توہین رسالت مآب صلی اللہ علیہ والہ و سلم کیوں ہو رہی ہے؟

article.jpg

کبھی آپ نے غور فرمایا یہ توہین رسالت کیوں ہو رہی ہے؟ کیا وجہ ہے کہ بھینسے سانڈ کتے اور بلے مسلسل توہین کے مرتکب ہو رہے ہیں؟
اور کیا وجہ ہے کہ عمائدین حکومت جو نواز شریف کی توہین پر آگ بگولا ہو جاتے ہیں یہاں سکون سے کندھے اچکا کر کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ٹیکنالوجی ہی نہیں کہ ان بھینسوں، سانڈوں، کتوں اور بلوں کی بکواس کو بند کر سکیں؟
کبھی آپ نے سوچا کہ ایسا کیوں ہے کہ جب بے بسی کے عالم میں علمائے کرام عدالت سے رجوع کرتے ہیں اور صورت حال دیکھ کر ہائی کورٹ کا جسٹس آرڈر لکھواتے ہوئے رو پڑتا ہے اور کہتا ہے ان سانڈوں کتوں بلوں کو روکنے ورنہ سوشل میڈیا بند کرنا پڑا تو کر دیں گے تو سیکولر اہل دانش جج صاحب کو سینگوں پر لے لیتے ہیں اور ان پر فقرے اچھالنا شروع کر دیے جاتے ہیں؟
میرے نتائج فکر کے مطابق یہ محض اتفاق نہیں بلکہ یہ سیکولر انتہا پسندوں کی ایک فکری واردات ہے. واردات کیا ہے؟…. میں عرض کر دیتا ہوں.
واردات یہ ہے کہ توہین رسالت اس تواتر سے کرو کہ معاشرہ بے بس ہو کر اسے معمول کی ایک کارروائی سمجھ کر خاموش ہو جائے. یہ سیکولرازم کا شارٹ کٹ ہے. جب معاشرہ توہین رسالت پر حساس نہ رہا تو بس کھیل ختم. پھر اس معاشرے میں جو مرضی کرو.
چنانچہ اب یہ گھناونا کھیل شروع ہو چکا ہے. بھینسے کتے بلے سانڈ سب متحرک ہیں. کوئی انہیں روکنے والا نہیں. اسلام آباد جمعیت علمائے اسلام کے بزرگان کے ایک وفد سے برادرم سبوخ سید کے حجرے میں ملاقات ہوئی وہ یہ جاننا چاہتے تھے کہ اس ناپاک مہم کو روکنے کے لیے کیا کچھ کیا جا سکتا تھا.
یہی بزرگ اس معاملے کو لے کر عدالت گئے. جج صاحب بھری عدالت میں رو پڑے. انہوں نے کہا حکومت اس سلسلے کو روک نہیں سکتی تو سوشل میڈیا بند کر دیں گے. اب ان پر یلغار ہو گی. پہلے حکومت آئے گی. کہے گی ہم بے بس ہیں کچھ نہیں کر سکتے. پھر سیکولر اہل دانش سامنے آءیں گے. وہ با جماعت بتائیں گے کہ ہم مسلمان کتنے جاہل ہیں اور ہمیں یہ تک نہیں پتا کہ پاکستان کے پاس ان پیجز کو روکنے کی کوئی ٹیکنالوجی نہیں. جج صاحب کو سینگوں پر لیا جائے گا. کہا جائے گا شوکت عزیز صدیقی تو جماعت اسلامی کے ہیں، یہ تو مولوی ہیں، انہیں تو امام مسجد ہونا چاہیے، یہ تو جدید ٹیکنالوجی سے لاعلم ہیں، یہ تو ہمیں دنیا سے کاٹنا چاہتے ہیں.
بات بہت سیدھی ہے. معاشرے کو فیصلہ کرنا ہے کیا نبی رحمت صلی اللہ علیہ و سلم کی شان اقدس میں توہین ایک معمول کی کارروائی سمجھی جائے یا ان کی شان اقدس کے تحفظ کے لیے آواز اٹھائی جائے؟
مجھے تو فیصلہ کرنے میں ایک لمحہ بھی نہیں سوچنا. میری رائے تو بہت دوٹوک اور بہت واضح ہے. اگر حکومت آ کر کہتی ہے کہ اس کے پاس اس مسئلے کا کوئی حل نہیں اور وہ کتوں سانڈوں اور بھینسوں پر پابندی لگانے کی ٹیکنالوجی سے محروم ہے اور عدالت سوشل میڈیا پر پابندی عائد کر دیتی ہے تو میں اس فیصلے کو خوشدلی سے تسلیم کروں گا. تسلیم ہی نہیں کروں گا تحسین بھی کروں گا….. بلکہ صرف تحسین ہی نہیں کروں گا اس کا مطالبہ بھی کروں گا.
بلاشبہ یہ سوشل میڈیا ایک نعمت ہے. بلاشبہ اس کے بغیر زندگی اذیت ناک ہو گی لیکن اگر اس سوشل میڈیا کی قیمت یہ ہے کہ ہم آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شان میں گستاخی برداشت کر لیں تو یہ قیمت ادا نہیں کی جا سکتی. سوشل میڈیا تو کیا سب کچھ آقا پر قربان.

انتطامیہ اُردو صفحہ

انتطامیہ اُردو صفحہ

loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top