نان رومنٹک

non-romentic.jpg

آکر بولے “آئی لو یو”
میں نے صاف کہا بھئی کہ” کیا آئی لو یو؟” تین لفظ بنا دیے گوروں نے۔ اور آپ کی جان خلاصی ہوئی۔ بس تین لفظ بولے اور بات ختم ۔ یہ
I love you 😀
I am sorry 😛
Please forgive me 😉
اس قسم کے رٹے رٹائے تین لفظی جملوں نے تو شادی آسان کی ہوئی ہے آپ مردوں کی۔ 😛
فورا کہنے لگے “بیگم بھلا ہو ان گوروں کا جن کے تین الفاظ کی ہی مہربانی ہے کہ گلو خلاصی ہو جاتی ہے۔ ورنہ اپنے تین الفاظ ،”قبول ہے، قبول ہے ،قبول ہے” کہہ کر تو— :O
“اچھاااااااااااا ۔ کچھ زیادہ تیز نہیں ہوتے جا رہے آپ؟
خیر اس دفعہ کچھ خاص ہو گا تو محبت کو سند ملے گی۔ ورنہ اپنی گلو خلاصی کو گلا خلاصی ہی سمجھیں۔ آپ مردوں کو بھی تو پتہ چلے کہ شادی نبھانا کوئی ایسا آسان کام نہیں۔ ذرا رومانس دکھائیں۔ ”
آواز میں لالی وڈ فلموں والا رومانس بھر کر بولے “بیگم کہو تو فرہاد کیطرح دودھ کی نہر کھود دوں؟”
میں نے کہا “آج تک تو ہمیشہ پہاڑ کھود کر چوہا ہی نکالا ہے آپ نے۔چلیں آج نہر کھود دیجیے۔ اسی بہانے چائے بن جائے گی۔ویسے بھی دو گھنٹے سے کہہ رہی ہو دودھ والا نہیں آیا ذرا بازار سے دو کلو دودھ لا دیں۔ وہ تو لایا نہیں جاتا مارے سستی کے اور نہر کھودیں گے۔ ۔ ہونہہ”
پوچھنے لگے ” اچھا بیگم پھر گانا گاؤں مینار پر چڑھ کر تمہارے لیے۔ رومیو بن جاؤں؟ ”
“پتہ بھی ہے ؟؟ جان دی تھی رومیو نے پیار میں۔ بڑے آئے رومیو۔ ۔ اور دو جو گھنٹے روز باتھ روم میں گاتے ہو۔ پڑوسی تک سنتے ہیں۔ کہا نا کچھ خاص ہونا چاہیے۔”
سوچتے ہوئے بولے”چلو کینڈل لائٹ ڈنر کر لو”
“بس کر دیں۔ ساری گرمیاں لوڈ شیڈنگ کے باعث کینڈل لائٹ ڈنر ہی کیا ہے۔ منہ کا ذائقہ خراب ہو جاتا یے اب تو کینڈل لائٹ ڈنر کا سن کر۔”
“اچھا ہیروں کا ہار لا دوں؟” قدرے جل کر بولے
“رینے دیں۔ سارا دن سوئچ آف کر کر کے بجلی کی بچت کرتے رہتے ہیں گھر میں۔ وہ ساری بچت ہیروں کے ہار میں لٹا دو گے اب کیا؟ ویسے بھی ہیرا بیوی مل گئی ہے۔ اسی کی قدر کر لو۔ بہت ہے۔ “( میں بھی کون سا کم ہوں)۔ 😛
گھورتے ہوئے بولے “تو کیا چاہتی ہو بیگم۔ ۔؟ مجنوں بن جاؤں محبت میں تمہاری”
“ہائے اللہ تو اب تک نہ تھے کیا۔؟مجھے پہلے ہی پتہ تھا۔ ہو ہی فریبی کہیں کے۔ چلو بات نہیں کرنا اب مجھ سے۔ میں ہی بیوقوف ہوں جو جھوٹی باتوں کے جال میں پھنس گئی”۔
“بیگم ناراض کیوں ہوتی ہو۔اس دفعہ سب سے الگ ہو گا۔ خوش ہو جاؤ گی۔ ”
“ہاں الگ کا مطلب ہے الگ۔ ہمیں بھی نصیب ہوں آپ کے جوہر دیکھنے۔ ”
ٹھیک ہے ٹھیک ہے شام چھ بجے ملتے ہیں۔ ۔ سرپرائز کے ساتھ۔ ۔ 😀
شام ہوئی تو کیا دیکھتی ہوں کہ موصوف غائب۔ ۔ ہائے الگ کا مطلب “الگ ہونا” ہی تو نہیں لے بیٹھے۔ مطلب جو مرضی لیں مگر میرا سرپرائز ” 🙁
پورے گھر میں ڈھونڈتے اور آوازیں دیتے جو کمرے کا رخ کیا تو ٹھٹک کر رہ گئی۔ ۔ :O
بولے “آؤ آؤ بے غم آؤ۔ تمہارا ہی انتظار تھا۔ ۔ ”
کیا دیکھتی ہوں
موصوف بیڈ پر لیٹے قلوپطرہ بنے انگور کھا رہے ہیں اور پیچھے گانا چل رہا ہے “منجی اک تے جوانیاں دو” 😛

نوٹ:
کون اور کہاں ہوتے ہیں وہ لوگ جو آنکھوں کو جھیل،
ہونٹوں کو جام اور زلفوں کو بادل کہتے ہیں

فاطمہ عمران

فاطمہ عمران مصنفہ ہیں اور سوشل میڈیا کے مختلف بلاگز پر ان کی تحاریر شائع ہوتی ہیں۔

loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top