زبانِ یارِ مَن چینی

zuban-yar-e-man-.jpg

فرض کریں کہ میں آپ کو پہلی بار کسی دلچسپ کانسیپٹ سے متعارف کروانے جا رہا ہوں، اور وہ تعارف میں آپ کو اِن الفاظ میں کرواتا ہوں

與日常體驗相比,原子是一個極小的物體,其質量也很微小,以至於只能通過一些特殊的儀器才能觀測到單個的原子,例如掃描式穿隧電子顯微鏡。原子的99.9%的重量集中在原子核,其中的質子和中子有著相近的質量。每一種元素至少有一種不穩定的同位素,可以進行放射性衰變。這直接導致核轉化,即原子核中的中子數或質子數發生變化

مزید فرض کریں کہ میں آپ سے کہتا ہوں کہ اِس موضوع پر آپ کا امتحان بھی اِسی زبان میں لیا جائے گا۔

یہ سُن کر آپ ضرور اپنا سر پکڑ کر رہ جائیں گے اور بوریا بستر بستہ سب لپیٹنے کا سوچیں گے۔ کیونکہ آپ سمجھ جائیں گے کہ میں آپ کو ایک وقت میں دو انتہائی مختلف چیزیں سکھانے کی کوشش کر رہا ہوں: ایک اجنبی زبان اور ایک نیا کانسیپٹ۔ نتیجہ یہ کہ جہاں ایک نئے موضوع سے آپ کے دل میں دلچسپی اور تجسس، اور دماغ میں ایک ہل چل پیدا ہونی چاہیے تھی، وہاں اب آپ دل و دماغ تھامے بیٹھے ہیں۔ میرے اجنبی زبان کے اصرار نے آپ سے سیکھنے کے عمل کے تمام خوبصورت احساسات چھین لئے ہیں اور اِن کی جگہ چند ایسی فکریں بھر دی ہیں:

– بتائی گئی بات ہے کیا؟ (کوئی ترجمہ کروا دے!)

– امتحان کیسے دُوں گا اِس زبان میں؟ (خود سے اِس زبان میں کچھ لکھنا تو مشکل ہے۔ کچھ الفاظ سمجھ کر رٹا لگا لُوں؟ پہلے زبان سیکھوں؟)

غور کریں تو کم و بیش ایسا ہی کچھ ہم تعلیم کے نام پر روز اپنے بچوں کے ساتھ کرتے ہیں۔ ہمارے تعلیمی نظام کی کوشش ہے کہ وہ بچوں کو بیک وقت دو دو چیزیں سکھائے: نئے کانسیپٹ اور انگریزی زبان۔ نتیجہ ہمارے سامنے ہے کہ ہم تقریباََ دونوں ہی کو ٹھیک طرح سیکھنے اور اِس سیکھنے کے عمل سے لطف اندوز ہونے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ اِس پس منظر میں یہ حیران کُن بات نہیں ہے کہ جہاں کلاس میں سائنسی و عمرانی موضوعات پر دلچسپی سے سیکھنے اور کمرہِ امتحان میں اپنے الفاظ میں اِن موضوعات پر لکھنے اور متعلقہ سوالات کا جواب دینے کا عمل ہونا چاہیے تھا، وہاں ترجمے کے ذریعے بہت عبوری سی جان پہچان حاصل کرنے اور اجنبی زبان میں مقررہ جوابات رٹ کر امتحان میں ہوبہو لکھنے کی رسم عام ہو چُکی ہے۔

اب یہ بات درست ہے کہ معاملہ سو فیصد اوپر مثال میں دی گئی زبان جیسا نہیں۔ کیونکہ انگریزی زبان بہرحال ہمارے ہاں ایک مضمون کے طور پر پڑھائی جاتی ہے۔ پر اصل صورتِ حال کا جائزہ لیں تو فوراََ واضح ہو جائے گا کہ ہمارے اکثر و بیشتر سکول طلبہ انگریزی سے بہت ہی بنیادی واقفیت رکھتے ہیں۔ اور بالعموم انگریزی پر ایسا عبور ہرگز نہیں رکھتے کہ کسی نئے کانسیپٹ کو انگریزی میں براہِ راست سمجھ لیں، اور پھر اُس پر انگریزی ہی میں اظہار و استفسار کر سکیں (کلاس روم میں یا کمرہِ امتحان میں)۔ نتیجہ یہ کہ وہ زبان کی وجہ سے سیکھنے کے عمل سے بھرپور فائدہ اُٹھانے سے رہ جاتے ہیں۔

اب اِس معاملے میں چند اہم سوالات کا جائزہ۔

1۔ اب بہت سے والدین/سکول بچوں کو بہت جلد انگریزی سکھانا شروع کر دیتے ہیں۔ پھر انگریزی میں دیگر مضامین پڑھانے میں کیا حرج ہے؟

اِس سلسلے میں دو اہم باتیں ہیں۔

پہلی بات تو یہ کہ ایسا ضرور ہو سکتا ہے کہ کچھ والدین اپنے بچوں کو بہت کم عمر میں بہت اچھی انگریزی سکھا لیں (مثلاََ انتہائی محدود اور مہنگے پرائیوٹ سکولوں کے ذریعے)۔ پھر ایسے بھی بہت سے والدین ہو سکتے ہیں جو “گزارے” والی انگریزی اپنے بچوں کو سکھا کر اُن کی تعلیم میں آسانی پیدا کر دیں (مثلاََ اچھے پرائیوٹ سکولوں کی مدد سے)۔ پر یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ دوسری قِسم بہت کم ہے اور پہلی بہت ہی کم۔ اور کسی اچھے تعلیمی نظام کا مقصد اکثر و بیشتر طلبہ کو معیاری اور مفید تعلیم فراہم کرنا ہونا چاہیے۔

دوسری بات یہ ہے کہ ایک بچہ انگریزی زبان میں تمام مضامین اُسی صورت میں بہترین طریقے سے سیکھ سکتا ہے (سمجھ کر، رٹے سے پاک، زبان کی فکر کئے بغیر) جب اُس کے لئے انگریزی تقریباََ مادری زبان کے درجے پر یا اُس کے بہت قریب ہو۔ بصورتِ دیگر جس گہرائی میں جا کر بچہ اپنی مادری زبان میں نئے کانسیپٹ سیکھ سکتا ہے اور جس آسانی سے اُن پر اپنی زبان میں اظہار و استفسار کر سکتا ہے وہ کسی دوسری زبان میں ممکن نہیں۔ اِسی لئے ہمارے لئے اپنے بچوں کو انگریزی میں تعلیم دینا اُنہیں ہمیشہ اور ہر موضوع پر “دوسرے درجے” کی سمجھ بُوجھ عطا کرنے کے برابر ہے۔ یُوں سمجھیں کہ ہم انگریزی کی شرط لگا کر اپنے بچوں کو مصنوعی کُند ذہن اور آدھا گونگا کر دیتے ہیں۔ وہ بے چارے نہ اصل بات کو ایک گہرے لیول پر سمجھ پاتے ہیں، اور نہ اُس پر کُھل کر اظہار و استفسار کر سکتے ہیں۔ اور اِن دو کی عدم موجودگی میں تعلیم میں دلچسپی پیدا ہونا ایک معجزہ ہی ہو گا۔

2۔ تو کیا انگریزی کو خیر باد کہہ دیا جائے؟

موجودہ دور میں انگریزی زبان کی ضرورت اور اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ انگریزی ایک بین الاقوامی رابطے کی زبان بن چُکی ہے اور اِس میں علم و فن (بالخصوص سائنس و ٹینکالوجی) کا ایک مسلسل بڑھتا ہوا ذخیرہ موجود ہے۔ ایسے میں انگریزی زبان کو مکمل خیرباد تو نہیں کہا جا سکتا ہے۔ پر اِس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ہم اپنے بچوں کو پرائمری یا مڈل سے ہی تمام سائنسی و عمرانی موضوعات انگریزی میں سمجھنے پر مجبور کریں۔ چنانچہ جہاں بچے کو یہ سکھانا ہو کہ زمین گول ہے اور سورج کے گرد گھومتی ہے وہاں اِس موضوع کو اردو ہی میں دلچسپ بنا کر پیش کرنے کی ضرورت ہے، نہ کہ انگریزی میں

The Earth is round and revolves around the sun

بتا کر ترجمہ سمجھانے اور رٹا لگوانے کی کوشش میں لگ جانے کی۔ یہی معاملہ دیگر مضامین کا ہے۔

3۔ کوئی درمیانی حل؟

یہ ایک انتہائی اہم سوال ہے اور ہمیں بحیثیت قوم اِس پر ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک طرف یہ واضح ہے کہ انگریزی میں تمام مضامین پڑھانا بچوں کی قابلیتوں کا ضیاع ہے تو دوسری طرف موجودہ دور میں انگریزی کی ضرورت سے انکار بھی ممکن نہیں۔ اِن دونوں باتوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہمیں مختلف مناسب حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسا ایک حل جو میرے ذہن میں آتا ہے وہ کچھ یُوں ہے۔

– بالکل ابتدائی تعلیم بچے کو اردو زبان میں دی جائے اور ساتھ انگریزی ایک باقاعدہ زبان کی طرح سکھائی جائے (نہ کہ سائنس کے مضمون میں انگریزی سکھانے کی کوشش کی جائے کہ بچہ ترجمہ کر کر کے یاد کرتا رہے کہ دنیا گول ہے اور اِس کی دو تہائی سطح پانی پر مشتمل ہے)۔

– پھر دھیرے دھیرے ساتویں آٹھویں کی سائنسی کتب میں انگریزی سائنسی اصطلاحات اردو متن میں استعمال کر کے پڑھائی جائیں (تا کہ بچے کو نئی اصطلاح سے منسلک نئے کانسیپٹ پر توجہ دینے کا موقع ملے نہ کہ اُس کے انگریزی جملے کی فکر رہے)۔ مثلاََ

“ہمارے ارد گرد سب چیزیں چھوٹے چھوٹے ذروں سے مل کر بنی ہیں، جنہیں ہم ایٹم کہتے ہیں۔ ہر ایٹم کے اندر مزید تین قسم کے چھوٹے چھوٹے ذرے ہوتے ہیں جنہیں الیکٹران، نیوٹران اور پروٹان کہتے ہیں۔ نیوٹران اور پروٹان ایٹم کے درمیان میں ساتھ ساتھ پڑے ہوتے ہیں اور الیکٹران اِن کے گرد دائروں میں گھومتے ہیں۔”

یعنی سائنسی مضامین کی کتب اردو میں یوں لکھی گئی ہوں کہ اُن میں سائنس کی دنیا میں مروج انگریزی اصطلاحات استعمال کی جائیں (اردو رسم الخط میں۔ پہلی بار ساتھ انگریزی ہجے بھی لکھے جا سکتے ہیں)۔

– انگریزی کو بطور زبان پڑھانے کے لئے انگلش اے اور انگلش بی جیسے مضامین کو ختم کر کے باقاعدہ نئی زبان سکھانے کی کُتب ترتیب دینا ہوں گی۔ یوں کہ بتدریج انگریزی بول چال، سمجھنے اور لکھنے کی صلاحیت بڑھتی جائے۔ اِس کے علاوہ پرائمری، مڈل اور سیکنڈری کی کُتب اور طریقہِ تعلیم کو زبان سکھانے والے اداروں کی ترتیب پر تیار کرنا ہو گا۔ کم از کم مڈل تک انگریزی زبان سکھانے میں انگریزی ادب سکھانے کی کوشش بالکل نہیں کی جائے گی۔

۔ پھر یونیورسٹی لیول پر سائنسی مضامین انگریزی میں منتقل کیے جا سکتے ہیں۔ یہ تبدیلی نسبتاََ آسان ہو گی کیونکہ اب تک طلبہ انگریزی بطور زبان بھی سیکھ چکے ہوں گے اور اپنی سائنسی کُتب کے ذریعے انگریزی اصطلاحات سے پہلے سے واقف بھی ہوں گے۔

اِس ترتیب میں یہ بالکل ممکن ہے کہ ہمارے سکول اچھی انگریزی زبان سکھانے میں ناکام رہیں (کم از کم جب تک مزید اصلاحات نافذ نہیں کی جاتیں)۔ پر اِس سے کم از کم دیگر مضامین تو بچّے بہتر طریقے سے سیکھ لیں گے۔ اور سائنسی اصطلاحات انگریزی ہی میں ہونے کی وجہ سے بعد کے مراحل میں اُن کے لئے انگریزی مواد سے فائدہ اُٹھانا مکمل ناممکن نہیں ہو گا۔

4۔ کیا صرف زبان بدل دینے سے رٹے کا نظام ختم ہو جائے گا؟

یہ ایک بہت اہم قدم ہو گا رٹے کے رجحان کو کم کرنے کی جانب۔ اِس کے ساتھ دیگر اصلاحات کی ضرورت بہرحال رہے گی۔ ایک انتہائی اہم معاملہ اِس سلسلے میں طریقہِ امتحان کا ہے جسے درست کئے بغیر اردو میں بھی رٹے سے چُھٹکارا حاصل نہیں ہو گا۔ اِس موضوع پر اپنے کچھ خیالات میں نے مضمون “رٹو طوطے” میں قلمبند کئے ہیں۔

5۔ اردو ہی کیوں؟ علاقائی زبانیں کیوں نہیں؟

جن علاقوں میں اکثر و بیشتر بچوں کو واقعی اردو سے واقفیت بہت کم عمر ہی سے نہیں ہو جاتی وہاں اِس بات پر غور ضروری ہو گا۔ ضرورت پڑنے پر اوپر بتائی گئی ترتیب علاقائی زبانوں پر بھی لگائی جا سکتی ہے۔

تحریر: ابنِ مُنیب

ابن مُنیب

ابن مُنیب مصنف اور شاعر ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top