عشق رسول میں نازک خیالیاں: علامہ اقبال اور علامہ اقبال ثانی

iqbal.jpg

انتساب : محسن رضا کے نام
محسن رضا کی فرمائش تھی کہ آج علامہ صاحب کے یوم وصال کے موقع پر کچھ خاص لکھنا چاہیے، مختصر سے وقت میں یہ مقالہ مختلف اہل علم کی تحریروں سے تدوین کر کے پیش کر رہا ہوں، آخری حصے میں علامہ اقبال ثانی کا تزکرہ میری اپنی ملاقات کی سرگذشت پر مبنی ہے، ہر قسم کی کمی بیشی معاف کیجئے گا۔
۔۔۔۔۔
قوت عشق سے ہر پست کو بالا کردے
دہر میں اسم محمد ﷺ سے اجالا کر دے

رسول اکرم ﷺ آج بھی زندہ ہیں۔
علامہ اقبال کسی ایسی ہستی سے محبت نہیں کرتے جو فانی ہو بلکہ کلام اقبال کا خلاصہ ہی یہ ہے کہ دین اسلام ایک ابدی حیات کا نامہ بر ہے، یہ ابدی حیات اپنے خالق کے ساتھ اٹوٹ رشتہ قائم کرنے سے مشروط ہے اور خالق کیساتھ لازوال تعلق سید دوعالم ﷺ کی محبت سے مشروط ہے۔

علامہ اقبال ایسے پیغمبر سے عشق کرتے ہیں جن کی یادیں، باتیں اور ان کی محبت آج بھی مردہ دِلوں کو زندگی بخشتی ہے، آپ ﷺ ایک ایسا دین لے کر آئے ہیں جو مادی حیات کے خاتمے کے بعد بھی ایک ابدی زندگی کا پیغام دیتا ہے، جس پیغمبر کا کلمہ پڑھنے والا شہید ہو کر بھی زندہ ہوتا ہے اس پیغمبرﷺ کی اپنی شان حیات کا ادراک علامہ اقبال جیسا کوئی دیدہ بینا ہی کر سکتا ہے۔

علامہ اقبال خان نیازالدین خان کے نام اپنے ایک مکتوب میں لکھتے ہیں:
میرا عقیدہ ہے کہ نبی کریم ﷺ زندہ ہیں اور اِس زمانے کے لوگ بھی ان کی محبت سے اسی طرح مستفیض ہو سکتے ہیں جس طرح صحابہ اکرام ؓ فیضیاب ہوا کرتے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔

علامہ اقبال کی شاعری میں عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم جیسی نعمت کو بنیادی اہمیت حیثیت حاصل ہے، علامہ صاحب کی گفتگو، ان کی اردو شاعری اور بالخصوص فارسی کلام میں ایک بڑا حصہ عشق رسول اور مدحت رسول پر مبنی ہے۔

علامہ اقبال نے عشق رسول میں عجیب نازک خیالیوں کا اظہار کیا ہے جس سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان کی فکر ہر وقت اس بات میں منہمک رہتی تھی کہ وہ کس طرح حضور ﷺ کو اپنے آپ سے راضی کرلیں یا پھر یہ کہ مجھ سے کوئی ایسی بات سرزد نہ ہو جائے جو عشق رسول کے کسی بھی متصور پہلو کے منافی ہو۔

اس سلسلے میں ایک بات فقیر سید وحیدالدین نے نقل کی ہے، وہ لکھتے ہیں :
محترم حکیم احمد شجاع علامہ اقبال کی خدمت میں اکثر حاضر ہوا کرتے تھے، ایک روز حکیم صاحب نے انہیں بہت زیادہ فکرمند اور مغموم دیکھا تو گھبرا کر خیریت دریافت کی، علامہ صاحب نے اپنے خاص انداز میں نظریں اوپر اٹھائیں اور غمگین لہجے میں کہا: احمد شجاع ! یہ سوچ کر میں اکثر مضطرب ہوجاتا ہوں کہ میری عمر کہیں رسول اللہ ﷺ کی عمر مبارک سے زیادہ نہ ہو جائے۔

علامہ صاحب کی تاریخ پیدائش 9 نومبر 1877 سے 21 اپریل 1938 تک کا شمسی اور قمری مہینوں کا حساب نکالیں تو ان کی عمر 61 سال بنتی ہے گویا اللہ تعالیٰ نے ان کی اس تمنا اور دعا کو قبول فرما لیا تھا۔
‌۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ واقعہ بھی علامہ صاحب سے منسوب ہے کہ کسی مغربی فلسفی نے ان سے کہا: آپ فلسفے کی رو سے خدا کا ہونا ثابت کریں، اس پر علامہ صاحب نے کہا:
مجھے کیا ضروت ہے میں فلسفے کی رو سے خدا کا وجود ثابت کرتا پھروں، میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم صادق و امین ہیں، انہوں نے فرمایا کہ خدا کو مانو وہ موجود ہے میں خود دیکھ کے آیا ہوں (شب معراج) لہذا ہم ان کے کہنے پر مانتے ہیں۔

میرا گمان ہے کہ فلسفی اور وکیل ہونے کی حیثیت سے علامہ صاحب اس قابل تھے کہ وہ چاہتے تو فلسفے کی رو سے بھی خدا کا وجود ثابت کر دیتے لیکن انہوں نے جو توجیح پیش کی وہ قابل وجد ہے کہ فرمان رسول ﷺ ان کے نزدیک کس قدر قابل احترام اور قابل فخر ہے۔
خیرہ نہ کرسکا مجھے جلوہء دانشِ فرنگ ………. سرمہ ہے مری آنکھ کا خاکِ مدینہ و نجف

یہ دو واقعات دیکھنے اور پڑھنے میں بہت مختصر ہیں لیکن حقیقت میں عشق و محبت کا بے پایاں دفتر ہیں، علامہ اقبال کے عشق اور حضور ﷺ کی عظمت کا احساس جس طرح علامہ صاحب کے کلام میں نمایاں نظر آتا ہے اس کی مثال فلسفیوں، شاعروں اور ادیبوں میں خال خال ہی ملتی ہے۔

علامہ اقبال روزِ محشر حضور ﷺ کے سامنے اپنے گناہوں کے کھلنے سے بہت ڈرتے ہیں، یہ بھی محبت کی ایک مثال ہے جسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔

تو غنی از ہر دو عالم من فقیر ….. روز محشر عذر ہائے من پذیر
ورحسابم را تو بینی نا گزیر ….. از نگاہ مصطفے پنہاں بگیر
علامہ اقبال بارگاہ الہیٰ میں التجا کر رہے ہیں کہ تو دونوں عالم سے بے نیاز ہے اور میں ایک عاجز سوالی ہوں، براہ ِکرم روزِ قیامت میری ایک عرض قبول کر لینا، اگر میرا نامہ اعمال دیکھنا بڑا ہی ضروری ہے تو برائے مہربانی حضور ﷺ کی نگاہوں سے بچا کر حساب کرنا، مطلب یہ کہ میں گناہ گار اُمتی ہوں میں اپنے نبی کے سامنے شرمند گی سے بچ جاؤں۔

ہم اپنا یہ مضمون ڈاکٹر محمد طاہر فاروقی کے ان جملوں پر ختم کرتے ہیں:
علامہ اقبال جس عشق و سرمستی کی بات کرتے ہیں یہ سرشاری آفتاب مصطفوی کے انوار و تجلیات کی ایک کرن ہے، جب تک اس عشق کا سوز انسان میں ہے تب تک اسے حقیقی زندگی میسر ہے، یہی وہ قوت ہے جس سے دین و ایمان میں پختگی آتی ہے، اسی لئے علامہ صاحب نصیحت فرماتے ہیں کہ سیدنا محمد ﷺ ایک بحر انوار کی طرح ہیں جس کی موجیں آسمانوں کو چھوتی ہیں، تم بھی اسی نور سے سیرابی حاصل کرو تاکہ تمہیں حیات نو نصیب ہو اور تمہاری وہ بھولی بسری روحانی کیفیت جسے مادی دنیا نے تم سے چھین لیا ہے وہ از سر نو تمہیں میسر آجائے۔

علامہ کے اشعار میں یہ مضمون ملاحظہ کیجئے:
می ندانی عشق و مستی از کجاست؟ ……….. این شعاع آفتاب مصطفی است
زنده ئی تا سوز او در جان تست …………. این نگہ دارندهٔ ایمان تست
مصطفی بحر است و موج او بلند …………. خیز و این دریا بجوی خویش بند
یک زمان خود را به دریا در فکن ………… تا روان رفته باز آید بتن

علامہ صاحب عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو امت مسلمہ کی حیات قرار دیتے ہیں، ان کے بقول اگر عشق رسول نہ ہو تو یہ امت مٹی کا ڈھیر ہے، اس بات کو اس شعر میں دیکھئے۔
یہ فاقہ کش جو موت سے ڈرتا نہیں ………. کبھی روحِ محمد اس کے بدن سے نکال دو
فکرِ عرب کو دے کے فرنگی تخیلات ………. اسلام کو حجاز و یمن سے نکال دو

علامہ صاحب کا یہ شعر مجھے ذاتی طور پر بہت پسند ہے کہ لاالہ کا لباس بہت خون جگر کرتا ہے، یہ لباس صرف مردوں پر پورا اترتا ہے جبکہ نامرد اس کی طوالت میں الجھ کے رہ جاتے ہیں۔
قبائے لاالہ رنگیں قباست ………. کہ بر بالائے نامرداں درا ز است

کسی بندے نے علامہ صاحب سے آ کر بیان کیا کہ میں آپ کو نہیں جانتا تھا لیکن ایک رات میں نے خواب میں دیکھا کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نماز کی امامت فرمانے لگے ہیں، اس سے قبل آپ نے حاضرین سے استفسار فرمایا کہ محمد اقبال آگیا؟
تب میں نے آپ کو آتے ہوئے دیکھا، پھر آپ کی تلاش شروع کی تو پتا چلا آپ شاعر ہیں، اب آپ کا چہرہ دیکھ کر مجھے اطمینان ہوگیا ہے کہ وہ آپ ہی تھے، علامہ صاحب اس اعزاز کو سن کر عقیدت و شکرانے کے ملے جلے جذبات کے ساتھ بہت روئے۔

———
اقبال کے عشق رسول ﷺ کے تصور پر گامزن ایک بندے کے ساتھ میری ملاقات ہوئی تھی، مجھے اس پروانےسے مل کر بے پناہ خوشی ہوئی، یہ علی محمد جٹ صاحب ہیں جو بہاولپور شہر سے دس کلومیٹر پرے اپنی زمینوں پر رہتے ہیں، علی محمد صاحب نے درود شریف کی فضیلت پر ایک کتاب لکھی تھی، یہ کتاب ایک صاحب حال بزرگ نے دربار رسول ﷺ میں پیش کی، یہ بزرگ وہاں قریب ہی ایک صحابیؓ کے دربار کے متوسل ہیں۔

بزرگ نے ایک دن علی محمد صاحب کو بتایا کہ جناب رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی کتاب کو شرف قبولیت بخشا ہے اور آپ کے لئے تین دعائیں فرمائی ہیں۔
۱۔ آپ کا برسوں پرانا سر درد ختم ہو جائے گا۔
۲۔ اللہ تعالٰی آپ کو بیٹے سے نوازے گا۔
۳۔ آپ کو علامہ اقبال ثانی کا خطاب دیا جاتا ہے۔
میں جب علی محمد صاحب کے پاس پہنچا تو انہوں نے کوئی خاص توجہ نہیں دی، شائد وہ ملنے والوں سے تنگ آئے ہوئے تھے، ان کا لہجہ بھی کافی سرد سا تھا، لیکن دوران گفتگو جب میں نے انہیں بتایا کہ میں بھی درود شریف کی ایک کتاب تالیف کرنا چاہتا ہوں، اس سلسلے میں جب کتابیں اکٹھی کر رہا تھا تو آپ کی کتاب بھی ملی، تب مجھے آپ سے ملنے کا شوق ہوا اور کم و بیش آٹھ سو کلومیٹر کا سفر طے کر کے آیا ہوں،پھر اس کے بعد ان سے کافی اچھی گفتگو ہوئی۔

میرے ایک سوال پر علی محمد صاحب نے مسکراتےہوئے بتایا کہ ہاں یہ تینوں بشارتیں پوری ہو چکی ہیں۔
۱۔ مجھے لڑکپن سے آدھے سر کا درد رہتا تھا، ایک صبح جب میں اٹھا تو میرا سر درد غائب تھا، یہ وہی قبولیت کی رات تھی۔
۲۔ میرے ہاں پہلے بیٹیاں پیدا ہوئی تھیں، غالباً دو بتائی تھیں، بیٹے کی بہت خواہش تھی جو بشارت کے ذریعے قبول ہوئی، پھر انہوں نے اپنے صاحبزادے سے بھی ملوایا جو ماشاءاللہ اس وقت شائد دو سال کا تھا۔
۳۔ علامہ اقبال کی زیارت ہوئی اور انہوں نے کہا جسے حضور آقائے کریم پسند فرمائیں وہ مجھے بھی مرغوب ہے لہذا آپ میرے خلیفہ ہو۔

علی محمد چوہدری صاحب کہتے ہیں کہ اس کے فوراً بعد میں نے لاہور کا قصد کیا اور علی الصبح جب علامہ اقبال کے مزار پہ پہنچا تو پتا چلا کہ مزار دیر سے کھلے گا، میں نے کہا جناب یہ عجیب بات ہے، مجھے بلا کے دروازے بند کر لئے، چند منٹ بعد رینجر کا ایک اہلکار آیا اور مجھے کہا آپ اندر چلے جائیں، تالا کھول کے وہ چلا گیا اور میں وہاں کافی دیر تک بیٹھا رہا۔

علی محمد صاحب نے مجھے ایک جگ دودھ میں میٹھا اور برف ڈال کے پلایا، کہنے لگے چائے تو پیتے رہتے ہیں آج دودھ پئیں، آپ کے ساتھ دل لگ گیا ہے، میں نے جب واپسی کا ارادہ کیا تو وہ خود بھی آدھا کلومیٹر پیدل چل کر مین روڈ تک مجھے سی آف کرنے آئے، علی محمد صاحب ایم اے ہسٹری ہیں اور اس وقت تقریباً دس سال پہلے دبلے پتلے جوان آدمی تھے، اس کے بعد میں اپنی کوتاہی کی وجہ سے ان کے ساتھ رابطہ نہیں رکھ سکا۔

میں نے علی محمد چوہدری صاحب سے پوچھا کہ آپ نے جو فضائل درود شریف پر کتاب لکھی ہے اس کے علاوہ ایسی کیا عبادت کرتے ہیں جو مقبول ہوئی ہو یا جس کی بنا پر آپ کو کوئی انعام یا کوئی مقام حاصل ہوا ہو تو ان کا جواب وہی تھا جو میرا ہے
میرا یہ ماننا ہے کہ مسلمانی کا اصل جوہر محبت رسول اس حد تک ہونی چاہئے کہ بندہ خود کو حاضر بارگاہ سمجھے اور اتباع بھی اسی جذبے سے ہونی چاہئے، اعمال کا سوال اپنی جگہ ٹھیک ہے اور اس کی اہمیت بھی ہے لیکن واصل ہونے کے لئے صرف محبت شرط ہے اور کچھ بھی نہیں۔

دوستو یہ جو خواب کے واقعات ہوتے ہیں یہ علمی طور پر کامل حجت نہیں ہوتے، سو اگر کوئی انہیں جائز سمجھنے پہ مطمئن ہے تو ٹھیک ہے اور کوئی ان باتوں پر یقین نہیں رکھتا تو بھی وہ اپنے دلائل کے حساب سے شائد ٹھیک ہی ہو، واللہ تعالٰی اعلم۔

ذاتی طور پر چند احادیث کی بنیاد پر میں انبیاء اکرام علیہم السلام کے بارے میں خصوصاً رسول اللہ کے بارے میں وہی عقیدہ رکھتا ہوں جو علامہ اقبال نے خان نیازالدین خان کے نام اپنے خط میں بیان کیا اور جہاں تک علی محمد چوہدری صاحب والے واقعے کا تعلق ہے تو میں نے اپنی ملاقات میں اس ٹھنڈک کو پا لیا تھا جو ایک بشارت یافتہ اور قربت یافتہ شخص کے پاس ہونی چاہئے، یہ ایک خاص چھتری ہے جو ہر قربت یافتہ شخص کے پاس ہوتی ہے اس روحانی ثبوت کی بنا پر میں ان کی ساری باتوں کو سچ مانتا ہوں ورنہ سنی سنائی باتوں کے متعلق میں خود جتنا بے مروت ہوں وہ میں ہی جانتا ہوں۔

آخر میں علامہ صاحب کی ایک نعت جو میری ٹاپ فیورٹ ہے
لوح بھی تو قلم بھی تو تیرا وجود الکتاب …………. گنبدِ آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حجاب
عالمِ آب و خاک میں تیرے حضور کا فروغ ………. ذرہ ریگ کو دیا تو نے طلوعِ آفتاب
شوکت سنجر و تیرے جلال کی نمود ……………… فقر و جنید بایزید تیرا جمال بے نقاب
شوق تیرا اگر نہ ہو میری نماز کا امام …………….. میرا قیام بھی حجاب میرا سجود بھی حجاب
تیری نگاہِ ناز سے دونوں مراد پاگئے ……………. عقل و غیاب و جستجو عشق حضور و اضطراب
۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
* مکاتیب اقبال بنام خان نیاز الدین خان * ڈاکٹر محمد طاہر فاروقی * اقبال اکادمی پاکستان
* سینہ گزٹ * ذاتی سفر و سرگزشت

لالہ صحرائی

لالہ صحرائی

لالہ صحرائی مصنف ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top