شام… سیدنا مہدی کا ہیڈکواٹر

article-9.jpg

گزشتہ سال بیروت کی گلیوں میں گھومتے ہوئے کہیں نہ کہیں کسی شام سے ہجرت کر کے آنے والے شخص سے ملاقات ہوتی تو ذرا سی گفتگو پر اس شخص کی آنکھوں سے آنسوئوں کی جھڑی لگ جاتی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب پورے مشرق وسطیٰ میں کئی دہائیوں سے ظلم و جبر سے اپنا اقتدار برقرار رکھے ہوئے سیکولر آمروں اور ڈکٹیٹروں کے خلاف مسلمان اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ تیونس سے مراکش اور مصر میں لاکھوں لوگ سڑکوں پر تھے۔ اس دوران مجھے بیروت میں قائم کارنیگی انسیٹیوٹ کے سربراہان سے ملنے کا اتفاق ہوا۔
دنیا کے ان مشرق وسطیٰ کے ماہرین کا تجزیہ میرے ملک کے تلخ کافی کے گھونٹ حلق میں اتار کر خواہشوں کو تجزیے کا رنگ دینے والے دانشوروں سے مختلف نہ تھا۔ آدھا گھنٹہ میں اس بات پر الجھتا رہا کہ یہ سارا غصہ اور احتجاج ان بدترین سیکولر ڈکٹیٹروں کے اسلام کے خلاف ظلم و جبر کے خلاف ہے۔ عرب قوم پرستی کے یہ علمبردار مصر میں ناصر‘ شام میں حافظ الاسد‘ لیبیا میں قذافی‘ عراق میں صدام‘ مراکش میں زین العابدین علی 1970 کی دہائی سے مسلط رہے ہیں۔ یہ لوگ ہر ایسے شخص کو موت کے گھاٹ اتار رہے تھے جو اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کے مطابق زندگی گزارنے کی بات کرتا تھا۔
ان سب کی سیکولر ا خلاقیات کا یہ عالم تھا کہ عورتوں کی بے حرمتی‘ بچوں کا بہیمانہ قتل‘ مردوں کو اذیت دے کر مارنا اور تشدد و بربریت کے بدترین ہتھکنڈوں کا استعمال ان کا معمول تھا‘ شہروں‘ قصبوں‘ دیہاتوں اور گلیوں بازاروں میں ان کی داستانیں بکھری ہوئی تھیں اور ہر شخص اس حقیقت سے آگاہ تھے کہ یہ ظلم صرف اور صرف انھی لوگوں پر روا رکھا گیا جو اسلام کے حوالے سے پہچانے جاتے تھے۔ آہستہ آہستہ یہ حقائق لوگوں نے مرتب کرنے شروع کیے اور کتابوں یا کتابچوں کی صورت میں لوگوں کے ہاتھ میں آ گئے۔
تین سال قبل مصر کے شہر قاہرہ میں گھومتے ہوئے کافی خانوں اور خان خلیلی کے بازاروں میں نوجوان اس بات کا عام تذکرہ کرتے تھے کہ حسنی مبارک دراصل ہم سے اسلام کی شناخت چھین کر ہمیں ایک ایسے معاشرے کی جانب دھکیل رہا ہے جس میں شرم و حیا اور غیرت وحمیت کا نام و نشان تک ختم ہو جائے۔ ایسی ہی گفتگو میرے ساتھ بیروت کی گلیوں اور بکہ وادی میں مقیم شام سے ہجرت کرنے والے افراد نے کی۔
وہ بشارالاسد کے والد حافظ الاسد کی بعث پارٹی کے دور سے ظلم و ستم کا نشانہ بنتے آ رہے تھے۔ وہ اس پارٹی کے ان نعروں کا ذکر کرتے جس سے اللہ سے بغاوت کا اعلان ہوتا‘ انھیں اس بات کا مکمل احساس تھا کہ ان پر یہ ظلم اس لیے روا رکھا جا رہا ہے کہ ان کی شناخت صرف اور صرف اسلامی اصولوں پر ظاہری طور پر عمل کرنے کی وجہ سے ہے۔ یہ ساری باتیں جب میں نے کارنیگی انسیٹیوٹ کے عالمی دانشوروں کے سامنے رکھیں تو انھوں نے صاف انکار کر تے ہوئے وہی تجزیاتی فقرے دہرائے جو پاکستانی تجزیہ نگار ادا کر رہے تھے۔
یعنی یہ تو انسانی حقوق کی جدوجہد ہے۔ یہ تو ڈکٹیٹر شپ کے خلاف جمہوریت کی خواہش کا اعلان ہے‘ انھی تبصرہ نگاروں کی رپورٹیں تھیں جنہوں نے پوری دنیا کے میڈیا پر التحریر چوک سے لے کر دیگر ملکوں میں کھولتے ہوئے ہجوم کو ایک سیکولر جمہوریت نواز اور انسانی حقوق کی تحریک بنا کر پیش کیا۔ دنیا کے ہر ٹیلی ویژن اور اخبار نے البرادی جیسے لوگوں کو ہیرو بنانے کی کوشش کی تاکہ کہیں بھی تحریک کا اسلامی تشخص بحال نہ ہو سکے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا نے مصر سے لے کر تیونس‘ مراکش اور لیبیا میں ان تحریکوں کی حمایت کر دی۔
ہلیری کلنٹن اپنے ہی دوستوں اور ساری زندگی امریکی غلامی میں گزارنے والے سیکولر ڈکٹیٹروں کے خلاف بیان داغنے لگی۔ وہ جنہوں نے امریکا ا ور مغرب کو خوش کرنے کے لیے اپنی ہی قوم کے لوگوں کا خون بہایا لیکن جب عوام کا سیلاب امڈا‘ ڈکٹیٹر رخصت ہوئے تو سارے تجزیہ نگاروں کے تبصرے ان کی ناکام خواہش ثابت ہوئیں۔ عوام نے ان قوتوں کو اقتدار پر لا بٹھایا جو گزشتہ چالیس سالوں سے اسلامی تحریکوں کا ساتھ دینے کی وجہ سے پھانسیوں‘ قتل و غارت اور ظلم و تشدد کا شکار ہوئیں۔ اخوان المسلمون جس کا نام لینا پورے مصر میں حکومتی تشدد کو دعوت دینا تھا آج اس ملک کے اقتدار پر قابض ہے۔
اخوان اور اسلامی بنیاد پرست ان تمام ممالک میں تحریکوں کے دوران واضح طور پر کھل کر نہ آئے۔ انھیں علم تھا کہ اگر ایسا ہوا تو کچل دیے جائیں گے۔ اسی لیے تمام نعرے ڈکٹیٹر شپ کے خلاف تھے۔ شخصیت کے ظلم کے خلاف احتجاج تھا۔
لیکن شام کا معاملہ ان سے بالکل مختلف نظر آتا ہے۔ باقی ملکوں میں کسی ملک کی فوج نے اس قدر ظلم وستم کا مظاہرہ نہیں کیا‘ شام کے شہروں میں فوج کی کارروائی ایسے لگتی ہے جیسے امریکی فوج فلوجہ اور بصرہ کے شہروں میں گھس آئی اور نہ کسی کی جان محفوظ ہو اور نہ ہی عزت‘ ایسی داستانیں ہیں کہ رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ شاید بوسنیا کے بعد کسی اور ملک میں قدر مسلم نسل کشی کی گئی ہو۔ یہ اعزاز بھی شام کی سکیولر اور لا دین بشارالاسد کی حکومت اور اس کی لبرل بعث پارٹی کو حاصل ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے نعرے کسی اور ملک کے عوام نے لگائے اور نہ ہی ایسی مزاحمت کسی اور ملک میں نظر آئی۔
لاکھوں کا مجمعہ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے بڑھتا ہے ان کے منہ پر نہ جمہوریت ہے نہ انسانی حقوق‘ نہ آمریت ہے اور عوام کی رائے۔ بس خلافت کا نعرہ ہے۔ کسی بھی میڈیا کی سائٹ پر چلے جائیں آپ کو ہجوم میں لوگوں کے سروں پر کلمہ طیبہ کی پٹیاں نظر آئیں گی۔ جذبہ شہادت سے سرشار یہ لوگ اس مقام پر تحریک کو لے آئے ہیں کہ ستر فیصد علاقہ شامی حکومت اختیار سے نکل چکا ہے۔ سیکیورٹی ہیڈ کوارٹر پر حملہ جسے خود کش حملہ قرار دے کر بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس میں اہم ترین شامی فوجی قیادت ہلاک ہوئی لیکن تحریک کے لوگوں کا دعویٰ ہے کہ اسرائیلی موساد کا نمایندہ اور امریکی سی آئی اے کا نمایندہ جن کی موت کا کسی دوسرے جگہ پر دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ وہ بھی یہیں ہلاک ہوئے۔ شام میں نصرت کس کی ہو گی۔
سید الانبیا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرما تین جگہ جنگ شروع ہو گی‘ عراق‘ یمن اور شام۔ صحابہ نے پوچھا ہم لوگ کہاں جائیں فرمایا شام کیوں کہ اللہ کے فرشتے وہاں نصرت کے لیے نازل ہوں گے۔ شام جو تمام احادیث کے مطابق امام مہدی کا ہیڈکوارٹر بنے گا۔ جہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہو گا۔ وہاں اگر آج خلافت اور لبیک اللھم لبیک کے نعرے سنائی دے رہے ہیں تو یہ بشارتوں کے پورا ہونے کی علامت ہے۔
نوٹ:۔ العلم ٹرسٹ کے اکائونٹ نمبر کے بارے میں بیرون ملک احباب نے کہا کہ معلومات نامکمل ہیں۔ معذرت قبول فرمائیں مکمل اکائونٹ تفصیلات یہ ہیں۔ اکائونٹ نمبر 100-3737-1 برانچ کوڈ 1278 ‘ سوئفٹ کوڈ UNILPKKA یونائیٹڈ بنک‘ اگوکی‘ العلم ٹرسٹ‘ ایک اور وضاحت ضروری خیال کرتا ہوں العلم ٹرسٹ آج سے بیس سال قبل میرے انتہائی پیارے دوست سعید انور حیات صاحب نے اپنی تمام جائیداد وقف کر کے رفاحی کاموں کے لیے بنایا۔
ان کی کمال مہربانی ہے کہ میری سود کے خلاف‘ اور اسلامی نظام کے تدوین کے لیے تڑپ دیکھ مجھے اس ٹرسٹ کی مکمل ذمے داری دے جو میرے لیے بہر صورت اس دنیا اور آخرت دونوں کے لیے بہت بڑی جواب دہی ہے۔ یہ ٹرسٹ سیالکوٹ میں اسپتال اور اسکول جیسے ادارے انتہائی خاموشی سے چلا رہا ہے۔ جیسے سعید صاحب خود دیکھتے ہیں۔ ان اداروں میں زکوۃ و صدقات کی صورت اگر آپ حصہ ڈالنا چاہیں تو اسی بینک کا اکائونٹ نمبر100-3738-1 بالکل علیحدہ ہے جہاں زکوٰۃ وہ صدقات کے مصارف کے مطابق اخراجات کیے جاتے ہیں۔

اوریا مقبول جان

اوریا مقبول جان

اوریا مقبول جان پاکستان کے معروف کالم نگار، شاعر، دانشور، ناٹک نگار اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ بطور ستون نگار و دانشور ان کے ستون باقاعدگی کے ساتھ پاکستان کے معروف اردو اخبار روزنامہ ایکسپریس میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ وہ اپنی شاعری اور منفرد انداز تحریر کے باعث کئی ادبی اعزازات حاصل کر چکے ہیں، ا

loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top