عورت کی جنسی طبیعت کا ازدواجی زندگی میں کردار

article-47.jpg

عورت کی جنسی ضرورت اور اس سے جڑے امور کو عورت ہی کی فطرت کے اعتبار سے دیکھا جانا ضروری ہے ، ہمارے ہاں ان معاملات میں سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ ہم اپنی ضرورت ، ترجیحات ، اور جنسی اعمال میں بنے بنائے ذہن سے آگے سوچنے کی کوشش شعوری طور پر کرتے ہی نہیں ہیں ،

کسی بھی شادی کا کچھ عرصے بعد ہی خطرناک نہج پر پہنچ جانا صرف معاشی حالات یا دکھائی دینے والے ظاہری واقعات کے سبب نہیں ہوتا ، پس پردہ سیکس سے جڑی ایسی ان کہی داستانیں ہوتی ہیں جو ظلم یا قصدا انجام دی گئیں بری باتوں سے زیادہ محض دوطرفہ یا یکطرفہ حماقت آمیز تصورات کی دین ہوتی ہیں ،

مردوں کے اپنے متعلق یا عورتوں کے مردوں متعلق ایسے معاملات میں معروف احمقانہ تھیوریز بارے ایک مفصل مضمون ” ازدواجی زندگی میں جنسی رویئے کی اہمیت ” کے نام سے لکھہ چکا ہوں جو میرے نام کے ساتھ لکھ کر گوگل کیا جاسکتا ہے
آج میں عورتوں کی جنسی طبیعت اور انکے متعلق مردوں اور خود عورتوں کی ان احمقانہ کم جاہلانہ نظریات کو پوائنٹ آوٹ کرنا چاہونگا جنکی وجہ سے اندر ہی اندر آہستہ آہستہ ازدواجی زندگیاں برباد ہوتی جارہی ہیں
نمبر ایک
عورتوں کے اپنے جسم اور جنسی اعضا متعلق غلط تصورات
جی ہاں یہ حماقت صرف مردوں میں ہی نہیں کہ وہ اپنے قد کاٹھ ، رنگ ، یا خصوصا” جنسی اعضا متعلق پریشان رہتے ہیں بلکہ یہ مصیبت عورتوں میں بھی بدرجہ اتم پائی جاتی ہے ، اگرچہ ایک ایسے دور میں جبکہ آئسکریم اور ٹوتھ پیسٹ سے لیکر کار اور بینک تک کے اشتہارات میں ماڈل گرل زیرو سائز کے ساتھ ناگزیر ضرورت خیال کی جاتی ہو ،ایک عام گھریلو عورت کا اپنے جسم اور جنسی اعضا متعلق غلط تصورات یا توہمات کا شکار ہوجانا کچھ اتنے بھی اچھنبے کی بات نہیں ،لیکن اسے اسقدر خود پر حاوی کرلینا کہ ہروقت اپنا موازنہ دوسروں سے کیا جاتا رہے نہایت خطرناک بات ہے
عموما عورتیں اپنی چھاتیوں کے سائز‘ شکل اور لچک کے بارے میں فکر مند رہتی ہیں ان کی شیپ ،سختی ،اور بچوں کی پیدائش کے بعد ان کی لچک ایسی باتیں ہیں جنھیں پہروں سوچتے رہنا خواتین کی لاشعوری عادت بن جاتی ہے، جس کی وجہ سے چڑ چڑا پن اور اکھڑے اکھڑے رہنا ان کا مزاج بن جاتا ہے ،ظاہر ہے ایک ایسی عورت جو خود سے ناخوش ہو کسی کو خوش کیوں کر رکھہ سکتی ہے ؟ چھاتیوں کے چھوٹے سائز متعلق احمقانہ احساس کمتری جدید عورت کا سب سے بڑا کمپلیکس ہے ،
انہیں سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جیسے تمام مرد رنگ الگ الگ پسند کرتے ہیں ،اور مزاج کے اعتبار سے کھانا یا پھر ہابیز مختلف رکھتے ہیں ویسے ہی عورت کے خدوخال متعلق بھی ان میں سے ہر ایک کی پسند کا الگ الگ پیمانہ ہوتا ہے ، کسی نسبتا بھرے جسم کی مالک لڑکی کا یہ خیال نہایت درجے کا لغو قرار دیا جاسکتا ہے کہ تمام مرد پتلا دبلا جسم ہی پسند کرتے ہیں ، یا بڑی چھاتیآں ہی ازدواجی زندگی میں مرد کی جنسی تصور کیلئے باعث تسکین ہوتی ہے ، یہ وہ پہلا اور بڑا احمقانہ غلط نظریہ ہے جسے خواتین کو اپنے ذہن سے کھرچ دینے کی ضرورت ہے ، جنسی تعلق کی کامیابی میں جسمانی نشیب و فراز کی اہمیت اپنی جگہ ایک مسلمہ حقیقت ہے لیکن انہیں مخصوص سائز کے پیمانوں میں قید رکھہ کر دیکھنا ایک سنگین مذاق سے زیادہ کچھ نہیں ،
اسی طرح عورتوں کا فرج (vulva) کی بناوٹ سے متعلق سوالات ماہرین جنسیات کیلئے نئی چیز نہیں ،اورطب کی ہر نکتہ نظر سے فُرج کی کسی بھی جسامت یا بناوٹ کو غیر معیاری نہیں کہا جاسکتا کیوں کہ ہر عورت مختلف ہوتی ہے۔ جب تک کسی کو کوئی جسمانی مسئلہ درپیش نہ ہوتو فُرج کی بناوٹ کو خلافِ معمول تصور کیا جانا جدید دور کی پرانی جہالت سے زیادہ کچھ نہیں
نمبر دو
جنسی کارکردگی متعلق پریشانی
جی ہاں یہ مصیبت بھی صرف مردوں کا خاصہ نہیں کہ وہ اپنی جنسی کارکردگی کو لیکر مختلف توہمات کا شکار ہیں بلکہ عورتیں بھی اس بات کو سوچتی ہیں ،
جنسی کارکردگی کا خیال جب حاوی ہوجائے تو انسان وہ مسافر بن جاتا ہے جو سفر کا لطف لینے کے بجائے منزل کے بارے میں ہی متفکر رہ کر اپنا بیڑہ غرق کرتا ہے ، جنسی کارکردگی میں خود یا اپنے ساتھی کیلئے لازما آرگزم کا حصول یا خود سے پہلے ساتھ کیلئے آرگزم کی شعوری کوشش جنسی عمل کے لطف کو مشینی تاثر میں تبدیل کردیتی ہے ، اور بغیر لطف کے جنسی عمل وہ زہر قاتل ہے جو اچھی خاصی ازدواجی زندگی کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ،
جنسی کارکردگی میں خود کو بہتر ثابت کرنے کی کوشش بعض اوقات اسقدر عورت میں گھر کر جاتی ہے کہ وہ ” نہ ” کا لفظ ہی بھول جاتی ہے جسکی وجہ سے اکثر مرد یہ سمجھتے ہیں کہ عورت میں جنسی خواہشات مرد کی نسبت زیادہ ھوتی ہیں اور وہ تقریبا ہر وقت مباشرت کے لیے تیار رہتی ہے حالانکہ حقیقت کا اس لغو خیال سے دور کا بھی کوئی واسطہ نہیں ، درحقیقت عورت صرف جنسی کارکردگی کی وجہ سے شوہر کی نظروں میں بے قدر ہونے کا خوف اسقدر پال لیتی ہے کہ خواہش نہ ہونے کے باوجود ایسے ری ایکٹ کرتی ہے گویا وہ آپ کے جانب سے اشارے کی منتظر تھی ، عورت کا جنسی کارکردگی کے حوالے سے یہ احمقانہ نظریہ اسکے لئے نفسیاتی پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے اور یہی وہ چیز ہے جو بلا آخر اپنا کام کرکے رہتی ہے

دوسری قسط کل ان شاء اللہ

سکندرحیات بابا

انتطامیہ اُردو صفحہ

انتطامیہ اُردو صفحہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top