ایڈولف ہٹلر(1945ء 1889ء)

article-48.jpg

ایڈولف ہٹلر آسڑیا کے شہر براؤنا میں 1889ء میں پیدا ہوا۔ نوجوانی میں اس نے عملی زندگی کا آغاز ایک ناکامیاب مصور کی حیثیت سے کیا۔

میں اعتراف کرتا ہوں کہ میں نے شدید نفرت کے احساس کے ساتھ ایڈولف ہٹلر کو اس فہرست میں شامل کیا ہے۔ اس کے اثرات انتہائی مصنرت رساں تھے۔ مجھے ایسے شخص کو عزت دینے کی چنداں کوئی خواہش نہیں ہے جس کی اصل شناحت قریب پینتیس ملین افراد کی موت کا واقعہ ہے ۔ تاہم اس حقیقت سے بھی مفرممکن نہیں کہ ہٹلر نے لوگوں کی ایک تعداد کی زندگیوں پر گہرے اثرات مرتب کیے۔
ایڈولف ہٹلر آسڑیا کے شہر براؤنا میں 1889ء میں پیدا ہوا ۔ نوجوانی میں اس نے عملی زندگی کا آغاز ایک ناکامیاب مصور کی حیثیت سے کیا۔ بعدازاں وہ ایک پر خوش جرمن قومیت پسند بن گیا۔ جنگ عظیم اول میں وہ جرمن فوج میں بھرتی ہوا زخمی ہوا اور اسے شجاعت کے مطاہرے پر میڈل ملے۔
جرمنی کی شکست نے اسے صدمہ پہنچایا اور برہم کیا۔ 1919ء میں جب وہ تیس برس کا تھا وہ میونخ میں ایک مختصر دائیں بازوں کی جماعت میں شامل ہوا جس نے جلدی ہی اپنا نام بدل کر نیشنل سو شلسٹ جرمن ور کزپارٹی (مختصرا،نازی، جماعت) رکھ لیا۔ اگلے دو برسوں میں وہ اس کا غیر متنازعہ قائد بن گیا۔
ہٹلر کی زیر قیادت نازی جماعت جلد ہی طاقت ور ہوگئی۔ نومبر 1923ء میں اس نے ایک انقلابی حملہ کیا جسے میونخ بیئرپال پش کا نا دیا ۔اس کی ناکامی کے بعد ہٹلر کو گرفتار کر لیا گیا۔ اس پر غداری کا مقدمہ چلا اور اسے سزا ہوئی۔ تاہم ایک سال سے بھی کم جیل کاٹنے کے بعد اسے رہا کردیا گیا۔
1928ء میں بھی نازی جماعت کا تجم مختصر ہی تھا ۔ تاہم عظیم کساد بازاری کے دور میں جرمن سیاسی جماعتوں کے خلاف عوام میں بے زاری کا احساس پیدا ہوا۔ اس صورت حال میں نازی جمارت نے اپنی بنیادیں مضبوط بنائیں۔ جنوری 1933ء میں چوالیس برس عمر میں ہٹلر جرمنی کا چانسلر بن گیا۔
چانسلر بننے پر اس نے تمام مخالف جماعتوں کو حکومتی ڈھانچہ کے حق میں استعمال کرکے زائل کردیا اور آمربن بیٹھا۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ سب کچھ عوامی آزادی اور دیوانی قوانین کی بتدریج شکست ور یخت کے بعد ہوا ۔ بس سب کچھ شتابی کے ساتھ کیا گیا۔ نازیوں نے مقدمات کا تکلیف بھی ضروری نہیں سمجھا۔ بیشتر سیاسی حریفوں کو زدو کوب کیا گیا بعض کومار دیا گیا۔ تاہم جنگ سے پہلے چند سالوں میں اس کے باوجود ہٹلر کو جرمنوں کی بڑی اکثریت کی جماعت حاصل رہی کیونکہ اس نے بے روزگاری کاخاتمہ اور معاشی حوشحالی کو استوار کیا۔
پھر وہ فتوحات کی دوڑ میں شامل ہوگیا جو جنگ عظیم دوم کا سبب بنیں ۔ ابتدائی فتوحات اسے جنگ وغیرہ کے چکر میں پڑے بغیر حاصل ہوئیں۔ انگلستان اور فرانس اپنی معاشی بدحالی کے باعث مایوسانہ حد تک امن کے خواہاں تھے کہ انہوں نے ہٹلر کے کسی کام میں مداخلت نہیں کی۔ ہٹلر نے ور سیلز کا معاہدہ منسوخ کیا اور جرمن فوج کو ازسر نو منظم کیا۔ اس کے دستوں نے مارچ1936ء میں رہائن لینڈ پر قبضہ کیا مارچ1938ء میں آسٹریا کو جبری طور پر خود سے ملحق کر لیا۔ اس نے سوڈیٹن لینڈ کو بھی ستمبر 1938 ء میں اس سے الحاق پر رضامند کر لیا۔ یہ جیکو سلوواکیہ کا ایک بین الاقوامی معاہدے میونخ پیکٹ سے برطانیہ اور فرانس کوامید تھی کہ وہ دنیا میں امن قائم کرے گا لیکن چیکو سلوواکیہ بے یارومدد گار تھا۔ ہٹلر نے اگلے چند ماہ میں اس کا باقی ماندہ حصہ بھی غصب کرلیا۔ ہر حلے پر ہٹلر نے مکاری سے اپنے اقدامات کے جواز گھڑ لیے اور دھمکی بھی دی کہا اگر کسی نے مزاحم ہونے کی کوشش کی تو وہ جنگ کرے گا۔ ہر مرحلے پر مغربی جمہوریتوں نے پسپائی اختیار کی۔
انگلستان اور فرانس نے البتہ پولینڈ کے دفاع کا قصد کیا جو ہٹلر کا اگلا نشانہ تھا۔ ہٹلر نے اپنے دفاع کے لیے اگست1939ء میں سٹالن کے ساتھ عدم جارحیت کے معاہدے پر دستخط کیے دراصل یہ ایک جارحانہ اتحاد تھا ۔ جس میں دو آمر اس امر پر متفق ہوئے تھے کہ وہ پولینڈ کو کس شرح سے آپس میں تقسیم کریں گے۔ نودن بعد جرمنی نے پولینڈ پر حملہ کیا۔ اس کے سولہ روز بعد روس بھی حملے میں شامل ہوگیا اگرچہ انگلستان اور فرانس بھی اس جنگ میں کود پڑے لیکن پولینڈ کو شکست فاش ہوئی۔
1940ء میں ہٹلر کے لیے بہت اہم برس تھا۔ اپریل میں اس کی فوجوں نے ڈنمارک اور ناردے کو روند ڈالا۔ مئی میں انہوں نے ہالینڈ ،بلجیم اور لکسمبرگ کو تاخت وتاراج کیا۔ جون میں فرانس نے شکست کھائی۔ لیکن اسی برس برطانیہ نے جرمن ہوائی حملوں کا دلیری سے مقابلہ کیا۔ برطانیہ کی مشہور جنگ شروع ہوئی۔ ہٹلر کبھی انگلستان پر قابض ہونے میں کامیاب نہ ہوسکا۔
اپریل1941ء میں ہٹلر کی فوجوں نے یونان اور دیو گو سلادیہ پر قبضہ کیا۔ جوان 1941ء میں ہٹلر نے عدم جارحیت کے معاہدے کو تار تار کیا اور اس پر حملہ آور ہوا۔ اس کی فوجوں نے بڑے روسی علاقہ پر فتح حاصل کی۔ لیکن وہ موسم سوما سے پہلے روسی فوجوں کو نیست ونابود کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے ۔ اگرچہ وہ روس اور انگلستان سے برسر پیکار تھا ہٹلر نے دسمبر 1941ء میں امریکہ پر بھی حملہ کردیا۔ جبکہ تب کچھ عرصہ پہلے جاپان پرل ہاربر میں امریکی بحری چھاؤنی پر حملہ کر چکا تھا۔
1942ء کے وسط تک جرمنی یورپ کے ایک بڑے حصہ پر قابض ہوچکا تھا۔ تاریخ میں کسی قوم نے کبھی اتنی وسیع سلطنت پر حکمرانی نہیں کی تھی ۔ مزید برآں اس نے شمالی افریقہ کے بیشتر حصہ کو بھی فتح کیا۔1942ء کے دوسرے نصف میں جنگ کا رخ بدل گیا۔ جب جرمنی کو مصر میں ایل المین اور روس میں سٹالن گراڈکی جنگوں میں شکست ہز یمت اٹھانی پڑی۔ ان نقصانات کے بعد جرمن کی عسکری برتری کا زوال شروع ہوا۔ جرمنی کی حتمی شکست گواب ناگزیر معلوم ہورہی تھی لیکن ہٹلر نے دست بردار ہونے سے انکار کردیا ہولناک نقصانات کے باوجود سٹالن گراڈکی شکست کے بعد قریب دوبرس یہ جنگ جاری رہی 1945ء کے موسم بہار میں تلخ انجام وقوع پذیر ہوا۔ 30اپریل کو برلن میں ہٹلر نے خود کشی کرلی۔ سات روز بعد جرمنی نے ہتھیار پھینک دیے۔
اپنے دور اقتدار میں ہٹلر نے نسل کشی کی حکمت عملی اپنائی جس کی نظیر تاریخ میں نہیں ملتی۔ وہ ایک متعصب نسل پرست تھا۔ اور خاص طور پر یہودیوں سے شدید مخاصمت رکھتا تھا۔اس کے عوامی طور پر بیان کردہ مقاصد میں ایک مقصد یہ بھی تھا کہ دنیا میں یہودیوں کا وجود حرف غلط کی طرح مٹادیا جائے۔ اس کے دور میں نازیوں نے یہودیوں کی بیخ کنی کے لیے چھاؤنیاں تعمیر کیں۔ جہاں اس مقصد کے لیے بڑے گیس چیمر بنائے گئے تھے۔ اس کے زیر تسلط ہر علاقے میں معصوم مرد عورتیں اور بچے باندھ کر چھکڑوں پر لادے اور وہاں لے جائے تاکہ انہیں قتل کردیا جائے۔ چند برسوں کی مدت میں اس طور قریب ساٹھ60لاکھ یہودی مارے گئے۔
یہودی ہی ہٹلر کے زیر عتاب نہ آئے اس کے دور میں روسیوں اور خانہ بدوشوں کی ایک بڑی تعداد کا بھی قتل عام کیا گیا۔ اور ان لوگوں کو بھی گولی مار دی گئی جو نسلی طور پر کم تریا کسی حوالے سے ریاست کے دشمن تھے۔ یہ سوچنا غلط ہے کہ یہ قتل عام بے ساختہ اقدام تھا جنگ کی گرما گرمی اور جوش میں رونما ہوا۔ یہ قتل گاہیں ایسی ہی احتیاط سے کاروباری مراکز بنائے جاتے ہیں ۔ ان میں بہی کھاتے بنائے گئے۔ مقتولوں کی درجہ بندی ہوئی اور لاشوں سے ملنے والی قیمتی اشیاء جیسے انگوٹھیاں اور سونے کے دانت وغیرہ منظم انداز میں اکٹھے کیے گئے۔ متعدد مقتولین کی لاشوں کو صابن وغیرہ بنانے کے لیے بھی استعمال کیا گیا۔ اپنے اس منصوبے کے متعلق ہٹلر اس ودر پر جوش تھا کہ جنگ کے آخری برسوں میں جب ملک بھر میں وسائل کی قلت پیدا ہوگئی۔ اس کے باوجود بیل ،گاڑیوں قیدیوں کو لادے ان قتل گاہوں کی طرف مسلسل سفر کرتی رہیں۔ ایک ایسے منصوبے پر جو فوجی اعتبار سے چنداں بے سود تھا تب بھی کام نہیں رکا۔
متعدد وجوہات کی بناء پر یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہٹلر کی شہرت باقی رہے گی۔ ایک تو اس لیے کہ اسے تاریخ کے خبیث ترین افراد میں شمار کیا جاتا ہے۔ اگر نیرو اور کالیگولا جیسے لوگ بربریت کے نشان کے طور پر بیس صدیوں کے بعد بھی تاریخ کے حافظے میں موجود ہیں جن کی یہ حرکات ہٹلر کے مقابلے میں نہایت کم تر تھیں تو اعتماد کے ساتھ یہ پیشین گوئی کی جاسکتی ہے کہ ہٹلر جیسا شخص جسے بلا مبالغہ تاریخ کا انتہائی شیطان صف آدمی مانا گیا ہے آئندہ متعدد صدیوں تک انسانی یا دداشت سے محونہیں ہوگا۔مزید یہ کہ ہٹلر جنگ عظیم دوم کے اصل محرک کی حیثیت سے بھی زندہ رہے گا جو تاریخ کی سب سے بڑی جنگ مانی جاتی ہے۔ نیو کلیائی ہتھیاروں کی ایجاد سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ مستقبل میں اس سے کہیں زیادہ ہو لناک جنگیں لڑی جائیں گی۔ لیکن سودویا تین ہزار برس بعد بھی جنگ عظیم دوم کو تاریخ کے ایک اہم واقعہ کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
ہٹلر اپنی دلچسپ اور بے سروپاداستان حیات کے سبب بھی یادرکھا جائے گا ایک بدیسی ہٹلر جرمنی میں نہیں بلکہ آسٹریا میں پیدا ہوا تھا کسی سیاسی تجربہ دولت یا سیاسی روابط کے بغیر چودہ سال سے بھی کم عرصہ میں دنیا کے ایک بڑے طاقت ور ملک کا سربراہ بن گیا۔ ایک خطیب کی حیثیت سے اس کی اہلیت غیر معمولی تھی۔ اس اعتبار سے کہ اس میں لوگوں کو اپنی منشاء کے مطابق بدل دینے کی بے پناہ طاقت موجود تھی۔ یہ کہنا بجاہے کہ ہٹلر تاریخ ایک موثر ترین خطیب تھا ۔ آخری بات یہ ہے کہ اس حقیقت کو بھی فراموش نہ کیا جائے گا کہ کس طور اس نے بے پناہ طاقت حاصل کرکے اسے اپنے مذموم اور شیطانی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔
اغلبأٴ یہ بات درست ہے کہ کسی دوسری تاریخی شخصیت نے ایڈولف ہٹلر سے بڑھ کر اپنی نسل پر اس قدر گہرے اثرات ثبت نہیں کیے۔ ان لاکھوں افراد کے علاوہ جو جنگ میں کھیت رہے یا جنہیں نازیوں کی قتل گاہوں میں موت کے گھاٹ اتاراگیا۔ ان لوگوں کی تعداد بھی لاکھوں میں ہے جو اس جنگ وجدل کے باعث بے گھر ہوئے اور جن کی زندگیاں تباہ ہوئیں۔
ہٹلر کی اثر انگیزی کا تعین کرتے ہوئے دوعوامل کو ضرورمد نظر رکھنا چاہیے اول یہ کہ اس کی زیر قیادت جو واقعات رونما ہوئے اس کے بغیر کم ازکم حالات اس قدر سنگین اور ہولناک نہ ہوتے ۔اس حوالے سے یہ چارلس ڈراون یا سیمون بولیور جیسی شخصیات سے چنداں برعکس ہے یہ درست ہے کہ جرمنی اور یورپ میں موجود صورت حال نے ہٹلر کو کھل کھیلنے کا موقع دیا۔ اس کے سامی النسل اقوام کے خلاف رویے اور فوجی بیانات نے اپنے سامعین میں خاص طور پر ایک واضح ردعمل پیدا کیا۔ اس بات کے شواہد موجود نہیں ہیں کہ1920ء یا1930ء کی دہائیوں میں جرمنوں کی خواہش یہی رہی کہ ان کی حکومت ایسی شدید حکمت عملیاں اختیار کرے جیسی ہٹلر نے اپنائیں ۔ نہ ایسا ہی قیاس کیا جاسکتا ہے کہ دوسرے جرمن سربراہ بھی ایسی ہی سوچ کا مظاہرہ کرتے ۔ نہ ہی درحقیقت ہٹلر کے دور کے اصل واقعات سے متعلق کوئی بیرونی مبصر صحیح پیشین گوئی کر سکتا تھا۔
دوئم تمام نازی تحریک کی قیادت غیر معمولی حد تک ایک ہی قائد کے ہاتھوں میں تھی۔ مارکس لینن سٹالن اور دیگر رہنماؤں نے اشتمالیت پسندی کے فروغ کے لیے بنیادی کردار ادا کیے۔ لیکن قومی اشتراکیت پسندی کو ہٹلر سے پہلے کوئی قابل ذکر رہنما میسر نہیں آیا اور نہ ہی بعد میں ملا۔ اس نے نازیوں کو اقتدار دلایا اور ان کے دور اقتدار میں مسلسل اپنی حاکمیت کو مستحکم رکھا۔ جب وہ مرا تو اس کی زیر قیادت موجود نازی جمارت اور حکومت بھی اس کے ساتھ فنا ہوگئی۔
ہٹلر کے اگرچہ اپنی نسل پر اثرات بہت گہرے ہیں۔ اس کے برعکس مستقبل کی نسلوں پر اس کے اثرات اسی نسبت سے کم معلوم ہوتے ہیں۔ ہٹلر اپنے مقاصد کے حصول میں یکسر ناکام رہا جبکہ مستقبل کی نسلوں پر اس کے جو اثرات دکھائی دیتے ہیں وہ اس کے مقاصد اور منشاء کے قطعی برعکس ہیں ۔ مثال کے طور پر ہٹلر جرمنی کی طاقت اور سلطنت کو وسیع کرنے کا خواہش مند تھا۔ لیکن اس کی فتوحات بلحاظ حجم بڑی ہونے کے باوجود ناپائیدا تھیں۔ آج جرمن کے پاس اتنا علاقہ بھی باقی نہیں رہا جوہٹلر سے پہلے اس کے تسلط میں تھا۔ یہودیوں کی نیست ونابود کرنے کا ہٹلر کا جذبہ بے شک نہایت شدید تھا لیکن اس کے قریب پندرہ برس بعد ہی یہودیوں نے ایک علیحدہ خود مختار ریاست حاصل کرلی جیسا گزشتہ دوہزاربرسوں میں ممکن نہیں ہوسکاتھا۔ ہٹلر کو اشتمالیت پسندی اور روس سے شدید نفرت تھی ۔ اس کی موت کے وقت اور کسی حدتک اس کے جنگ کے نتیجہ میں روسیوں کو مشرقی یورپ کے بیشتر علاقے میں اپنی حدود کو پھیلانے کا موقع ملا۔ تاہم دنیا میں تب اشترا کی اثرات بھی بڑھے۔ہٹلر جمہوریت سے بھی متنفر تھا۔ اور اس کی بیخ کنی کرنا چاہتا تھا۔ لیکن نہ صرف دوسری اقوام میں بلکہ خود جرمنی میں بھی اسی نظام نے تقویت پائی۔ تاہم جرمنی میں ایک فعال جمہوری نظام قائم ہے ۔وہاں عوام ان نسلوں سے کہیں زیادہ جمہوری قوانین اور قائدین کا احترام کرتے ہیں جوہٹلر سے پہلے موجود تھیں۔
اپنی نسل پر اس کے بے پایاں اور مستقبل کی نسلوں پر نسبتأٴ کم اثرات کے اس عجیب امتزاج سے آخر کیا ظاہر ہوتا ہے؟ اپنے دور پر ہٹلر کے اثرات اس قدر گہرے تھے کہ اس بنیاد پر اسے اس فہرست میں نمایاں ترین درجہ دینا بجا معلوم ہوتا ہے۔ لیکن اصولی طور پر اسے شی ہوانگ تی آگسٹس سیزر اور چنگیزخان جیسی شخصیات کے بعد درجہ دیا جانا چاہیے جن کے اثرات ان کی موت کے بعد صیوں تک باقی رہے۔ ہاں اس کا موازنہ نپولین اور سکندر اعظم سے کیا جاسکتا ہے۔ مختصر عرصہ میں ہٹلر نے ان دونوں افراد کی نسبت دنیا کو کہیں زیادہ شدت سے جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ اسے ان سے قدرے نیچے درجہ دیا گیاہے۔ کیونکہ ان کے اثرات نسبتأٴ طویل المیعاد تھے۔

سورس : اُردو پوائنٹ

انتطامیہ اُردو صفحہ

انتطامیہ اُردو صفحہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top