ذرا سنئے

zara-sunian.jpg

ہمارے ایک فیس بکی دوست نے ہمیں اپنی ایک تحریر اصلاح کیلیے دی ۔ املا کی ہزاروں اغلاط تو ہم نے دوستی میں معاف کر دیں مگر تحریر کا متن یقینا سر پیٹ لینے کے لائق تھا۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اس دبلے پتلے باسی کے مطابق شادی کے انسٹیٹیوشن کو یکسر مسترد کرتے ہوئے بغیر شادی ساتھ رہنے کے صلاح دی گئی تھی تا کہ طلاق کی شرح سے بچا جائے۔ اب اس پر میں انکو کیا کہتی۔ اگر انکی امی ہوتی تو جوتی اتار کر انکی طرف پھینکتی اور پھر جلد از جلد لڑکی کی تلاش شروع کر دیتی کہ موصوف کے حالات کچھ اچھے نہیں۔لیکن بس یہی کہا کہ آپ کے نام تو تحریر بنتی ہے۔ ویسے اکثر یہ حضرت سوشل سروس میں پیش پیش نظر آتے ہیں نیز ٹرانس جینڈر رائیٹس کو بھی کھلم کھلا سپورٹ کرتے ہیں۔
آتے ہیں اصل مدعا کی طرف۔ نئی نسل کی شادی سے اتنی گھبراہٹ اور دوری کی وجہ کیا اور کیوں ہے؟
ہمارا معاشرہ مجموعی طور پر بدل چکا ہے۔ سب سے پہلے تو جو اوائل عمری میں ہی گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ کا نظریہ آ گیا یے۔ یقینا قابل مذمت ہے۔ کہاں جب ہم چھوٹے تھے اور کلاس کی کسی لڑکی کا “چکر” یا “خط لکھنا” معلوم ہو جاتا تو ساری کلاس تقریبا اس لڑکی کو اچھوت خیال کرتی تھی۔ اور اسکے پیٹھ پیچھے ” ہااا ہااا ” کر کے اسکا نام لیا جاتا کہ دیکھو کتنی بے شرم ہے۔ اور تو اور کوئی اس سے بات تک کرنا پسند نہیں کرتا تھا ۔ اور کہاں اب یہ زمانہ آ گیا ہے کہ اگر کسی لڑکی کا کوئی بوائے فرینڈ نہ ہو تو باقی لڑکیاں اسے احساس کمتری میں مبتلا کر دیتی ہیں۔ اس ضمن میں میڈیا کا کردار بھی انتہائی اہم ہے جس نے ہماری نسل کو وقت سے پہلے بڑا کر دیا ہے۔
مصروف زندگی میں جہاں ماں باپ دونوں کماتے ہیں وہاں بچوں کی زندگی میں کیا چل رہا ہے اس پر نظر رکھنے کا وقت کس کے پاس ہے؟ بچے کہاں آ جا رہے ہیں ؟انکے دوست کون ہیں؟ کس سے ملتے ہیں؟ کس قسم کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں؟ فی زمانہ ماں باپ کو اس سے کم ہی سروکار ہے اور اگر کوئی ان سب میں جھانکنے کی کوشش کرے بھی تو ماشااللہ اب ہماری نسل اتنی تیز اور عقلمند ہے کہ فورا آپ کو شخصی آزادی کے معنی بمعہ تشریح سمجھا دیں گے ۔
گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ والے اس معاشرے میں پروان چڑھنے والی اس نسل کو دورِ جوانی میں داخل ہوتے ہی بس ایک فکر سکھا دی جاتی ہے۔ کمانے کی فکر۔ ایک رشتہ جسے وہ غیر شرعی طریقے سے پہلے ہی پورا کر چکے ہیں اس کی کمی نہ انہیں محسوس ہوتی ہے نہ ہی کوئی یہ باور کروانے والا کہ زندگی کھوکھلے رشتوں پر نہیں مضبوط بنیادوں پر جی جاتی ہے۔
اور کمانے کی اس دوڑ میں شادی جیسی خوبصورت ذمہ داری بوجھ اور رکاوٹ لگنے لگتی ہے۔ شخصی آزادی کے نام پر تنہائی اور اکیلے پن کی جو جڑیں آج لگا دی گئیں ہیں مستقبل میں انکے نتائج انتہائی سنگین ہیں۔اور ہمارے اس نوجوان فیس بک دوست کی صلاح کے مطابق بغیر شادی ساتھ رہ لیجیے اور جب جی چاہے الگ ہو جائیں۔
اس سے ہم رسم و رواج نبھانے اور پیپر ورک سے تو بچ جائیں گے لیکن بہت جلد سارا معاشرہ اکیلے پن کی سرحد پر کھڑا ہو گا۔
بالفرض مان لیا جائے کہ انکی صلاح کے مطابق سب اپنی مرضی سے بغیر شادی ساتھ رہیں اور جب جی چاہے الگ ہو جائیں تو کیا اس سے یہ مطلب لیا جائے کہ سب ایک دوسرے کے ساتھ محض ضرورت کے تحت رہ رہے تھے۔اور کیا اس ساتھ کے بعد الگ ہونے سے سب ٹھیک رہے گا؟ نیز ہمارے معاشرے کی پہچان “خاندان” کا تو دیوالیہ ہو ہی گیا۔ سارا سسٹم اکیلے پن کا شکار ہو گیا۔ کیا یہ انسانی فطرت کے منافی نہیں؟ کیا طلاق کی شرح کو کم کرنے کا عقلمندانہ حل یہ ہے کہ شادی ہی نہ کی جائے؟
طلاق کی روک تھام کیلیے ہمیں قوت برداشت اور سمجھ داری چاہیے۔ کوئی بھی دو فریقین ایک جیسے کبھی نہیں ہوتے۔ ایک دوسرے کے رویوں کو برداشت کرنا اور ایک دوسرے کی خامیوں کو ڈھک کر طاقت بننا ہی اس رشتے کا اصل حسن ہے۔ شادی جیسا مضبوط بندھن ہی ایک مضبوط معاشرے کا ضامن ہے۔ بھلا مادر پدر آزاد معاشرہ جذباتی سطح پر ہی کیسے پروان چڑھے گا۔ ؟
بغیر شادی ساتھ رہنے کا مشورہ ایسا ہی ہے جیسے آپ ایک چھوٹے مسئلے کا حل نکالنے کے کیلیے اس سے بھی بڑی مصیبت کو دعوت دے دیں۔
خدا را لکھتے ہوئے اس بات کا خیال رکھا کریں کہ آپ کی تحریر کسی ایک بھی انسان پر اثر کر گئی تو اس نے تحریر سے کیا سبق لینا ؟ تھوڑی سے غیر ذمہ داری ایک بڑے بگاڑ کا سبب بن سکتی ہے۔
ہمارا دین اعتدال کا دین ہے۔جس میں اوائل جوانی میں ہی شادی کر لینے کا حکم ہے شادی نہ صرف کئی معاشرتی برائیوں کا توڑ ہے بلکہ ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد ہے۔ لہذا ان فضول دو ٹکے کے مغربی نظریات کو اپنے دل و دماغ سے اکھاڑ پھینکیں۔ بغیر شادی ساتھ رہنا گناہ ہے۔ صرف دین اسلام میں نہیں۔بلکہ دینِ انسانیت میں بھی۔یوں تو آپ نسل انسانی کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ کیا انسان اتنا ہی ارزاں ہے کہ محض ضرورت کا تعلق رکھنے کیلیے خود کو کسی کے بھی سامنے پیش کر دے۔ ؟
میرا یہاں دینی لیکچر دینے کا کوئی ارادہ نہیں مگر جو چیز فطرت کے خلاف جاتی ہے اس کے نتائج ہمیشہ سنگین ہوا کرتے ہیں۔ نسل انسانی ایک مضبوط معاشرے کی محتاج ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں انسانی رشتوں اور رویوں کی مضبوط دیواریں ہوں۔اور ہاں مادر پدر آزادی۔ ۔ اور ذاتی من مانی کو ترقی کا نام دینا سراسر زیادتی ہے۔ مہربانی کر کے آنکھیں کھولیے اور ایک صحت مند اور اعتدال پسند معاشرے کا حصہ بنیے۔ ورنہ آزادی اور ترقی کے نام پر یہ الٹی سیدھی صلاح معاشرے کو برباد کر کے رکھ دے گی۔

فاطمہ عمران

فاطمہ عمران مصنفہ ہیں اور سوشل میڈیا کے مختلف بلاگز پر ان کی تحاریر شائع ہوتی ہیں۔

loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top