سونے کے پہاڑ پر جنگ

for-web-8.jpg

جنگ عظیم دوئم کے بعد مغرب میں جس معاشرے نے جنم لیا، جس سیاسی اور اقتصادی نظام نے جڑیں پکڑیں اس نے اپنے لیے ایک بنیادی کلیہ طے کر لیا کہ اب ہم آپس میں نہیں لڑیں گے۔ سوال یہ پیدا ہوا کہ گزشتہ دو سو سال سے جو آپ نے اسلحے کے کارخانے لگائے ہیں۔ جنگ و جدل کی ٹیکنالوجی کو وسعت دی ہے۔

انسانوں کو دنیا سے ملیامیٹ کرنے کے لیے ہتھیار بنائے ہیں، ان سب کا کیا ہو گا۔ عالمی بینکار وںنے تو یورپ کو تباہ کرنے کے بعد انھیں مقروض کر کے اپنی تجوریاں بھرنے کا مستقل بندوبست کر لیا تھا‘ لیکن اسلحے کی صنعت بھی تو انھی کے دیے ہوئے سرمائے سے چلتی تھی۔ اگر اس کی کھپت کم ہوگئی تو یہ ان عالمی سودی بینکاروں کے لیے موت تھی۔ اسی لیے جنگ عظیم دوم کے بعد یہ فیصلہ کر لیا گیا کہ جنگ تو ہو گی، لوگ تو مارے جائیں گے، گولیاں چلیں گی، بم برسیں گے لیکن اب یہ تماشہ کسی اور علاقے میں ہو گا۔

یورپ میں امن قائم رکھا جائے گا۔ بتایا جائے گا کہ لوگ کیسے سکون سے رہتے ہیں۔ جنگ عظیم دوم کے بعد ان سود خور بینکاروں کے سرمائے سے قائم کارپوریٹ سسٹم اور اس میں موجود اسلحے کے کارخانے ایک نئے میدان جنگ کی تلاش میں تھے جس کی وسعت عالمی سطح کی ہو۔ لیکن یہ میدان جنگ بہت پہلے سے تیار کر لیا گیا تھا۔ کمیونزم کے خلاف جنگ، یہ جنگ سوویت یونین اور اس کے زیر اثر یورپی ممالک کے ساتھ تھی۔

پوری دنیا کا میڈیا کمیونزم کو ایک خوفناک خواب بنا کر پیش کر رہا تھا۔ ایسا خوفناک جس میں جائیدادیں، کاروبار سب چھین لیا جائے گا۔ آدمی ڈبل روٹی اور انڈوں کے لیے ریاست کا محتاج ہو گا۔ سب کچھ اجتماعی ہو جائے گا، یہاں تک کہ بیویاں بھی اجتماعی ہوں گی۔ ہالی ووڈ نے جیمز بانڈ کی فلموں کی ایک سیریز کا آغاز کیا جو آئن فلیمنگ کے پراپیگنڈہ پر مبنی تیرہ ناولوں پر بنائی گئیں۔

یہ سب فلمیں سوویت یونین اور اس کے کمیونزم کے خلاف سود خور جمہوری نظام کی جنگ پر مبنی تھیں۔ لیکن کمال ہوشیاری سے ان فلموں میں بھی اور حقیقی طور پر بھی جنگ کو یورپ سے دور رکھا گیا۔ جنگ کے میدان ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکا بنا دیے گئے۔ ویت نام، انگولا، چلی، برازیل، لاؤس، کمبوڈیا وغیرہ۔ کمیونزم کی جڑ تو سوویت روس تھا۔ ان تمام ممالک کو اسلحہ بیچتا تھا۔
انھیں فنی امداد دینا تھا، لیکن کسی نے سوویت یونین یعنی لڑائی کی جڑ کوختم کرنے کے لیے جنگ نہ کی ‘اس لیے وہ یورپ کا حصہ تھابلکہ پوری دنیا میں محاذ کھول دیے گئے اور وہاں پر اسلحہ بیچ کر جو سرمایہ حاصل ہوا اس سے یورپ کے بازار رنگین ہونے لگے۔ امریکا کی معاشی خوشحالی کا باب تحریر ہونے لگا۔ جس سوویت یونین کے خلاف ان سود خور جمہوری معاشی نظام کے علمبرداروں نے پوری دنیا میں انسانوں کی لاشیں گرائی تھیں، کروڑوں لوگ جنگ کا ایندھن بنے تھے۔

اس سوویت یونین نے آدھے جرمنی پر دوسری جنگ عظیم کے بعد معاہدے کے تحت قبضہ کر رکھا تھا۔ برلن شہر آدھا آدھا تقسیم کر دیا گیا اور بیچ میں ایک دیوار برلن بنا دی گئی۔ اس پچاس سالہ جنگ جسے سرد جنگ کہتے ہیں‘ اس کے دوران کسی ایک یورپی ملک یا امریکا نے مشرقی جرمنی کو آزاد کروانے یا برلن کی دیوار گرانے کے لیے ایک فائر تک نہ کیا۔ اس لیے کہ یہ ’’مقدس‘‘ یورپ تھا اور یہاں اب انسان کا خون بہانا سوویت کمیونسٹوں اور سودی خور جمہوری معاشی نظام کے علمبرداروں کے نزدیک حرام تھا۔

میدان جنگ کیوبا ہو سکتا ہے لیکن امریکا نہیں۔ میدان جنگ افغانستان ہو سکتا ہے لیکن روس نہیں، یورپ میں جو چہل پہل، خوشیاں، رنگارنگی اور خوبصورت زندگی نظر آتی ہے، وہ اصل میں اس لیے نہیں کہ یورپ کے لوگ جنگ نہیں کرنا چاہتے اور انھوں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ اب ان بکھیڑوں سے دور رہیں گے۔ ان عوام کی کیا مجال اور کیا حیثیت۔ آج تک جنگ کے فیصلے کبھی عوام نے کیے ہیں۔

یہ فیصلے تو جمہوری طور پر منتخب حکمران بھی نہیں کرتے۔ اس لیے نہیں کرتے کہ ان کی جمہوری جدوجہد پر اربوں ڈالر، پاؤنڈ اور یورو کی صورت سرمایہ جن سود خور بینکاروں اور کارپوریٹ سرمایہ داروں نے لگایا ہے وہ کان سے پکڑ کر جنگ کا فیصلہ کروا لیتے ہیں۔ پورا یورپ عراق کے خلاف جنگ کو رکوانے کے لیے سڑکوں پر نکل آیا تھا۔ کیا عراق جنگ رک گئی۔ ہرگز نہیں۔ ٹونی بلیئر معافی مانگے یا یہ کہتا پھرے کہ خفیہ رپورٹیں غلط تھیں لیکن لاکھوں انسان موت کے گھاٹ اتار دیے گئے۔

یورپ کو اب سکون اور اطمینان ایک حکمت عملی کے تحت بخشا گیا ہے۔ اسی طرح چین اور بھارت کی معیشت کو زبردست معاشی ترقی کے لیے تاکہ وہ جنگ کے میدانوں سے نفرت کرے۔کھلا میدان دیا گیا۔ روس کو سود خور جمہوری معاشی نظام میں واپس لانے کے بعد اس کی بدحال معیشت کو اس حد تک سنبھلنے دیا گیا کہ وہ دوبارہ ایک عالمی طاقت بننے کے خواب دیکھنے لگے۔

یہ سب کے سب اب معاشی طور پر مضبوط ہیں۔ جس سرمایہ دار کے پاس پیسہ ہوگا اگر اس کی کسی کے ساتھ دشمنی ہو جائے تو وہی گارڈ رکھ سکتا ہے، بندوقیں خرید سکتا ہے، گھر اور فیکٹری کے باہر سیکیورٹی سسٹم لگا سکتا ہے۔ کسی بھی بڑی جنگ سے پہلے خوف بیچا جاتا ہے۔ ہر اس ملک کو خوفزدہ کیا جاتا ہے، ہر اس معاشرے کو ڈرایا جاتا ہے جس کے پاس جنگ کا خرچہ اٹھانے کی طاقت ہو۔

گزشتہ بیس سال سے پوری دنیا میں خوف بیچا جا رہا ہے۔ یہ خوف سب سے زیادہ مغرب میں بیچا جا رہا ہے اور اس کا آغاز 9/11 کے بعد ہوا۔ وہ لوگ جو مغرب کی رنگارنگی میں اس قدر خوش و خرم تھے کہ انھوں نے اپنے اردگرد ایک پٹاخے کی آواز بھی نہیں سنی تھی اب چیخیں مارتے ہوئے گلیوں میں بھاگ رہے تھے۔ پوری دنیا عمارت سے چھلانگ لگاتے، ملبے میں دفن ہوتے اور آگ کے شعلوں میں جلتے انسانوں کو ٹیلی ویژن اسکرینوں پر دیکھ رہی تھی۔ خوف کا ردعمل خوفناک تھا۔

افغانستان، عراق اور اب شام۔ گزشتہ پندرہ سالوں میں جہاں یورپ اور امریکا کے عوام کو خوفزدہ رکھا گیا وہاں اس قدر طویل جنگ نے ان تینوں ملکوں کے لوگوں کو جنگ کے خوف سے آزاد کر دیا گیا۔ ان کے نزدیک اب موت کی کوئی اہمیت نہیں رہ گئی، بے گھر ہونا کوئی نیا تجربہ نہیں، خون سے اب انھیں وحشت نہیں ہوتی۔ اب ان کا ہدف بدل چکا ہے، ان کا ہدف مغرب ہے اور مغرب خوفزدہ ہے۔ اس قدر خوفزدہ کہ پیرس شہر میں فوج کا گشت دیکھ کر لوگ گھروں میں گھس جاتے ہیں۔

یورپ کو اس طرح خوف میں مبتلا کرنے کا مقصد کیا ہے۔ وہی مقصد جو بلی کو خوفزدہ کر کے لیا جاتا ہے۔ جنگ میں جھونکنا۔ گزشتہ پندرہ سالوں سے آہستہ آہستہ خوف کے انجکشن لگائے گئے اور اب مغرب بالکل تیار ہے۔ اسے اپنی ٹیکنالوجی پر بھروسہ ہے۔ اسے اس بات کا یقین دلا دیا گیا ہے کہ اب وہ خود جنگ میں نہ کودا تو اس کے ہنستے بستے شہر دہشتگردوں کے ہاتھوں یرغمال ہو جائیں گے۔

لیکن اس دفعہ جنگ فیصلہ کن ہونے والی ہے۔ گزشتہ ستر سال سے یہودی اپنے عالیشان گھر اور بڑے بڑے کاروبار چھوڑ کر اسرائیل کے بے آب و گیاہ علاقے میں آباد ہو رہے ہیں۔ یہ خود اس سودخور بینکاری معاشی نظام کے مالک ہیں۔ یہ اسرائیل امن کے لیے نہیں بلکہ جنگ کے لیے آئے ہیں۔ کوئی بلاوجہ یورپ اور امریکا کی پرسکون زندگی نہیں چھوڑتا۔ اس وقت جب جنگ عظیم دوم کے بعد یہودی ہی غالب آ چکے ہوں۔

یہ جوق در جوق ارض مقدس میں جاکر آبادہوتے رہے۔ انھوں نے وہاں کوئی صنعتی مرکز نہیں بنانا، صرف جنگ کرنا ہے جس کے بعد ان کے نزدیک ان کا مسیحا آ کر عالمی حکومت قائم کرے گا۔ لیکن اس جنگ کا ایندھن یورپ بھی ہوگا اور مشرق وسطیٰ ہی نہیں بلکہ تمام مسلمان امت۔ اس کا آغاز سید الانبیاء کی اس حدیث سے ظاہر ہوتا ہے۔ آپؐ نے فرمایا ’’عنقریب دریائے فرات سے سونے کا ایک پہاڑ برآمد ہو گا، پھر وہ اس پر قتال کریں گے، بس سو میں ننانوے آدمی قتل کر دیے جائیں
گے(مسلم)۔‘‘

یہ سونے کا پہاڑ کیا ہے۔ جنگ عظیم دوم کے بعد جب برٹن ووڈ معاہدہ ہوا تو دنیا نے کاغذ کے نوٹ جاری کرنے پر اتفاق کیا۔ لیکن کہا کہ اس کے بدلے میں سونا حکومت کے پاس موجود ہونا چاہیے۔ 1971ء میں فرانس نے امریکا کے صدر نکسن سے اپنا سونا طلب کیا تو اس نے کہا کہ یہ وعدہ پورا کرنے کے لیے نہیں کیا گیا۔ اس کے بعد سونا نہیں بلکہ ملک کی حیثیت Good Will کو معیار بنایا گیا۔ اور اس وقت دنیا میں یہ Good Will یعنی ڈالر کی قیمت کا اتار چڑھاؤ تیل سے وابستہ ہے اور کون نہیں جانتا کہ یہ تیل فرات کے آس پاس کس کس کو خون میں نہلا رہا ہے۔

عراقی حکومت، داعش، ایرانی ملیشیا، القاعدہ،امریکا اور یورپ ہر کوئی اس سونے کے پہاڑ پر ٹوٹ پڑا ہے اور فائدہ بھی اٹھا رہا ہے۔ لیکن سید الانبیاء نے فرمایا ’’پس جو اس وقت موجود ہو وہ اس سونے کے پہاڑ میں سے کچھ بھی نہ لے (متفق علیہ) جو اس سونے کے پہاڑ میں حصہ بٹا رہے ہیں ان کے لیے ہلاکت ہے اور جو اللہ کے بھروسے پر جنگ لڑتے ہیں ان کی فتح و نصرت کی بشارت۔

اوریا مقبول جان

اوریا مقبول جان پاکستان کے معروف کالم نگار، شاعر، دانشور، ناٹک نگار اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ بطور ستون نگار و دانشور ان کے ستون باقاعدگی کے ساتھ پاکستان کے معروف اردو اخبار روزنامہ ایکسپریس میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ وہ اپنی شاعری اور منفرد انداز تحریر کے باعث کئی ادبی اعزازات حاصل کر چکے ہیں، ا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top