معاشرتی برائیاں اور ہم

Mashrti-buraian-or-hum.jpg

‘معاشرہ’ چاھے کوئ بھی ھو مغربی ھو یا مشرقی ، اسلامی ھو یا غیر اسلامی ، عوام سے بنتا ھے یعنی “هم” سے بنتا ھے . پھر اس معاشرے میں رهنے والی عوام کے ‘اعمال’ اور ‘کام’ اچھے ھوں تو وہ ایک ترقی یافتہ معاشرہ کہلاتا ھے لکین اگر اعمال اور کام اچھے نا ھوں تو وہ ایک ترقی پذیر معاشرہ کہلانے کے ساتھ ساتھ ایک ‘برا’ معاشرہ بھی بن جاتا ھے .

اگر ہمارے معاشرے کی بات کی جایے تو ہمارا معاشرہ نا صرف ترقی پذیر ھے بلکے یهاں پر دن با دن “معاشرتی برائیاں” بھی بڑھتی جا رهی ھیں . معاشرہ ہمارا ترقی پذیر ، مگر معاشرتی برائیاں ترقی یافتہ ھیں . اس معاشرے میں نا تو عورت محفوظ ھے اور نا ھی بچے . ڈاکو جیل سے باهر ھیں اور پولیس بااثر شخص کی جیب میں . یہ وہ معاشرہ بن گیا ھے کہ جہاں ترازو کے ایک پلڑے میں “بےحیائ” کو ڈال دیا جایے اور دوسرے پلڑے میں “حیا” کو ڈال دیا جایے تو پتا چلتا ھے کہ بےحیائ کا پلڑا ‘اوپر’ اور حیاء کا پلڑا ‘نیچے’ ھے .

معاشرتی برائیاں بڑھنے اور ترقی پذیر ھونے کا ذمہ دار بھی عوام اکثر ‘حکمرانوں’ کو ٹہراتے ھیں . مگر عوام یہ بات بھول جاتی ھے کہ ان کو حکمران کس نے بنایا ھے؟ ظاهر ھے عوام نے ھی . حکمران همیشہ عوام کے فیصلے سے ھی آتے ھیں . اگر حکمران برے ہیں تو اس کا مطلب کہ عوام بھی بری ھے کیوں کہ اللہ قرآن میں کہتا ھے کہ (مفہوم) : جیسی عوام ھو گی تو ان پر حکمران بھی ویسے ھی مسلط ھوں گے .

اگر حکمران دیانتدار اور مخلص نهیں ھے تو ہمارے معاشرے کا عام آدمی بھی دیانتدار اور مخلص نهیں ھے . اگر حکمران جھوٹ بولتا ھے تو عام آدمی بھی جھوٹ بولتا ھے . اگر حکمران حق مارتا ھے تو ایک عام آدمی بھی دوسروں کا حق مارتا ھے . اگر حکمران کریپشن کرتا ھے تو معاشرے کا عام غریب آدمی بھی ناپ طول میں کمی کر کے کریپشن کرتا ھے . دیکھا جایے تو یہ ایک ھی آئنے کے دو رخ ھیں .

میرے خیال میں کسی بھی معاشرے میں جب یہ تین چیزیں ‘نایاب’ ھو جاتی ھیں تو وہ معاشرہ برائ کی طرف بڑھنے لگتا ھے ، وہ تین چیزیں یہ ہیں: “سچائ ، ایمان داری اور محبت ” . اس معاشرے کی زمین میں ‘سچائ’ کا دانا بویا ھی نهیں جاتا جس کی وجہ سے ‘ایمان داری’ کا پودا اگتا ھی نهیں ھے اور چونکے پودا اگتا ھی نهیں ھے تو پھر ‘محبت’ کے پھل بھی لگنا ناممکن ھے .

بہت ساری وجوھات کو ایک طرف رکھ کے معاشرتی برائیاں بڑھنے کی ایک وجہ قانون کی پاسداری نا کرنا ھے . جب معاشرے کے کسی عام آدمی کو بروقت انصاف نهیں ملتا تو وہ قانون کو اپنے ھاتھ میں لینے کی کوشش کرتا ھے ، انصاف بروقت ملے یا نا ملے مگر قانون کی پاسداری کرنا معاشرے کے ھر فرد پر لازم و ملزوم ھے . اگر ھر فرد قانون کو اپنے ھاتھ میں لینے لگے تو معاشرے کا نظام درھم برھم ھو جایے .

اس کے علاوہ ایک سنگین وجہ فرقہ واریت بھی ھے جو ہمارے معاشرے کی ‘اچھایوں’ کو دیمک کی طرح چاٹ رهی ھے . اسی فرقہ واریت کی وجہ سے لوگ اختلاف کے نام پر ایک دوسرے کا گلا کاٹنے پر آ جاتے ھیں . نفرتیں شدت اختیار کر جاتی ھیں جس کی وجہ سے آپس کا اتحاد کمزور ھو جاتا ھے . ایسی صورتحال میں کسی یہودی یا کافر کو ہمارے خلاف سازش کرنے کی ضرورت نهیں ھے کیوں کہ افسوس کے ساتھ یہ کام ھم خود ھی بڑے اچھے طریقے سے سرانجام دے رهے ھیں .

معاشرے کی بڑھتی ھوئ برایوں کی وجہ اس معاشرے کے لوگ ھی ھوتے ھیں جو یہ تو چاھتے ھیں کہ معاشرے کے حالات درست ھوں مگر حالات کو درست کرنے میں اپنا کردار ادا نهیں کرتے . اس معاشرے کا ھر آدمی ‘سنتا’ ضرور ھے ‘دیکھتا’ بھی ضرور ھے مگر کچھ کرنے کے عمل سے محروم ھے . جیسے کے میں نے اوپر تذکرہ کیا تین نایاب چیزوں کا اگر ہمارے معاشرے میں یہ تین نایاب چیزیں “عام” ھو جایں تو بہت کچھ بدل سکتا ھے . مگر تبدیلی لانے کے لیے ضروری ھے کے پہلے انسان اس کا آغاز خود سے کرے . ھر انسان اپنے اپنے حصے کا معاشرے کی زمین میں سچائ کا دانا بویے جس سے ایمان داری کا پودا اگے گا اور محبت کے پھل لگیں گے اور جب یہ پھل کهایا جایے گا تو معاشرے سے نفرت ختم ھوتی جایے گی .

رمشا ریاض

رمشا ریاض اُردو صفحہ کے مصنفہ ہیں، اور معاشرے کے مختلف پہلو پر لکھتی ہیں،

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top