موسیٰ خان فرام ماسکو

for-web-1.jpg

میں جنوری کی اس خنک اور اداس دوپہر کو جب کوئٹہ ائیرپورٹ پر اترا تو میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کے بلوچستان کا یہ سفر مجھ پر آگہی کے نۓ دروازے کھول دے گا. ائیرپورٹ پر مجھے لینے کے لئے گاڑی موجود تھی. بوڑھے ڈرائیور سے میں واقف تو نہیں تھا مگر جھریوں سے جھانکتی مسکراہٹ نے مجھے اجنبیت کا احساس نا ھونے دیا

سلام صاب’، اس نے کچھ یوں گرم جوشی سے میرا استقبال کیا کے سفر کی ساری کلفت دھل گیئ. میں نے بوڑھے ڈرائیورپر ایک طائرانہ نگاہ ڈالی. دبلا پتلا جسم، سرپر کابلی ٹوپی، سفید شلوار قمیض، کالی واسکٹ اورپہاڑوں پر پڑی برف کی سفیدی لئے لمبی داڑھی. ساٹھ یا پھر پینسٹھ کا سن تھا مگر چہرے پے بلا کی شگفتگی اور گدلایی سرمئی آنکھوں میں ایک عجیب چمک. سامان ڈکّی میں رکھ کر اس نے گاڑی سٹارٹ کی اور ائیرپورٹ کے گیٹ سے نکالتے ہوئے کوئٹہ شہرکا رخ کیا

گاڑی لنک روڈ سے نکلی تو میں نے شہر کے ماحول میں تبدیلی کی تلاش شروع کی. عجیب شہر ہے کوئٹہ بھی. لاہور تبدیل ہوگیا، کراچی نے نیا پیراہن اوڑھ لیا اور اسلام آباد کی تو گویا ا بھی ان دونوں شہروں کے مقابلے میں مسیں پھوٹ رہی تھیں. لیکن کوئٹہ وہیں کھڑا تھا جہاں پچاس سال پہلے تھا. وہ ہی خاک آلود ماحول، کھردرے چہرے، غربت کے منڈلاتے سایے، ٹوٹی سڑکیں اور شہرکے اطراف میں ایستادہ سردی سے ٹھٹھرتے نیلے بنجر پہاڑ. لیکن ایک عجیب کشش تھی اس شہر میں. بالکل ویسی ہی کشش جیسی خانہ بدوش اور کوچی عورتوں میں ہوتی ہے. میلی کچیلی اور پیوند لگے کپڑوں میں ملبوس مگر آزادی کے حسن سے شرابور. جب مرد انہیں گھورتے ہیں تو وہ شرما کر نظریں نہیں جھکاتی بلکے ایک لاپرواہ مگر ترحم انگیز نظر سے گھورتی نظروں کا مقابلہ کرتی ہیں. آخر کار ان کی آزاد روح کے آگے ہوس ہار جاتی ہے. کوئٹہ بھی ہمیشہ مجھے ایک کوچی حسینہ کی طرح لگتا تھا. بےپرواہ اور آزاد. تمام دنیا سے الگ، تیز ہوا میں پھڑپھڑاتے آنچل کو پکڑے ڈوبتے سورج کی سرخی میں ملبوس ایک آزاد کوچی عورت

کیا دیکھ رہے ہو صاب؟’ ڈرائیور کے سوال نے میری سوچ کی لگاموں کو کھینچ لیا’

.کوئٹہ دیکھ رہا ہوں کاکا.’ میں نے بیک ویو مرر میں اس کی چمکیلی آنکھوں میں مسکرا کر جھانکتے ہوئے جواب دیا’

.پہلی دفعہ آیۓ ہو یہاں؟’ ڈرائیور نے ایک سائکل والے کو مہارت سے بچاتے ہوئے پوچھا’

ارے نہیں کاکا. بہت دفعہ آ چکا ہوں مگر ہر دفعہ یہ شہر تبدیل نا ہونے کے باوجود مختلف لگتا ہے.’ میں نے اپنی دانست میں بڑی مشکل بات کی

شہر شہر ہوتے ہیں صاب. بس دیکھنے والے کی نظر تبدیل ہوجاتی ہے.’ بوڑھے ڈرائیور نے نہایت آسانی سے میرے مشکل جواب کا ترجمہ کیا

میری نظر تو ویسی ہی ہے مگر شہر پھر مختلف کیوں لگتا ہے؟’ میری ڈرائیور میں دلچسپی بڑھ گیئ مگر اس نے میری بات کا کوئی جواب نا دیا. تھوڑی دیر بعد ایک ٹریفک سگنل پر گاڑی رکی تو ڈرائیور نے مڑ کر میری جانب دیکھا، میرے سینے کی طرف اشارہ کیا اور بولا

.نظر آنکھوں میں نہیں، یہاں ہوتی ہے صاب.’ اور پھرواپس مڑ کر گاڑی آگے بڑھا دی’

میں اپنے حواس میں واپس آیا تو گاڑی سیرینا ہوٹل کے مین گیٹ سے اندر داخل ہورہی تھی. مرکزی دروازے کے سامنے رکی تو باوردی دربان نے بڑھ کر گاڑی کا دروازہ کھولا. میں نے اندر جانے کے لئے قدم بڑھاہے اور پھر کچھ سوچ کر رک گیا اور مڑ کر ڈرائیور کی جانب دیکھا جو ڈکی سے سامان نکالنے میں مگن تھا

.کاکا تمہارا نام کیا ہے؟’ میں نے اس کے ہاتھ سے بریف کیس پکڑتے پوچھا’

.موسیٰ نام ہے صاب، موسیٰ خان’. اس کی جھریاں اب بھی مسکرا رہی تھیں’

.موسیٰ خان’. میں نےزیر لب نام دوہرا کر اس کی مسکراہٹ کا جواب دیا اور ہوٹل کی لابی کی جانب بڑھ گیا’

لابی کے کاؤنٹر پر اسسٹنٹ مینیجر میرا منتظر تھا. کوئٹہ کئی دفعہ آنے جانے اور اسی ہوٹل میں رہائش رکھنے کی وجہ سے مجھ سے اچھی طرح واقف تھا

.کیا حال ہیں صاحب؟’ اس نے کاؤنٹر پر ایک جانب کھڑی خاتون کو کمپیوٹر پر انٹری کا اشارہ کرتے ہوئے میرا استقبال کیا’

سب ٹھیک ہے عمیر صاحب. مجھے امید ہے کے ہر دفعہ کی طرح آپ نے اس دفعہ بھی میری تمام ہدایات کا خیال رکھا ہوگا؟’ میں نے بٹوے سے شناختی کارڈ نکال کر آگے بڑھایا

ارے اس کی ضرورت نہیں. سب تیارریاں مکمّل ہیں. آپ آج شام آرام کیجئے. کل صبح گاڑی تیار ہوگی’. اس نے اپنی جیبی ڈائری چیک کرتے ہوئے کہا

.یہ ٹھیک رہے گا. لیکن خیال رکھیے گا، مجھے ڈرائیور کے طور پر موسیٰ خان چاہیے’. میں نے کچھ سوچ کر کہا’

موسیٰ خان؟’ وہ کچھ دیر کے لئے سوچ میں پڑ گیا لیکن پھرفوراً بولا: ‘اوہ اچھا، تو یعنی آپ پر بھی پروفیسر صاحب کا جادو چل گیا

.پروفیسر صاحب کون؟’ میں چونک گیا’

وہ ہی موسیٰ خان، اور کون؟ ماسکو یونیورسٹی کا گریجویٹ ہے. پھر افغانستان کے اچھے دنوں میں کابل یونیورسٹی میں فلسفہ پڑھاتا رہا. لیکن پھر پاکستان ہجرت کر آیا اور گزشتہ کیئ سال سے کوئٹہ میں اپنی گاڑی چلا رہا ہے.’ عمیر نے مزے لے لے کر موسیٰ خان کی الف لیلوی کہانی بیان کی

.لیکن اتنا پڑھا لکھا ہونے کے باوجود ٹیکسی ڈرائیور کیوں ہے؟’ مجھے اپنے کانوں پر یقین نہیں آ رہا تھا’

کل سارا دن وہ آپ کے ساتھ ہوگا. اسی سے پوچھ لیجئے گا. ویسے وجہ وہ کسی کو نہیں بتاتا. شاید آپ کو بتا دے.’ یہ کہتے ہوئے عمیر نے ویٹر کو میرا سامان اٹھانے کا اشارہ کیا اور میرے کندھے پر ایک ہلکا سا دباؤ دے کر لفٹ کی جانب بڑھ گیا. کمرے میں پوھنچ کر شاور لیتے اور کھانا کھاتے رات پڑ گیئ. گھر والوں اور بچوں کی خیریت معلوم کرتے بستر پر لیٹا تو تکان کے سبب فوراً نیند نے گھیر لیا

اس ساری بات چیت میں یہ بتانا بھول گیا کے میں ایک فلم ڈائریکٹر ہوں اور گزشتہ کئی مہینوں سے اچھی لوکیشن کی تلاش میں کوئٹہ کے چکّر لگا رہا تھا. لیکن قسمت ساتھ نہیں دے رہی تھی. جگہ اچھی ہوتی تو کوئٹہ سے دور ہوتی، کوئٹہ سے نزدیک ہوتی تو آبادی زیادہ ہوتی، اور جب یہ دونوں شرایط پوری ہوتیں تو جگہ میرے دل کو نا بھاتی. اس دفعہ پیشن کے ایک سردار دوست نے کچھ نئی جگہیں دکھانے کا وعدہ کیا تھا

اگلی صبح آنکھ کھلی تو آٹھ بج چکے تھے. جلدی جلدی تیار ہوا اور کیمرا سمبھالتے ہوے ناشتے کے لئے ہوٹل کے ہال میں جا کر بیٹھ گیا. ناشتے سے فارغ ہو کر اپنے سردار دوست کو کال ملایئ. پتہ چلا کے والد کی بیماری کے باعث اس کو جلدی میں اسلام آباد جانا پڑ گیا اور واپسی کا کچھ پتا نہیں تھا. میں نے رسماً اس سے اظہار ہمدردی کیا مگر میرا دل اس کو گالیاں دے رہا تھا. ‘کمبخت نے خوار کر دیا. پہلے پتا ہوتا تو کوئی اور انتظام کر کے رکھتا’. انہی سوچوں میں مگن تھا کے ویٹر نے آ کر گاڑی تیار ہونے کی خبر دی. ایک لمحے کو دل میں خیال آیا کے لعنت بھیجوں اور واپسی کی ٹکٹ بک کروا لوں. لیکن پھر کچھ سوچ کر رک گیا. سوچا جب اتنی دور آ ہی گیا ہوں تو کیوں نا آج کا دن قسمت آزمایی کر ہے لی جائے. کیا پتا کوئی اچھی لوکیشن دکھائی دے جائے

باہر نکلا تو پچھلے دن کی طرح موسیٰ خان کا مسکراتا جھریوں بھرا چہرہ میرا منتظر تھا

.اسسلام و علیکم صاب. کہئے رات خیریت سے گزری؟’ اس نے مصافحے کے لئے ہاتھ بڑھایا’

وعلیکم اسسلام پروفیسر صاحب. آپ کہئے مزاج کیسے ہیں’ میں نے نیم شراراتی انداز میں اس سے پوچھا. لیکن آدمی سمجھدار تھا. ایک لمحے کو چونکا ضرور مگر پھر سر جھٹک کر آگے بڑھا اورگاڑی کا پچھلا دروازہ کھول دیا

کہاں چلیں صاحب؟’ موسیٰ خان نے گاڑی سٹارٹ کرتے ہوے پوچھا. بہت مشکل سوال پوچھا اس نے. میں نے تو کوئی فیصلہ نہیں کیا تھا کے کہاں جاؤں گا

.جہاں دل کرے لے چلیں پروفیسر صاحب!’ میں نے کمال بے پرواہی سے جواب دیا’

موسیٰ خان چونک کر مڑا اور میری طرف دیکھا. میری مسکراہٹ کو سنجیدہ پا کر مسکرایا اور بولا

‘صاحب دل کی بات نا کریں. دل تو دل ہے. انسان کو کابل سے کوئٹہ لے جاتا ہے’

میں نے بات کو گہرا اور معنی خیز پا کر موسیٰ خان کی آنکھوں میں جھانک کر دیکھا. لیکن وہاں کوئی درد نہیں تھا، صرف سکون کا ایک اتاہ سمندرموجیں مار رہا تھا

یہ بھلا کیسے ممکن ہے کے ایک انسان دل کی مانے اور پھر بھی سکون میں ہو؟ مطمئن ہو؟’ میں نے مضطرب ہو کر سوچا. پھر کچھ سوچ کر میں نے موسیٰ خان کے کندھے پر نرمی سے ہاتھ رکھا جو مجھے مضطرب دیکھ کر واپس مڑ چکا تھا

‘جہاں آپ کا دل چاہے لے جاییں پروفیسر صاحب. آج کا دن آپ کے نام’

موسیٰ خان نے منہ سے تو کچھ نا کہا مگر کچھ یوں سر کو اثبات میں جنبش دی کے جیسے میرے اندر کے اضطراب کو سمجھ چکا ہو

گاڑی ہوٹل کے گیٹ سے باہر نکالی اور کوئٹہ شہر کے رش بھرے ماحول سے نکل کر پیشن جانے والی سڑک پر ڈال دی. میں نے شیشے سے جھانک کر نیلے پہاڑوں پے گھرے گہرے بادلوں کی جانب دیکھا جو تیزی کے ساتھ موسم بگڑنے کی نوید دے رہے تھے. ایک لمحے کو دل میں آیا کے اپنا بچپنا چھوڑ دوں اور موسیٰ خان کو ہوٹل واپسی کا حکم دوں. میں ابھی یہ سوچ ہی رہا تھا کے موسیٰ خان نے ہاتھ بڑھا کر سی ڈی پلیئر آن کر دیا. کوئی پشتو گیت تھا یا غزل تھی.اس سے پہلے کے میں موسیٰ خان کو موسیقی بند کرنے کا کہتا، سازینہ بجنا شروع ہوگیا اور وائلن جیسا ایک ساز جسے غالباً سراندو کہتے ہیں، کی آواز نے ماحول کو جادوئی رنگ دے دیا . الفاظ تو پتا نہیں کیا تھے مگر ہر بند کے بعد ‘زخم دل’ سمجھ میں آتا تھا. آسمان پر کالے بادل چھا چکے تھے اور حد نگاہ پر نیلاہٹ لئے سیاہ پراسرار پہاڑ ، جہاں تک نگاہ جاتی تھی ویرانی تھی. دور کچھ اینٹوں کے اکیلے بھٹے کالا دھواں اگل رہے تھے. بادل کہاں ختم ہورہے تھے اور دھواں کہاں گم ہورہا تھا، کچھ پتا نہیں چلتا تھا. تمام دنیا پر سرمئی اداسی کی حکومت تھی

میں نے سیٹ کی پشت سے ٹیک لگائی اور آنکھیں بند کر لیں. میری نیئ فلم کی کہانی میری توجوہ کا مرکز تھی. کہانی تھی عشق اور ہجر کی، درد اور خواھش وصال کی. کہانی تھی نا آسودہ محبت کی، فاصلوں کی، تنہائی کی اور فرقت کی. کہانی کیا تھی، میرا ایک نیا تجربہ تھی ابسٹریکٹ فلم میکنگ میں. خوبصورت فلم شاٹس کا ایسا مجموعہ جو پس پردہ موسیقی کے ساتھ مل کر ان تمام جذبات کی عکاسی کرتا تھا. سلگتی محبت کیسے بھڑک کر عشق کی آگ بنتی ہے؟ فاصلوں کا درد کیا ہوتا ہے؟ جدائی کی تکلیف کیا ہوتی ہے؟ یہ سب سوال میری اس فلم کا موضوع تھے. جیسا کے میں نے پہلے ذکر کیا کے فلم عرصے سے نامکمّل تھی. لیکن مجھے احساس تھا کے اس تاخیر کی ذمہ دار مناسب لوکیشن کا نا ملنا نہیں تھا. بلکہ میرے اندر چبھتے کچھ پیچیدہ سوال تھے. جب تک ان سوالوں کا جواب نا مل جاتا، میں فلم سازی شروع نہیں کرنا چاہتا تھا

گاڑی کو مڑتے محسوس کرتے میں نے آنکھیں کھول کر ادھر ادھر دیکھا. ہم غالباً کچلاک سے ثوب جانے والی سڑک پر رواں تھے

.کہاں لے چلے پروفیسر صاحب؟’ میں نے شگفتگی سے پوچھا’

.وہیں جہاں دل لے جا رہا ہے.’ موسیٰ خان نے مسکرا کر بیک ویو مرر میں جھانکا’

وہ کونسا پہاڑ ہے؟’ میں نے دور بادلوں کو چومتی ایک بلند و بالا چوٹی کو دیکھ کر پوچھا جس کے اوپری کنارے پر سفید برف چمک رہی تھی

بوستان پہاڑ؟’ موسیٰ خان نے ہاتھ سے اشارہ کیا. ‘اسے عرف عام میں کتتو بھی کہتے ہیں. ہزاروں سال سے خانہ بدوشوں کے قافلوں کا میزبان ہے. سردیاں ہوں یا گرمیاں، اس کے دامن میں کوچیوں کا بسیرا رہتا ہے

دلچسپ پہاڑ ہے. پتا نہیں ہزاروں سال سے کیسی کیسی کہانیوں کا گواہ رہا ہوگا؟ کاش کے یہ بول سکتا تو قہوے کی پیالی پر مزے کی محفل جمتی’. میں نے اپنے اندر کے داستان گو کو زبان دی

پتھر دل پہاڑ ہے صاب. جتنی محبتیں اس نے ٹوٹتی دیکھیں ہیں، پتھر دل نا ہوتا تو ٹوٹ کر بکھر جاتا.’ موسیٰ خان کی آواز میں ایک عجیب سی اداسی امڈ آی

میں نے بیک ویو مرر میں موسیٰ خان کا چہرہ ٹٹولنے کی کوشش کی مگر اس کی نگاہ تو کسی اند یکھے چہرے پر مرکوز تھی. گاڑی بوستان پہاڑ کے دامن میں پوہنچی تو موسیٰ خان نے سڑک کے بایئں جانب ایک گاؤں کا رخ کیا. چند منٹوں بعد ہم ایک چھوٹے سے ریلوے سٹیشن کے سامنے کھڑے تھے. عجب ویران جگہ تھی. کوئی جنکشن تھا شاید .پٹریوں کا ایک جال، کہیں اکا دکّا پرانے اور ٹوٹے پھوٹے ریل کے ڈبے جن کو شاید ریلوے حکّام بھی کب کے بھول چکے تھے. پلیٹ فارم سے باہر نکلے کچھ خشک درخت ، لکڑی کے سیاہ پڑتے کیبن، دور لوہے کی عظیم الشان ٹینکیاں اور ان کے نیچے کچھ کچے مکان. ایک جانب ایک چھوٹے سے سفید بورڈ پر لکھا تھا ‘بوستان جنکشن

.آؤ صاب’، موسیٰ خان نے نیچے اتر کر میری طرف کا دروازہ کھولا تو میں چونک گیا’

.یہ کہاں لے آے پروفیسر صاحب؟’ میں نے کچھ حیرانگی سے پوچھا’

.وہیں جہاں میرا دل رہتا ہے.’ اس نے ایک مشففق مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا’

میں کچھ نا سمجھتے ہوئے بھی نیچے اترآیا. ہلکی ہلکی برف پڑنی شروع ہو چکی تھی. گاڑی دیکھ کر دور سے کچھ بچے دوڑے چلے آے. ‘خان کاکا! خان کاکا!’ کی چہچاتی آوازیں سن کر میں سمجھ گیا کے وہ موسیٰ خان سے خاصے مانوس ہیں. مجھے دیکھ کر بچے کچھ فاصلے پر کھڑے ہوگئے اور آپس میں ایک دوسرے کو کہنیاں مار مار کر میری طرف اشارہ کرنے لگے. موسیٰ خان نے ایک زندگی سے بھرپور قہقہہ لگایا اور ہاتھ میں پکڑا گڑ کی ڈلیوں سے بھرا لفافہ بچوں کی جانب بڑھایا. وہ کھلکھلاتے آگے بڑھے اور لفافہ اچک کر لے گئے

.کس کے بچے ہیں یہ پروفیسر صاحب؟ آپ کے پوتے پوتیاں ہیں؟’ میں نے مسکراتے ہوئے پوچھا’

یہ بچے نہیں ہیں صاب. بوستان پہاڑ کے دامن میں کھلے خوشیوں کے پودے ہیں. بڑے ہونگےدکھ سہیں گے، تکلیفیں دیکھیں گے تو ایسے درخت بن جاییں گے.’ موسیٰ خان نے پلیٹ فارم پر اگے ٹنڈ منڈ درختوں کی طرف اشارہ کیا اور مجھے پیچھے آنے کا اشارہ کر کے ایک ریل کے ڈبے کی طرف چل پڑا. میں نے کچھ نا سمجھتے ہوئے سر جھٹکا اور اس کے پیچھے پیچھے چل پڑا. ڈبے کے پاس پوھنچے تو موسیٰ خان نے جیب سے ایک چابی نکالی، ڈبے کے دروازے پر لگا زنگ خوردہ تالا کھولا اور مجھے اندر داخل ہونے کا اشارہ کیا

جب اتنی دور آ ہی چکا ہوں تو اندر داخل ہونے میں کیا مضائقہ ہے؟’ میں نے اپنے آپ کو سمجھایا اور ڈبے کے اندر پھیلی تاریکی کی پرواہ نا کیے بغیر داخل ہوگیا

میرے پیچھے موسیٰ خان نے اندر داخل ہو کر دروازہ بند کیا تو چاروں طرف گھپ اندھیرا چا گیا. ‘یا خدا، یہ کہاں آ گیا میں؟’ میں نے ابھی پریشان ہونا شروع ہی کیا تھا کے موسیٰ خان نے ایک ماچس کی تیلی جلائی اور ایک جانب رکھی لالٹین روشن کر دی. اندھیرے ڈبے میں لالٹین کی پیلی روشنی کیا پھیلی، میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گیئں. ڈبے کے فرش پی بچھا پرانا مگر خوبصورت افغانی قالین، ایک جانب سلیقے سے لگے کچھ فرشی تکیے، کونے میں تہ کیا ہوا بستر، آہنی دیواروں پر لٹکتے اونی پردے، ایک طرف رکھا ایک پرانا رباب اور ایک چھوٹی سی میز جس پر کچھ پیلے پڑتے کاغذات، قلم اور دوات. لیکن سب سے زیادہ مجھے جس چیز نے اپنی طرف متوجوہ کیا وہ تھی کسی خانہ بدوش لڑکی کی پیلی پڑتی تصاویر جو دیوار پر ایسی جگہ ٹنگی تھیں کے لالٹین روشن ہونے پر سب سے زیادہ روشنی ان پر پڑے. مجھے بیٹھنے کا اشارہ کر کے موسیٰ خان نے کچھ دیر کی محنت سے ایک انگھیٹی روشن کی تو ڈبے کی خنک فضا میں ایک خوشگوار حرارت پھیلنا شروع ہوگیئ. میں نے موسیٰ خان کے منع کرنے کے باوجود جوتے اتار کرایک جانب رکھے اور تکیے سے ٹیک لگا کر آرام سے بیٹھ گیا. پیشن کے سردار دوست کی غیر حاضری کی کلفت تیزی کے ساتھ غائب ہوتی جا رہی تھی

پروفیسر صاحب!…………’ میں نے کچھ کہنے کی کوشش کی مگر موسیٰ خان نے مسکراتے ہوئے اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر چپ رہنے کا اشارہ کیا اور انگھیٹی پر رکھی کیتلی کا ڈھکن اٹھا کر کچھ الا ییچیان اس میں ڈال دیں. میں بھی چپ چاپ دیکھتا رہا. پانی ابلنا شروع ہوا تو میرے میزبان نے سنہرا قہوہ دو شیشے کے مگوں میں انڈیلا اور اٹھا کر میرے سامنے رکھ دیا

لیں صاب، قہوہ بھی حاضر ہے اور بوستان پہاڑ بھی. دل کھول کر کہانیاں سنیں’. موسیٰ خان نے مسکراتے ہوئے چپ کا روزہ توڑا

میں نے بوستان پہاڑ کے اوپر جمی برف اور موسیٰ خان کے سفید بالوں بھرے سر میں مماثلت محسوس کر کے ایک بھرپور قہقہہ لگایا اور قہوے کا گھونٹ بھرا. سنہرے قہوے کا گھونٹ نہیں تھا، مانو سیال آتش تھا کے جسم میں جہاں سے گزرا حرارت پھیلاتا چلا گیا. کچھ دیر قہوے کی خوشبو اور خاموشی کے ملے جلے حسن سے محظوظ ہونے کے بعد میں نے نظر اٹھا کر اپنے میزبان کی جانب دیکھا. موسیٰ خان قہوے کے چھوٹے چھوٹے گھونٹ بھرتا میری ہی جانب دیکھ رہا تھا

.تو آپ کابل یونیورسٹی میں فلسفہ پڑھاتے تھے؟’ میں نے عمیر کی بتائی گیئ باتوں کی تصدیق کرنی چاہی’

اور آپ ماسکو یونیورسٹی سے فارغ التیہصیل بھی ہیں؟’ موسیٰ خان کے اثبات میں سر ہلانے پر میں نے فوراً ہی اگلا سوال جڑ دیا

جب افغانستان پر روس نے قبضہ کر لیا تو میں ان چند نوجوانوں میں شامل تھا جنہیں اعلی تعلیم کے لئے ماسکو بھیجا گیا. اصل مقصد تعلیم نہیں بلکہ کمیونزم کا پرچار تھا.’ اس نے کچھ سوچتے ہوئے جواب دیا

اچھا اب میں سمجھ گیا. آپ ماسکو سے واپس آ کر کابل یونیورسٹی میں پڑھانا شروع ہوگئے اور پھر حالات خراب ہونے پر دیگر مہاجرین کی طرح پاکستان آ گئے.’ میں نے خود اعتمادی کے نشے میں سرشار ہوتے ہوئے ساری کہانی دو فقروں میں بوجھنے کی کوشش کی

.نہیں ایسے نہیں ہوا!’ موسیٰ خان نے میرے مگ میں مزید قہوہ انڈیلتے ہوئے کہا’

.تو پھر؟’ مجھے اپنی جلد بازی پر کچھ شرمندگی سی محسوس ہوئی’

مجھے کبھی بھی لڑائی میں یا آزادی کی جنگ میں دچسپی نہیں رہی. جنگ میرے نزدیک محض ایک معاشرتی حقیقت تھی. میرے اس روئیے کو دیکھتے ہوئے کابل یونیورسٹی کے روسی وائس چانسلر نے مجھے ماسکو سے واپسی پر فوراً اسسٹنٹ پروفیسر تعینات کر دیا. لیکن فلسفہ پڑھانا میرا شوق نہیں تھا. میرا اصل شوق فوٹو گرافی تھا. لہذا دن کو میں یونیورسٹی میں فلسفہ پڑھاتا اور شام کو کابل کے مضافات میں نکل جاتا اور اپنے کیمرے سے تصویریں بناتا. پھر ایک دن……….’ بات کرتے کرتے موسیٰ خان کہیں کھو سا گیا

.پھر ایک دن؟ پھر ایک دن کیا ہوا؟’ میں نے بےصبری سے پوچھا’

موسیٰ خان مسکرایا اور اٹھ کر انگھیٹی میں سلگتے انگارے کریدنے لگا. واپس مڑ کر میز پر رکھی خانہ بدوش لڑکی کی چاندی میں فریم شدہ تصویر اٹھائی اور میرے سامنے رکھ دی

پھر ایک دن مجھے یہ نظر آیی اور میری بےمقصد زندگی کو مقصد مل گیا.’ اس نے فریم کے شیشے کو بڑی احتیاط اور محبت سے انگلیوں سے جھاڑا

.یہ کون تھی؟’ میرے اندر چھپے فلم ساز نے لڑکی کے عام سے نقش و نگار میں دلکشی تلاش کرنے کی کوشش کی’

یہ بریخنہ ہے. بریخنہ پشتو میں آسمانی بجلی کو کہتے ہیں. بس یہ بھی آسمانی بجلی ہی تھی جو اس پروفیسر کے دل پر گر گیئ. اور ایسی گری کے جلا کر خاک کر گیئ

موسیٰ خان نے ایک ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے کہا اور کسی گہری سوچ میں گم ہوگیا

.کیسے اور کہاں ملاقات ہوئی اس سے آپ کی؟’ میں نے بات آگے بڑھانے کی کوشش کی’

وہ بہار کی ایک شام تھی’ موسیٰ خان نے خلاء میں گھورتے ہوئے اپنی کہانی کا آغاز کیا. ‘میں پھرتا پھراتا شہنشاہ بابر کے مقبرے پے جا نکلا. تنہائی کا عالم تھا. موسم تو اچھا خاصا خوبصورت تھا مگر اتفاقاً اس روز میں مزار پر اکیلا ہی تھا. ہلکی ہلکی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی. یوں تو کابل خشک پہاڑوں سے گھرا ہے مگر ان دنوں بارش کے باعث ہلکا سبزہ خشکی پر غالب تھا. کہیں کہیں چھوٹے چھوٹے پھول مسکا رہے تھے. فوٹوگرافی کرتے کرتے تھک گیا تو ایک درخت کے تنے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا. ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کے کان میں رباب کے میٹھے سروں نے رس گھولا. تھوڑا وقت رباب اکیلا ہی بجتا رہا مگر پھر ایک نسوانی آوازنے ہجر کا ایک مشہور گیت ‘زخم دل’ گانا شروع کیا. صاب آپ یقین نہیں کریں گے کس قدر دلکش آواز تھی وہ. تھوڑی دیر تو میں دم سادھے گیت سنتا رہا مگر پھر تجسّس غالب آیا اور میں نے تنے کی اوڑ سے سر نکال کر مغننیہ کو دیکھنے کی کوشش کی. کیا دیکھتا ہوں کہ ایک دوشیزہ قریب ایک دوسرے درخت تلے رباب ہاتھ میں تھامے بیٹھی سروں کی دنیا میں گم ہے. گہرے سبز اور سرخ رنگ کا لباس ، شیشے کے نگ اور چاندی کے زیورات گواہی دے رہے تھے کے لڑکی خانہ بدوشوں کے قبیلے سے ہے. بہرحال چہرہ رباب پر جھکا ہونے کے سبب دکھائی نہیں دے رہا تھا.صرف ایک آوارہ لٹ تھی جو ہلکے ہوا کے جھونکوں میں لہرا رہی تھی. میں آہستہ سے اٹھا اور دبے پاؤں اس انجان لڑکی کے سامنے جا کر بیٹھ گیا. لیکن وہ ساز و آواز میں کچھ ایسی کھوئی تھی کے اسے کچھ خبر نہیں ہوئی. بس وہ گاتی رہی، اس کی نازک انگلیاں رباب پر چلتی رہیں اور میں اس کی آوارہ لٹ میں الجھتا رہا. جانے گیت کب ختم ہوا لیکن مجھے تو اس وقت احساس ہوا جب اس نے رباب پر سے انگلیاں اٹھائیں اور نظریں اٹھا کر اپنی تنہائی میں مداخلت کے مجرم کی جانب دیکھا. وہ ایک لمحہ جب میں نے اس کی آنکھوں کی سبز جھیل میں جھانکا، میری ساری زندگی پر محیط ہے. لیکن پھرسحر ٹوٹ گیا. ان سبز جھیلوں کے سکوت پر اچانک خوف کے سیاہ ساے منڈلانے لگے. اور وہ خانہ بدوش حسینہ اپنا رباب وہیں چھوڑ کر ایک خوفزدہ ہرنی کی مانند بھاگ گیئ

میں موسیٰ خان کی کہانی میں اس قدر ڈوب چکا تھا کے اس کے آخری جملے کے ساتھ ہی میرے کانوں میں ایک بھاگتی حسینہ کے سڈول ٹخنوں سے لپٹی پازیب کی جھنکار گونجی. میں نے چونک کر اس پاس دیکھا مگر اس پرانے ریل کے ڈبے کی نیم تاریکی میں صرف میں اور میرا میزبان ہی دو نفوس تھے. موسیٰ خان نے اٹھ کر کیتلی بھری اور دوبارہ انگھیٹی پر رکھ دی

وہ رباب…………’ میں نے اپنا جملہ ادھورا چھوڑ کر کونے میں رکھے پرانے رباب کی طرف اشارہ کیا. وہ مسکرایا اور رباب اٹھا کر میرے سامنے رکھ دیا

ہاں یہ وہ ہی رباب ہے. میری بریخنہ کی نشانی.’ موسیٰ خان نے نہایت پیار سے ایسے رباب کی تاروں پر انگلیاں پھیریں جیسے بریخنہ کے لمس کی حرارت کو محسوس کرنا چاہ رہا ہو. پرانا ہونے کے باوجود رباب میں زندگی کی لپک ابھی باقی تھی. میں نے غور سے اس کا معائینہ کیا. ہموار آبنوس کی لکڑی، چاندی کے پترے اور ان پر جڑے نگ اور مخمل اور ریشم کی ڈوریاں، رباب کی اصل مالکہ کے حسن کی جھلک اب بھی موجود تھی

.پھر کیا ہوا؟ آپ نے اسے کیسے تلاش کیا؟’ میں زیادہ دیر خاموش نا رہ سکا’

میں نے اسے تلاش نہیں کیا بلکہ اس نے مجھے ڈھونڈا.’ موسیٰ خان مسکرایا، ‘میں جانتا تھا کے وہ اپنا رباب لینے ضرور واپس آے گی. اور ایسا ہی ہوا مگر کچھ دنوں کے وقفے کے ساتھ. لیکن وہ دن مجھ پر قیامت کی طرح گزرے. نا دن کو چین آتا تھا نا رات کو نیند. میں حسن کی طاقت سے ناواقف نہیں تھا. ہزار لڑکیوں کو دیکھا تھا. روسیوں کی آمد سے قبل افغانستان بہت آزاد تھا. پھر میں تو ماسکو یونیورسٹی میں بھی پڑھ چکا تھا جہاں کی پریاں افغان طالبعلموں پر کچھ زیادہ ہی فدا تھیں. لیکن اس خانہ بدوش ہرنی کی بات ہی کچھ الگ تھی. یہ بات بھی نہیں تھی کے وہ کسی انوکھے حسن کی مالک تھی. لیکن بس دل آ گیا

تو پھر وہ واپس کب آیی؟’ میں اپنے تجسّس پر قابو نا رکھ سکا’

موسیٰ خان میری جلدبازی پر مسکرایا. ‘میں روز اس کا انتظار کرتا تھا. یونیورسٹی کا وقت ختم ہوتے ہی مقبرے پر آ جاتا اور پھر سورج غروب ہونے پر ہی واپس جاتا. پھر ایک دن میری ریاضت رنگ لایی اور میں نے دور سے اسے آتے دیکھا. اس نے جب مجھے دیکھا تو کچھ فاصلے پرہی رک گیئ اور کچھ یوں میرے ہاتھ میں تھمے اپنے رباب کی طرف دیکھا جیسے ماں اپنی اولاد کی طرف دیکھتی ہے. مجھے سے اس کا درد برداشت نہیں ہوا. بس قریب کی کیاری سے جلدی جلدی دو تین پھول چنے، رباب کی تاروں میں الجھاے اور رباب گھاس پر رکھ کر دور جا کر کھڑا ہوگیا. وہ تھوڑی دیر تو کھڑی کچھ سوچتی رہی، پھر آہستہ آہستہ قدم بڑھاہے اور رباب اٹھا کر اچھی طرح اس کا معائینہ کیا. پھر پھول دیکھ کر اس کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گی. اس نے پھول چنے اور اپنے بالوں میں سجا کرایک عجیب التفات سے میری طرف دیکھا. میری تو دنیا ہی روشن ہوگیی. مگر اس سے پہلے کے میں اس سے بات کرنے کی کوشش کرتا، اس نے دور سے آتی اپنی ہمجولیوں کی طرف دیکھا، مجھے ایک موہوم سا اشارہ کیا اور وہاں سے بھاگ گیی. اس کے اچانک چلے جانے کے غم سے باہر نکلا تو احساس ہوا کے وہ اگلے دن آنے کا اشارہ کر گیئ تھی. دل کو کچھ سہارا ملا مگر ایک پوری رات کا انتظار حائل تھا میری اور اس کی ملاقات میں

.پھر کیا ہوا؟ وہ دوبارہ آی؟’ مجھے اچانک خود اپنے بچگانہ تجسّس پر شرمندگی سی محسوس ہوئی’

ہاں وہ دوبارہ اگلے دن آی اور پھر روز آتی رہی. دل جو مل گئے تھے ہمارے’ موسیٰ خان تو کسی اور ہی دنیا میں گم ہوچکا تھا.’ہم بہت سی باتیں کرتے. کبھی وہ رباب بجاتی اور گاتی اور میں پہروں سنتا رہتا. کبھی اس کے کھلتے بند ہوتے پنکھڑی ہونٹ میری توجوہ کا مرکز ہوتے تو کبھی رباب کی تاروں پر ناچتی اس کی نازک انگلیاں میرے وجود و روح میں سرور بھر دیتیں. لگتا تھا کے پوری کائنات میں بس وہ تھی اور میں تھا اور باقی سب بھی جو کچھ تھا ہماری محبت کی گواہی دینے کے لئے بنا تھا. وہ اتنی خوبصورت تو نا تھی مگر میری زندگی میں اس سے زیادہ خوبصورت اور کوئی نا تھا. میں نے بہت کوشش کی اس کے ماورائی حسن کو تصویروں میں قید کر سکوں…..’ موسیٰ خان نے ہاتھ سے کیبن میں لٹکتی تصویروں کی طرف اشارہ کیا، ‘مگر یہ تصویریں صرف تصویریں ہیں….کیمرے نے اس کی شکل تو محفوظ کر لی مگر روح کی گہرائی کو نا ناپ سکا. اس کی محبت پانے پر میں اپنے آپ کو دنیا کا خوش قسمت ترین انسان سمجھتا تھا. لیکن دنیا میں پائی جانے والی چیزوں میں سے خوشی سب سے ناپائیدار ہے. یہ سردیوں کی دھوپ کی طرح ہوتی ہے روشن اور گرم مگر بہت تھوڑی دیر کے لئے. بہت جلدی غموں کی سرد شام کا آغاز ہوجاتا ہے

کیا کوئی رقیب درمیان میں آ گیا آپ دونوں کے یا پھر اس کا قبیلہ سماج کی ظالم دیوار بن گیا؟’ میرے نزدیک محبت کے یہ ہی دو بڑے دشمن تھے

نہیں، نا کوئی رقیب آیا نا اس کا قبیلہ. بس اسے کسی اور سے مجھ سے زیادہ محبت تھی.’ موسیٰ خان نے ایک ٹھنڈی آہ بھرتے ہوے کہا

.بریخنہ کو کسی اور سے محبت تھی؟ پر کس سے؟’ میں نے حیرانگی سے پوچھا’

بریخنہ کو مجھ سے زیادہ اپنی آزادی سے محبت تھی صاب’ حیرت انگیزطور پر میرے بوڑھے میزبان کے لہجے میں نا تاسف تھا نا شکوہ، بلکہ ایک عجیب سا فخر گونج رہا تھا

.کیسی آزادی پروفیسر صاحب؟’ میری سمجھ میں یہ بات نا آ سکی تھی’

ذات کی آزادی، روح کی آزادی، سوچ کی آزادی، ایک خانہ بدوش عورت کی آزادی جو اسے ٹک کے ایک جگہ رہنے نہیں دیتی. پر لگے ہوتے ہیں ان کے پیروں تلے.پوری دنیا ان کا گھر ہوتی ہے. بریخنہ بھی آزاد تھی، ایک پنچھی کی طرح سو ایک دن خاموشی سے اڑ گیئ.’ موسیٰ خان کے لہجے میں اک عجیب سا فخرتھا

.کیا؟ وہ چلی گیئ؟ آپ کو بتاے بغیر؟ یہ کیسے ہوسکتا ہے؟’ مجھے یہ بات محبت کے اصولوں کے خلاف لگی’

نہیں، یہ کہنا تو غلط ہوگا کے مجھے اس کے ایک دن چلے جانے کا پہلے سے پتا نہیں تھا.’ موسیٰ خان نے سر جھکاے کہا. ‘اس کی ہر بات سے آزادی کی محبت عیاں تھی. لیکن میں بس اپنے آپ کو دھوکہ دیتا رہا. مجھے اپنی محبت کی طاقت پر یقین تھا. لیکن اس کی محبت میری محبت سے بہت زیادہ طاقتور تھی. سو جیت گیی

.آپ نے اس کو روکنے کی کوشش نہیں کی؟’ میں نے بے چینی سے پوچھا’

کی، بہت کوشش کی. لیکن میری کوشش غلط سمت میں مرکوز تھی.’ موسیٰ خان نے تاسّف سے ہاتھ ملتے ہوئے کہا. ‘جب مجھے احساس ہوگیا کے وہ ایک دن چلی جائے گی تو میں نے سوچا کے کیوں نا اپنے آپ کو اس کی ضرورت بنا لوں. اپنے آپ کو اس کے لئے اتنا ضروری بنا لوں کے وہ مجھے چھوڑ کے جانے کا تصور بھی کبھی دل میں نا لاۓ. لیکن افسوس میری یہ کوشش غلط تھی

کیسے غلط تھی پروفیسر صاحب؟ محبت میں سب کچھ جائزہوتا ہے’. میری دانست میں میرا میزبان کمزور تھا جو محبت کی جنگ میں اسقدر آسانی سے ہار مان گیا

محبت کا مطلب محبوب سے محبت بھی ہے صاب اور محبوب کی محبت سے محبت بھی.’ موسیٰ خان کی مسکراہٹ کامل یقین سے بھری تھی. ‘مجھے بریخنہ سے تو محبت تھی مگر اس کی آزادی سے محبت نہیں تھی. میری محبت بریخنہ کو قید کرنا چاہتی تھی جو اس کی روح کو گوارہ نہیں تھی. سو وہ مجھے چھوڑ کر چلی گیی

.آپ نے پیچھا نہیں کیا اسکا؟’ میں نے بات کچھ سمجھتے ہوئے پوچھا’

کیا. بہت پیچھا کیا. اتنا پیچھا کیا کے میں خود خانہ بدوش بن گیا.’ موسیٰ خان کی آنکھیں دور کسی ان دیکھے صحرا کی خاک چھان رہیں تھی

.آپ کو ملی نہیں کبھی وہ؟ کبھی کہیں دوبارہ نہیں دیکھا؟ میں نے اپنے میزبان کی آنکھوں میں نمی محسوس کرتے پوچھا’

دیکھا تھا. کئی بار دیکھا. اس کے کابل سے رخصت ہونے کے پانچ سال بعد جب پہلی بار دیکھا تو اس کے قبیلے نے قمر دین کاریز کے علاقے میں پڑاؤ ڈال رکھا تھا. میں پتا نہیں کس کس سے پوچھتا پاچھتا اس کے پڑاؤ تک جا پہنچا. وہ سب سے الگ ایک ٹیلے پر اکیلی بیٹھی رباب بجا رہی تھی. تیز ہوا کے جھونکوں میں اس کا آنچل اڑ رہا تھا اور ڈوبتے سورج کی سرخی اس کے گالوں پر غازہ مل رہی تھی. میں نے اسے دور سے دیکھا تو بس دیکھتا ہی رہ گیا. وہاں اس اکیلے ٹیلے پر وہ اپنے محبوب کے ساتھ اکیلی تھی اور اس کا حسن قبل دید تھا. شاید اس لمحے میں نے بھی محبت کا مطلب سمجھ لیا اور اس کے محبوب کو اپنا محبوب بنا لیا.’ موسیٰ خان کے چہرے پر ایک مغموم مسکراہٹ تھی

.آپ نے اس سے ملنے کی کوشش نہیں کی؟’ میں اب بھی محبت کی اس انوکھی تکون کوپوری طرح نہیں سمجھ پایا تھا’

نہیں. میں کیسے اس کی آزاد خلوت میں دخل دیتا؟’ موسیٰ خان نےحیران ہو کر پوچھا. ‘میرے لئے اتنا کافی تھا کے ہم دونوں ایک ہوا میں سانس لے رہے تھے اور ایک ہی محبوب سے محبت کر رہے تھے. بس پھر میں اس کے قبیلے کا پیچھا کرتا رہا. ایک پڑاؤ سے دوسرے پڑاؤ، ایک دیس سے دوسرے دیس. بس دور سے اسے دیکھتا اور اس کی آزادی سے محبت کرتا رہتا

اب کہاں ہے وہ؟ اور آپ نے اسکا پیچھا کرنا کیوں چھوڑ دیا؟ اور یہ تو بتایا نہیں کے آپ یہاں اس گاؤں میں کیوں رہتے ہیں؟’ میں نے موسیٰ خان کومزید کریدا. مگر اس نے میرے سوالات کا جواب دینا مناسب نہیں سمجھا اور اٹھ کر کھڑا ہوگیا. میں نے گھڑی پر نظر ڈالی تو بہت دیر ہوچکی تھی. میں نے بھی جوتے پہنے اور اٹھ کر کھڑا ہوگیا. ہم باہر نکلے تو برف گرنا بند ہوچکی تھی اور ساری دنیا نے برف کا سفید لبادہ اوڑھ رکھا تھا. موسیٰ خان نے اپنے ریل کے ڈبے کو تالا لگایا اورگاڑی کی طرف جانے کے بجاے ایک اور سمت میں بڑھ گیا. پہلے تو میں نے اسے روکنے کا سوچا مگر پھر چپ چاپ اس کے پیچھے چل پڑا. چلتے چلتے ہم دونوں بوستان پہاڑ کے دامن میں جا پوھنچے. وہاں سیبوں کا ایک اکیلا باغ تھا جس کے ویران تند منڈ درخت سیدھی قطاروں میں ایستادہ بوڑھے دربان لگ رہے تھے. وہیں ان درختوں کے درمیان ایک پتھروں سے بنی سادہ سی قبر تھی. موسیٰ خان نے اکڑوں بیٹھ کر قبر کے پتھروں سے برف جھاڑی اورمیری طرف مسکراتے ہوئے دیکھا

‘اپنی بریخنہ کو چھوڑ کر کہاں جاؤں صاب؟’

میری ٹانگوں سے گویا جان ہی نکل گیئ اور میں نا چاہتے ہوئے بھی زمین پر بیٹھ گیا

.یہ کیسے ہوا؟’ تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد میں نے اس سے پوچھا’

بس کیا بتاؤں صاب، قریباً پینتیس برس گزرے، اس کا قبیلہ یہیں بوستان پہاڑ کے دامن میں پڑاؤ ڈالے ہوئے تھا. بریخنہ کو تالاب سے پانی بھرتے کسی زہریلے کیڑے نے کاٹ لیا. بیچاری بہت دنوں تک تکلیف میں تڑپتی رہی. میں اس وقت اس کے قبیلے سے کچھ پیچھے تھا. جب پہنچا تو بریخنہ کو مرے پانچواں دن تھا. ‘ موسیٰ خان نے رومال سے اپنی آنکھیں پونچھیں

.آپ نے کابل واپس جانے کی کوشش نہیں کی؟’ میں نے انگلیوں سے اپنی آنکھوں میں اترتی نمی رگڑتے ہوئے پوچھا’

کابل کس کے پاس جاتا؟ میری محبت تو یہیں رہتی ہے.بوستان پہاڑ کی گود میں.’ موسیٰ خان نے پیار سے قبر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا. ‘صاب، اس کو آزادی سے سچی محبت تھی، اسی لئے وہ آزاد ہوگیی. میں اس انتظار میں ہوں کے میری محبت کا امتحان کب مکمّل ہوگا اور میں کب بریخنہ سے جا ملوں گا

میں حیرانگی سے اس محبت و وفا کے پتلے کو دیکھتا رہا جو ساری زندگی محبت کے سراب کے پیچھے بھاگتا رہا جب کے اس کو اچھی طرح معلوم تھا کے اس کی محبت لاحاصل تھی. اس نے محبت کے حصول پر محبت کے احترام کو ترجیح دی تھی اور اپنے فیصلے پر مطمئن تھا. شاید محبت کا ایک رخ یہ بھی تھا. میں نے سر اٹھا کر بوستان پہاڑ کی جانب دیکھا جہاں اس کی سفید برف میں خدا مسکرا رہا تھا

شہریار خاور

شہریار خاور ایک مشہور لکھاری ہیں، اور مختلف بلاگز پر ان کے تحاریر شائع ہوتی ہیں۔

loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top