صحافی اپنا سورس کیوں نہیں بتاتے ؟

for-web-12.jpg

یہ کوئی چھوٹی خبر نہیں تھی اس خبر نے دنیا کے طاقتور ترین خفیہ اداروں کو ہلا کر رکھ دیا ۔خبر بریک کرنے والے صحافی کو جھوٹا اور ملک دشمن کہا گیا۔ اسکی کئی انکوائریاں ہوئیں اور آخر کار اسے عدالت میں گھسیٹا گیا۔ عدالت میں صحافی سے خبر کا سورس پوچھا گیا لیکن ا س نے اپنا سورس بتانے سے انکار کر دیا کیونکہ جو صحافی اپنے سورس کو محفوظ نہ رکھ سکے اسکی صحافت غیر محفوظ بن جاتی ہے ۔ عدالت میں سورس بتانے سے انکار کرنے والے اس صحافی کا نام سیمور ہرش تھا ۔ سیمور ہرش نے 1982ء میں ایک کتاب لکھی جس میں امریکہ کے اس نامور صحافی نے انکشاف کیا کہ بھارت کے سابق وزیر اعظم مرار جی ڈیسائی امریکی سی آئی اے کے تنخواہ دار ایجنٹ تھے اور 1971ء میں اندرا گاندھی کی کابینہ کے اجلاسوں میں پاکستان کے متعلق ہونے والی گفتگو سے سی آئی اے کو آگاہ کیا کرتے تھے ۔

’’پرائس آف پاور ‘‘ کے نام سے شائع ہونے والی کتاب میں سیمور ہرش نے لکھا کہ مرار جی ڈیسائی کو سی آئی اے سے سالانہ 20ہزار ڈالر تنخواہ ملتی تھی ۔اس انکشاف پر سی آئی اے اور ڈیسائی دونوں ناراض ہو گئے ۔سیمور ہرش اس سے قبل ویت نام کی جنگ کے دوران مائی لائی میں امریکی فوج کی طرف سے قتل عام اور چلی کے صدر سلواڈور الاندے کیخلاف فوجی بغاوت میں سی آئی اے کے کردار سے پردہ اٹھا چکا تھا۔ سی آئی اے اسے ملکی سلامتی کیلئے خطرہ قرار دے چکی تھی لیکن مرار جی ڈیسائی کے متعلق انکشاف کے بعد خطرہ پیدا ہو گیا کہ دنیا بھر میں امریکی سی آئی اے کیلئے کام کرنیوالے سیاست دان خوفزدہ نہ ہو جائیں لہٰذا بھارت کے سابق وزیر اعظم کو سیمور ہرش کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی ترغیب دی گئی ۔مرار جی ڈیسائی نے ایک امریکی عدالت میں سیمور ہرش کیخلاف ہتک عزت کا دعویٰ کر دیا اور مطالبہ کیا کہ سیمور ہرش اپنا سورس بتائے ۔یہ مقدمہ کئی سال تک چلتا رہا ۔ ہرش نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ اس سے سورس پوچھنے کی بجائے اسکی خبر کو غلط ثابت کیا جائے ۔ 1992ء میں امریکی عدالت نے فیصلہ دیدیا کہ ہرش کو اس کا سورس بتانے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا ۔

اسرائیل کے سابق وزیر اعظم ایرل شیرون 1982ء میں وزیر دفاع تھے ۔یہ وہ سال تھا جب اسرائیلی فوج نے بیروت کے قریب صابرہ اور شتیلا کے علاقے میں فلسطینی پناہ گزینوں کا قتل عام کیا۔ اس قتل عام پر پوری دنیا میں چیخ وپکار شروع ہو گئی ۔ 21فروری 1983ء کو امریکہ کے مشہور ٹائم میگزین کے یروشلم میں نمائندے ڈیوڈ ہالوے کی یہ خبر شائع ہوئی کہ ا سرائیلی حکومت کی ایک خفیہ انکوائری میں یہ کہا گیا ہے کہ شیرون نے لبنان کے صدر بشیر جمائیل کو اعتماد میں لیکر فلسطینیوں کا قتل عام کیا۔ خبر شائع ہونے پر ڈیوڈ ہالوے کو اسرائیل کا غدار قرار دیدیا گیا حالانکہ وہ ایک سابق فوجی افسر تھا اور 1973ء کی عرب اسرائیل جنگ میں شیرون کے ہمراہ حصہ لے چکا تھا۔ شیرون نے ٹائم میگزین کے خلاف امریکہ میں قانونی چارہ جوئی کی اور ڈیوڈ ہالوے سے خبر کا سورس پوچھا ۔ہالوے نے سورس بتانے سے انکار کر دیا۔عدالت نے شیرون کو بھی طلب کیا اور کچھ سوالات پوچھے ۔شیرون نے ملکی مفاد کے نام پر کچھ سوالات کا جواب دینے سے انکار کر دیا جس پر ہالوے کے وکیل نے کہا کہ اس کے موکل کی خبر عوامی مفاد میں تھی اور وہ عوامی مفاد میں اپنی خبر کا سورس نہیں بتا سکتا۔

شیرون یہ مقدمہ ہار گیا امریکی صدر رچرڈنکسن کے خلاف واٹر گیٹ اسکینڈل کا انکشاف کرنے والے صحافی باب ووڈ ورڈز اور کارل برن اسٹائن سے بھی ان کا سورس پوچھا گیا تھا لیکن انہوں نے سورش نہیں بتایا تھا۔

امریکہ میں ایسے کئی واقعات بھی ہیں جہاں عدالتوں کو شک گزرا کہ رپورٹر کی خبر درست نہیں اور جب رپورٹر نے سورس بتانے سے انکار کیا تو اسے سزا دیدی گئی۔ اسکی ایک مثال نیو یارک ٹائمز کی جو ڈیتھ ملر ہے جس نے عراق کے خطرناک کیمیائی ہتھیاروں کے متعلق خبریں دیں لیکن اسکی خبریں غلط ثابت ہوئیں اور اسے جیل کی ہوا کھانی پڑی لیکن مہذب دنیا میں عمومی طور پر عدالتیں صحافیوں سے ان کا سورس ظاہر کرنے پر اصرار نہیں کرتیں۔ پاکستان جیسے نیم جمہوری ممالک میں اکثر اوقات صحافیوں کو نیشنل انٹرسٹ یعنی قومی مفاد کے نام پر بلیک میل کیا جاتا ہے ۔ کبھی انہیں قومی مفاد میں سچ چھپانے پر مجبور کیا جاتا ہے اور وہ سچ لکھ دیں تو ملکی مفاد کیلئے خطرہ قرار پاتے ہیں ۔ میں نے اگست 1990ء کے ابتدائی دنوں میں یہ خبر دی کہ صدر غلام اسحاق خان نے بےنظیرحکومت برطرف کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔ اس خبر پر مجھے ڈیوس روڈ لاہور سے اغواء کیا گیا اور مارپیٹ کر خبر کا سورس پوچھا گیا۔ جب میں نے انکار کیا تو ایک خفیہ ادارے کے افسر نے مجھے قومی مفاد میں سورس کا نام بتانے پر اصرار کیا اور جب مجھے قومی مفاد کی سمجھ نہ آئی تو پھر تھپڑوں کی بارش ہو گئی۔

1997ءمیں پیپلز پارٹی کے رہنما نصیر اللہ بابر نے وزیر اعظم نواز شریف کی کچھ مبینہ آف شور کمپنیوں کے متعلق دعوے کئے تو اس خاکسار نے اپنے کالم میں مسلم لیگ (ن) سے کچھ سوالات پوچھے ۔پرویز رشید صاحب نے ان سوالات کا جواب دیا جس کے بعد میرے کالم میں نصیر اللہ بابر کا جواب الجواب شائع ہوا ۔ اس دوران میری زیر ادارت اخبار میں آف شور کمپنیوں سے متعلق کچھ دستاویزات شائع ہو گئیں۔ مجھ سے ان دستاویزات کا سورس پوچھا گیا سورس نہ بتانے پر میرے چیف ایڈیٹر کو کسی اور مقدمے میں گرفتار کر لیا گیا اور مجھے ادارت چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا۔ اسی زمانے میں جسٹس ناصر اسلم زاہد کی سربراہی میں ایک تین رکنی کمیشن میر مرتضیٰ بھٹو قتل کیس کی انکوائری کر رہا تھا ۔ اس کمیشن نے ایک صحافی سرفراز احمد کو بلا کر پوچھا انہیں مرتضیٰ بھٹو کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کس نے دی ؟

سرفراز احمد نے سورس کا نام بتانے سے انکار کر دیا اور عدالت نے 13فروری 1997ء کو کہا کہ صحافی کو سورس بتانے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ 2013ء میں ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں خالد شمیم کو گرفتار کیا گیا۔ کراچی کے صحافی آغا خالدنے دعویٰ کیا کہ خالد شمیم خفیہ اداروں کی تحویل میں ہےسندھ ہائیکورٹ نےخالد شمیم کی گمشدگی کے متعلق درخواست کی سماعت میں صحافی کو بلا کر اس کا سورس پوچھا لیکن صحافی نے انکار کردیا۔

واضح رہے کہ 2012ء میں سپریم کورٹ کے جسٹس غلام ربانی این آئی سی ایل کیس میں قرار دے چکے ہیں کہ صحافی اپنا سورس بتانے کے پابند نہیں ۔ اس وقت کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے صحافی احمد نورانی سے ان کا سورس پوچھا تھا لیکن احمد نورانی نے سورس بتانے سے انکار کر دیا تھا آج کل چوہدری نثار علی خان وہی پوچھ رہے ہیں جو رحمان ملک پوچھتے تھے ۔ ڈان کے صحافی سیرل المیڈا سے انکی خبر کا سورس پوچھا جا رہا ہے ۔ میں خبر کے صحیح یا غلط ہونے کی بحث میں نہیں پڑتاکیونکہ میری اطلاع کے مطابق سرل المیڈا نے اپنی خبر کے سلسلے میں شہباز شریف سے رابطہ کیا تھا اور شہباز شریف نے اس خبر کو غلط قرار دیا ۔ شہباز شریف کے ایک قریبی ساتھی کہ پاس سرل المیڈا کا پیغام اور شہباز شریف کا جواب محفوظ ہے ۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ شہباز شریف کی تردید کے باوجود اخبار نے خبر کیوں شائع کی ؟ کیا اخبار کا سورس شہباز شریف سے زیادہ معتبر تھا ؟ پاکستان کے 26خفیہ ادارے دن رات سیاست دانوں اور صحافیوں کی نگرانی کرتے ہیں انکے فون بھی سنتے ہیں ۔

یقیناً انہیں ڈان کے سورس کا پتہ ہو گا اور اگر پتہ ہے تو اس سورس سے انکوائری کریں جس نے سرل المیڈا کو اتنے اعتماد سے خبر دی کہ اس نے شہباز شریف کی تردید کو قابل اعتماد نہیں سمجھا۔ کسی صحافی سے اس کا سورس پوچھنا نامناسب ہے جو بات ہمارے خفیہ اداروں کو اچھی طرح معلوم ہے وہ ایک صحافی سے پوچھنے کی کیا ضرورت ہے ؟

حامد میر

حامد میر ایک پاکستانی صحافی، سیکورٹی کے ماہر، جنگ کے نامہ نگار، خبر لنگر، اور ایک مصنف ہے.

loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top