گرمی دور کرنے کے طریقے

article-67.jpg

گرمی دور کرنے کے طریقے

دوستو بزرگو! جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ میں نے ہمیشہ خلق خدا کی بھلائی کی بات کی ہے، سو آج بھی میں آپ کے کچھ ایسے مسائل کا حل لے کر حاضر ہوا ہوں جو گرمی سے تعلق رکھتے ہیں۔ آج کل گرمی کا موسم ہے اور ہر شخص گرمی دور کرنے کے طریقے ڈھونڈتا پھر رہا ہے، میرے ایک دوست نے تو تربوز کے پانی سے دھلے کپڑے پہننے شروع کر دیے ہیں کہ تربوز ٹھنڈا ہوتا ہے۔ گرمی واقعی اچانک بڑھتی جا رہی ہے لہٰذا ایسے میں کچھ قابل تحریر نادر نسخے ملاحظہ کیجئے، یقینا اِن کے استعمال سے نہ صرف آپ کی گرمی دور ہو جائے گی بلکہ ہو سکتا ہے آپ بھی دور ہو جائیں۔ لیجئے طریقے ملاحظہ کیجئے!

*الیکٹرانک طریقہ:*
اس طریقے میں آپ کو یہ کرنا ہے کہ جونہی گرمی لگے، فریج کا اوپر والا دروازہ کھول کر پوری گردن اندر داخل کر دیں۔ میرے ایک دوست نے ہمیشہ گرمی سے چھٹکارے کا یہ طریقہ اختیار کیا اور اتنی ٹھنڈک پائی کہ ایک دن خود بھی ٹھنڈا ہو گیا۔ اس طریقے میں فریج کا بند ہونا بہت ضروری ہے ورنہ ایسے کیسز میں گردن صرف اندر ہی جاتی ہے، باہر آنے کا امکان نہیں رہتا۔ اگر آپ کا فریج پرانا ہے اور خطرہ ہے کہ گردن اندر کھینچ لے گا تو پھر صرف اس کا دروازہ کھول کر سامنے کرسی رکھ لیں تاہم یاد رہے کہ یہ حرکت بیگم کی موجودگی میں کبھی نہ کریں۔ اس حرکت کے بعد اگر بیگم یہ شکوہ کریں کہ پتا نہیں کیوں فریج میں پانی ٹھنڈا نہیں ہو رہا، تو فوراً ان کی ہاں میں ہاں ملائیں اور یہ آزمودہ جملہ استعمال کریں کہ ‘ہو سکتا ہے گیس ختم ہو گئی ہو’۔

*برفانی طریقہ:*
سو روپے کی برف منگوائیں اور اسے بڑے سے پانی کے ٹب میں ڈال کر خود بھی اندر تشریف رکھ لیں۔ نہ صرف گرمی دور ہو جائے گی بلکہ جسم میں پانی کی کمی کا بھی ازالہ ہو جائے گا۔ واٹر کولر میں برف بھر کر اسے گود میں رکھنے سے بھی آپ راحت محسوس کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کو سو روپے کا یہ خرچہ مہنگا لگے تو پانی کی بوتلیں بھر کے فریزر میں رکھ دیں اور جب برف بن جائیں تو قمیض کے نیچے اپنی دونوں بغلوں میں دبا کر اوپر پینٹ والی بیلٹ باندھ لیں۔ اگر سردی میں گرم پانی کی بوتل پہلو میں رکھی جا سکتی ہے تو گرمی میں ٹھنڈے پانی کی بوتل بغل میں کیوں نہیں دبائی جا سکتی؟ اس طریقے کے دو فائدے ہوں گے، ایک تو گرمی نہیں لگے گی، دوسرے چلتے ہوئے بلاوجہ بدمعاشی کا تاثر ابھرے گا۔ یہ بھی استطاعت نہ ہو تو برف کا پھٹہ استعمال کریں، اگر پھٹے والا اوپر نہ بیٹھنے دے تو کوئی بات نہیں، پھٹے کے نیچے بھی قیام فرمایا جا سکتا ہے۔ عزت آنی جانی چیز ہے، اصل مسئلہ گرمی سے نجات ہے…!!!

*مشینی طریقہ:*
آپ نے اکثر دیکھا ہو گا کہ کچھ لوگ اے ٹی ایم سے پیسے نکالنے کے لیے اندر داخل ہوتے ہیں اور سوا گھنٹے بعد برآمد ہوتے ہیں۔ اس دوران یہ باہر کھڑے لوگوں کی آہ و بکا پر بھی کوئی دھیان نہیں دیتے۔ اصل میں ان کی اکثریت گرمی بھگانے کے لیے اے ٹی ایم کے کیبن میں داخل ہوتی ہے۔ نہ ان کے پاس اے ٹی ایم کارڈ ہوتا ہے نہ پیسے نکلوانے ہوتے ہیں۔ بس یہ کچھ دیر اندر گزارتے ہیں، گرمی دور کرتے ہیں اور باہر دھوپ میں جھلستے لوگوں کے زیادہ واویلا کرنے پر بادل نخواستہ باہر نکل ہی آتے ہیں اور کسی سے نظریں ملائے بغیر موٹر سائیکل کو کک لگا کر خاموشی سے نکل جاتے ہیں۔ آپ بھی یہ طریقہ اختیار کر سکتے ہیں، بس کوشش کریں کہ جیب میں اے ٹی ایم کارڈ سے ملتا جلتا کوئی کارڈ ضرور رکھیں تاکہ باہر سے جب کوئی شیشے میں سے اندر جھانک کر آپ کو دیکھے تو اسے یہی لگے کہ آپ اپنی رقم نکال رہے ہیں، لیکن مشین ٹھیک سے کام نہیں کر رہی۔ اس دوران اگر آپ چاہیں تو باہر کھڑے لوگوں سے چھٹکارا پانے کے لیے دروازہ کھول کر یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ‘بھائی جان مشین خراب ہے’۔ کئی لوگ اس مقصد کے لیے اپنے پاس ایک کاغذ پر لکھ کر رکھ لیتے ہیں کہ ‘مشین خراب ہے’ اور جہاں کہیں اے ٹی ایم کی ٹھنڈک کے مزے لوٹنے ہوتے ہیں وہاں باہر یہ کاغذ چپکا کر خود اندر جا کر سکون سے سو جاتے ہیں۔ لیکن احتیاط لازم ہے کہ بینک کا کوئی گارڈ نہ آپ کو نوٹ کر رہا ہو۔ پچھلے دنوں میرے ایک دوست نے یہی طریقہ اختیار کرنے کا سوچا لیکن اے ٹی ایم کیبن کے اندر کوئی پہلے سے موجود تھا۔ جب ڈیڑھ گھنٹے تک وہ نہیں نکلا تو میرے دوست نے ادھر اُدھر دیکھا کہ شاید بینک کا کوئی گارڈ نظر آجائے جس سے مدد طلب کر سکے، لیکن جب کوئی گارڈ نظر نہیں آیا تو اس نے مجبوراً زور زور سے دروازے کو پیٹا۔ دروازہ فوراً کھل گیا اور پتا چلا کہ مشین خراب ہے اور دو گارڈز اندر اطمینان سے بیٹھے ‘بارہ ٹہنی’ کھیل رہے ہیں…!!!

*شاپنگ کا طریقہ:*
یہ بڑا آزمودہ طریقہ ہے، گھر میں لائٹ نہ ہو یا اے سی نہ ہو تو اطمینان سے بچوں سمیت کسی شاپنگ مال میں تشریف لے جائیں۔ آج کل جگہ جگہ ایئرکنڈیشنڈ شاپنگ مال کھلے ہوئے ہیں۔ آپ نے اکثر شاپنگ مال میں ایسے لوگ دیکھے ہوں گے جو ایک کون آئس کریم تک نہیں خریدتے، بس برقی سیڑھیاں چڑھتے اترتے رہتے ہیں یا کسی ایک سائڈ پر اطمینان سے بیٹھ جاتے ہیں۔ ان میں اکثریت ان لوگوں کی ہوتی ہے جو گرمی دور کرنے آئے ہوتے ہیں۔ آپ بھی یہی طریقہ اختیار کریں۔ اگر چلتے پھرتے تھک جائیں تو مال میں موجود مختلف دکانوں پر جا کر کپڑے، جیولری، پرفیومز وغیرہ دیکھنے شروع کر دیں۔ احتیاط صرف یہ کرنی ہے کہ انتظامیہ کو یہ شک نہ پڑنے پائے کہ آپ شاپنگ کے لیے نہیں بلکہ گرمی دور کرنے کے لیے آئے ہیں۔ ویسے شاپنگ مال میں کوئی کسی کو نہیں پوچھتا۔ آپ یہی طریقہ کسی ایئرکنڈیشنڈ بس سروس کے ٹرمینل پر بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ ویٹنگ روم میں جا کر اطمینان سے کرسی سے ٹیک لگائیں اور ٹھنڈے ٹھار ماحول میں سو جائیں، تاہم احتیاط یہ کرنی ہے کہ سوتے ہوئے کسی پر گرنا نہیں…!!

*بازاری طریقہ:*
پریکلی ہیٹ کریم خریدیں اور غسل کرنے کے بعد پورے جسم پر یہ کریم یا پاؤڈر لگا دیں۔ ایک منٹ کے اندر اندر آپ کو ایسی ٹھنڈ لگے گی کہ آپ ہیٹر ڈھونڈتے پھریں گے، کمبل لپیٹیں گے، دھوپ میں جا بیٹھیں گے لیکن آ پ کا پورا جسم یخ ہو چکا ہو گا۔ یہ ٹھنڈک اپنا وقت پورا کرنے پر ہی ختم ہو گی۔ کوشش کریں کہ کسی اچھی پریکلی ہیٹ کریم یا پاؤڈر کی بجائے گھٹیا سے گھٹیا کریم خریدیں، جتنی گھٹیا کریم ہو گی اتنی ہی تیز ہو گی اور زیادہ دیر ٹھنڈک رہے گی۔ غریبوں کے لیے اس سے اچھا اے سی کوئی نہیں ہو سکتا۔ میں نے کئی لوگوں کو یہ کریم لگا کر ماہیء بے آب کی طرح تڑپتے دیکھا ہے۔ اس طریقے میں بھی ایک احتیاط ہے کہ کریم لگا کر پنکھے میں یا ہوادار جگہ پر جانے سے گریز کریں، ورنہ آپ کی چیخوں سے لوگ ڈسٹرب ہو سکتے ہیں۔

طریقے تو اور بھی بڑے ہیں لیکن بتا اس لیے نہیں رہا کہ آپ نے کون سا عمل کر لینا ہے۔ یہ طریقے میں نے یورپ والوں کو بتائے ہوتے تو اب تک مجھے نوبل انعام مل چکا ہوتا لیکن ہمارے ملک میں ٹیلنٹ کی قدر ہی نہیں۔ میں چاہتا تو ان طریقوں کی بدولت کروڑ پتی بن سکتا تھا لیکن میں لالچی انسان نہیں ہوں، مجھے اپنے سے زیادہ آپ سے محبت ہے، اجازت چاہتا ہوں۔…

تحریر : گل نوخیز اختر

گل نوخیز اختر

گل نوخیز اخترایک پاکستانی کالم نگار اور مصنف ہیں انہوں نے مختلف ٹی وی شو کے لئے کام کیا ہے،

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top