جوائنٹ فیملی سسٹم

article-25.jpg

اشوک اعظم دنیا کا پہلا شخص تھا جس نے پورے ہندوستان پر حکومت کی‘ اشوک کی سلطنت کابل‘ قندھار اور ہرات سے لے کر کشمیر اور نیپال‘ بنگال اور جنوب میں دریائے پینار تک پھیلی ہوئی تھی‘ سری نگر شہر اس نے آباد کیا تھا‘ یہ پورے ہندوستان میں امن قائم کرنے والا آخری فرمانروا بھی تھا‘ اشوک نے ہندوستان میں قتل‘ فسادات‘ چوریاں اور ڈاکے ختم کرا دیے۔
ہندوستان کو اضلاع میں تقسیم کیا‘ ہر ضلع میں ناظم تعینات کیے اور یہ ناظم ضلع میں امن و امان اور عدل و انصاف کے ذمے دار ہوتے تھے‘ اشوک نے قوانین تیار کرائے‘ یہ قوانین پتھروں اور لوہے کی پلیٹوں پر کھدوائے اور یہ ملک بھر میں لگوا دیے‘ یہ فرمودات ہندوستان کی پہلی تعزیرات تھے‘ اشوکا عہد کے یہ پتھر آج بھی سوات ویلی اور گلگت کے پہاڑوں میں نصب ہیں‘ سوال یہ ہے اشوک نے یہ مقام کیسے حاصل کیا؟ یہ ایک دلچسپ داستان ہے‘ اشوک پٹنہ کا رہنے والا تھا‘ والد بندوسار چندر گپت موریہ سلطنت کا بادشاہ تھا‘ اشوک کے 64 بھائی تھے‘ یہ تمام بھائی سازشی‘ لالچی اور حاسد تھے‘ اشوک باصلاحیت تھا‘ یہ دنیا فتح کرنا چاہتا تھا‘ اس میں صلاحیت بھی تھی لیکن بھائی اس ارادے میں رکاوٹ تھے۔
یہ جنگ کے لیے محاذ پر جاتا تھا تو کوئی نہ کوئی بھائی تخت پر قبضہ کر لیتا تھا‘ یہ تالاب میں نہانے کے لیے اترتا تھا تو بھائی تیر برسانا شروع کر دیتے تھے‘ یہ کھانا شروع کرتا تھا تو سالن سے زہر نکل آتا تھا‘ یہ سونے جاتا تھا تو کوئی نہ کوئی بھائی کمرے میں سانپ چھوڑ دیتا تھا اور یہ سیر کے لیے نکلتا تھا تو نقاب پوش حملہ کر دیتے تھے‘ اشوک تنگ آ گیا اور اس نے ایک دن سوچا میرے پاس صرف دو راستے ہیں‘ میں اپنے والد کی طرح گم نام زندگی گزار دوں یا پھر دنیا فتح کروں‘ اس نے دنیا فتح کرنے کا فیصلہ کر لیا‘ اشوک نے اپنے 64 بھائی قتل کرا دیے‘ وہ اکیلا رہ گیا‘ اس نے اہل لوگوں کی ٹیم بنائی اور ہندوستان کی اپنی منظم حکومت کا بانی بن گیا۔
ہندوستان کا دوسرا بڑا حکمران جلال الدین اکبر تھا‘ اس نے ہندوستان پر 49 سال آٹھ ماہ حکومت کی‘ اس کی سلطنت کشمیر‘ سندھ‘ قندھار اور سینٹرل ایشیا تک پھیلی ہوئی تھی‘ یہ اتنی بڑی سلطنت کی وجہ سے اکبر اعظم کہلاتا تھا‘ اس کی کامیابی کی وجہ اس کا اکلوتا ہونا تھا‘ یہ ہمایوں کا واحد بیٹا تھا‘ کسی نے اس کے تخت پر حق جتانے کی کوشش نہیں کی‘ اکبر نے نو اہل ترین لوگوں کی ٹیم بنائی اور عظیم مغل سلطنت کی بنیاد رکھ دی‘ تیسرا بڑا حکمران اورنگ زیب عالمگیر تھا‘ یہ بھی پورے ہندوستان پر قابض ہوا۔
یہ ہندوستان کی تاریخ کا سب سے زیادہ مدت کے لیے بادشاہ رہا‘ اس نے پچاس سال تین ماہ حکومت کی‘ یہ شاہ جہاں کا باصلاحیت ترین شہزادہ تھا‘ یہ بھی خواب پالتا تھا‘ یہ بھی پورے ہندوستان کا بادشاہ بننا چاہتا تھا لیکن اس کے بھائی اور والد اس کے راستے کی رکاوٹ تھے‘ والد داراشکوہ کو تخت دینا چاہتا تھا‘ وہ اہل نہیں تھا‘ داراشکوہ اور والد شاہ جہاں نے اورنگزیب کے خلاف سازشیں شروع کر دیں‘ اورنگزیب نے بھی ایک دن سوچا میرے پاس دو آپشن ہیں‘ میں بے نام مغل شہزادے کی حیثیت سے انتقال کر جاؤں یا پھر میں شہزادہ محی الدین سے اورنگزیب عالمگیر بن جاؤں‘ اورنگزیب نے بھی اشوک کی طرح دوسرا آپشن چن لیا‘ اورنگزیب نے والد کو آگرہ کے قلعے میں بند کر دیا‘ اپنے بھائی داراشکوہ اور شجاع دونوں سے جنگ کی اور دونوں کو مروا دیا‘ بھائیوں کے بعد بھتیجوں اور بھانجوں کی باری آئی‘ اس نے انھیں قلعے میں بند کر دیا‘ یہ وہاں بھنگ پی پی کر مر گئے۔
اورنگزیب نے اس کے بعد ہندوستان فتح کرنا شروع کیا‘ یہاں تک کہ تاریخ اسے عالمگیر کا نام دینے پر مجبور ہو گئی‘ انگریز چوتھی طاقت تھی جس نے پورے ہندوستان پر حکومت کی‘ انگریزوں کی کامیابی کی پانچ بڑی وجوہات میں سے ایک وجہ ان کے ’’خاندانی اصول‘‘ تھے‘ ملکہ نے قانون بنایا تھا ہندوستان آنے والا کوئی برطانوی سرکاری ملازم اپنے خاندان کے کسی فرد کو یہاں ’’سیٹل‘‘ نہیں کروا سکتا تھا‘ انگریز ڈی سی مقامی لوگوں کو سو مربع زمین الاٹ کر سکتا تھا مگر یہ اپنے اور اپنے خاندان کو ایک مرلہ زمین نہیں دے سکتا تھا‘ برطانیہ کے ہر سرکاری ملازم پر لازم تھا وہ مدت ملازمت پوری کرنے کے بعد برطانیہ واپس جائے گا‘ وہ ہندوستان میں رہائش پذیر نہیں ہو سکے گا‘ انگریز اہلکار دوران ملازمت اپنے والد‘ بھائیوں‘ بہنوں اور بھتیجوں‘ بھانجوں کو چھ ماہ سے زیادہ یہاں نہیں رکھ سکتے تھے چنانچہ یہ انگریز عزت کے ساتھ پورے ہندوستان پر حکومت کر کے 1947ء میں واپس چلے گئے۔
ہم مانیں یا نہ مانیں لیکن یہ حقیقت ہے اس خطے کا سب سے بڑا مسئلہ جوائنٹ فیملی سسٹم ہے‘ یہ ہماری ترقی کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے‘ آپ لیڈر شپ سے لے کر بزنس مین‘ صنعت کار‘ سرکاری ملازموں‘ کھلاڑیوں اور خوشحال لوگوں تک ملک کے مختلف کامیاب لوگوں کے پروفائل نکال لیجیے‘ آپ کو ننانوے فیصد لوگ اپنے خونی رشتے داروں کے ہاتھوں تباہ ہوتے نظر آئیں گے‘ لیڈروں کی لیڈر شپ کو ان کے بھائی کھا جاتے ہیں‘ بہنوئی تباہ کر دیتے ہیں‘ سالے اڑا دیتے ہیں یا پھر بھانجے‘ بھتیجے اور کزن برباد کر دیتے ہیں‘ پاکستان میں ایوب خان کے دور میں 22 بڑے صنعتی اور کاروباری گروپ تھے۔
آج 40 سال بعد ان میں سے کوئی گروپ باقی نہیں‘ کیوں؟ کیونکہ یہ تمام صنعتی گروپ بھائیوں‘ بہنوئیوں‘ سالوں‘ بھانجوں اور بھتیجوں کی جنگ میں تباہ ہو گئے‘ آپ اپنے اردگرد نظریں دوڑائیں‘ آپ نے سیکڑوں ہزاروں لوگوں کو ترقی کرتے دیکھا ہو گا‘ آپ نے پھر ان لوگوں کو تباہ ہوتے بھی دیکھا ہو گا‘ آپ نے ان کی دکانیں‘ گودام‘ کارخانے اور فارم ہاؤس بکتے بھی دیکھے ہوں گے‘ یہ لوگ یقینا خونی رشتے داروں کے ہاتھوں تباہ ہوئے ہوں گے‘ انھوں نے نکمے رشتے داروں کو پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے کرسی پر بٹھا دیا ہو گا یا کروڑوں کا کاروبار اپنے نکھٹو‘ سست اور بے وقوف بچوں کے حوالے کر دیا ہو گا اور یوں وہ ڈیوڑھی جس میں ہاتھی جھومتے تھے وہاں خاک اڑنے لگی‘ آپ بیوروکریٹس کو بھی دیکھ لیجیے‘ یہ بے چارے دیہاتی علاقوں میں ٹاٹوں پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرتے ہیں‘ سی ایس ایس کرتے ہیں‘ اعلیٰ عہدوں پر پہنچتے ہیں اور پھر باقی زندگی بھائی‘ بھانجوں اور بھتیجوں کی ضمانتیں کرواتے رہتے ہیں۔
یہ خاندان کو ’’سیٹل‘‘ کرواتے کرواتے خود جیل پہنچ جاتے ہیں یا پھر کرپشن کی دلدل میں دفن ہو جاتے ہیں اور ہمارے کھلاڑیوں کے ساتھ بھی یہی ہوتا ہے‘ یہ بے چارے ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر ’’پچ‘‘ پر پہنچتے ہیں مگر پیچھے سے بھائی صاحب ’’بکی‘‘ سے آؤٹ ہونے کے کروڑ روپے پکڑ لیتے ہیں‘ ہمارا دوسرا المیہ سماجی بوجھ ہے‘ ہم میں سے کوئی ایک شخص ایڑھیاں رگڑ کر خوش حالی کے دروازہ تک پہنچتا ہے اور اس کے بعد پورا خاندان اپنی خواہشوں کی گٹھڑیاں اس کے سر پر رکھ دیتا ہے‘ نانی بیمار ہو یا پھوپھی کا دیور۔ علاج بہر حال بھائی صاحب ہی کروائیں گے‘ حالانکہ بچہ پاس ہو جائے تو ذمے داری یہ اٹھائے گا‘ فیل ہو جائے تو بھی ذمے دار یہ ہو گا‘ کوئی باہر جا رہا ہے تو سیٹ بک کروانے کی ذمے داری یہ اٹھائے گا۔
کوئی آ رہا ہے تو اسے ائیر پورٹ سے پک یہ کرے گا‘ یہ بے چارہ یہ ذمے داریاں نبھا بھی لیتا ہے‘ اللہ تعالیٰ ترقی کرنے والے ہر شخص کو بڑا دل اور بڑا حوصلہ دیتا ہے لیکن یہ بیچارہ طعنوں کا بوجھ برداشت نہیں کر پاتا‘ دنیا میں پیچھے رہ جانے والے لوگ ’’شکایتی مراکز‘‘ ہوتے ہیں‘ ان کی زبانوں پر سیکڑوں ہزاروں شکایتیں چپکی ہوتی ہیں‘ یہ شکایتی مرکز جب اس شخص کو شکایات کے تیروں سے چھلنی کرتے ہیں تو اس کا حوصلہ جواب دے جاتا ہے اور یہ وہ وجہ ہے جس کی بدولت ہمارے ملک میں کامیاب لوگوں کی اوسطاً عمر 55 سال ہوتی ہے‘ یہ دنیا سے اس وقت رخصت ہو جاتے ہیں جب دنیا کے کامیاب لوگ خود کو جوان سمجھنا شروع کرتے ہیں۔
آپ دنیا کے کامیاب لوگوں کی فہرست بنائیں‘ آپ بل گیٹس کو دیکھئے‘ وارن بفٹ اور کارلوس سلم کی مثال لیجیے‘ آپ صدر باراک حسین اوباما کو دیکھئے‘ آپ کبھی ان لوگوں کے خاندان کو ان کے قریب نہیں دیکھیں گے‘ آپ کو کبھی برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون اور جرمن چانسلر اینجلا مرکل کے ابا جی‘ بھائی‘ بہن‘ بہنوئی اور سالے کی زیارت نہیں ہو گی‘ آپ ان کے بھانجوں اور بھتیجوں کے نام سے واقف نہیں ہوں گے‘ آپ کبھی اوبامہ کو اپنے بھتیجوں‘ بھانجوں سے ملاقات کرتے نہیں دیکھیں گے‘ خاندان سے یہ دوری ان کی کامیابی کی بڑی وجہ ہوتی ہے‘ کامیاب لوگوں کی کامیابی کی چھ بڑی وجوہات ہوتی ہیں اور ان وجوہات میں سے ایک وجہ اچھی اور اہل ٹیم ہوتی ہے‘ جوائنٹ فیملی سسٹم میں پھنسے ہوئے لوگ ٹیم کی بجائے خاندان کو کھپانے میں مصروف ہو جاتے ہیں‘ سیل ڈیپارٹمنٹ بڑے بھائی دیکھیں گے‘ پرچیزنگ چھوٹے بھائی کا کام ہو گا‘ اکاؤنٹس بہنوئی کے پاس ہونگے۔
مارکیٹنگ سالہ صاحب کریں گے اور کمپنی کا وکیل خالہ کا بیٹا ہو گا اور رہ گئے کارخانے کے ورکر تو یہ بھی برادری‘ قبیلے اور گاؤں سے لیے جائیں گے اور جائیداد! جی ہاں یہ اباجی یا امی جی تقسیم کریں گی اور یوں خاندان اور قبیلے کے لوگوں کو ’’سیٹل‘‘ کرنے کی کوشش میں کاروبار کا بیڑہ غرق ہو جائے گا جب کہ ہمارے مقابلے میں بل گیٹس‘ وارن بفٹ‘ کارلوس سلم‘ صدر اوبامہ اور اینجلا مرکل ملک سے اہل ترین لوگ جمع کریں گے‘ یہ لوگ کام کریں گے تو یہ ان کے گلے میں ہار ڈالیں گے‘ یہ کام نہیں کریں گے تو یہ انھیں سلام کر کے فارغ کر دیں گے اور ان کی جگہ نئے لوگ آ جائیں گے یوں کمپنی اور پارٹی کامیاب ہو جائے گی۔
ہماری سیاست کا بھی یہی المیہ ہے ذوالفقار علی بھٹو اپنی صاحبزادی کو وزیر اعظم بنانا چاہتے تھے‘ بھٹو صاحب کی اس خواہش نے پورا خاندان تباہ کر دیا‘ آصف علی زرداری نے 19 سال کے بچے کو پارٹی کا چیئرمین بنا دیا‘ رہی سہی کسر بھی پوری ہو گئی اور اب میاں نواز شریف بھی ملک کے ہیوی مینڈیٹ کو خاندان تک رکھنا چاہتے ہیں چنانچہ ان کا حشر بھی وہی ہو گا جو دس ہزار سال کی تاریخ میں اس خطے کے کامیاب لوگوں کا ہو رہا ہے‘ یہ بھی خاندان کو بناتے بناتے خود بکھر جائیں گے‘ یہ کمبل کا بندوبست کرتے رہ جائیں گے اور خاندان دری کھینچ لے گا اور ہیوی مینڈیٹ ماضی کا قصہ بن جائے گا۔

تحریر : جاوید چوہدری

جاوید چوہدری

جاوید چوہدری پیشے کے لحاظ سے شعبہ صحافت سے منسلک ہیں، ان کے سب سے قابل ذکر کالم ’’ زیرو پوائنٹ ‘‘ خاص طور پر پاکستان کے عوام یوتھ اور پاکستان کے مسلمانوں پر بہت بڑا اثر ہے

One thought on “جوائنٹ فیملی سسٹم”

  1. Mukaramzulfiqar11 says:

    Almost thik hi kaha hy

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top