ملحدین اور علم فلسفہ

Mulhadian-aur-Elam-Falsafa.jpg

سائنس کے ذریعے خدا کا انکار قطعی ناممکن ہے۔لہٰذا ملحدین انکار خدا کی عمارت استوار کرنے کے لیے علم فلسفہ کے چرنوں میں پناہ ڈھونڈتے ہیں۔ فلسفہ وہ عظیم علم ہے جس کی آج تک کوئی حقیقی تعریف نہیں کرسکا۔ فلسفہ کا موضوع “وجود” ہے۔یہ علم کسی بھی چیز کے اغراض و مقاصد معلوم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔چاہے وہ چیز طبیعاتی اصولوں سے وجود رکھتی ہو یا مابعدالطبیعاتی اصولوں سے۔
علم فلسفہ کے چند اصول نہایت مضبوط ہیں۔
ان میں سے ایک بہت سادہ اور عام فہم اصول “علت اور معلول کا اصول” ہے۔
علت کا مطلب ہے “وجہ” اور معلول کا عام فہم مطلب ہے “نتیجہ”
مثلاً آپ “موجود” ہیں۔ یہ “نتیجہ ” ہے۔ اس کی “وجہ” آپ کے والدین کا جنسی تعلق ہے۔آپ کے والدین کے وجود کی وجہ ان کے والدین تھے۔ اور ان کے والدین کے وجود کی وجہ ان کے والدین۔
غرض ہر “نتیجے” کی کوئی نہ کوئی “وجہ” لازمی ہوتی ہے۔
ہم اپنی اس دنیا میں دیکھتے ہیں کہ ہر لمحہ تبدیلی ہو رہی ہے۔ سورج سفر میں ہے۔ زمین سفر میں ہے۔ انسان بچپن، جوانی، بڑھاپے کے سفر میں ہے۔ غرض ہر طرف “حرکت” ہے۔ یہ “حرکت” ہمارے سامنے بطور “نتیجہ” یا “معلول” ہے۔ اس کی “وجہ” یا “علت” کیا ہے؟؟
آئیے دیکھتے ہیں کہ ایک ملحد علم فلسفہ کے اصولوں کے تحت اس حرکت کی علت کیسے ڈھونڈتا ہے۔
پہلا دعویٰ: دنیا میں حرکت موجود ہے۔ جس کو ثابت کرنے کے لیے کسی دلیل کی ضرورت نہیں ۔
دوسرا دعوٰی: ہر حرکت کے لیے “محرّ ک”(حرکت دینے والا) ہونا ضروری ہے۔ (ہر معلول کے لیے علت/ ہر نتیجے کے لیے وجہ ہونا ضروری ہے)
تیسرا دعویٰ: ہر “محرک” کے لیے ایک اور “محرک” کا ہونا ضروری ہے۔
(یہ دعویٰ بھی درست ہے کیونکہ دنیاوی زندگی میں یہ ہمارا روزمرہ کا تجربہ ہے)
چوتھا دعویٰ: ہر محرک کے لیے ایک اور محرک، پھر اس محرک کے لیے ایک اور محرک، پھر اس محرک کے لیے ایک اور محرک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوجائے گا جس کی کوئی انتہا نہیں ہوگی۔
(یہ دعویٰ بالکل غلط ہے۔ یہ سلسلہ لازمی طور پر متناہی ہونا چاہیئے۔ اس کی وجہ آخر میں آپ کے سامنے آئے گی)
پانچوں دعویٰ: لہٰذا نتیجہ یہ نکلا کہ سب سے پہلا محرک ہے ہی نہیں، کیونکہ جو بھی “محرک اول ” ہوگا اس کے لیے ضروری ہوگا کہ اس کا بھی کوئی محرک ہو۔
چھٹا دعویٰ: جب سب سے پہلا محرک ہوہی نہیں سکتا تو لازمی بات ہے کہ “حرکت” بھی نہیں ہوسکتی۔ جب محرک ہی نہیں تو حرکت کیسے ہوسکتی ہے؟؟
لیکن یہ چھٹا دعویٰ سب سے پہلے دعوے کو ہی ختم کررہا ہے کہ دنیا میں حرکت کا وجود ہر لمحہ، ہر گھڑی ثابت ہے۔
گویا ملحدین نے جو نتیجہ نکالا وہ ان کے دعوے کے ہی خلاف ثابت ہوگیا۔
ایک مسلمان علم فلسفہ کے اصولوں کے تحت وجود خدا کو کیسے ثابت کرے گا
پہلا دعویٰ: دنیا میں حرکت موجود ہے۔ جس کو ثابت کرنے کے لیے کسی دلیل کی ضرورت نہیں ۔
دوسرا دعوٰی: ہر حرکت کے لیے “محرّ ک”(حرکت دینے والا) ہونا ضروری ہے۔ (ہر معلول کے لیے علت/ ہر نتیجے کے لیے وجہ ہونا ضروری ہے)
تیسرا دعویٰ: ہر “محرک” کے لیے ایک اور “محرک” کا ہونا ضروری ہے۔
چوتھا دعویٰ: حرکت اور محرک کا یہ سلسلہ اس وجود پر لازمی رکنا چاہیئے جو حرکت، تبدیلی،تغیر سے پاک ہو، وہی محرک اول ہو۔
پانچوں دعویٰ: محرک اول (اللہ تعالیٰ) ثابت ہوا ورنہ حرکت کا وجود ثابت ہی نہیں ہوسکتا۔

تحریر : ثوبان تابش

ثوبان تابش

ثوبان تابش مصنف ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top