اینٹی کلاک وائز۔۔۔۔۔۔!!! از گُلِ نوخیز اختر ۔۔

article-44.jpg

سارا چکرہی الٹا چل پڑا ہے۔ شہر کے بڑے بڑے شاپنگ مالز میں خالص چکی کا آٹا، خالص مکھن، خالص دیسی گھی، خالص دیسی انڈے اور خالص دودھ کے بورڈ آویزاں ہو گئے ہیں۔ ایک دورتھا جب یہ چیزیں صرف خالص گاؤں میں ہی ملا کرتی تھیں، لیکن گاؤں والے آہستہ آہستہ شہری ہوتے جا رہے ہیں۔ اب آپ کوگاؤں میں بھی ڈبل روٹی ،کافی، چائے اور کولڈ ڈرنکس آسانی سے مل جاتے ہیں۔ گاؤں کی چھوٹی سی دکان پرکوئی بابا فضلو بھی شہری چپس کے پیکٹ اور چاکلیٹ والے بسکٹ رکھے بیٹھا ہوتا ہے۔ اب گاؤں میں کوکنگ آئل استعمال ہوتا ہے اورشہروالے دیسی گھی کے شیدائی ہوتے جاتے ہیں۔ اگلے وقتوں میں زیادہ کھانے والے کو پینڈو کہا جاتا تھا، آج کل یہ شہری ہونے کی علامت ہے۔ چارچارمنزلہ ٹاوربرگرعام ملتے ہیں، جنہیں دیکھتے ہی میرے جیسے بندے کے ذہن میں پہلا خیال یہی ابھرتا ہے کہ اسے ‘چک’ کیسے مارا جائے۔اب شہری لڑکے لڑکیاں کھانے کےذکر پر پُرجوش ہوجاتے ہیں، جوجتنا پیٹو ہےاتنا ہی ماڈرن ہے۔

لباس نے بھی الٹا چکرکھایا ہے، پہلے گاؤں میں لوگ پتلی سی دھوتی پہنتے تھے، آج کل شہروں میں شارٹس کا رواج چل پڑا ہے۔ اگر آپ کو شاپنگ مال میں کوئی صاحب تقریباً گھنٹوں تک شارٹس پہنےاوپر بیزار سی ٹی شرٹ’ پاؤں میں قینچی چپل اور ہاتھ میں جوس کا پیکٹ پکڑے نظر آئیں گے تو آپ کا فرض ہےکہ آپ فوراً انہیں دولت مند تسلیم کریں۔ پہلے شہر کے لوگ کوٹ پینٹ پہننا پسند کرتے تھے، اب گاؤں کی شادیوں میں آپ کو 5 سال کا بچہ بھی چمکدارکوٹ پینٹ پہننے ‘بےبے’ کی گود میں اٹکا نظر آتاہے۔ اب وہ گاؤں نہیں رہے جہاں پینٹ پہنے بندے کو دیکھ کر کتے پیچھے پڑجایا کرتے تھے، جینز کلچرگاؤں میں بھی قدم جما چکا ہے، اب گاؤں کے لڑکے بھی جینز پہننے ہیں اور شہری بننے کے چکرمیں چھ چھ مہینے پینٹ نہیں دھلواتے!!!

گاؤں کی ایک نشانی وہاں کے لڑکے بالوں کی ‘ڈیک’ میں بے پناہ دلچسپی بھی ہوا کرتی تھی۔ ایک دوسرے سے حسد کی بنیادی وجہ یہ ہوا کرتی تھی کے فلاں کے پاس تین ٹیوٹر والا سپیکر ہے اور فلاں نے جہازی سائز کا ڈیک لیا ہے۔ اب اس کی جگہ موبائل نے لے لی ہے، جتنے سماڑٹ فون گاؤں والوں کے پاس ہوتےہیں اتنے تو شاید کمپنی بناتی بھی نہیں۔ جب سے کیبل نے گاؤں کا رخ کیا ہے وہاں کی خواتین بھی ‘دیسی سوپ’ سے نکل کر ‘سوپ سیریل’ سے متعارف ہو گئی ہیں۔ پہلے گاؤں سے لوگ مٹکے اٹھاکرکنویں سےپانی لینے جاتے تھے اب شہر کے لوگ 19 لیٹر کی بوتلیں بھروانے جاتے ہیں۔ گاؤں کی سڑکیں اور مکان پکے ہوگئے ہیں اور شہر والے خوشی خوشی پلان بناتے ہیں کہ اس بار کسی گاؤں کی سیر کو چلتے ہیں۔ شہروں میں مکی اورساگ کی روٹی بھی کمرشل بنیادوں پر دستیاب ہے۔ کئی شہروں میں دیہاتی طرز کے ماڈرن ہوٹل بھی وجود میں آ چکے ہیں جبکہ گاؤں والوں پر شہری ہونے کا جنون سوار ہے، قتلمے کی جگہ پیزے نے لے لی ہے گاؤں والے بھی فیس بک پرآ گئے ہیں۔ شہری مائیں اپنے بچوں کو کاٹ کھانے کو دوڑتی ہے کہ ‘مرو کدی تے فیس بک دا كھیڑا چھڈ دیا کرو’۔۔۔۔ اور گاؤں میں مائیں فخر سے بتا رہی ہوتی ہیں کہ ‘رشید نوں اسٹیٹس اپ ڈیٹ کرنا آ گیا اے’۔۔۔۔!!
شہری لوگ کھلے دالان کو ترس رہے ہیں، فارم ہاوس بنانے کے شوقین ہیں اورگاؤں والے زمينیں بیچ بیچ کرہاؤسنگ سوسائٹیوں میں بدل رہے ہیں۔ شہر والے اپنے 5 مرلے کے مکانوں کے باہر چھ چھ فٹ کے لان میں پودے لگاتے پھرتے ہیں اورگاؤں والے شیشم کے سایہ دار درخت کی محبت کو چھوڑکرلینٹروالے گھروں پر فدا ہو رہے ہیں۔ پہیہ واقع ہی گھوم گیا ہے ۔۔۔ گاؤں والے بچے کو انگریزی سکھانے کے در پے ہیں اور شہروالے اردو کی ٹویشن ڈھونڈتے پھررہے ہیں۔ شہر والوں کے بچے کاروباری بن رہے ہیں اور گاؤں سے انجینئرزاورڈاکٹرز کی لاٹ پہ لاٹ آتی جا رہی ہے۔

گاؤں میں کھیل کے انداز بھی بدل گئے ہیں، وہ دور گیا جب دیہاتی لوگ کیڑی کاڑ اوربارہ ٹہنی کھیلا کرتے تھے اب تو گاؤں کے گلی کوچوں میں سنوکراوربلیئرڈ کی ٹیبلیں بھی جابجا نظر آتی ہیں اور پیسے لگا کر گیم کھیلی جاتی ہے،يوں یہ خالصتاً ایلیٹ کلاس کا کھیل بھی جوئے کی نظر ہو گیاہے۔ اب گاؤں میں باسکٹ بال بھی بہت کم کھیلی جاتی ہے فٹ بال کے پلیئر بھی زیادہ تر وہی نظر آتے ہیں جو موبائل پر فٹ بال کھیلنے کے چیمپئن ہیں، وہ گاؤں جو شام سات بجے نیند کی گہری آغوش میں چلا جایا کرتا تھا وہاں بھی اب رات کے بارہ ایک بجے تک جاگنا معمول بنتا جا رہا ہے۔ اب گاؤں کی لڑکیاں بھی فیشن سےواقف ہیں، اب گاؤں میں تھریڈنگ،ویکسنگ ،پیڈی کیوراور مینی کیورکی سہولت دستیاب ہے۔ گاؤں کی لڑکیوں کی اکثریت گاؤں میں شادی کے لئے تیار نہیں، انہیں بھی گھر بسانے کے لئے شہری ماحول درکار ہے۔ شہری لوگ دیسی نسخوں کے قائل نظر آتے ہیں اور گاؤں والے مہنگے ڈاکٹر کے۔ ہائی بلڈ پریشر، شوگر، ڈپریشن، ٹینشن اورہارٹ پرابلمزاب گاؤں والوں کی زندگی کا بھی حصہ بنتی جا رہی ہیں، مچھراب دیہاتیوں کو نہیں شہريوں کو کاٹنے لگا ہے۔ گاؤں والے شیمپواور شہر والے سرسوں کا تیل پسند کرنے لگے ہیں۔
پس ثابت ہوا کے خالص پن ابھی ختم نہیں ہوا صرف اِدھر سے اُدھر منتقل ہو گیا ہے، شہراور گاؤں والے دونوں ہی اپنی زندگی کی یکسانیت سےاکتا گئے ہیں تاہم گاؤں والے شہری بن سکتے ہیں، شہر والے مزید شہری بننے سے پرہیز کرنے لگے ہیں۔ نسلیں جوان ہو چکی ہیں اورجو نسل جس ماحول میں جوان ہوئی ہے اسی کی باغی ہوتی جا رہی ہے۔ میرے ایک عزیز دوست ابھی تک گاؤں میں رہتے ہیں کبھی کبھار ان کے پاس جانا ہوتا ہے تو یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ شہروں سے نکالے ہوئے ونڈواے سی’ گاؤں میں لگ چکے ہیں۔ اب گاؤں والوں کو بھی گرمی لگتی ہے وہ بھی سخت گرمی میں اے سی کے مزے لوٹتے ہیں۔ پہلے گاؤں میں کمی كمين ہوتے تھے (مجھے اس لفظ سے شدید نفرت ہے) لیکن اب ہر کوئی چودھری ہے۔ اب فصل کی کٹائی کے لئے پورا گاؤں نہیں امڈ آتا، مزدوری کرنے والے شہر کو سدھارے ہیں۔
پہیہ کیا گھوما ہر چیز گھوم گئی۔ ٹینڈ کروانا صرف دیہاتیوں کے نصیب میں ہوا کرتا تھا، اب امیر گھرانوں کے شہری لڑکے بھی ٹینڈ کے شوقین ہو گئے ہیں۔ گاؤں کے جن گھروں میں آٹا پیسنے والی چکی موجود ہے اس کا مقدر گھر کا کوئی بے کارسا کونا بن چکا ہے۔ اب لسی چاٹی میں ڈال کر مدھانی سے نہیں ‘رڑکی’ جاتی بلکہ اس کام کے لئے گرائنڈر کی خدمت حاصل کی جاتی ہیں۔ہانڈی کی جگہ پریشرککر نے لے لی ہے۔ اب گاؤں میں کوئی پرانی مائی سیویاں نہیں ‘وٹتی’۔ جسم پر چوٹ لگ جانے کی صورت میں دودھ میں ہلدی ڈال کر کوئی نہیں پیتا۔۔۔۔ میڈیکل سٹور پر جاتے ہیں پین کلر لیتے ہیں اور سو جاتے ہیں۔ اب گاؤں والوں کو بھی موبائل کا پیکج لگانا آ گیا ہے۔۔۔۔ دیسی مرغی اب شائد گاؤں والے بھی نہیں کھاتے، جگہ جگہ برائلر چکن کی دکانیں ہیں۔ ۔۔۔ شہر زہربنتے جا رہے ہیں اور گاؤں شہر۔۔۔۔ اینٹی کلاک وائز۔۔۔۔۔۔!!!

گل نوخیز اختر

گل نوخیز اخترایک پاکستانی کالم نگار اور مصنف ہیں انہوں نے مختلف ٹی وی شو کے لئے کام کیا ہے،

One thought on “اینٹی کلاک وائز۔۔۔۔۔۔!!! از گُلِ نوخیز اختر ۔۔”

  1. Ayaz Mehmood says:

    کمال کردیاآپ نے۔ایک لاجواب، لازوال اور حقیقت کی عکاسی کرتی ہوئی جاندار تحریر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top