ستر سال بعد

article-6.jpg

عرصہ ہوا پرانی کتابوں میں دل لگا لیا ہے۔ انگریزوں نے بھی کمال کیا۔ ایک طرف ہندوستانیوں کو جلیانوالہ باغ میں گولیوں سے بھون رہے تھے تو ان پر ریسرچ بھی خوب کر رہے تھے۔ گورے لندن سے چلتے اور ہندوستان کی سیر کرنے کے بعد لندن کے اخبارات کو قسط وار ایسے مضامین لکھتے کہ ملکہ برطانیہ تک بھی ان کا انتظار کرتیں۔ انگریز اپنے ساتھ پرنٹنگ پریس لائے تھے۔ کیا عالی شان کتابیں چھاپیں اور کیا کیا نکتے ہندوستانیوں کے بارے میں نکالے۔
اس دور کی کتابیں پڑھتا ہوں جب ہندوستان کو آزاد کرانے کی تحریک چل رہی تھی تو حیران ہوتا ہوں کہ واقعی یہ ہم لوگ تھے؟ واقعی ہم انگریزوں سے آزادی چاہتے تھے اور اپنی ایک نئی دنیا بسانے کے چکر میں تھے۔ ہم ایک جدید اسلامی ریاست بنانا چاہتے تھے…؟
آج ستر سال بعد ہم نے اپنا کیا حشر کر لیا ہے… کچھ برس قبل بھارت میں آسٹریلوی پادری کو بھارت میں تبلیغ کرنے پر گاڑی سمیت زندہ جلایا گیا تو میرا خیال تھا ہم پاکستانی ان سے بہتر ہیں۔ پھر میرا خیال تبدیل ہو گیا‘ جب کوٹ رادھا کرشن میں مسیحی جوڑے کو زندہ جلایا گیا اور گوجرہ میں مسیحیوں کو گھروں کے اندر جلا دیا گیا۔
پچھلے دنوں بھارت کی ایک یونیورسٹی میں چند طلبا کو اپنی خاتون ڈین کے ساتھ انتہائی گندی زبان میں پولیس کی موجودگی میں بدتمیزی کرتے دیکھا تو سوچا شاید ہمارے ہاں یونیورسٹیوں میں بہت بہتری آ گئی ہے۔ پھر جو کچھ پنجاب یونیورسٹی اور اب مردان یونیورسٹی میں ہوا ہے‘ اس کے بعد میرا یہ خیال بھی تبدیل ہو گیا ہے۔

یہ یونیورسٹیاں ہم نے کیوں بنا رکھی ہیں۔ ہم ایسے علم سے بس کیوں نہیں کر لیتے…؟ اس اعلیٰ تعلیم کا ہم نے کیا کرنا ہے جہاں کسی کو بھی شک پر اس کے کلاس فیلوز اور دوست ہی قتل کر ڈالیں اور پھر اس کی لاش پر اینٹیں برستاتے رہیں؟ کیا کرنا ہے اور کیا پڑھنا یا پڑھانا ہے وہاں؟ ایسی یونیورسٹی کا اب کیا کرنا ہے جہاں جتھے حملے کرتے ہوں۔ جہاں گولی اور تشدد کے سہارے چند لوگ حکمرانی کرتے ہوں۔ مردان یونیورسٹی دوبارہ کھل بھی گئی تو وہاں سے کیا برآمد ہو گا؟
چلے تھے پوری دنیا پر جھنڈا لہرانے اور اپنا گھر بھی جلا بیٹھے ہیں۔ جنہوں نے نئی نسلوں کو تعمیر کرنا تھا‘ وہ اپنی نسلوں کو لندن، دوبئی، پانامہ اور کینڈا شفٹ کرتے رہے۔ کچھ بڑے اپنے بچوں کو امریکی یونیورسٹیوں میں پڑھوانے کے بعد میرے جیسے دیہاتیوں کے بچوں کے ہاتھ میں بندوق اور پستول دے کر تعلیمی اداروں کو یرغمال بناتے رہے۔ بعض جماعتوں کو کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تشدد کے لیے میرے جیسے دیہاتی مل ہی جاتے ہیں‘ جنہیں مختلف حوالوں سے تشدد پر اکسانا آسان ہوتا ہے۔ جن کے پاس مذہب کا وہی علم ہے جو گائوںکی مسجد کے مولوی صاحب نے پڑھایا ہوتا ہے۔ کئی لوگوں نے کبھی قرآن ترجمہ کے ساتھ نہیں پڑھا اور نہ ہی انہیں علم ہے کہ پروردگار کو جو چیز پسند ہے‘ وہ معافی اور رحم ہے۔ کتنے لوگوں کو پتہ ہو گا کہ خون کا بدلہ خون ہے لیکن خدا ان کو پسند کرتا ہے جو معاف کر دیتے ہیں۔ طائف میں جو کچھ ہمارے پیارے نبیﷺ کے ساتھ ہوا‘ اس پر خدا بھی غضب ناک ہو گیا‘ لیکن رسولﷺ نے طائف والوں سے بھی درگزر فرمایا۔ چچا کے قاتلوں تک کو معاف کر دیا۔ روزانہ گندگی پھیکنے والی خاتون تک کی تیمارداری کو خود گئے۔ ہمارے ہاں معافی اور درگزر کا خدائی حکم کیوں بار بار نہیں دہرایا جاتا؟ کیوں ہر بات ہم بدلے سے شروع کرکے بدلے پر ختم کرتے ہیں۔ ہم ایک آیت کا ادھورا ترجمہ پڑھتے ہیں جس سے صرف ہمارا مقصد پورا ہوتا ہے۔ ہم کیوں نہیں بتاتے کہ خدا رحم اور معافی کو کتنا پسند کرتا ہے۔ اب جب ہم لوگ دنیا کو کہتے ہیں کہ اسلام محبت، پیار اور معافی کا مذہب ہے اور دین میں جبر نہیں تو ہماری باتوں پر دنیا یقین نہیں کرتی۔ وہ لوگ ہمارے اعمال دیکھتے ہیں۔ آپ کچھ بھی کہتے رہیں‘ یہ کہ اسلام میں معافی اور درگزر ہے اور انسان کا خون معاف کرنے تک کی شق رکھی گئی ہے تو نان مسلم نہیں مانتے۔ جو کچھ مردان یونیورسٹی میں ہوا‘ اس کے بعد آپ کیسے کسی کو قائل کر سکتے ہیں؟ کسی نے اچھا لکھا: مشعل خان کی لاش کو جلانے کی کوشش ہو رہی تھی اور کہیں بھی یونیورسٹی کا کوئی ایک استاد نظر نہ آیا‘ جو آگے کھڑا ہو جاتا۔ استاد بھی اب اتنے ہی
تشدد پسند ہیں جتنے ان کے پڑھائے ہوئے بچے۔ معاشرے کو اس آگ نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جو ہم نے خود جلائی تھی۔ ہمارا خیال تھا‘ دوسرے جلیں گے۔ ہمارا گھر محفوظ رہے گا۔ ریاست یرغمال بن گئی ہے۔ جن کا کام تھا کہ ریاست کے لیے کھڑے ہوتے‘ وہ خود اس کی بربادی میں شریک ہیں۔
ایک سانحہ گزر گیا اور اگلے روز وزیر اعظم جیکب آباد میں کھڑے عوام کو بتا رہے تھے ان کے لیے جیبوں میں‘ میں نوٹ بھر کے لایا ہوں۔ اس وقت جب وہ جیب بھاری ہونے کے سنہرے خواب دکھا رہے تھے، اس دن سینیٹ میں انکشاف ہوا کہ پاکستان کی ایکسپورٹس ان کے دور میں ساڑھے چار ارب ڈالرز نیچے جا گری ہیں، مقامی بینکوں سے لئے گئے کمرشل قرضوں پر 800 ارب روپے چاہئیں جبکہ دو ہزار تیرہ میں 480 ارب کے گردشی قرضے ادا کرنے کے بعد اب 350 ارب کا نیا بجلی کا گردشی قرضہ تیار ہے اور ری فنڈ کی شکل میں 300 ارب روپے بھی ادا کرنے ہیں۔ بیرونی قرضوں کی ادائیگی اس کے علاوہ ہے جو بجٹ کا اب ساٹھ فیصد ہونے کے قریب ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں لیے گئے یورو بانڈز کی ادائیگی کے لیے چین سے ساڑھے سات سو ملین ڈالرز کا نیا کمرشل قرضہ لیا جا رہا ہے، تجارتی گیپ ملکی تاریخ کی بدترین سطح پر پہنچ چکا۔ زرمبادلہ روز بروز نیچے گر رہا ہے۔ سٹیٹ بینک نے ایک کھرب کے قریب نئے نوٹ چھاپ دیے ہیں۔ منی لانڈرنگ کے ملزم کو قومی بینک کا سربراہ لگا دیا ہے۔ ڈاکٹر عاصم صحت کا بہانہ بنا کر بیرون ملک نکل رہا ہے۔ لندن میں چار فلیٹس کمشن کی رقم سے خریدنے کے بعد ارباب عاصمہ عالمگیر اپنے خاوند کے ساتھ لوٹ آئی ہیں اور آتے ہی نیب پر چڑھائی کر دی ہے۔ اسے کہتے ہیں الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے…!
جبکہ پوری قوم پانامہ کا انتظار کر رہی ہے ملک کے وزیر اعظم کے خاندان نے جو لندن دوبئی سے پانامہ تک جائیدادیں بنائی ہیں وہ حرام ہیں یا حلال؟ جبکہ زرداری کو فکر ہے کہ ان کے جن تین ملازموں کو اٹھایا گیا ہے وہ ان کے مالی معاملات کو دیکھتے تھے ان کا کیا بنے گا۔ آئی ایس آئی کے ایک سابق سربراہ دوبئی میں ایک غیرملکی کمپنی کی ملازمت کے بعد لاہور میں ایک سابق سینیٹر کے ملازم لگ گئے ہیں۔ یہ وہی سینیٹر ہیں جن پر کئی الزام ہیں، ایک سکینڈل کی تفصیل تو قومی اسمبلی میں بھی پیش ہو چکی ہے۔
پوری قوم سانس روکے پانامہ کا انتظار کر رہی ہے اور ڈر کے مارے یہ بھی نہیں پوچھتی اگر ایان علی اور ڈاکٹر عاصم، شرجیل میمن، عاصمہ ارباب عالمگیر جیسوں کا کچھ نہیں بگڑا تو حکمران تو بہت اوپر کی چیز ہیں اس کا کیا بگڑ ے گا؟
ستر سال بعد یہ حشر ہو گیا ہے کہ یونیورسٹیوں میں بچوں کو زندہ سنگسار کیا جا رہا ہے، بعض جماعتیں اس تشدد کے کلچر کو ہوا دے رہی ہیں، ایلیٹ کلاس لوٹ مار کے بعد باہر آنے جانے پر لگی ہوئی ہے، بچا کھچا معاشرہ نام نہاد مولویوں نے ہائی جیک کیا ہوا ہے۔۔۔ اب بتائیں اس ملک کے لیے کون کھڑا ہو گا؟
قومی ادارے تو کھڑے نہیں ہوئے‘ تو اب یہ عوام کھڑے ہوں گے جو سنی سنائی باتوں پر کسی ماں کے بچے کو سنگسار کرنے کے بعد سیلفیاں اور کیمرے سے ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر شیر کر رہے ہیں؟ یا وہ لوگ پاکستان کے لیے کھڑے ہوں گے جن کے دو سو ارب ڈالرز سوئس بینکوں میں پڑے ہیں؟
پرانی کتابیں پڑھتا ہوں اور حیران ہوتا ہوں کہ اس دن کے لیے یہ سب قربانیاں دی گئی تھیں۔۔۔ ستر سال بعد ہم کہاں آن کھڑے ہوئے ہیں۔ اب تو بات کرتے ڈر لگتا ہے۔ کوئی بھی جعلی فیس بک یا ٹویٹر اکائونٹ بنا کر آپ کے نام سے کچھ لکھ دے‘ آپ اگلے لمحے مارے جائیں گے۔ قانون، ریاست، ٹرائل، انصاف کسی کی ضرورت نہیں رہی۔۔۔ بس ایک نعرہ چاہیے کہ فلاں نے گستاخی کی ہے اور سب کچھ جلا دو…
…صد شکر کہ اس سانحے پر وزیر اعظم نے نوٹس لے لیا ہے اور مردان یونیورسٹی مین چند گرفتاریاں بھی عمل میں آ چکی ہیں۔ اس کے باوجود ستر سال بعد یہ سوال پوچھنا تو بنتا ہے… ہم کہاں سے چلے آئے تھے اور کہاں ان پہنچے ہیں۔ ویسے جان کی امان پائوں تو پوچھ سکتا ہوں… کیا واقعی ہم انگریزوں سے آزادی کے قابل تھے…؟

تحریر : روف کلاسرا

روف کلاسرہ

روف کلاسرا 92 ٹی وی پر کام کرنے والے پاکستان کی تحقیقاتی صحافی قیادت کر رہا ہیں. دنیا نیوز کے لیے کالم لکھتے ہیں اور چار کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top