سیکریٹ

secret-.jpg

لوگون کا تو پتہ نہیں مگر ہمیں بازار میں اکثر کوئی جاننے والا مل جائے تو جوش و جذبات سے دمکتے چہرے کے ساتھ یوں پیش آتا ہے جیسے اچانک میلے میں بچھڑے دو ساتھی مل گئے ہوں۔ لاکھ چھپتے پھرو لیکن دور سے ہی دیکھ کر یوں ہاتھ ہلائیں گے گویا ایرپورٹ پر ہمارے نام کا بورڈ اٹھا کر کھڑے ہیں۔ برسوں ایک فون کال پر حال نہ پوچھنے والے بھی بازار میں سر راہ ایسے شکوہ کرتے ہیں جیسے آج تک آپ سے ملاقات نہ ہو پانے کا شرف اور وجہ آپ کا غرور و تکبر اور نااہلی و نالائقی ہی تھے۔ حالانکہ شاپنگ پر نظر مارنے کے بہانے گرمجوشی سے ملنے والے یہی رشتہ دار کسی تقریب یا شادی میں یہ نیت رکھ کر سلام میں پہل نہیں کرتے کہ پہلے وہ کیوں چل کر خود آپ کے پاس آئیں۔ ؟

ہمارے بعض دوست رشتہ دار تو آس پاس کے ماحول کا خیال کیے بغیر اکثر ہمیں ہمارے ان ناموں سے پکارتے بھی نہیں چوکتے جو پبلک جگہوں پر ہم نےممنوعہ قرار دے رکھے ہیں۔ اور اتنی کوفت ہمیں ان سے ملاقات پر نہیں ہوتی جتنی حیرت آس پاس کے لوگوں کو سرعام ان کے منہ سے ان عجیب و غریب القابات کی رونمائی پر ہوتی ہے

ابھی چند دن پہلے کی بات ہے کہ بازار میں ایک ایسی ہی ہستی دکھائی دے گئی۔ جن سے ملاقات کی صورت میں پورا آدھا کلو عزت کا فالودہ ضائع ہونے کا احتمال تھا۔ ایسے میں ان سے بچنے کیلیے صرف چند سیکنڈ کا اتنا قلیل وقفہ تھا جب تک کہ انکی نظر ہم پر نہ پڑ جاتی۔

سو ہم نے فورا اپنے میاؤں کا ہاتھ پکڑا اور جس دکان کا دروازہ پہلے سامنے آیا اسے کھول کر بغیر دیکھے ہی اندر داخل ہو گئے۔جب اندر پہنچ کر اچھی طرح تسلی کر لی کہ اب اس ہستی سے سامنا نہ ہو گا تو مطمئن ہو کر سکون کا سانس لینے ہی لگے تھے کہ سامنے دیوار دیکھ کر ہمارا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے ہی رہ گیا۔

ہماری آنکھیں تو اس نظارے سے پھٹی کی پھٹی جبکہ ہمارے میاؤں کی چندھیا کر رہ گئیں ہیں۔ توبہ توبہ ایسی روح پرور تصاویر اور ایسے نظارے کہ اگر پوسٹر میں موجود حرکات کی عام زندگی میں سرعام “ری انیکٹمنٹ” کی جائے تو پولیس قابل اعتراض حرکات کے جرم میں سیدھا اندر کر دے۔
دکان کا نام دیکھا تو لکھا تھا “سیکرٹ ویئرز”
ہائے او ربا۔ ۔ ۔

ہوشربا نازنین و مہ جبینوں کی سرعام ایسی ایسی دعوت نظارہ دیتی تصاویر کہ ایسی جنت کو دیکھ کر حوروں کی طلب کس کافر کو رہے بھلا۔ ۔

چونکہ عموما ایسے “ویئرز” “انڈر و انڈر” خرید کر سیکرٹ طریقے سے ہی گفٹ کر دیے جاتے ہیں اسلئے دکاندار کیلیے بھی اچنبھے کی بات تھی کہ ہم دو لوگ اکٹھے سیدھا اندر آگئے۔ وہ بھی ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے۔

چہرے پر حیرت سجائے وہ ہم زوجین کی باہمی محبت سے گویا ‘متاثرہ’ ہوتے ہوئے بولا۔ ۔ جی سر ۔ ۔ یس میڈم مے آئی ہیلپ یو؟

سر تو یقینا سرک چکے تھے اور تاحال نین سینکائی میں ایسےمگن تھے کہ انہیں کچھ خبر نہ تھی سو ہم نے ہی جی کڑا کر ہینگرز میں لگے لیرو لیر باقیاتِ لباسیات کو دیکھنے کی ایکٹینگ کی ۔ دل ہی دل میں ڈیزائنر پر رشک بھی کیا کہ محض چند چیتھڑوں کے عوض ہزاروں لاکھوں کمانے کا موقع ہر ایک کو کہاں نصیب؟

رشک تو ہمیں اس انسان پر بھی آیا جو ابھی ارتقاء کے ابتدائی مراحل میں پتوں سے پردہ پوشی کر کے اپنا آپ بہتر طریقے سے چھپا لیتا تھا. یہ سیکرٹ ویئرز تو ان پتوں سے بھی زیادہ سیکرٹ رویولنگ تھے

سیلز مین جو بدستور ساتھ ساتھ چپکا ہیلپ کرنے پر بضد تھا بولا “میڈم کیا چاہیے۔ ۔ ؟ بولیے میں آپ کو نکال کر دیتا ہوں” شاید اسے میرے ہینگرز نکالنے اور واپس لگانے کے چکر میں سیٹینگ خراب کرنے پر بھی اعتراض تھا۔ مگر مجال ہے جو ہمارا اعتماد ڈگمگایا ہو۔ انتہائی اطمینان اور دل جلا دینے والے طنزیہ لہجے میں ہم نے بس یہی کہا۔ ۔
“بھیا اگر تمہاری دکان میں کوئی سیکرٹ بچ گیا ہے تو وہی دے دو”

فاطمہ عمران

فاطمہ عمران مصنفہ ہیں اور سوشل میڈیا کے مختلف بلاگز پر ان کی تحاریر شائع ہوتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top