علم کے پیاسے

article-64.jpg

علم کے پیاسے

عامر بن قیس ایک زاہد تابعی تھے ۔ ایک شخص نے ان سے کہا “آو بیٹھ کر باتیں کریں” انہوں نے جواب دیا کہ پھر سورج کو بھی ٹھہرالو۔ تاریخ بغداد کے مصنف خطیب بغدادی لکھتے ہیں کہ جاحظ کتاب فروشوں کی دکانیں کرایہ پر لے کر ساری رات کتابیں پڑھتے رہتے تھے۔ فتح بن خاقان خلیفہ عباسی المتوکل کے وزیرتھے ۔ وہ اپنی آستین میں کوئی نہ کوئی کتاب رکھتے تھے اور جب انہیں سرکاری کاموں سے فرصت ملتی تو آستین سے کتاب نکال کر پڑھنے میں لگ جاتے۔ اسماعیل بن اسحاق القاضی کے گھر جب بھی کوئی جاتاانہیں پڑھنے میں مصروف پاتا۔

ابن رشد اپنی شعوری زندگی میں صرف دو راتوں کو مطالعہ نہیں کرسکے۔ امام ابن جریر طبری ہر روز چودہ ورقے لکھ لیا کرتے تھے۔ انہوں نے اپنی عمر عزیز کا ایک لمحہ بھی فائدے اور استفادے کے بغیر نہیں گزارا۔ البیرونی کے شوق علم کا یہ عالم تھا کہ حالت مرض میں مرنے سے چند منٹ پیشتر وہ ایک فقیہ سے جو ان کی مزاج پرسی کے لیے آیا تھا ، علم الفرائض کا ایک مسئلہ پوچھ رہے تھے۔ امام الحرمین ابوالمعالی عبدالملک جو مشہور متکلم امام غزالی کے استاد تھے ، فرمایا کرتے تھے کہ میں سونے اور کھانے کا عادی نہیں۔ مجھے دن اور رات میں جب نیند آتی ہے سو جاتا ہوں اور جب بھوک لگتی ہے کھا لیتا ہوں۔ ان کا اوڑھنا بچھونا ، پڑھنا اور پڑھانا تھا۔ علامہ ابن جوزی کی چھوٹی بڑی کتابوں کی تعداد ایک ہزار ہے ، وہ اپنی عمر کا ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کرتے تھے۔ وہ اپنی قلم کے تراشے سنبھال کر رکھ دیتے تھے چنانچہ ان کی وفات کے بعد ان تراشوں سے گرم کردہ پانی سے انہیں غسل دیا گیا۔ وہ اپنے روزنامچے “الخاطر” میں ان لوگوں پر کف افسوس ملتے نظر آتے ہیں جو کھیل تماشے میں لگے رہتے ہیں، ادھر ادھر بلامقصد گھومتے رہتے ہیں، بازاروں میں بیٹھ کر آنے جانے والوں کو گھورتے ہیں اور قیمتوں کے اتارچڑھائو پر رائے زنی کرتے رہتے ہیں۔ امام فخر الدین رازی کی چھوٹی بڑی کتابوں کی تعداد ایک سو سے کم نہ ہوگی۔

صرف تفسیر کبیر تیس جلدوں میں ہے۔وہ کہا کرتے تھے کہ کھانے پینے میں جو وقت ضائع ہوتا ہے میں ہمیشہ اس پر افسوس کرتا ہوں۔ علامہ شہاب الدین محمود آلوسی مفسر قرآن نے اپنی رات کے اوقات کو تین حصوں میں تقسیم کررکھا تھا۔ پہلے حصہ میں آرام و استراحت کرتے ، دوسرے میں اللہ تعالی کو یاد کرتے اور تیسرے میں لکھنے پڑھنے کا کام کرتے تھے۔ خطیب بغدادی کا واقعہ ان کی بابت مورخین لکھتے ہیں کہ وہ راستے سے گزرتے ہوتے اس حالت میں بھی ان کے ہاتھ میں کتاب ہوتی تھی، جسے پڑھتے رہتے تھے، انہیں کا کہنا ہے: سب سے بہترین مذاکرہ رات کا مذاکرہ ہے اورسلف کی ایک جماعت ایسا کرتی تھی، اور بعض سلف عشاء کے بعد مذاکرہ شروع کرتے یہاں تک کہ بعض اوقات صبح کی اذان ہوجایا کرتی۔ ابوجعفر ابن جریر الطبری کا واقعہ:انہوں نے اپنی پوری زندگی پڑھنے اورتصنیف وتالیف میں گزار دی یہاں تک کہ موت کے وقت بھی جب ان کے سامنے کسی نے ایک حدیث پیش کی جسے وہ نہیں جانتے تھے، تو فورا قلم کاپی منگوائی اور اسے لکھ لیا، کسی نے کہا:

حضرت! زندگی کا آخری وقت ہے، اس وقت بھی پڑھنا نہیں چھوڑتے؟ توآپ نے فرمایا: ینبغی للإنسان أن لایدع اقتباس العلم حتی الممات آدمی کے لیے مناسب ہے کہ تا دم حیات علم کی باتیں قیدتحریر میں لاتا رہے ۔

انتطامیہ اُردو صفحہ

انتطامیہ اُردو صفحہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top