حسین بن منصور حلاج کی تاریخی شخصیت

article-33.jpg

حسین بن منصور حلاج ایران میں پیدا ہوئے۔ ان کا دادا پارسی تھا۔ باپ مسلمان ہوا۔ آبائی وطن شہر بیضا ہے۔ حسین نے بصرہ اور کوفہ کے درمیان واقع علاقہ “واسط” میں نشو و نما پائی۔ اس کی آمد و رفت بغداد میں بھی ثابت ہے۔ سن ولادت معلوم نہیں۔ 310ھ میں بغداد میں قتل ہوا۔

تاریخ کی کتب اس امر پر متفق ہیں کہ حلاج ، نیرنگ ، شعبدہ بازی اور ہاتھوں کے کھیل میں بہت چالاک اور مشاق تھا۔ روپے برسا دیتا تھا ، طرح طرح کے میوے منگواتا ، ہوا میں اڑاتا اور اس کے علاوہ بھی کئی عجائبات دکھلاتا تھا۔
اس کے ایک ہمسفر کا بیان ہے کہ حسین اس کے ساتھ صرف اس غرض سے ہندوستان آیا تھا کہ یہاں کی مشہور شعبدہ بازیوں کی تعلیم حاصل کرے۔ چنانچہ اس نے میرے سامنے ایک عورت سے رسی پر چڑھ کر غائب ہو جانے کا فن سیکھا۔ راہ میں گڑھے کھود کر کہیں پانی ، کہیں میوہ ، کہیں کھانا پہلے سے چھپا دیتا۔ پھر اپنے ہمراہیوں کو لے کر اسی سمت میں سفر کرتا اور بوقتِ ضرورت کرامتوں کے تماشے دکھاتا۔

سید سلیمان ندوی نے ابن سعد قرطبی ، بغداد کے مشہور سیاح ابن موقل ، مورخ ابن ندیم ، ابو علی بن مسکویہ ، مسعودی ، علامہ ابن جوزی ، ابن اثیر اور امام الحرمین کی تواریخ سے ثابت کیا ہے کہ وہ ایک شعبدہ باز اور گمراہ شخص تھا۔
چنانچہ ابن ندیم کے حوالے سے ، جو صرف ایک واسطہ سے روایت کرتا ہے ، لکھتے ہیں کہ :
(اردو ترجمہ)
حسین بن منصور حلاج ایک حیلہ گر اور شعبدہ باز آدمی تھا۔ اس نے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے صوفیوں کے طریقے اختیار کر لیے تھے۔ صوفیوں کی طرح باتیں کرتا اور علم کے جاننے کا دعویدار تھا ، حالانکہ وہ اس سے خالی تھا۔ البتہ علم کیمیا میں اسے کچھ مہارت ضرور تھی۔ جب اپنے مریدوں کے پاس ہوتا ، تو خدائی کا دعویٰ کرتا اور کہتا کہ : خدا مجھ میں حلول کر گیا ہے۔
اور جب سلاطین کے پاس جاتا تو کہتا میں شیعہ مذہب کا آدمی ہوں اور عوام سے کہتا کہ میں ایک صوفی ہوں۔
البتہ یہ بات سب سے کہتا کہ خدا نے مجھ میں حلول کیا ہے اور میں بالکل خدا ہی ہوں۔

پھر سید سلیمان ندوی ابن اثیر کی عبارت درج کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
(اردو ترجمہ)
حسین بن منصور کے قتل کا سبب یہ ہے کہ :
حلاج جب واپس بغداد آیا ، تو کسی نے وزیر حامد بن عباس کو اطلاع دی کہ حلاج کہتا ہے کہ میں نے بہت سے لوگوں کو زندہ کیا ہے اور میں مُردوں کو زندہ کر سکتا ہوں اور بہت سے جنات میرے تابع ہیں اور میں جو چاہوں میرے پاس لا کر حاضر کر دیتے ہیں۔ نیز یہ کہ بہت سے اہل کار میرے گرویدہ ہو گئے ہیں۔ نصر حاجب سرکاری دفاتر کا نگران بھی میری طرف مائل ہو گیا ہے اور اس کے علاوہ کئی بڑے بڑے لوگ حلقہ بگوش ہو گئے ہیں۔
یہ سن کر وزیر حامد بن عباس نے خلیفہ سے درخواست کی کہ حلاج کا معاملہ اس کے سپرد کر دیا جائے لیکن نصر حاجب آڑے آیا۔ جب وزیر نے اصرار کیا تو خلیفہ مقتدر باللہ نے منصور اور اس کے چیلوں کا معاملہ حامد بن عباس کے سپرد کر دیا۔

حامد بن عباس نے علماء سے اس کے قتل کا فتویٰ طلب کیا تو علماء اور فقہاء نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ ثبوت کافی نہیں۔
پھر حامد نے علماء کے سامنے حلاج کی ایک کتاب پیش کی ، جس میں لکھا تھا کہ :
“اگر کوئی شخص حج نہ کر سکے تو ایک صاف ستھری کوٹھی کو لیپ پوت کر حج کے ارکان اس کے سامنے ادا کرے۔ پھر تین یتیموں کو بلوا کر انہیں عمدہ کھانا کھلائے ، عمدہ کپڑے پہنائے اور سات سات درہم ان کے حوالے کر دے ، تو اس کو حج کا ثواب مل جائے گا۔”
حامد بن عباس نے جب یہ فقرے قاضی القضاة کو سنائے تو اس نے حلاج سے پوچھا کہ : اس کا ماخذ کیا ہے؟
حلاج نے حسن بصری رحمة اللہ علیہ کی کتاب “الاخلاص ، کتاب السنة” کا حوالہ دیا۔
حلاج کی یہ کذب بیانی سن کر قاضی القضاة غضب ناک ہو گیا کیونکہ مذکورہ کتاب وہ پڑھ چکا تھا اور اس میں کوئی ایسی بات نہ تھی۔
بالاخر قاضی القضاة نے لکھ دیا کہ ایسے شخص کا خون حلال ہے۔
اس تحریر پر اور بھی کئی علماء نے دستخط کر دئے۔
چنانچہ حلاج ارتداد اور زندقہ کی سزا میں پہلے قتل کیا گیا ، پھر جلایا گیا اور اس کی راکھ کر دریا بُرد کر دیا گیا۔
اس کے مرنے کے بعد اس کے پیروؤں نے وہی بات مشہور کر دی جو ہر ناکام مدعی کے پیروکار کرتے ہیں ۔۔۔ یعنی : وہ مرا نہیں بلکہ زندہ ہے اور پھر لوٹ کر آئے گا۔
مگر افسوس کہ وہ آج تک واپس نہ آ سکا !!

مضمون نگار : سید سلیمان ندوی

انتطامیہ اُردو صفحہ

انتطامیہ اُردو صفحہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top