ترقی کو ڈنڈے مارنے والے لوگ

New-for-web-3.jpg

لڑکی پلیٹ فارم پر کھڑی تھی‘ پلیٹ فارم‘ ریل کی پٹڑی اور پورا ریلوے اسٹیشن برف میں دفن تھا‘ درختوں کی ٹہنیوں تک نے برف کے دستانے پہن رکھے تھے‘ سامنے سے ٹرین آ رہی تھی‘ انجن کی ہیڈ لائیٹس روشن تھیں‘ ہیڈ لائیٹس کی روشنیاں منظر کو مزید خوبصورت بنا رہی تھیں‘ لڑکی کے گلے میں سرخ مفلر تھا‘ پشت پر تھیلا تھا اور ہاتھ میں ہینڈ بیگ‘ یہ خواب ناک منظر تصویر کی شکل میں جنوری کے پہلے ہفتے فیس بک پر ظاہر ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے ’’وائرل‘‘ ہو گیا‘ یہ تصویر دنیا کی تقریباً ہر اچھی اور بڑی ’’وال‘‘ تک پہنچی اور اس نے دل کھول کر ’’لائیکس‘‘ حاصل کیے۔

یہ جاپان کے گاؤں ’’کامی شراتاکی‘‘کی ایک طالبہ کی تصویر تھی‘ یہ گاؤں جاپان کے ’’ہوکائیدو‘‘ جزیرے میں واقع ہے‘ یہ بچی گاؤں کی واحد طالبہ ہے‘ یہ روزانہ کلاسز لینے کے لیے شہر جاتی ہے‘ شہر گاؤں سے 56 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے‘ جاپانی حکومت نے 1932ء میں کامی شراتاکی میں مال بردار گاڑیوں کے لیے ریلوے اسٹیشن بنایا تھا‘ گاؤں میں ریل کی پٹڑی اور ریلوے اسٹیشن کی وجہ سے مسافر ٹرینوں کی آمدورفت بھی شروع ہو گئی لیکن جاپان میں 1987ء میں ریلوے کی نج کاری ہو گئی اور یہ اسٹیشن جے آر ہوکائیدو کمپنی کے پاس چلا گیا‘ کامی شراتاکی میں صرف 40 لوگ رہتے تھے۔

یہ لوگ بھی آہستہ آہستہ دوسرے قصبوں میں شفٹ ہو گئے یوں مسافر ٹرین کی سواریاں ختم ہو گئیں چنانچہ کمپنی نے 2012ء میں یہ روٹ اور ریلوے اسٹیشن بند کرنے کا فیصلہ کر لیا لیکن پھر کمپنی کو اچانک اسٹیشن پر سولہ سال کی لڑکی کانا ہراڈہ نظر آئی‘ یہ کالج کی طالب علم ہے اور یہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے روزانہ ٹرین کے ذریعے ہوکائیدو کے ہائی اسکول جاتی ہے‘ جاپان ریلوے کو جب یہ معلوم ہوا‘ ہماری ٹرین اس طالبہ کا واحد سفری ذریعہ ہے اور ہم اگر یہ روٹ بند کر دیتے ہیں تو یہ طالبہ اپنی تعلیم مکمل نہیں کر سکے گی تو ریلوے نے طالبہ کی تعلیم مکمل ہونے تک یہ روٹ جاری رکھنے کا فیصلہ کر لیا۔

یہ سلسلہ پچھلے تین برس سے جاری ہے‘ 2012ء سے ایک ٹرین صبح اس لڑکی کو کالج لے جانے کے لیے ’’کامی شراتاکی‘‘ آتی ہے اور دوسری شام کے وقت اسے واپس چھوڑنے آتی ہے‘ یہ طالبہ ان دونوں ٹرینوں کی واحد مسافر ہے‘ جاپانی ریلوے اس طالبہ کی وجہ سے ماہانہ ہزاروں ڈالر نقصان اٹھا رہی ہے‘ طالبہ کے کالج کی تعلیم 26 مارچ 2016ء کو مکمل ہو گی‘ ریلوے اس کے بعد یہ اسٹیشن اور یہ روٹ بند کر دے گا۔

کامی شراتاکی گاؤں کی اس طالبہ کی کہانی پڑھنے کے بعد آپ کے دل میں کیا تاثر پیدا ہوتا ہے؟ آپ بھی یقینا میری طرح جاپان کی علم دوستی‘ تعلیم سے محبت‘ انسانی حقوق اور حساس دل کے معترف ہو چکے ہوں گے‘ آپ بھی میری طرح پکار اٹھے ہوں گے‘ یہ ہوتی ہیں حکومتیں‘ یہ ہوتا ہے نظام‘ یہ ہوتی ہیں ترجیحات اور یہ ہوتے ہیں ملک۔ آپ صرف ایک لڑکی کے لیے تین سال تک ٹرین چلاتے رہتے ہیں‘ آپ لاکھوں ڈالر کا نقصان اٹھا لیتے ہیں لیکن آپ کالج کی ایک طالبہ کی پڑھائی ڈسٹرب نہیں ہونے دیتے وغیرہ وغیرہ۔ میں آپ سے اتفاق کرتا ہوں۔

کیوں؟ کیونکہ میں بھی اٹھارہ دنوں تک اسی پیٹرن‘ اسی ٹریک پر رواں دواں رہا‘ میں بھی انھی خیالات کا اظہار کرتا رہا لیکن میں نے کل جوں ہی لاہور سمن آباد موڑ کے لوگوں کو اورنج ٹرین کی تعمیراتی مشینری اور حد بندیوں پر ڈنڈے برساتے دیکھا‘ میں نے بپھرے ہوئے لوگوں کو ’’اورنج ٹرین‘‘ کے خلاف نعرے لگاتے دیکھا‘ میرے خیالات بدل گئے اور میں نے اپنے آپ سے پوچھا ’’فیس بک کی اس تصویر میں کون اہم ہے‘ لڑکی یا ٹرین؟‘‘ جواب آیا ٹرین‘ آپ کو یقینا میرا جواب برا لگے گا لیکن حقیقت بہرحال یہی ہے‘ آپ فرض کیجیے‘ جاپان اگر 83 سال قبل کامی شراتاکی میں ریلوے لائین نہ بچھاتا‘ یہ یہاں سے ریلوے لائین نہ گزارتا تو آج یہ طالبہ کالج نہ پہنچ پاتی‘ نوجوان خاتون کاناکی یہ کہانی صرف ریلوے لائین‘ ریلوے اسٹیشن اور ٹرین کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہوئی۔

آج بھی دنیا میں ہزاروں لاکھوں ایسے گاؤں موجود ہیں جہاں سے کوئی سڑک‘ کوئی ریلوے لائین اور کوئی بس نہیں گزرتی چنانچہ ان دیہات کے بچے کاناکی طرح اسکول جانے کے لیے سڑک یا ریلوے اسٹیشن پر کھڑے نہیں ہوتے‘ یہ درست ہے تعلیم اہم ترین ہے‘ تعلیم اور اسپتال کے بغیر آج کے دور میں کسی معاشرے کو معاشرہ نہیں کہا جا سکتا لیکن سوال یہ ہے‘ اگر سڑک نہیں ہو گی تو آپ اپنے مریض کو اسپتال اور اپنے بچے کو اسکول کیسے پہنچائیں گے؟

آپ تعلیم‘ صحت اور خوشحالی کا دنیا بھر کا ڈیٹا نکال کر دیکھئے‘ آپ یہ دیکھ کر حیران رہ جائیں گے‘ دنیا میں 1950ء تک اوسط عمر صرف 45 سال تھی‘ سرکاری ملازمین 50 سال کی عمر میں ریٹائر کر دیے جاتے تھے‘ بھارت اور پاکستان میں آزادی کے بڑے عرصے بعد تک ملازمین کی ریٹائرمنٹ ’’ایج‘‘ 50 سال تھی‘ آپ تعلیم کا ڈیٹا بھی دیکھ لیجیے‘ آپ دیکھئے 1960ء تک کتنے فیصد بچے اسکولوں میں داخل ہوتے تھے‘ ان میں سے کتنے فیصد اسکول سے کالج پہنچتے تھے اور ان میں سے یونیورسٹی پہنچنے کی شرح کتنی تھی؟ آپ یہ جان کر حیران رہ جائیں گے‘ پاکستان میں 1960ء کی دہائی تک اسکولوں میں داخل ہونے والے بچوں میں سے صرف دو فیصد طالب علم یونیورسٹی کا منہ دیکھ پاتے تھے۔

آپ اس کے بعد 1970ء‘ 1980‘ 1990 اور 2000ء کی دہائی کا تجزیہ کیجیے‘ آپ یہ بھی دیکھئے‘ ملک میں 1980ء اور 1990ء کی دہائی میں کتنے لوگوں کے پاس ٹیلی ویژن‘ فریج‘ اے سی اور گاڑیاں تھیں‘ ملک میں 2000ء سے پہلے کتنے فیصد لوگوں کے پاس ذاتی مکان تھے‘ ریستورانوں میں کھانا کھانے والے لوگ کتنے تھے‘ ملک کے کتنے فیصد لوگ سال میں دوسرا جوتا‘ مہینے میں کپڑوں کا نیا سوٹ اور پرائیویٹ ڈاکٹر سے علاج افورڈ کر سکتے تھے‘ بینکوں میں اکاؤنٹ کتنے لوگ کھولتے تھے‘ ہوائی سفر کتنے لوگ کرتے تھے اور بیرون ملک کتنے لوگ جاتے تھے۔

آپ چند منٹوں کے لیے اپنی زندگی کی ٹیپ بھی ’’ری وائینڈ‘‘ کیجیے‘ آپ اپنے بچپن میں چلے جائیں اور اپنے گاؤں‘ اپنی گلی اور اپنے شہر کی مارکیٹیں اور دکانیں گنیے اور اس کے بعد آج شہر میں نکل کر دیکھئے‘ آپ آج شہر‘ گلی اور گاؤں میں موجود دکانیں گنیے‘ آپ کو دونوں کی تعداد میں زمین آسمان کا فرق ملے گا‘ آپ کے بچپن میں پورے محلے میں ایک آدھ دکان ہوتی تھی اور آج‘ اف توبہ‘ پورا محلہ مارکیٹ بن چکا ہے‘ آپ جدھر دیکھتے ہیں اور جہاں دیکھتے ہیں دکانیں ہی دکانیں ہیں اور گاہک ہی گاہک ہیں‘ آپ کسی بازار میں چلے جائیں‘ آپ کو گزرنے کا راستہ نہیں ملتا‘ آپ کا بچپن اگر کسی گاؤں یا کسی پسماندہ قصبے میں گزرا ہو تو آپ کو یاد ہو گا‘ آپ لوگ شہر یا دوسرے محلے میں جانے کے لیے دو دن پہلے پلاننگ کرتے تھے‘ آپ آج بازاروں میں پھرتے لوگوں کو روک کر ان کا پتہ معلوم کیجیے‘ آپ حیران رہ جائیں گے۔

یہ لوگ چالیس پچاس کلو میٹر دور سے آئے ہیں اور یہ عموماً روزانہ اتنا سفر کرتے ہیں‘ آپ دل پر ہاتھ رکھ کر یہ بھی بتائیے‘ آپ کے بچپن میں کتنے لوگوں کو اخبار‘ خط اور کتابیں پڑھنی آتی تھیں اور کیا آج ان پڑھ لوگ بھی آپ کو ایس ایم ایس نہیں کر لیتے؟ یہ تبدیلی کیسے آئی؟ یہ کیوں آئی؟ اس کی وجہ سڑک ہے‘ دنیا میں جہاں بھی سڑکیں بنتی ہیں‘ وہاں لوگوں کی اوسط عمر میں بھی اضافہ ہوتا ہے‘ صحت بھی بڑھتی ہے۔

تعلیم کا معیار بھی بلند ہوتا ہے اور خوش حالی بھی آتی ہے‘ آپ آج 2016ء میں سڑک کے ذریعے شہروں سے منسلک گاؤں کا تقابل ان دیہات سے کر لیجیے جن میں سڑک موجود نہیں‘ آپ ریلوے ٹریک اور جی ٹی روڈ کے ساتھ ساتھ آباد شہروں کا تقابل ریلوے لائین اور بڑی شاہراہ سے دور آبادیوں سے بھی کر لیجیے‘ آپ کو سڑکوں سے منسلک اور ریلوے لائین اور جی ٹی روڈ
کے ساتھ آباد شہروں میں خوش حالی‘ تعلیم‘ صحت اور معیار زندگی بہتر ملے گا۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے 26 جنوری کو اپنی رپورٹ جاری کی‘ اس رپورٹ میں ڈنمارک ترقی اور ایمانداری میں پہلے نمبر پر تھا اورصومالیہ بے ایمانی اور پسماندگی میں 168 ممالک میں پست ترین سطح پر۔ آپ کبھی ڈنمارک میں جا کر دیکھئے اور آپ پھر صومالیہ بھی جائیے‘ صومالیہ قدرتی وسائل میں ہزار درجے بہتر ہونے کے باوجود ایمانداری اور ترقی میں ڈنمارک سے 168 منزلیں پیچھے ہے‘ کیوں؟ کیونکہ صومالیہ کے لوگ پچھلے سو سال سے ترقی کے ساتھ وہ سلوک کر رہے ہیں جو کل سمن آباد موڑ کے عوام ڈنڈوں کے ذریعے اورنج ٹرین کی مشینری سے کر رہے تھے۔

پاکستان میں کوئٹہ پسماندہ اور لاہور اور کراچی ترقی یافتہ کیوں ہیں؟ کیونکہ کراچی اور لاہور کا انفرا سٹرکچر کوئٹہ سے بہتر ہے‘ آپ آج کوئٹہ میں میٹرو بس چلا دیں‘ پورے شہر کی سڑکیں کھلی کر دیں‘ فٹ پاتھ بنا دیں‘ ٹریفک ڈسپلن میں لے آئیں اور شہر میں اورنج ٹرین بنا دیں کل کراچی اور لاہور پسماندہ اور کوئٹہ ترقی یافتہ ہو جائے گا‘ کل لاہور اور کراچی کے لوگ تعلیم‘ صحت اور خوشحالی میں کوئٹہ کے عوام سے پیچھے چلے جائیں گے‘ یہ میٹرو اور ٹرینیں اتنی اہم ہیں کہ سعودی عرب‘ متحدہ عرب امارات اور ایران جیسے وہ ملک جن میں پانی مہنگا اور پٹرول سستا ہے وہ بھی میٹرو بسیں اور میٹرو ٹرینیں چلا رہے ہیں۔

تہران شہر میں میٹرو ٹرین بھی ہے اور جنگلہ بس جیسی میٹرو بس بھی‘ ریاض شہر میں میٹرو کے لیے کھدائی ہو چکی ہے‘ مکہ اور مدینہ کے درمیان ٹرین چل چکی ہے جب کہ دوبئی نے ستمبر 2009ء میں میٹرو ٹرین بنا لی تھی‘ کیوں؟ آپ امریکا سے لے کر چین تک اور منگولیا سے لے کر اسپین تک دنیا کے تمام ترقی یافتہ ملکوں اور شہروں میں جھانک کر دیکھ لیں‘ آپ کو ترقی یافتہ ممالک کے ہر اس شہر میں یہ ’’برائی‘‘ نظر آئے گی جس کی آبادی دس لاکھ سے زیادہ ہے‘ کیوں؟ کیونکہ یہ ترقی کی نشانیاں ہیں‘ یہ درست ہے‘ ہمیں بچت کرنی چاہیے‘ ہمیں اورنج ٹرین کا بجٹ کم کرنا چاہیے۔

آثار قدیمہ بھی بچانے چاہئیں اور حکومت اگر لوگوں کی ذاتی پراپرٹی لے رہی ہے تو اسے اس کا باقاعدہ معاوضہ ادا کرنا چاہیے لیکن خدا را آپ ترقی کو ڈنڈے مارنا بند کریں‘ یہ منصوبے عام اور غریب لوگوں کے لیے سواری کا اچھا‘ باعزت اور سستا ذریعہ ہیں‘ آپ ان سے یہ ذریعہ نہ چھینیں‘ یہ منصوبے کل کو آپ کے بچوں کا معیار زندگی بدل دیں گے‘ آپ اپنے بچوں سے زندگی کا یہ معیار نہ چھینیں‘ میری بلوچستان‘ سندھ اور کے پی کے حکومتوں سے بھی درخواست ہے‘ آپ ضد ترک کر دیں‘ آپ بھی کراچی‘ پشاور اور کوئٹہ میں ایسی ہی میٹرو بسیں اور میٹرو ٹرینیں بنائیں ورنہ وہ وقت دور نہیں جب آپ کے لوگ لاہور پہنچ کر آپ کو بددعائیں دیںگے۔

سیاسی اور ذاتی مخالفتیں اپنی جگہ لیکن جہاں تک ترقی کا معاملہ ہے ہمیں اس کے لیے اپنا دل بڑا کرنا پڑے گا ورنہ دس سال بعد ہم ہوں گے اور وقت کے ٹھڈے اور ڈنڈے اور ہماری کانا جیسی بچیاں اسکول جانے کے لیے دہلیز پر کھڑی ہوں گی اور ہمارے پاس ان کے لیے ٹرین تو دور کھوتی ریڑھی بھی نہیں ہو گی‘ آپ کے والدین نے سڑکیں بننے دیں‘ آپ ان کے مقابلے میں بہتر زندگی گزار رہے ہیں‘ آپ آج میٹرو اور اورنج ٹرینیں بننے دیں کل آپ کے بچے آپ سے بہتر زندگی گزاریں گے‘ یہ میرا نہیں‘ تاریخ کا دعویٰ ہے۔

جاوید چوہدری

جاوید چوہدری پیشے کے لحاظ سے شعبہ صحافت سے منسلک ہیں، ان کے سب سے قابل ذکر کالم ’’ زیرو پوائنٹ ‘‘ خاص طور پر پاکستان کے عوام یوتھ اور پاکستان کے مسلمانوں پر بہت بڑا اثر ہے

loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top