اُلٹی شلواریں ، ٹھنڈے گوشت

for-web-16.jpg

اگر دنیا کا کوئی شخص اردو کی روح نکالنا چاہے تو وہ بس اردو سے غالب کو نکال دے، یہ زبان چند سیکنڈ میں بے روح ہو جائے گی اور اگر کوئی شخص اس زبان کو بے ادب کرنا چاہے تو یہ اس سے سعادت حسن منٹو کو خارج کر دے، اردو کا دو تہائی ادب دم توڑ جائے گا، اردو افسانہ اور سعادت حسن منٹو ایک ہی شخص کے دو مختلف نام ہیں، منٹو افسانہ ہے اور افسانہ منٹو، ہم اگر افسانے کا نام ’’منٹو سانہ‘‘ رکھ دیں تو یہ غلط نہیں ہو گا، منٹو، منٹو تھا اور منٹو بہرحال منٹو ہی رہے گا خواہ ہم کچھ بھی کر لیں، ہمیں یہ حقیقت ماننا ہو گی، ہمیں اس حقیقت کے ساتھ یہ بھی ماننا ہو گا۔

منٹو کہانیوں کی فیکٹری تھا، اس کے اندر ہر وقت ہزاروں کہانیاں ابلتی رہتی تھیں، وہ بس کہانی دان کا ڈھکن اٹھاتا تھا، ہاتھ اندر ڈالتا تھا اور کوئی شاہکار نکال کر سامنے رکھ دیتا تھا، یہ عظیم سعادت حسن منٹو کثرت شراب نوشی کے ہاتھوں 18 جنوری 1955ء میں 42 سال کی عمر میں دنیا سے رخصت ہو گیا، شراب اس کا جگر پی گئی اور تمباکو اس کے پھیپھڑے چاٹ گیا، اسے میانی صاحب کے قبرستان میں دفن کر دیا گیا لیکن اس کی کہانیاں، اس کے لفظ آج بھی زندہ ہیں، وقت کی چکی نے منٹو کو پیس دیا لیکن یہ منٹو کے کام اور منٹو کی تخلیق کا آٹا نہ بن سکی لہٰذا دنیا میں جب تک اردو قائم رہے گی منٹو بھی اس وقت تک زندہ رہے گا۔

سرمد کھوسٹ نوجوان اور تخلیقی قوت سے لبریز فلم ساز ہیں، سرمد کھوسٹ نے پچھلے دنوں اس سعادت حسن منٹو کی زندگی پر شاندار فلم بنائی، یہ فلم صرف ایک فلم نہیں ہے، یہ پاکستانی عوام اور اردو ادب پر ایک عظیم احسان بھی ہے، یہ فلم تکنیکی لحاظ سے بھی مکمل اور اعلیٰ ہے، میں نے ’’منٹو‘‘ سینما میں دیکھی، فلم جب ختم ہوئی تو مجھ سمیت تمام لوگوں نے کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں، میں ایک مہینہ گزرنے کے باوجود ابھی تک اس فلم کے زیر اثر ہوں لیکن اس تمام تر تعریف اور منٹو سے محبت کے باوجود مجھے اس فلم پر ایک اعتراض بھی ہے۔

اس فلم میں ایک ایسے عظیم انسان کو ولن بنا کر پیش کیا گیا جو کسی بھی طرح اس سلوک کا مستحق نہیں تھا، دنیا کی ہر فلم دو کرداروں کے گرد گھومتی ہے، ہیرو اور ولن۔ آپ ان دونوں میں سے کسی ایک کو نکال دیں تو فلم، فلم نہیں رہتی، آپ دنیا کی تمام فلموں کا اختتام دیکھ لیجیے، فلم کی کہانی کب ختم ہوتی ہے؟ اس وقت ختم ہوتی ہے جب ولن یا ہیرو کہانی سے نکل جاتے ہیں، یہ دونوں جب تک فلم میں موجود رہتے ہیں، فلم اس وقت تک چلتی رہتی ہے لیکن جوں ہی دونوں میں سے ایک کردار خارج ہوتا ہے تو فلم فوراً ختم ہو جاتی ہے چنانچہ ہیرو اور ولن دونوں فلم کی مجبوری ہوتے ہیں، یہ مجبوری فلم منٹو کو بھی درپیش تھی لیکن سرمد کھوسٹ نے یہ مجبوری ایک ایسے کردار کے ذریعے پوری کرنے کی کوشش کی جو پچھلے 75 برسوں سے ہیرو چلا آ رہا ہے۔

وہ کردار چوہدری محمد حسین تھے، سرمد کھوسٹ نے چوہدری صاحب جیسے عظیم انسان کو ولن بنا کر تاریخ اور اخلاقیات دونوں کے ساتھ ظلم کیا، ہمیں یہ حقیقت ماننا ہو گی، سعادت حسن منٹو خود اپنی ذات کے ولن تھے، منٹو کو کسی دوسرے شخص نے نہیں مارا، منٹو کو خود منٹو نے قتل کیا، منٹو کی ذات میں چھپا شرابی، ضدی، بے حس اور فحش سعادت حسن دنیا کے عظیم افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کا قاتل تھا، منٹو کو سماج، فسادات اور چوہدری محمد حسین جیسے محب وطن لوگوں نے پریشان نہیں کیا، اسے شراب اور ضد پی گئی اور یہ اردو کے اس عظیم ادیب کی کہانی کا وہ پہلو ہے جس سے ملک کے ہر اس دانشور، ادیب اور صحافی کو عبرت پکڑنی چاہیے جو اپنی سستی، کاہلی، ضد، بے حسی اور نشے کو ادب ثابت کرنے کی لت میں مبتلا ہے، یہ بہرحال ایک لمبی بحث ہے اور یہ بحث ہمارا موضوع نہیں، ہمارا موضوع چوہدری محمد حسین ہیں۔

چوہدری محمد حسین کون تھے؟ چوہدری محمد حسین علامہ اقبال کے انتہائی قریبی دوست اور ساتھی تھے، وہ تحصیل پسرور کے گاؤں پہاڑنگ اونچہ میں پیدا ہوئے، جاٹ گھرانے سے تعلق تھا، عربی، فارسی اور اردو کے عالم تھے، وہ مالیر کوٹلہ کے نواب ذوالفقار علی خان کے بچوں کے اتالیق بھی تھے، علامہ اقبال کی نواب صاحب سے دوستی تھی، علامہ صاحب کی چوہدری محمد حسین سے پہلی ملاقات 1918ء میں نواب صاحب کے گھر میں ہوئی اور یہ ملاقات چند ماہ میں گہری دوستی میں بدل گئی۔

یہ دوستی علامہ صاحب کے انتقال کے بعد بھی جاری رہی، علامہ صاحب اور ان کا خاندان چوہدری صاحب کے احسانات تلے دبا ہوا تھا، وہ علامہ صاحب کے اس قدر قریب تھے کہ علامہ اقبال نے انتقال سے قبل جاوید اقبال اور منیرہ اقبال کی ذمے داری اپنے بڑے بھائی شیخ عطاء محمد کے بجائے چوہدری محمد حسین کو سونپ دی اور چوہدری صاحب نے مرتے دم تک یہ ذمے داری نبھائی، علامہ اقبال کو شاہی مسجد کے سائے تلے دفن کرنے کا آئیڈیا بھی چوہدری صاحب کا تھا، انھوں نے تدفین کی اجازت کے لیے نہ صرف وزیراعلیٰ پنجاب سر سکندر حیات سے رابطہ کیا بلکہ وہ چیف منسٹر کی طرف سے مثبت جواب نہ ملنے پر گورنر پنجاب سر ہنری کریک کے پاس بھی گئے اور ان سے شاہی مسجد کے ساتھ علامہ صاحب کی تدفین کی اجازت لی، علامہ صاحب کا مقبرہ بھی چوہدری صاحب نے بنوایا تھا، مقبرے کے لیے ہندوستان، افغانستان اور ایران سے آرکی ٹیکٹ بلائے گئے تھے۔

چوہدری صاحب انھیں فکر اقبال کی روشنی میں ڈیزائن تیار کرنے کی ہدایت دیتے تھے یہاں تک کہ موجودہ مقبرے کا ڈیزائن تیار ہوا، چوہدری صاحب نے خود دھوپ میں کھڑے ہو کر مقبرہ تیار کروایا، علامہ صاحب کی آخری کتاب ’’ ارمغان حجاز‘‘ بھی چوہدری صاحب نے اپنی نگرانی میں شایع کروائی، وہ علامہ صاحب کے انتقال کے بعد کتابوں کی رائیلٹی، جائیداد اور دونوں بچوں کے گارڈین تھے، انھوں نے یہ ذمے داری عبادت کی طرح نبھائی، خود پنجاب پریس برانچ کے معمولی ملازم تھے۔

چھ صاحبزادیوں اور تین صاحبزادوں کے والد تھے، وہ اور ان کا خاندان عسرت میں زندگی گزارتا رہا لیکن انھوں نے علامہ اقبال کے بچوں کو ہمیشہ سونے کا نوالہ کھلایا، جاوید اقبال اور منیرہ اقبال کو اعلیٰ تعلیم بھی دلائی اور ان کے شاہانہ اخراجات بھی برداشت کیے، منیرہ اقبال کی میاں صلاح الدین سے شادی بھی چوہدری صاحب نے کروائی تھی، والد کی طرح جہیز بنایا، والد کی طرح بارات کا استقبال کیا اور والد ہی کی طرح روتے ہوئے اپنے دوست کی بیٹی کو رخصت کیا، وہ انتقال تک میاں صلاح الدین کے گھر جاتے تھے، منیرہ اقبال کے سر پر ہاتھ پھیرتے تھے اور پانی تک پیے بغیر واپس آ جاتے تھے۔

وہ دفتر کے بعد سیدھے جاوید منزل جاتے تھے اور جاوید اقبال کو دیوان غالب پڑھاتے تھے، جسٹس جاوید اقبال خود تسلیم کرتے تھے ’’ میں والد کا سایہ سر پر نہ ہونے کی وجہ سے بھٹک گیا تھا، اگر چوہدری محمد حسین نہ ہوتے تو شاید میں کبھی راہ راست پر نہ آتا، چوہدری صاحب نے مرتے دم تک میرا ہاتھ تھامے رکھا‘‘۔

وہ چوہدری صاحب تھے جنہوں نے جاوید اقبال میں اردو، انگریزی، فلسفہ اور قانون پڑھنے کا جذبہ پیدا کیا، چوہدری صاحب کی تحریک پر ہی جاوید اقبال برطانیہ گئے اور کیمبرج میں داخلہ لیا، انھوں نے جاوید اقبال کا ماتھا چوم کر انھیں 15 ستمبر 1949ء کو لندن روانہ کیا تھا، جاوید اقبال برطانیہ سے انھیں خط لکھتے تھے اور ان سے ہر معاملے میں رہنمائی لیتے تھے، وہ جاوید اقبال کو باقاعدگی سے اخراجات بھی بھجواتے تھے اور انھیں خط کے ذریعے پی ایچ ڈی کے مقالے کے لیے مشورے بھی دیتے تھے، چوہدری صاحب لاہور میں انتقال کر گئے، انھوں نے مرنے سے قبل جاوید منزل جانے کی خواہش ظاہر کی، ان کے صاحبزادے ان کو چارپائی پر لٹا کر جاوید منزل لے گئے، وہ تھوڑی دیر علامہ اقبال کے کمرے میں لیٹے رہے۔

علامہ صاحب کی روح سے گفتگو کی، گھر واپس آ گئے اور اسی رات دنیا سے رخصت ہو گئے، چوہدری صاحب کے انتقال کی خبر کیمبرج پہنچی تو جاوید اقبال دھاڑیں مار کر رونے لگے، ان کا کہنا تھا ’’مجھے محسوس ہوا میرا والد 1938ء میں نہیں بلکہ آج ہی فوت ہوا‘‘ چوہدری صاحب علامہ صاحب کے بچوں اور جاوید اقبال اور منیرہ اقبال چوہدری صاحب سے کتنی محبت کرتے تھے آپ اس کا اندازہ اس سے لگا لیجیے، چوہدری صاحب کے نو بچے تھے لیکن ان میں سے کوئی بچہ معاشی اور سماجی ترقی نہ کر سکا، کیوں؟ کیونکہ چوہدری صاحب نے اپنا سارا وقت اور وسائل اپنے دوست کے بچوں کے لیے وقف کر دیے تھے۔

وہ اپنے بچوں پر توجہ نہ دے سکے، جاوید اقبال اور منیرہ اقبال کو ان کی ان قربانیوں کا احساس تھا، یہ بھی ان سے والد کی طرح محبت کرتے تھے، یہ اس محبت کا ثبوت تھا، جاوید اقبال 1956ء میں لندن سے پاکستان واپس آئے، رات کا وقت تھا، وہ والد علامہ اقبال کی قبر پر جانے کے بجائے گرتے پڑتے سیدھا چوہدری صاحب کی قبر پر گئے اور پھوٹ پھوٹ کر رو پڑے، چوہدری صاحب علامہ صاحب کے مقبرے سے چند قدم دور اقبال پارک میں مدفون ہیں، جاوید اقبال چوہدری صاحب کی قبر پر فاتحہ پڑھنے کے بعد گھر جانے لگے تو میاں امیر الدین نے ان سے کہا ’’ یہاں تک آئے ہو تو اپنے والد کے مزار پر بھی ہوتے چلو،، جاوید اقبال نے اپنی کتاب ’’ اپنا گریبان چاک‘‘ میں لکھا ’’مگر میرے لیے تو چوہدری صاحب کی لحد پر حاضر ہونا ہی والد کے مزار کی زیارت تھی‘‘۔

یہ تھے چوہدری محمد حسین، ایک سچے عاشق اقبال، جنہوں نے پوری زندگی علامہ صاحب کی محبت اور ان کی اولاد کی پرورش میں گزار دی، یہ درست ہے، وہ پنجاب کی پریس برانچ میں ملازم تھے، وہ منٹو کو فحش نگار سمجھتے تھے اور وہ ہر اس رسالے پر پابندی بھی لگا دیتے تھے جس میں منٹو کا افسانہ چھپتا تھا لیکن اس میں چوہدری صاحب کا کیا قصور تھا؟ کیا یہ حقیقت نہیں تھی، منٹو ان دنوں شراب کی ایک بوتل کے لیے کچرہ نگاری پر اتر آیا تھا، وہ پانچ روپے جیب میں ڈالتا تھا، پبلشر سے کاغذ اور قلم لیتا تھا، بیٹھے بیٹھے کہانی گھسیٹتا تھا اور شراب کی بوتل لے کر گھر چلا جاتا تھا جہاں اس کی نیک فطرت بیوی بیمار بچیوں کو لے کر دہلیز پر بیٹھی ہوتی تھی۔

چوہدری محمد حسین نے منٹو کی جن کہانیوں پر پابندی لگائی، آپ یقین کیجیے وہ کہانیاں آج بھی رسائل اور اخبارات میں شایع نہیں ہو سکتیں، آپ الٹی شلوار یا ٹھنڈا گوشت نکالیے اور اپنی بہن اور بیٹی کو پڑھنے کے لیے دے دیجیے، آپ اگر ایسا نہ کر سکیں تو آپ جان لیں چوہدری محمد حسین ولن نہیں ہیرو تھے اور آپ اگر آسانی سے ایسا کر گزریں تو میں چوہدری صاحب کو ولن مان لوں گا، ایک ایسا ولن جس نے سعادت حسن منٹو کو شراب کے لیے کہانیاں نہیں لکھنے دیں اور جو اس ملک کو الٹی شلواروں اور ٹھنڈے گوشتوں کا ملک نہیں دیکھنا چاہتا تھا، اسے علامہ اقبال کا پاکستان دیکھنا چاہتا تھا، اس علامہ اقبال کا پاکستان جس کے شہری خودی بیچنے کے بجائے غریبی میں نام پیدا کرنے کا ہنر جانتے ہوں۔

جاوید چوہدری

جاوید چوہدری پیشے کے لحاظ سے شعبہ صحافت سے منسلک ہیں، ان کے سب سے قابل ذکر کالم ’’ زیرو پوائنٹ ‘‘ خاص طور پر پاکستان کے عوام یوتھ اور پاکستان کے مسلمانوں پر بہت بڑا اثر ہے

loading...

One thought on “اُلٹی شلواریں ، ٹھنڈے گوشت”

  1. Sonu jutt says:

    boht acha very nice

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top