں بھی ہوگی یقیناً خوش ہوگی اس کے بعد میں کافی سنجیدہ ہوگیا تھا جیسے بڑا ہوگیا ہوں نہ دوسری محبتوں کی طرح نہ میرا دل اٹھا تھا کسی کام سے بس دل آج بھی کہیں جگہوں پر مار پڑوا دیتا ہے پروفیسر صاحب یہ خاموش محبت تھی محبت ایسے بھی ہوتی ہے۔پروفیسر صاحب اٹھے میری طرف بڑھ کر مجھے گلے لگایا اور کہا ائی آیم پراوڈ آف یو مائے بوائے خوش رہو آباد رہو۔

تحریر : ندیم خان

انتطامیہ اُردو صفحہ

انتطامیہ اُردو صفحہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top