احسان اللہ احسان کا انٹرویو اور میرا نکتۂ نظر

article-35.jpg

احسان اللہ احسان کا جیو نیوز کے سلیم صافی کو دیا گیا انٹرویو جو آج رات 11 بجے نشر ہونا تھا، اب پیمرا کی پابندی کی نذر ہوچکا ہے، پیمرا نے سختی سے نوٹس جاری کیا ہے کہ ہزاروں پاکستانیوں کی جان لینے کی ذمہ داری قبول کرنے والے دہشتگرد کو کسی نیشنل ٹی وی پہ بلا کر کلین چٹ دینے یا اسے ہیرو بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، پیمرا کا فیصلہ یا آپ کی رائے اپنی جگہ درست، لیکن اس حوالے سے میرا مختصر نکتۂ نظر یہ ہے کہ اب تک جو قتلِ عام ہوچکا، ہزاروں پاکستانی اس بیرونی جنگ کے نذر ہوگئے، جن کی ذمہ داریاں احسان لیتا رہا، یا فضل اللہ و دیگر کے کہنے پر وہ لیتا رہا، اس تمام نقصان کی واپسی یا ازالہ ممکن نہیں، احسان اللہ کو پھانسی دینے کی باتیں کرنے والے دوست ایک لمحے کو سوچ لیں کہ قبل اس کے کہ اب تک اس جنگ میں 70 ہزار پاکستانیوں کا جانی نقصان کہیں 140 کو پہنچ جائے، احسان اللہ جیسے دیگر ان جنگجوؤں کیلئے عام معافی کا اعلان اور ان سے لی گئی معلومات سے دیگر ریاست مخالفت عسکریت پسندوں تک پہنچا جائے، جو ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوجائیں، اور بطورِ سفیر باغیوں کیلئے کام کرتے رہے ہوں، تو بغاوت سے تائب ہونے والے کو بجائے معاشرے کا کارآمد فرد بنانے کے قتل کردینا شاید اتنا فائدہ مند نہیں رہے گا، اصل فائدہ یہ ہے کہ احسان اللہ احسان کے انکشافات کی روشنی میں پاکستان میں بیرونی ممالک کی پراکسی وار کا سدباب کیا جائے، اگر یہ کہا جائے کہ واحد حل سزائے موت ہے تو پھر میرا سوال ہے کہ کیا ہزاروں پاکستانیوں کے بدلے ایک احسان اللہ کو پھانسی دینے سے حساب برابر ہوجائے گا؟

دیکھئے صاحبان! احسان اللہ احسان کوئی ہمدرد، فین کلب کا ممبر یا عام طالبان حمایتی نہیں، بلکہ ٹی ٹی پی کے تمام تر دھڑوں اور اہم رازوں سمیت ان تحریکات کے نشیب وفراز سے واقف ہے، نو سال تک جہاں رہا، جن کیساتھ رہا، ان کی نس نس سے واقفیت رکھتا ہے، احسان اللہ احسان کی معلومات تمام نیٹ ورک کے قلع قمع اور عالمی سطح پر اس پراکسی وار کو پچھاڑنے میں مدد فراہم کرسکتی ہیں، جبکہ یہ بھی امکان یہ بھی ہے کہ احسان اللہ احسان براہِ راست بدستِ خود کسی قتل میں ملوث نہ بھی ہو، اس لئے اگر بلوچ علیحدگی پسندوں کی واپسی کو خوش آمدید کہا جاسکتا ہے تو وزیرستان اور قبائل سے بھی بغاوت ترک کرکے واپس آنے والوں کو خوش آمدید کہا جانا چاہیئے، شاید یہی رستہ اور سبب بن جائے کہ دیگر مبہم اور کنفیوژڈ جنگجو اور باغی جو ایسی دہشتگردانہ کارروائیوں ميں ملوث ہیں، بھی کیلئے بھی واپسی کا راستہ کھلا ہو۔

احسان اللہ احسان نے واپسی کی جانب طبیعت مائل کرنے والے محرک کے متعلق بتایا کہ طالبان کی ایک کارروائی جس میں اس کے عزیز و اقارب اور ایک دوست بھی شہید ہوا، کے بعد احسان اللہ ذہنی طور پر ٹی ٹی پی اور اس کے طریق کار سے متنفر ہوا، جس کا واضح مطلب اور نتیجہ یہ ہے کہ جب خود کو درد ملتا ہے تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ تکلیف کیا ہے؟ یقیناً احسان اللہ احسان اور اس جیسے دیگر ہتھیار ڈالنے والے یا آئندہ ڈالنے کے خواہاں لوگ ضرور سوچتے ہونگے کہ ان کے ہاتھوں شہید ہونے والے ہزاروں پاکستانیوں کے ورثاء کس کرب اور اذیت سے گزرے ہونگے، بہرکیف آخری راستہ یہی ہے کہ اب جانبین مذاکرات کی میز پر آ بیٹھیں، کچھ برداشت یہاں سے، اور کچھ وہاں سے سمجھوتہ ہو تو ممکن ہے کہ دہشتگردی کی گرتی دیوار کو آخری دھکا دے ہی دیا جائے۔

باقی جو احباب سمجھتے ہیں کہ سزائے موت دینا ہی آخری حل ہے، یا اس سے ازالہ ہوجائے گا میں ان کی اس رائے سے قطعی اتفاق نہیں رکھتا، کیونکہ احسان اللہ احسان کہ جب دشمن تھا، باغی تھا تو ہم اس کی لی ہوئی ذمہ داری پہ یقین کرلیتے تھے، اسی کو سچ سمجھ لیتے تھے، آج وہی احسان اللہ اس تمام قضیئے سے بیزار ہو کر سچ اگل رہا ہے تو ہمیں اس پہ بھی سوچنا چاہیئے کہ ذمہ داری لینے والا اب اصل ذمہ داروں کی نشاندہی کررہا ہے تو ہمیں یہ موقع جذبات کی نذر کرنے کے بجائے فائدہ اٹھانا چاہیئے ۔

(حرفِ اظہار۔۔۔۔از: محمد بلال خان)

انتطامیہ اُردو صفحہ

انتطامیہ اُردو صفحہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top