اوکھے پینڈے ۔۔ لمیاں نے راہواں

okhay-painday.jpg

زینب بڑی دیر تک مزار کی جالی سے سر ٹکائے روتی رہی۔ روتے روتے وہ نڈھال سی ہوگئی ۔ آہستہ آہستہ اُسکے رونے کی آواز سسکیوں میں بدلنے لگی۔ جانے کیا دُعا تھی جو وہ تقریبا اُدھے گھنٹے سے مانگ رہی تھی۔ کچھ دیر بعد اپنی چادر کو سر پر جماتے ہوئے وہ اُٹھ کھڑی ہوئی ۔ اپنی متورم آنکھوں کو اپنی ہتھیلی سے رگڑتے ہوئے وہ مزار کی سیڑھیوں سے نیچے اُترنے لگی۔ آخری سیڑھی پر قدم رکھتے ہوِئے ، ایک انتہائی درد بھری آواز اُسکی سماعت سے ٹکرائی تو وہ دم بخود ہو کر اُواز کی سمت دیکھنے لگی۔

اوکھے پینڈے، لمیاں نے راھواں عشق دیاں

درد جگر، سخت سزاواں عشق دیاں ۔ ۔ ۔

ایک بوڑھا فقیر، ہاتھ میں کاسہ اُٹھاِئے۔ کالا چغہ ، گلے میں موٹے موٹے موتیوں کی مالا پہنے ۔ انتہائی پُرسوز اُواز میں گارہا تھا۔ زینب کے قدم بے خودی کے سے انداز میں فقیر کی سمت اُٹھنے لگے۔فقیر کے قریب پُہنچ کر کچھ لمحے ساکت ہو کر وہ فقیر کو گاتے سُنتی رہی پھر جب اُس کی نظر کاسے پرپڑی تو اُس نے بھیک دینے کے لئے اپنے پرس کو کھولا ، کُھلا نظر نہ ملنے پر اُس نے سو روپے کا نوٹ نکال کر فقیر کی جانب بڑھادیا۔

‘لگتا ہے دل ٹوٹا ہے تمہارا ؟ ‘ فقیر نے کاسہ زینب کی جانب بڑھاتے ہوئےپُراسرار لہجے میں کہا۔

زینب اس اچانک سوال کے لئے بالکل تیار نہ تھی۔ وہ سٹپٹا گئی اور غیرارادی طور پر اُس نے اپنا سر اثبات میں ہلادیا۔فقیربابا نے زینب کو اپنے سامنے بچھی چٹائی پر بیٹھنے کا اشارہ کیاتووہ جہاں کھڑی تھی وہیں بیٹھتی چلی گئی۔ ‘ لگتا ہے چوٹ بہت گہری ہے ‘ فقیر بابا نے اُس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا ۔ زینب کو لگا جیسے اُسے کوئی ہم درد، کوِئی اپنا مل گیا ہو ۔ آنسو سارے بند توڑ کر اُس کے گالوں پر بہنے لگے۔ ‘بابا جی میری مدد کریں ، میرے لئے دُعا کریں کے میں جس سے محبت کرتی ہوں وہ مجھے مل جائے ‘ ۔

‘ پہلے تو یہ بتا کہ تجھے محبت چا ئیے یا محبوب ؟ ‘ وہ بابا کے اس سوال کو نہ سمجھ سکی اور اُس کا منہ تکنے لگی۔ ‘ دیکھو محبت کا اور محبوب کا ملنا دو الگ الک باتیں ہیں۔ ضروری نہیں کہ جسے تم چاہو، وہ بھی تمہیں چاہے، اور ایسے میں وہ تمہیں مل بھی جائے تو پھر شاید تم محبوب تو حاصل کرلو مگر محبت حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکو۔ ہمیشہ یاد رکھو ، تمہارا مقصود محبت ہونی چائیے محبوب نہیں۔ محبت لافانی جزبہ ہے جبکہ محبوب تو فانی ہے، آج اگر وہ تمہیں مل بھی گیاتو ایک نہ ایک دن موت تم دونوں کو جدا کر دے گی۔مگر محبت ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔ یوں بھی جو مل گئے وہ بے نشان ہو گئے ، جو مل نہ سکے وہی داستانوں میں امر ہوگئے۔ یہ ملنے بچھڑنے کا جھگڑا، یہ کھونے کا پانے کا قصّہ ، یہ دوری اور قربت یہ سب بے معنی باتیں ہیں۔ انسان ہمیشہ اپنی مادی اور جسمانی آرزوں کی تکمیل چاہتا ہے۔اسی لئے وہ اپنی پسندیدہ چیزیں اپنی دسترس میں لانا چاہتا ہے۔ شاید ابھی تمہارے لئے ان باتوں کو سمجھنا مشکل ہو۔ ابھی تم نے اپنی دل میں محبت کا صرف بیج بویا ہے۔ اسے تناور ہونے میں وقت لگے گا۔ محبت کو ارتقاِئی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ صبر اور ریاضت درکار ہوتی ہے۔ محبت اور جنت دونوں کا حصول ایک کٹھن اور مشکل کام ہے۔بڑا حوصلہ چاہیے دونوں کو پانے کے لئے۔

فقیر روانی میں سب کہے چلا جارہا تھ۔ا اور زینب بُت بنی سب سُن رہی تھی۔ ‘ مگر میں اُسے بھول نہیں سکتی ‘ ۔ لگتا تھا وہ اپنے محبوب سے دستبردار ہونے کے لئے ہرگز تیار نہ تھی۔

‘میں اس مزار پر روزانہ سینکڑوں لوگوں کو گڑگڑا کر اپنے لئے محبوب کی بھیک مانگتے دیکھتا ہوں ، مگر میں یہ یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ جن کو محبوب مل گیا ہوگا وہ چند ہی سالوں میں محبت کا نام بھول چکے ہوں گے اور جن کو نہیں ملا ہوگا وہ محبوب کا نام ۔۔۔۔ ‘ فقیر ن طنزیہ لہجے میں کہا ۔ ‘ یہ اللہ کا خاص انعام ہے جو بہت خاص لوگوں کو ملتا ہے۔ محبت ایک درد ہے اور جب یہ درد کی نعمت عطا ہوتی ہے تو وہ آوازوں کو سوز، الفاظ کو اثر اور دلوں کو گداز عطا کر دیتی ہے۔ یہ جو لوگ تم اپنے اردگرد دیکھتی ہو، جو دوسروں کے درد بانٹتے پھرتے ہیں ، یہی تو وہ اہلِ دل ہوتے ہیں جو اللہ کے نوازے ہوئے خاص لوگ ہوتے ہیں ۔ یہ لوگ محفلوں میں تنہا ہوتے ہیں اور تنہائی میں انجمن سجا لینے کا فن جانتے ہیں۔ ‘ جا، تو بھی اگر آزمائش کی بھٹی میں جلنے کا حوصلہ رکھتی ہے تو محبت کی تمنا کر ، ورنہ ابھی توبہ تائب ہوکر اپنے گھر جا اور ہنسی خوشی زندگی گزار ۔ ۔ ۔ ‘

زینب نے فقیر کی طرف دیکھا اور اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی ‘ بابا جی سچ بتائِں آپ کی آواز میں سوز اور درد محبت کو پانے سے آیا یا محبوب کو کھونے سے ؟’ زینب کی بات سُنکر فقیر کی بوڑھے چہرے پر ایکدم گہرے دُکھ کا سایہ سا لہرا گیا ، اُس کی آنکھوں سے دو آنسو ٹپکے جو اُسکے چہرے کی جھُریوں سے اُلجھ کر راستے میں ہی کہیں کھو گئے ۔ اس نے جھٹ سے اپنا کاسہ ہاتھ میں لیا اور تیزی سے ایک طرف چلدیا ۔ زینب سکتہ کے عالم میں اسکو دور جاتے ہوئے دیکھتی رہی ، اُسے اپنے سارے سوالوں کے جوابات مل چُکے تھے۔ فقیر کی کپکپاتی آواز میں سوز اور درد کئی گنا بڑھ چکا تھا، اور اب اُس کی آواز لمحہ بہ لمحہ زینب سے دور جا رہی تھی۔

اوکھے پینڈے ۔۔ لمیاں نے راہواں

سحر امتیاز

سحر امتیاز اُردو صفحہ کے مصنفہ ہیں، اور معاشرے کے مختلف پہلو پر لکھتی ہیں،

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top