میڈیا ایجنڈا سیٹنگ، فوجی عدالتیں اور جامعہ پنجاب

article-5.jpg

اگر میڈیا پر مرغا لڑاؤ آئٹم نمبر ختم ھوگیا ھو تو عرض یہ کرنا تھا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں عرصہ دوسال کے لیے فوجی عدالتوں کے قیام کی منظوری دے دی گئی ھے جس وقت یہ قانون قومی اسمبلی سے دوتہائی اکثریت سے پاس ھوا عین اس ھی دن پاکستان کے میڈیا کا جوکہ اپنے آپ کوسیاسی عمل کو چیمپئن کہتا ھےکا موضوع پاکستان میں فوجی عدالتوں کا قیام نہیں تھا بلکہ جامعہ پنجاب میں ھونے والا دو طلباء تنظیموں کا تصادم تھا. شومئی قسمت ایک ایسی نابینا قوم اور معاشرے میں ھمارا میڈیا اور مقتدر حلقے “ایجنڈا سیٹنگ” کررھے ھیں کہ جہاں اھم قومی معاملات کو پس پشت ڈال کر قوم پوری کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگادیا جاتاھے. نان ایشوز کو ایشوز اور ایشوز کو نان ایشو بنادیا جاتاھے اور نام نہاد دانشور پورے پرائم ٹائم میں نان ایشوز کی جگالی کرتے رہتے ہیں اور آزاد میڈیا اپنے پاؤں میں ایجنڈے کی زنجیر لیے آزادی کا راگ الاپتا رھتا ھے. کیسی قسمت اس قوم نے پائی ھے کہ آج تک قیادت کا بحران حل ھونے کا نام نہیں لیتا. قوم کے مستقبل کو قیادت سے محروم اور طلباء یونین پر پابندی کو 34 سال مکمل ھوگئے لیکن کوئی سیاسی، یا آمرانہ حکومت طلباء یونین کو بحال نہ کرسکی. ملک میں اٹھارہ سال کا نوجوان ملکی سیاسی عمل میں ووٹ کے ذریعے تو حصہ لیتا ھے لیکن اس کو اپنے تعلیمی اداروں میں اپنے نمائندے منتخب کرنے کا اختیار حاصل نہیں. یہ پیکج صرف عام عوام کے لئے ھے ورنہ وہ ادارے جہاں اشرافیہ کے بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں وہاں ان کو کسی نہ کسی طور پر اپنے نمائندے منتخب کرنے اور اپنے معاملات چلانے کا حق حاصل ہے میں خود ایک ایسے کیمپس میں استاد ھوں کہ جہاں بیک وقت دوسرکاری ادارے حکومتی متضاد پالیسی کی عملی مثال ھیں. ایک طرف آئی بی اے اور دوسری طرف جامعہ کراچی اور اس پر مستزاد یہ کہ وہ حکمران جوکہ طلباء یونین کو زہر قاتل قرار دیتے ہیں اور جب وہ خود یا ان کے بچے بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے جاتے ہیں تو وہ طلباء یونین میں پیش پیش نظر آتے ہیں. اگر میڈیا کو جامعہ پنجاب کے واقعے سے فرصت مل گئی ھو تو ذرا اس پر بھی بات کرلی جائے کہ دو سالہ فوجی عدالتوں نے کونسا عظیم کارنامہ انجام دے دیا ہے کہ جس کی بنیاد پر مزید دوسال کے لیے فوجی عدالتوں کے قیام کی منظوری دی جارھی ھے؟
دوسال قبل سیاستدانوں نے فوجی عدالتوں کے قیام کو محض دوسال کرنے اور اس کے بعد اس کو توسیع نہ دینے کے جووعدے کیے تھے ذرا نام بنام ان کو بھی دوبارہ چلادیا جائے. اگر ھمارا میڈیا اتنا ھی آزاد ھے تو ذرا ملک کے طول و عرض میں ھونے والے جعلی مقابلوں پر ھی کچھ نشر کردے. اگر میڈیا کے اندر اتنی بھی ھمت نہیں تو بس ایک کام ضرور کردے جامعہ پنجاب کو غنڈوں سے آزاد کروائیں اور اس کے لیے فوجی وائس چانسلر سے لیکر پولیس آپریشن تک سب ناکام ھوگئے ھیں لہذا میرے نزدیک ایک ھی حل موجود ہے کہ طلباء یونین کے الیکشن کروائے جائیں اور طلباء اپنے نمائندے خود منتخب کریں اور ان کی مدد کے ساتھ تمام غنڈہ عناصر کا خاتمہ کیا جائے. اگر میڈیا واقعی آزاد ھے اور جامعہ پنجاب کا مسئلہ سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا مسئلہ ہے تو میڈیا ھرگز پیچھے نہ ھٹے اور طلباء یونین کے انتخابات تک اس مسئلے کو زندہ رکھے تاکہ روز روز پیدا ھونے والا جامعہ پنجاب کے مسئلے کا دیرینہ اور پائیدار حل نکالا جاسکے.

تحریر:ڈاکٹر اسامہ شفیق

انتطامیہ اُردو صفحہ

انتطامیہ اُردو صفحہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top