یہ کتاب اولاد کو تحفے میں دو

Ya-kitaab-Olaad-ko-tahfy-min-dy-do.jpg

الحاد یعنی اس خالق کائنات کے وجود کا انکار تاریخ میں ہمیشہ ان متکبر، مطلق العنان اور ظالم بادشاہوں نے کیا ہے جو اپنی طاقت کے نشے میں یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ وہ اس دنیا کے سیاہ و سفید کے مالک ہیں۔ فرعون اور نمرود کی مثالیں جہاں قرآن پاک اور دیگر الہامی کتابوں میں ملتی ہیں، وہیں تاریخ کے صفحات اور آثار قدیمہ کی کھدائی سے جنم لینے والی حقیقتیں بھی ان بادشاہتوں کے اسرار سے پردہ اٹھاتی ہیں۔

یہ وہ زمانہ تھا جب اللہ کا انکار صرف طاقتور کرتا تھا اور وہ بغیر کسی دلیل کے اس بات کا دعویٰ کرتا تھا۔ مثلاً فرعون کہتا تھا ’’میں سب سے بڑا پالنے والا ہوں‘‘ اس کے دماغ میں بھی یہ بات چھپی بیٹھی تھی کہ اگر میں یہ دعویٰ کروں تو کوئی نہیں مانے گا کہ میں اس کائنات کا خالق ہوں۔ اسی لیے اس نے خدائی دعویٰ بھی سوچ سمجھ کر کیا۔
حضرت موسیٰؑ کو اس کے مقابلے میں معجزے عطا کیے گئے۔ اسے سمجھانے کے لیے اس کی قوم پر طرح طرح کے عذاب نازل کیے گئے۔ وہ ہمیشہ حضرت موسیٰ سے یہ درخواست کرتا کہ اپنے اللہ سے درخواست کرو کہ وہ یہ عذاب ٹال دے۔ حضرت موسیٰ دعا کرتے اور عذاب ٹل جاتا۔ لیکن وہ پھر روزمرہ کاروبار حکومت و سیاست میں اپنے خدائی دعوے پر قائم رہتا اور اپنی مرضی اور طاقت سے حکومت کرتا۔ اس کا نظریہ یہ تھا کہ خالق کائنات اور اس کے عطا کردہ مذہب کو عبادت تک محدود ہونا چاہیے یا اگر کوئی آسمانی آفت اور بلا نازل ہوتی ہے تو اس سے نجات کی دعا کی جا سکتی ہے لیکن خبردار! کاروبار حکومت سے مذہب کو دور رہنا چاہیے۔

یہ صرف اور صرف فرعون کا اختیار ہے۔ اللہ جو اس کائنات کا مالک و خالق ہے، جو بارش برساتا ہے، عذاب ٹالتا ہے۔ اس کے عطا کردہ مذہب کو تمام حقوق حاصل ہیں لیکن صرف گھر میں چار دیواری اور عبادت گاہ کی حد تک لیکن حکومت میں اس کے احکامات نہیں چلیں گے۔
صدیاں گزر جانے کے باوجود اللہ کے وجود سے انکار اور مذہب کو کاروبار حکومت اور سیاست سے الگ کرنے کی فرعونی سوچ میں ذرہ برابر بھی فرق نہیں آیا۔ یہ الگ بات ہے کہ اب فرعونی طاقت کی جگہ سائنسی تحقیق اور دلیل و منطق کی بھول بھلیوں نے لے لی ہے۔
سائنسی سچائی (Scientific Truth) ایک ایسا تصور ہے جسے آخری سچائی (Ultimate Truth) کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور اسے کورس کی کتابوں سے لے کر کاروبار زندگی میں ایک واضح دلیل کے طور پر بتایا جاتا ہے۔ لیکن چند سالوں کے بعد وہ سارے کا سارا جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوتا ہے۔
گزشتہ ایک صدی کے دوران‘ سائنس دان یہ ثابت کرتے رہے کہ آسمان اور زمین کے درمیان ایک مادہ ’’ایتھر‘‘ ہے جس کی موجودگی سے یہ زمین محفوظ و مامون ہے۔ انھوں نے اس مادے کو ذہن میں رکھتے ہوئے سورج سے زمین تک روشنی کی رفتار کا پیمانہ بنایا، حدت کو ناپنے کے اصول وضع کیے اور ان سب کو آخری سچائی کے طور پر مانتے رہے‘ لیکن اچانک ایک شخص آئن اسٹائن آیا اور اس نے کہا کہ تم سائنس کے نام پر اتنے سال لوگوں کو جھوٹ پڑھاتے رہے ہو، ایتھر کا تو کوئی وجود ہی نہیں۔ اس نے اپنی تھیوری ’’اضافیت‘‘ (Relativity) پیش کی۔

یہ آج تک ایک تھیوری ہے اور سائنس دان اس کے بتائے ہوئے اصولوں کو ثابت کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔ اکثر ثابت بھی ہوگئے لیکن اس ’’تھیوری‘‘ یعنی نظریہ کو سیکولرز نے پہلے دن ہی ایمان کی سطح پر قبول کرلیا۔ یہ ایسا ہر نئے لیکن نامکمل علم کے ساتھ کرتے چلے آئے ہیں۔ ڈارون نے ”Orign of Species” تحریر کی جس میں اس نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ حیات کس طرح آہستہ آہستہ ایک چھوٹے سے جرثومے سے ترقی کرتی ہوئی انسان کے قالب میں ڈھلی ہے۔
بندروں کو انسانوں کا جد امجد ثابت کرنے کے لیے دنیا بھر سے انسانی ڈھانچے کھدائی سے نکال کر اس کی ایک ترتیب بنانے کی کوشش کی گئی اور آخر ایک جگہ معاملہ پھنس گیا جسے ”Missing Link” یعنی گمشدہ کڑی کہا گیا‘ ایسا درمیانی واسطہ نہ مل سکا جو واضح طور پر انسان کو بندر کی اولاد ثابت کردے۔ یہ گمشدہ کڑی آج بھی زیر زمین دفن مردوں اور زمانے کے اثرات سے پتھر بنے ڈھانچوں (Fossils) میں ڈھونڈی جاری ہے لیکن سیکولرز کے ہاں اس تھیوری یعنی نظریہ بلکہ قیاس کو آج بھی ایمان کی سطح پر مانا جاتا ہے۔

جدید دور کا الحاد اسی طرح کے غیر حتمی سائنسی حقائق سے جنم لیتا ہے جن کو وہ آخری سچائی مان کر خدا کا انکار کرتے ہیں۔ اللہ کے انکار کو دنیا میں نافذ کرنے کے لیے ایک سیاسی فکر ہے جسے سیکولرازم کہتے ہیں۔ اس کا نظریہ یہ ہے کہ مذہب کو عبادت گاہ اور گھر تک محدود ہونا چاہیے، یہ اجتماعی زندگی اور حکومتی و سیاسی معاملات سے دور رہے۔ آدمی خدا سے ڈرے، اس سے محبت کرے، اس سے دعا مانگے‘ گڑگڑائے، اس کے احکامات پر عمل کرے لیکن اپنے گھر کے اندر۔ باہر کی دنیا ہماری ہے۔ ہم بتائیں گے کہ مرد اور مرد یا عورت اورعورت آپس میں شادی کرسکتے ہیں۔

اکثریت کہہ دے کہ جھوٹ بولنا‘ غیبت کرناجائز ہے تو جمہوری طور پر یہ قانون کہلاتا ہے‘ بالکل ویسے ہی جیسے حضرت شعیبؑ کی قوم نے کم تولنا جائز کر لیا تھا۔ سیکولر ازم کا دعویٰ ہے کہ یہ ہمارا حق ہے کہ ہم بغیر شادی کے پیدا ہونے والے بچے کو بھی قانونی طور پر حلالی کہیں۔ غرض جو قانون ہم چاہیں بنائیں، ہماری مرضی۔ دنیا کے چھ ارب انسانوں کو لوٹ کر دنیا کی 65 فیصد دولت صرف 50 افراد کے ہاتھوں میں کاروبار کے نام پر دیں۔ کسی اللہ، خدا، بھگوان کو مداخلت نہیں کرنے دیں گے۔ غرض الحاد بنیادی طور پر ایک مذہب ہے جو خدا کے انکار سے جنم لیتا ہے اور اس مذہب کو زندگیوں، سیاست، حکومت اور معاشرے میں نافذ کرنے کا نام سیکولر ازم ہے۔

سیکولر ازم کا روپ ہر ملک میں مختلف ہے۔ لیکن پوری دنیا میں اس کے ہاں ایک قدر مشترک ہے۔ یہ ہندوازم، بدھ ازم، عیسائیت وغیرہ کے خلاف نہیں۔ یہ اجتماعی زندگی میں ہولی، دیوالی، کرسمس وغیرہ کو پسند کرتا ہے۔ لیکن اس کی جان جمعے کے خطبے سے نکلتی ہے۔ اسے عید کا اجتماع دیکھ کر موت پڑجاتی ہے۔ دنیا پوری کروڑوں ٹن بیف کا باربی کیو بنالے، آسٹریلیا کی بھیڑوں کے کروڑوں تکا بوٹی بناکر کھائے جائیں اسے جانوروں کے حقوق یاد نہیں آتے لیکن ایک دن عیدالاضحی کی قربانی اسے زہر لگتی ہے۔ اسے کرسمس کی فضول خرچی بری نہیں لگتی لیکن حج پر جانے والوں کے خرچے کا حساب کرتا ہے۔

دنیا بھر میں ٹورازم انڈسٹری سے اربوں ڈالر کمانا ترقی کی علامت ہے لیکن اسے عمرے کا ایک سادہ سا سفر برا لگتا ہے۔ ہندو کروڑوں کی تعداد میں ہر دوار‘ بنارس اور کنبھ جائیں تو سیکولر کو کچھ نہیں ہوتا۔ ویٹیکن سٹی میں لوگ لاکھوں کی تعداد میں پوپ کی زیارت کو آئیں تو کسی لبرل کا دل نہیں جلتا۔ چرچ کی راہبائیں حجاب پہنیں‘ یہودی عورتیں شٹل کاک برقعہ پہنیں‘ اس کو برا نہیں لگتا لیکن وہ مسلمان عورت کے حجاب پر تلملا اٹھتا ہے۔ یہ ہے سیکولرازم کا اصل دکھ اور اس کا اصل چہرہ۔ ان کی کتابیں، ان کے رسالے، ان کی ویب سائٹس، ان کے فیس بک پیجز اٹھالیں آپ کو صرف اور صرف اسلام اور شعائر اسلام سے نفرت ملے گی۔

یہ میڈیا میں پروان چڑھتا ہے لیکن اس کا بیج نصاب تعلیم میں بویا جاتا ہے۔ گزشتہ تیس سال سے انگلش میڈیم اسکولوں اور اولیول، اے لیول اور یونیورسٹی تعلیم نے جو الحاد اور سیکولرازم کا بیج بویا تھا اب اس کی زہر آلود شاخیں نکل رہی ہیں۔ ہمارے مدارس کے علماء ابھی اس فتنے سے آگاہ نہیں ہوئے لیکن وہ جو اس طوفان کو جانتے ہیں ان میں طارق جان صاحب کا نام بہت بڑا ہے۔ دلیل سے الحاد اور سیکولر ازم کا جواب ان کا امتیاز ہے۔
2012ء میں ان کی کتاب ’’سیکولر ازم، مباحث اور مغالطے‘‘ آئی۔ اس میں پاکستان کے دیسی لبرل اور سیکولرز کی منطق کو جس طرح پاش پاش کیا گیا اس پر اللہ ہی انھیں جزا عطا کرسکتا ہے۔ لیکن آج کی انگلش زدہ نسل کے لیے انگریزی میں اس طوفان کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک کتاب کی بہت ضرورت تھی۔ طارق جان صاحب نے کمال کردیا۔ بالکل نئے موضوعات اور حیران کن دلائل سے اپنی کتاب ”Engaging Secularism,limits of Promise” تحریر کر دی۔

مجھے سجدہ شکر ادا کرنا ہے کہ انھوں نے سب سے پہلے یہ کتاب مجھے بھیجی۔ یہ کتاب نہیں الحاد کا رد ہے۔ وہ والدین جو اپنی انگلش میڈیم اولاد کے الحادی اور سیکولر نظریات کی وجہ سے پریشان ہیں‘ ان کے لیے یہ ایک نسخۂ کیمیاء ہے۔ خوشی کی ایک بات یہ ہے کہ اسے ہماری قدیم اسلامی روایت کے مطابق ایک درس گاہ یعنی یونیورسٹی نے چھاپا ہے‘ کسی کاروباری پبلشر نہیں۔ اسے یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی C-11 جوہر ٹاؤن لاہور نے چھاپا ہے۔ اس کتاب کا تحفہ اس باپ یا ماں کی آنکھوں میں امید جگا سکتا ہے جس کے بچے الحاد کے فریب اور سیکولرازم کے جھوٹ کا شکار صرف اور صرف انگریزی ذریعہ تعلیم کی وجہ سے ہوئے۔

اوریا مقبول جان

اوریا مقبول جان پاکستان کے معروف کالم نگار، شاعر، دانشور، ناٹک نگار اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ بطور ستون نگار و دانشور ان کے ستون باقاعدگی کے ساتھ پاکستان کے معروف اردو اخبار روزنامہ ایکسپریس میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ وہ اپنی شاعری اور منفرد انداز تحریر کے باعث کئی ادبی اعزازات حاصل کر چکے ہیں، ا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top