پراسراربارشوں کا راز

mm.jpg

کائنات کے اسرار کا علم ہمیشہ سے نہایت دلچسپ رہا ہے ۔ بھلے ہی اس میں محنت دوسرے علوم سے کہیں زیادہ لگتی ہے لیکن یہی علم سوچ کو نئی کھوج اور روشن منزلوں کا مسافر بناتا ہے ۔
آج کا ہمارا موضوع تاریخ کی ان پرسرار بارشوں سے متعلق ہے ۔ جو صدیوں سے انسان کیلئے خوف ، تجسس اور جستجو کی علامت بنی رہیں ۔

قارئین !لفظ بارش اپنے اندر بہت سارے خوبصورت احساسات رکھتا ہے ۔ فلک کی بلندیوں سے گرتی رم جم ہمارے اندرایک دلکش سماں پیدا کر دیتی ہے ۔ دل کے شفاف آئینوں میں کچھ حسین یادیں ابھر کر ہمیں مخمور کرتی ہیں ۔ بارش قدرت کا ایک بہت اہم عمل ہے۔ لیکن جب یہ عمل اپنی شدت پر اترتا ہے تو خواب خیال سب دھواں ہوکر فکر میں بدل جاتے ہیں ۔ تاریخ نے کھیت کھلیان اور زندگیاں ویران ہوتے دیکھی ہیں ۔ کچھ جلے ہوئے جسم اور راکھ زدہ مکان بھی قدرت کے ا س عمل سے شکوہ کناں نظر آتے ہیں ۔

قارئین ! صدیوں سے اہل زمیں کو کچھ ایسی بارشیوں کا بھی سامنارہا ہے ۔ جو خوف، ڈر اور حیرت جیسے پرسرار پہلوؤں کی حامل تھیں ۔ ’’

جی ہاں خواتین و حضرات ! لوگوں نے آسمان سے پانی کے ساتھ مینڈک ، زندہ مچھلیاں ،جھینگرے اور گیلے پتھر زمین پر گرتے دیکھے ہیں ۔ ۔۔۔بادل کی گن گرج اور بجلی چمک میں یہ منظر نہایت بھیانک اورپرسرار دکھائی دیتا آیا ہے ۔ مذہبی تاریخ میں ایسی بارشوں کو رب کا عذاب قرار دیا گیا ہے ۔ جبکہ سماجی تاریخوں میں اس سے بہت سارے خوفناک قصے منسوب کیے گئے ہیں ۔ عام حالات میں اسے خوف و دہشت کی علامت سمجھا جاتا ہے ۔ کیونکہ آسمان سے اترتے اس دہشت کے منظر میں جانداروں کی چیخیں اور ہوائی تھپیڑے ماحول میں خوفناک تاثر پیدا کردیتے ہیں ۔ جبکہ زمین پر ان کے گرنے کی آواز اور چھتوں سے ٹکرانے کی دھمک دل کے درو دیوار میں شدید دہشت پیدا کردیتی ہے۔
جب ایسی ہی کچھ بارشوں کا سامنا دنیا کے ترقی یافتہ ممالک امریکہ ،آسٹریلیا ، جاپان اورروس کو کرنا پڑا تو حیر ت انگیز طور پر ڈر ، خوف اور من گھڑت کہانیوں کے بجائے تحقیق کاایک نیا باب کھلا ۔اس تحقیق میں سب سے اہم پوئنٹ یہ تھا کہ آسمان سے برسنے والے جاندار دراصل آتے کہاں سے ہیں ۔ اگر ان کی جائے پیدائش زمین ہے تو یہ آسمان کی بلندیوں تک کیسے پہنچتے ہیں ۔

معززقارئین ! تحقیق کا ہر عمل اپنے اندر ایک کشش رکھتا ہے ۔ جو اپنی تکمیل کے بعد علم جیسے خوبصورت لفظ میں ڈھل جاتا ہے ۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں تحقیق کے دوران ایک بڑی مشکل یہ تھی کہ بارش کی یہ پرسرار قسم بہت کم رونما ہوتی ہے۔ یوں تحقیق میں کچھ زیادہ پیش رفت نہ ہوسکی ۔ کبھی کبھی قدرت انسان کے صبر کو آزماتی ہے ۔ یہ صبر بعض اوقات صدیوں کی مسافت طے کرتا ہوا اپنی تکمیل تک پہنچتا ہے ۔ کافی عرصہ تگ داؤ کے بعد باآخران پرسرار بارشوں کا معمہ حل کر لیاگیا ۔ آسمان سے برسنے والے ان جانداروں کا راز کھل گیا ۔ اور حقیقت جان کر یقیناًآپ بھی حیران رہ جائیں گے۔۔۔۔۔۔۔

خواتین و حضرات ! ہماری دنیامیں بارش دو اقسام پائی جاتی ہے۔پہلی وہ قسم جو بہت عام ہے ۔ہمارے لفظوں میں اسے رم جم کہتے ہیں ۔ اس بارش میں بادل ایک سطح بنا کر قطرہ قطرہ پانی زمین تک پہنچاتا ہے ۔ جبکہ دوسری قسم بہت نایاب ہے ۔ اسے واٹر ٹورینڈو کہتے ہیں ۔بارش کی اس قسم میں باد ل زمین کے بہت قریب آجاتا ہے ۔ پھر ان بادلوں میں سے پانی کا ایک عظیم چشمہ پھوٹتا ہے ۔

قارئین ! پانی کا یہ چشمہ کئی ایکٹ تک وسیع ہوتا ہے ۔ اور سینکڑوں فٹ بلندی سے زمین تک پہنچ رہا ہوتا ہے ۔ واٹر ٹورینڈو بارش ایک منٹ میں چالیس ہزار گیلن پانی زمین تک پہنچاتی ہے ۔ واٹر ٹورینڈوقدرت کا عظیم شاہکار ہے ۔ اسے دیکھ کر بالکل ایسا لگتا ہے ۔جیسے کسی نے آسمان سے ہائی پاور واٹر پمپ کا منہ کھول رکھا ہے
خواتین وحضرات !بارش کی یہ قسم زیادہ تر سمندروں اور دریاؤں پر رونما ہوتی ہے ۔مسلسل ایک گھنٹہ بارش کے بعد دریا اچھل پڑتے ہیں اور سمندر تیور بدلنے لگتے ہیں ۔ واٹر ٹو رینڈو ایشیا میں بہت کم رونما ہوتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم لو گ اس قدرتی عمل سے بہت نا واقف ہیں

اب سوال یہ ہے کہ آسمان سے برسنے والے جانداروں کی حقیقت کیا ہے۔ وہ کون سی پرسرار وجہ ہے جو صدیوں سے انسان پر مچھلیاں مینڈک اور گھاس پھوس پھینک کر خوف و دہشت اور من گھڑت کہانیوں کو جنم دیتی رہی ۔۔۔
خواتین وحضرات ! کافی ریسرچ کے بعد ایک دلچسپ وجہ سامنے آئی ۔دراصل آسمان سے برسنے والا واٹر ٹورینڈو پہلے کسی دور دراز کے سمندری یا دریائی خطے سے پانی فضا میں منتقل کرتا ہے ۔ پانی کی یہ منتقلی کا منظر بہت دلچسپ اور ہیبت ناک ہوتا ہے ۔ اس منظر میں پانی کے اوپر شدید ہوائی دباؤ پیدا ہوجاتا ہے۔جس سے پانی کا ایک حصہ آسمان کی طرف جادوئی انداز میں اٹھنا شروع کردیتا ہے ۔ رفتہ رفتہ یہ عمل اتنا تیز ہوجاتا ہے کہ پانی کی سطح سے نیچے تہہ تک شدید ہلچل پیدا ہوجاتی ہے ۔ زیر پانی ہر چیز آسمان کی طرف اٹھتے واٹر ٹورینڈو کی طرف کھینچنا شروع ہوجاتی ہے ۔ فلک کی بلند یوں کی طرف اٹھتا ہوا پا نی گولائی میں اوپر جاتا ہے ۔ اس پانی کے اندر ہلکے اجسام کی مچھلیاں ،جھینگرے سمندری پودے اور مینڈک وغیرہ شامل ہوتے ہیں ۔ اس عمل کے دوران ساحلوں اور کناروں پر موجود جاندار بھی ہوائی دباؤ کی وجہ سے اس واٹر ٹورینڈو کا حصہ بن جاتے ہیں

خواتین و حضرات ! پانی کی منتقلی کا یہ منظر دیکھ کر بالکل ایسا لگتا ہے ۔ جیسے آسمان پر ہائی پاور واٹر پمپ کام کر رہا ہے ۔ جو لاکھوں ٹن پانی بڑی آسانی سے اوپر کھینچ رہا ہے ۔جب پانی سینکڑوں فٹ اوپر بلندی تک پہنچتا ہے تو وہاں 160 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتی ہوائیں اسکی منتظر ہوتی ہیں ۔ جو اسے فوری طور پر مطلوبہ علاقوں کی طرف روانہ کردیتی ہیں ۔ یوں پانی سمندر سے نکلتے ہی ہزاروں میل دور پہنچ جاتا ہے ۔ اس پانی کے اندر زندہ مچھلیاں ، سمندری پودے اور اسی طرح کی بہت ساری چیزیں شامل ہوتی ہیں ۔ جو مطلوبہ علاقے پر پہنچتے ہی ہوائی رفتار کی کمی کے باعث زمین پر آن گرتے ہیں ۔ یوں بارش کے انتظار میں چڈی پہنے حضرات پھر دروازے کھڑکیاں بند کر کے کانپتے نظر آتے ہیں ۔

خواتین و حضرات ! یہ تھی وہ وجہ جو صدیوں سے انسان کیلئے خوف کا باعث بنی رہی ۔ سر ،سنگیت اور لہجے لرزاں رہے ۔ لیکن جب انسان نے اپنے شعور کا استعمال کیا تو حقیقتیں خو د بخود قلم بند ہونے لگیں ۔ لیکن افسوس ہمارے معاشرے میں ایسا نہیں ہوتا ۔ہم قدرت کے ہر عمل کو خدا پر چھوڑ کر خود کو صدیوں خوف میں مبتلا رکھتے ہیں ۔ جبکہ خدا ہمیں شعور دے کر اپنی قدرت کے رنگ دکھاتا ہے ۔ تاکہ ہم اسکی قدرت سے علم حاصل کرسکیں ۔ خدا کا یہ اشارہ افسوس ہم نہ سمجھ سکے ۔ ہم اسے رب کا عذاب کہتے رہے ۔قدرت بار بار اپنے رنگ دکھاتی رہی ۔ آخر غیروں نے رب کے اس اشارے کو سمجھا ۔ کائنات کے ہر خوف کو علم جیسے خوبصورت لفظ ڈھالا ۔ آج غیر مسلم پورے دنیا کے علوم پر دسترس حاصل کرچکے ہیں ۔ وہ پوری دنیا پر راج کے خواب بن رہے ہیں ۔ جبکہ ہم آج بھی سماجی ، سیاسی اور مذہبی خوف میں مبتلا نظر آتے ہیں ۔ شاید آپ کو یاد ہو ماضی میں پاک و بھارت میں طاعون کی بیماری پھیلی تھی ۔ جس سے بہت ساری اموات وقو ع پذیر ہوئیں ۔ مندر مسجدیں اور گرجے پوجا ریوں سے بھر گئے ۔ کسی ایک نے بھی اس بیماری پر تحقیق کرنے کی کوشش نہیں کی ۔ ہر طرف ایک ہی صدا تھی ۔۔۔۔ ہاں یہ رب کا عذاب ہے ۔ لیکن پھر ایک امریکی خاتون سائنسٹسٹ نے اس بیماری کا توڑ نکالا ۔ یوں چند دنوں میں یہ بیماری جڑ سے ختم ہوگئی ۔ ۔۔ کہاں گیا رب کا عذاب ؟ دراصل میرے رب کریم کی طرف سے اترنے والا ہر مسئلہ اپنے اندر ایک علم کاایک باب لیے وارد ہوتا ہے ۔ قدرت چاہتی ہے انسان اس کے اسرار کو جانے ، لیکن انسان اکثر اپنے روایتی مزاج اور عقائد سے مار کھا کر اس اشارے کو سمجھ ہی نہیں پاتا ۔ یوں صدیوں خوف کا سلسلہ جاری رہتا ہے ۔

قارئین ! آج وہ لوگ ہم سے زیادہ ترقی یافتہ ہیں جو رب کو نہیں مانتے ۔وجہ یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں رب ایک خوف کا نام ہے ۔جو انسان پر حاوی ہوکر آگے نہیں بڑھنے دیتا ۔ جبکہ کائنات کے اسرار منتظر ہیں کہ کب انسان انھیں اپنے قلم کی زینت بنائے ۔

خواتین وحضرات ! غیر مسلم کمیونٹی کی اس بات کو اپنے معاشرے کے برابر رکھ کر سوچیں تو ان کی بات سچ معلوم ہوتی ہے ۔ ہم ہرنہ سمجھ آنے چیز رب کریم پر ڈال کر خاموش ہوجاتے ہیں ۔ ہم از خود کچھ جاننے کی کوشش ہی نہیں کرتے ہیں ۔
آج میری بات دل کی اتھاہ گہرایوں سے سن لیں ! رب کریم انسان کی سب سے بڑی طاقت ہیں ۔ لیکن ہم نے انھیں اپنی سب سے بڑی کمزوری بنا رکھا ہے ۔ رب کریم ہرصحیفے ،اور ہر الہامی کتاب میں سب سے پہلا اعلان یہی کرچکے ہیں ۔ پڑھ اپنے پروردگار کے نام سے ، جو بڑا مہربان ہے ۔

خواتین و حضرات ! یہاں رب کریم نے اپنی قدرت کے ان علوم کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ جو دیکھنے میں بھیانک ہوسکتے ہیں ۔ پرسرار خاصیت کے حامل ہوسکتے ہیں ۔ دہشت ان کا بنیادی جز بن سکتی ہے ۔ لیکن جب انسان علم حاصل کرلیتا ہے ۔ تو یہی خوفناک مناظر دلچسپ نظارہ بن جاتے ہیں ۔یہ ہے وہ علم جسے حاصل کرنا فرض قرار دیا گیا ہے۔میں نے دنیا کے کئی مذاہب میں علم کا معیار جاننے کی کوشش کی ہے۔ لیکن جو فضیلت اور معیار اسلام میں بیان ہوا ہے ۔ میرے آقا کریم ﷺ نے جسطرح علم کے حصول کیلئے تاکید کی ہے اور صحابہ کرامؓ نے جسطرح تائید کی ہے ۔ اس کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی ۔ اگر ہم اپنے اسلامی ادوار میں مسلمان علماء و فقہا کا علمی اور تحقیقی رجحان دیکھیں تو عقل دنگ رہ جاتی ہے۔

قارئین ! سب سے پہلے موسمیات پر تحقیق کرنے والے سائنسٹسٹ ابو یوسف یعقوب کندی تھے ۔ جنھوں نے موسمیات پر پچاس سے زائد نہایت جامع کتابیں لکھیں ۔ آج جتنی بھی موسمیاتی ٹیکنالوجی منظر پر ابھر رہی ہے۔ اس کا اصل سہر ہ ابو یوسف یعقوب کندی کے سر ہے۔ جنھوں نے قوس قزاح کے رنگوں سے لے کر زلزلوں کی وجہ تک ہر چیز نہایت واضح انداز میں بیان کی۔

البیرونی وہ پہلے سائنسدان تھے جنھوں نے چشموں کے پھوٹنے کی وجہ سورج کی خاص شعاعوں کو قرار دیا ۔ نیز مدوجزر میں چاند کا کردار واضح کرکے علم ماسکونیات کی بنیاد رکھی۔
ابو طیب سند بن علی وہ پہلے معدنیاتی سائنسدان تھے جنھوں نے اصلی اور نقلی دھات میں فرق نکالنے کا فارمولا ایجاد کیا ۔ حیرت انگیز طور پر یورپی آج تک اس فارمولے جیسا کوئی دوسرا فارمولا تیار نہیں کر سکے
ابوبکر رازی وہ پہلے سائنسدان تھے جنھوں نے ہزاروں،لاکھوں سال پہلے مرے جانداروں کے فوسلز پرپہلی بار روشنی ڈالی۔ یوں ارضیات کے علم میں ایک سب سے انوکھا اضافہ ہوا۔

بنو موسی وہ پہلے سائنسٹسٹ گزرے۔ جنھوں نے پانی کی گہرایوں اور کھائیوں میں اترنے کیلئے آکسیجن ماسک کو ایجاد کیا ۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمان صدیوں پہلے آکسیجن اور ہائڈروجن کے علم سے بھی واقف تھے
خیرجناب اگر ہم اپنی تاریخی حثیت پر بات کرنے بیٹھیں تو لفظ کم پڑ جائیں گے فقط اتنا کہوں گا جب تک ہم نے خدا پر کامل یقین اور خود پر بھروسہ رکھا ۔تب تک ہم دنیا کے حکمران ٹھہرے ۔ جیسے ہی ہم نے سب کچھ خدا پر چھوڑ دیا پھر خدا نے بھی ہمیں ہمارے حال پڑ چھوڑ دیا ۔ آج ڈر خوف اور ذلت ہمارا مقدر ہے۔

خیر خواتین و حضرات ! آخری دلچسپ بات عرض کرتا چلوں ۔

وہ واٹر ٹورینڈو جو صدیوں سے انسان کیلئے خوف کی علامت بنا رہا ۔ لیکن جب سے اسکی حقیقت سامنے آئی ہے ۔تب سے مصنوعی واٹر ٹورینڈو بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ جس میں رنگ برنگے نظارے ہونگے ۔ پھر ان نظاروں کے درمیاں فلم شوٹنگ کا اہتمام کیا جائے گا۔ کہاں صدیوں کا خوف اور کہاں رومینس کے نظارے ۔ یقیناًبڑی دلچسپ صورتحال ہوگی
میں فقط اتنی گزارش کروں گا ۔ ہر چیز کو خدا پر مت چھوڑو ۔ خدا نے تمھیں کچھ ذمہ داریاں سونپی ہیں اپنی عقل و شعور کا استعمال کریں ۔ رب کریم کی ذات کو اسکی قدرتوں میں تلاش کرو۔ اندھا دھند عبادتیں کبھی بھی رائیگاں ہوسکتی ہیں ۔ لیکن علم کے توسط سے انسانیت پر کیا گیا ایک بھی احسان آپ کیلئے راہ نجات بن سکتا ہے ۔لہذا کائنات کے اسرار کو جاننے کی کوشش ضرور کریں ۔

ایم عمران ادیب

ایم عمران ادیب مصنف ہیں

loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top