لبرل ازم کیا ہے؟

for-web.jpg

لبرل ازم کیا ہے؟

لبرل ازم، سیکولر ازم، لبرل فاشزم (جس کو متنازعہ سمجھا جاتا ہے) اور ان کے مقابلے میں روایت پسند، قدامت پسند، شدت پسند وغیرہ ایک بہت طولانی موضوع ہے، جس پر بلامبالغہ کتابیں لکھی جاسکتی ہیں تاہم اس مختصر مضمون میں سوشل میڈیائی لبرلوں کی اصل پہچان کرانا مقصد ہے۔
لفظ “لبرل” قدیم روم کی Latin زبان کے لفظ “لائبر ” یا ” لیبر” یا پھر اسی لفظ کے ایک مترادف “لائبرالس” سے نکلا ہے۔ جس کا مطلب “جسمانی طور پر آزاد شخص” ہے۔ یعنی ایسا انسان جو کسی کا غلام نہ ہو ۔ یہ معنی اٹھارہویں صدی تک رہا اور ہر آزاد شخص کو لبرل کہا جاتا رہا۔ اٹھارہویں صدی میں اس کے معنیٰ میں یہ تبدیلی آگئی کہ “فکری” طور پر آزاد شخص کو لبرل کہا جانے لگا یعنی ایسا شخص جو مذہب کی پابندیوں کو نہ مانے اور اپنی فکر میں آزادی کا دعوے دار ہو۔
یہاں یہ بات سمجھ لیجیے کہ مذہب سے بغاوت کی ضرورت ہی کیوں پیش آئی؟
کسی بھی “الہامی مذہب” پر انگلیاں تب ہی اٹھتی ہیں جب مذہب کی الہامی تعلیمات میں انسان ساختہ تعلیمات کی ملاوٹ ہوجائے، ذہنوں میں پیدا ہونے والے سوالات کے جواب نہ مل سکیں۔مثال کے طور پر عیسائیت کو لیجیے، لبرل ازم دراصل ” عیسائیت” کی کوکھ سے جنم لینے والا وہ ناجائز بچہ ہے جس کی بنیاد مذہبی تعلیمات سے مطمئن نہ ہونا تھا۔ عیسائیت کا عقیدہ ہے کہ تمام انسان پیدئشی گنہگار ہیں، کیونکہ آدم نے جنت میں اللہ کا حکم نہ مانا تھا۔ انگلستان کےمشہور فلسفی جان لاک 1620-1704 نے اسی مذہبی عقیدے سے بغاوت پر مشتمل اپنا خود ساختہ فلسفہ قائم کیا کہ انسان کیسے گنہگار ہو سکتا ہے جبکہ آدم کے گناہ میں باقی انسانوں کا کوئی قصور نہ تھا۔ چنانچہ مذہبی عقائد پر شک وشبے نے جنم لینا شروع کیا جو بالآخر مذہب کو دیوار سے لگانے پر اختتام پذیر ہوا۔
لبرل ازم کے دو اصول اس کی اسا س ہیں۔ آزادی اور مساوات۔
آزادی سے مراد نہ صرف جسمانی آزادی بلکہ فکری آزادی بھی ہے۔چنانچہ لبرل کسی بھی نظریے ، مذہب یا فلسفے پر اپنی رائے میں آزاد ہے۔تاہم چونکہ وہ مساوات کا علم بردار ہے اس لیے وہ دنیا کے ہر انسان کو باشعور سمجھتا ہے اور مساوات کے اصول کے اس کے نظریات کا احترام کرتا ہے۔
یہ ایک متاثرکن، خوش نما اور پر کشش تعریف ہے۔لیکن اگر تھوڑا گہرائی میں دیکھا جائے تو یہ فلسفہ انسانوں کو غلام بنانے سے بھی زیادہ ہولناک ہے۔ لبرل ازم ہر انسان کو عقلمند اور باشعور سمجھتا ہے اور اسے اپنی زندگی گزارنے اور اپنے اصول خود متعین کرنے کا درس دیتا ہے۔ مگر ہر انسان واقعی باشعور اور عقلمند نہیں ہوتا۔وہ اپنی زندگی گزارنے کے لیے ان لبرلز کے قائم کردہ اصولوں پر آنکھ بند کرکے پیروی کرتا ہے حالانکہ وہ خود کو آزاد بھی سمجھ رہا ہوتا ہے۔
اسلام فرد کی بے مہار آزادی کا قائل نہیں بلکہ “ذمہ داری” کا قائل ہے، اسلام میں ہر شخص اپنے اعمال اور کاموں کا ذمہ دار ہے۔ یہ احساس ذمہ داری ایک بہترین معاشرہ تشکیل دینے میں بے حد معاون ثابت ہوتا ہے جس کے نتیجے میں مساوات ، عدل، رواداری اور کئی معاشرتی خوبیاں خود بخود شامل ہوجاتی ہیں۔
مشہور ہسپانوی فلسفی Jose Ortega Y Gasset نے اپنی کتاب The revolt of the masses میں لبرل کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے،
“ایثار اور سخاوت کی آخری حد کو لبرل ازم کہتے ہیں، اپنے کمزور دشمنوں کے ساتھ اشتراک وجود کے عزم کا اظہار لبرل ازم ہے”
امریکی مصنف رابرٹ فراسٹ کے مطابق ” لبرل اس کشادہ ذہن آدمی کو کہتے ہیں جو مخالف کی گالیاں آرام اور سکون سے سہہ لیتا ہے کیونکہ اس کا دماغ مطمئن ہوتا ہےوہ جمود کا شکار نہیں ہوتا اور لڑائی میں بھی صرف دلائل دینے سے غرض رکھتا ہے ”
اس تعریف سے یہ معلوم ہوا کہ جو شخص بحث ومباحثے میں حوصلہ ہار کر گالیوں پر اتر آئے اسے لبرل ازم کی ہوا بھی نہیں لگی۔
آکسفورڈ ڈکشنری کے مطابق لبرل میں درج ذیل چیزوں کا پایا جانا اشد ضروری ہے۔
فیاض، سخی، بردبار، روادار، فراخدل، بے تعصب، حریت پسند، غیر قدامت پسند
لیکن یہاں سوشل میڈیا پر دیسی لبرلوں کو دیکھیے،
ان کے کالم پڑھیے، ان کے میڈیا پر بیانات کا تجزیہ کیجیے،
ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے پاکستان میں لبرل ازم کا صرف ایک ہی مقصد ہے ، “اسلام کو ڈی گریڈ کرنے کے لیے ہر ممکنہ کوشش کرنا”۔ یہ لبرل جو خود لبرل ازم کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ثابت ہوچکے ہیں، ان کے لہجوں میں چھپی نفرت اور ان کے لفظوں میں بجھے زہرکا مشاہدہ کیجیے اور پھر خود سے پوچھیے “کیا یہ لوگ رواداری، فیاضی اور غیر متعصبانہ رویوں کے امام ہو سکتے ہیں”
جو مخالف کی ذاتی تنقید سے گھبرا کر سیدھامقدس ہستیوں کی گندی اور ننگی توہین پر اتر آئیں
اور مقدس ہستیاں بھی وہ جو کروڑوں انسانوں کو دنیا کی ہرچیز سے زیادہ پیاری ہیں، ان کے متعلق غلیظ ترین زبان استعمال کرنا کہاں کا لبرل ازم ہے؟
اگر کوئی شخص خود کو حقیقی لبرل سمجھتا ہے تو اسے چاہیئے کہ سب سے پہلے اپنی صفوں میں چھپی ان کالی بھیڑوں کا سراغ لگائے جو ذاتی تنقید کا بدلہ مخالف کی عظیم شخصیات پر بکواسات کرنے سے لیتا ہے، اور پھربھی خود کو لبرل کہلواتا ہے۔
اگر لبرل ازم کی یہی تعریف ہے تو میرے خیال میں مسلمان ان لبرلوں سے سو گنا زیادہ لبرل اور اسلام لبرل ازم سے ہزار گنا زیادہ برداشت سکھاتا ہے۔

تحریر : ثوبان تابش

ثوبان تابش

ثوبان تابش مصنف ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top