فیصلے کا وقت آگیا ہے – جاوید چوہدری

as-1.jpg

نورین لغاری حیدر آباد سے تعلق رکھتی ہے‘ یہ لیاقت میڈیکل یونیورسٹی میں ایم بی بی ایس کی طالبہ تھی‘ والد سندھ یونیورسٹی میں کیمسٹری کے پروفیسر ہیں‘ نورین کا پورا خاندان پڑھا لکھا‘ مہذب اور لبرل ہے‘ یہ اپنی کلاس میں بھی نارمل تھی‘ یہ کبھی کسی مذہبی اجتماع میں شریک ہوئی اور نہ ہی یہ حلیے سے مذہبی دکھائی دیتی تھی‘یہ خاتون اچانک 10 فروری کوحیدرآباد سے غائب ہو گئی‘ والدین اسے تلاش کرتے رہے‘ یہ نہ ملی تو انھوں نے گم شدگی کی ایف آئی آر درج کرا دی‘ نورین نے چند دن بعد سوشل میڈیا کے ذریعے والدین سے رابطہ کیا اور انھیں بتایا ’’میں داعش میں شامل ہو چکی ہوں اور میں جہاد کے لیے شام آ گئی ہوں‘ آپ مجھے تلاش نہ کریں‘‘ والدین پر قیامت گزر گئی۔
نورین کے والد نے مدد کے لیے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو خط لکھ دیا‘ یہ خط آرمی چیف تک پہنچا اور آرمی چیف نے ملٹری انٹیلی جنس کو نورین لغاری کو تلاش کرنے کا ٹاسک دے دیا‘ تحقیقات اور تلاش شروع ہوگئی یہاں تک کہ فوج اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ پنجاب 14 اپریل کو نورین لغاری تک پہنچ گیا‘ یہ اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ پنجاب ہاؤسنگ سوسائٹی لاہور میں چھپی ہوئی تھی‘ یہ لوگ ایسٹر کے موقع پر لاہور کے ایک بڑے چرچ میں خودکش حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے‘ یہ حملہ نورین لغاری نے کرنا تھا‘ یہ جیکٹ پہن کر چرچ جاتی اور درجنوں بے گناہوں کو اپنے ساتھ وادی موت میں لے جاتی لیکن اللہ تعالیٰ نے کرم کیا اور یہ بروقت گرفتار ہو گئی‘ اس کا ایک ساتھی علی طارق پولیس کی گولی کا نشانہ بن گیا جب کہ دوسرا ساتھی گرفتار ہو گیا‘ پولیس نے ان سے دو خود کش جیکٹس اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد کر لیا۔

یہ خبر جب عام ہوئی تو لیاقت میڈیکل یونیورسٹی میں سراسیمگی پھیل گئی اور یونیورسٹی انتظامیہ لرز گئی‘ ان کی پریشانی بجا تھی‘ میڈیکل کے طالب علم عام اسٹوڈنٹ نہیں ہوتے‘ یہ ذہین اور محنتی بھی ہوتے ہیں اور لبرل بھی اور یہ مخلوط نظام تعلیم میں تعلیم بھی حاصل کرتے ہیں چنانچہ کسی میڈیکل کے طالب علم کا اچانک مذہبی ہونا اور داعش میں شامل ہو کر چرچ کو اڑانے کی سازش کرنا معمولی بات نہیں تھی‘ انتظامیہ کو پریشان ہونا چاہیے تھا لیکن ریاست کو لیاقت میڈیکل یونیورسٹی کی انتظامیہ سے زیادہ پریشان اور محتاط ہونا چاہیے‘ کیوں؟ کیونکہ یہ اس نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں‘ ملک کے درجنوں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان اب تک دہشت گردی میں ملوث پائے جا چکے ہیں‘ مرحوم گورنر سلمان تاثیر کے صاحبزادے شہباز تاثیر کو 26 اگست 2011ء کو لاہورمیں حسین چوک گلبرگ سے اغواء کر لیا گیا تھا‘ یہ ساڑھے چارسال اغواء کاروں کی حراست میں رہے۔

شہباز تاثیر کو پانچ نوجوانوں کے گروپ نے اغواء کیا تھا‘ گروپ کے سربراہ کا نام عثمان تھا اور یہ انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور کا طالب علم تھا‘ 13مئی 2015ء کو صفورا گوٹھ کراچی میں اسماعیلی کمیونٹی کی بس پر حملہ ہوا‘چھ نوجوان بس کے اندر داخل ہوئے اور اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی‘ 45 لوگ ہلاک ہو گئے‘ اس حملے کا ماسٹر مائینڈ سعد عزیز تھا‘ یہ نوجوان بھی پاکستان کے معتبر اور لبرل تعلیمی ادارے آئی بی اے کا گریجویٹ تھا جب کہ اس نے بیکن ہاؤس سے ابتدائی تعلیم حاصل کر رکھی تھی‘ یہ نوجوان ملک کی مشہور سماجی کارکن سبین محمود کا قاتل بھی تھا‘ صفورا گوٹھ کے دوسرے مجرم محمد اظفر عشرت نے سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی سے ڈگری لے رکھی تھی‘ وہ 2011ء سے دہشت گردی کی وارداتیں کر رہا تھا اور تیسرے مجرم حافظ ناصر عرف یاسر نے کراچی یونیورسٹی سے ایم اے کیا ہوا تھا‘ وہ بھی 2013ء سے دہشت گردی کی وارداتیں کر رہا تھا‘ آپ کو یاد ہو گا جنید جمشید کو 26 مارچ 2016ء کو اسلام ائیر پورٹ پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

ان کے خلاف قتل کے فتوے بھی جاری کیے گئے‘ ان فتوؤں کے محرک بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ تھے اور ان پر حملے میں بھی یونیورسٹیوں کے نوجوان ملوث تھے‘ آپ کو یہ بھی یاد ہو گایکم مارچ 2016ء کو ائیر پورٹ پر درجنوں مسافروں نے سینیٹر پرویز رشید کو گھیر لیا تھا‘ پرویز رشید پر تشدد کی کوشش بھی کی گئی اور انھیں جوتا بھی مارا گیا‘ آپ اس ویڈیو کی گالیاں سن لیں تو آپ کانوں کو ہاتھ لگانے پر مجبور ہو جائیں گے‘ وہ لوگ بھی پڑھے لکھے‘ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور خوش حال تھے‘یہ تمام واقعات جسمانی تشدد کے ثبوت ہیں‘ آپ اب دیگر ثبوت بھی ملاحظہ کیجیے‘ آپ کسی دن سوشل میڈیا کا سائنسی تجزیہ کر لیں‘ آپ پڑھے لکھے اور اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کے ’’ٹرینڈ‘‘ دیکھ کر لرز جائیں گے‘ آپ کو وہاں معاشرے سے سو گنا زیادہ فرقہ واریت اور انتہا پسندی ملے گی‘آپ کسی دن ملک میں ایکسیڈنٹس کی شرح بھی نکال کر دیکھ لیں‘ آپ جیلوں میں محبوس سزائے موت کے قیدیوں کی تعداد بھی دیکھ لیجیے‘ آپ قتل وغارت گری‘ بلوے اور لڑائی جھگڑوں کی تعدادبھی دیکھ لیجیے آپ بلڈ پریشر کے مریضوں کا ڈیٹا بھی دیکھ لیجیے (ملک کے 54فیصد شہری بلڈ پریشر میں مبتلا ہیں) آپ عدالتوں میں مقدمات کی تعداد بھی دیکھ لیجیے۔

آپ بے روزگاری کی شرح بھی نکال لیجیے اور آپ خودکشیوں کی تعداد بھی پڑھ لیجیے آپ کو ملک ہر منفی شعبے میں دنیا میں پہلے نمبر پر ملے گا‘ یہ حقائق کیا ثابت کرتے ہیں‘ یہ حقائق ثابت کرتے ہیں ہمارا معاشرہ انتہا پسندی کی انتہا کو چھو رہا ہے اور یہ انتہا پسندی اب معاشرے سے ہو کر یونیورسٹیوں‘ میڈیکل کالجز اور انجینئرنگ یونیورسٹیوں تک پہنچ رہی ہے اور انتہاپسندی جب اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پہنچ جائے تو آپ نتائج کا اندازہ خود لگا لیجیے‘ اس کا نتیجہ یقینا وہی نکلے گا جو 13 اپریل کو مردان یونیورسٹی میں نکلا‘ تین چار ہزار طالب علموں نے شعبہ صحافت کے طالب علم مشال خان کو توہین رسالت کے شک میں سرعام قتل کر دیا اور اس کی لاش کی بے حرمتی کرتے رہے‘ مارنے والے بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے اور مرنے والا بھی اور اب تحقیقات سے بات کھل رہی ہے یونیورسٹی کے اساتذہ اور انتظامیہ اس قتل میں ملوث تھی‘ مشال خان نے خیبر ٹی وی کو ایک انٹرویو دیا تھا جس میں اس نے انتظامیہ کی بے حسی اور غلط کارروائیوں کی نشاندہی کی تھی‘ انتظامیہ نے بدلہ لینے کے لیے اس پر توہین رسالت کا الزام لگایا‘ طلباء کو تحریک دی اور وہ طالب علم جو شاید نماز بھی نہ پڑھتے ہوں وہ مشال خان پر پل پڑے اور اسے سرعام قتل کر کے اس کی لاش کو ٹھڈے مارتے رہے‘ یہ لاش کو جلانے کی کوشش بھی کر رہے تھے۔

یہ واقعہ ہو یا پھر جنید جمشید سے لے کر شہباز تاثیر کے اغواء تک کے واقعات ہوں یہ تمام واقعات ثابت کرتے ہیں ہم انتہا پسندی کے مرض کا شکار ہو چکے ہیں اور انتہا پسندی ایک ایسی بیماری ہے جسے اپنے اظہار کے لیے مذہب‘ حب الوطنی اور قبائلی عصبیت کی ضرورت ہوتی ہے‘ یہ ہمیشہ مذہب اور فرقے کی آڑ میں بیٹھ کر یا ’’میں سچا پاکستانی ہوں‘‘ کا بہانہ بنا کر یا پھر’’ہم سردار ابن سردار ابن سردار ہیں‘‘ کی دیوار کے پیچھے چھپ کر وار کرتی ہے اور ہمارے ملک میں انتہا پسندی کے یہ تینوں عارضے موجود ہیں‘ ہمارے ملک میں 70 سال بعد بھی مہاجر ہیں اور یہ آج بھی ’’ہم نے پاکستان بنایا تھا‘‘ کے دعویدار ہیں‘ سندھ گیس کی پائپ لائن بند کرنے کی دھمکی دے رہا ہے‘ کے پی کے کا وزیراعلیٰ لشکر لے کروفاقی دارالحکومت پر چڑھ دوڑتا ہے‘ پنجاب کا وزیراعلیٰ صدر زرداری کو بھاٹی چوک میں الٹا لٹکانے اور سڑکوں پر گھسیٹنے کا اعلان کر دیتا ہے اور بلوچستان میں بلوچ علیحدگی پسند قائداعظم کی رہائش گاہ کو آگ لگا دیتے ہیں‘ پاکستان کا شیعہ ‘شیعہ پہلے اور پاکستانی بعد میں ہوتا ہے اور سنی‘ سنی اول اور پاکستانی آخر میں ہوتا ہے۔
یونیورسٹیوں میں مذہبی اور فرقہ وارانہ جماعتیں بھی موجود ہیں اور نسلی اور لسانی بھی‘ ملک میں 13 قسم کی مسجدیں اور چھ قسم کی امام بارگاہیں ہیں‘ دنیا کے کسی کونے میں کوئی دہشت گرد تنظیم بن جائے وہ سال چھ ماہ میں پاکستان میں اپنی برانچ کھول لیتی ہے‘ لوگ اللہ‘ رسولؐ اور صحابہ کرامؓ کا نام لے کر دوسروں پر حملہ کر دیتے ہیں‘ ملک میں درود پڑھنے‘ تلاوت اور نعت خوانی کرنے‘ نماز میں اونچی آواز میں آمین کہنے اور صوفیاء کرام کے عرس منانے پر دنگے ہو جاتے ہیں اور ملک میں پگڑیوں اور ٹوپیوں کے رنگ‘ سائز اور ساخت لڑائی کی وجہ بن جاتے ہیں‘ ہم انتہا پسندی کی اس سطح تک پہنچ گئے ہیں جہاں ہم نے صحابہ کرامؓ بھی تقسیم کر لیے ہیں‘ ہم نے اولیاء کرام کے جملہ حقوق بھی لے لیے ہیں اور ہم نے برادر اسلامی ملک بھی آپس میں تقسیم کر لیے ہیں‘ سعودی عرب وہابیوں کا ہے‘ ایران اہل تشیع کا ہے۔
افغانستان پختونوں کا ہے اور بھارت بریلویوں کا ہے اور بات ختم‘ کیا ہم اس رویئے کے ساتھ یہ ریاست چلا سکیں گے؟ کیا ہم اس انتہا پسندی کے ساتھ پرامن زندگی گزار سکیں گے اور کیا ہم ان ننگی اور کچلی لاشوں کے ساتھ اپنا ذہنی توازن درست رکھ سکیں گے؟ نہیں‘ ہرگز نہیں لہٰذا فیصلے کا وقت آ گیا ہے‘ ہمیں اب اس انتہا پسندی سے نبٹنا ہوگا‘ ہمیں اب اس کا کوئی مستقل حل نکالنا ہوگا ورنہ کوئی بھی شخص اٹھے گا‘ اللہ رسول کا نام لے گا اور آدھے شہر میں لاشیں بچھا دے گا اور کوئی بھی گروپ خود کو مومن اور دوسروں کو کافر قرار دے کر عبادت گاہوں کو آگ لگا دے گا‘ ہمیں ماننا ہو گا ہمارا اصل دشمن انتہا پسندی ہے‘ ہم جب تک اس کا مقابلہ نہیں کریں گے‘ ہم اس وقت تک دہشت گردی کی جنگ جیت سکیں گے اور نہ ہی ملک میں امن قائم کر سکیں گے اورآپ انتہا پسندی سے نبٹنے کا آغاز مشال خان کیس سے کریں‘ آپ اس کے قاتلوں کو عبرت کا نشان بنا دیں‘ آپ کو اگلے دن سے ملک میں تبدیلی نظر آ جائے گی‘ آپ کر کے دیکھ لیجیے ۔

جاوید چوہدری

جاوید چوہدری پیشے کے لحاظ سے شعبہ صحافت سے منسلک ہیں، ان کے سب سے قابل ذکر کالم ’’ زیرو پوائنٹ ‘‘ خاص طور پر پاکستان کے عوام یوتھ اور پاکستان کے مسلمانوں پر بہت بڑا اثر ہے

2 thoughts on “فیصلے کا وقت آگیا ہے – جاوید چوہدری”

  1. Eh Tariq says:

    Nice lakin agar him bilkul hi thanday ho gay to phir har kam Ni tarha bahis ho jayn gay intha pasandi problum Ni ha problem sahour ka na hona ha sirf taleem kisi muashray ko Ni banati sahaour bhi a lazmi hisa ha

  2. محمد ذوالقرنین says:

    تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ اعلیٰ تعلیم سے منسلک طلباء کا اتنا مصروف طبقہ اس حد تک پہنچا کیسے؟ جواب یہ ہے کہ اگر ملک کے اندر بنائے گئے قوانین پر عمل ہو تو کوئی قانون کو ہاتھ میں نہ لے۔۔۔ پاکستان جس نام پہ بنا تھا اگر اس مقصد کو پورا کر دیں تو یہ حال نہ ہو۔۔۔ اگر طلباء کو روزگار کے مواقع ملیں اور حکمرانوں کو بھی انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے تو کیوں کوئی طالب علم دہشت گرد بنے؟؟ جب لاہور میں عیسائی کیمیونٹی محض شک کی بنیاد پہ دو مسلمانوں کو قتل کر کے لاش کی بے حرمتی کرے اور پھر جلا دے اور ریاست ایک سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود مقتولین کے ورثاء کو انصاف بہم نہ پہنچائے تو کیا ورثاء سکون سے بیٹھ جائیں گے؟؟ ہمیں ہر جگہ مذہبی فرقہ واریت نظر آتی ہے لیکن ہمیں فرقہ واریت میں الجھنے کی وجہ نظر نہیں آتی۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top