​”جہانگیراڈاکو” اور”داعش”

Jahngeera-dako.jpg

کسی زمانے میں آزادکشمیر اور اس سےملحقہ صوبہء سرحد کےپہاڑی علاقوں کےلوگوں کی اکثریت کا پیشہ بھیڑبکریاں پالناہوتا تھا۔(اب بھی ہے مگر کم)لو گ بھیڑ بکریاں اور ان کی اون بیچ کر آمدنی حاصل کیاکرتےتھے۔مجھے یادہے کہ ہمارے علاقے میں دس پندرہ بھیڑ بکریاں تو ہرگھر میں ہوتی تھیں البتہ کچھ لوگوں کےپاس سینکڑوں بھیڑبکریاں ہوتی تھیں۔ان لوگوں کو “بکروال” یا “آجڑی” کہاجاتاتھا۔ کم بھیڑبکریوں والےلوگ اپنی بھیڑبکریاں چرانےکےلئےان کےحوالےکردیتےتھےاور اس کےبدلےمیں انہیں اجرت دیتےتھے۔ سردیوں میں جب پہاڑوں پر برف پڑنےلگتی اور سردی کی وجہ سے گھاس اور پتے ختم ہوجاتے تو بکروال بھیڑ بکریوں کے ریوڑوں کو راولپنڈی اور اسلام آبادکے مضافاتی جنگلات ؛مارگلہ،شاہدرہ اور بہارہ کہو میں لے جاتے جہاں بھیڑبکریوں کو کھانےکےلئے سدابہار جھاڑیوں کے پتے دستیاب ہوتے۔بکروالوں کی زبان میں اس علاقےکو”کچھا”کہاجاتاتھا۔
گرمیاں شروع ہوتےہی بکروال اپنی بھیڑبکریوں کے ریوڑ لے کر اپنےعلاقوں کی طرف کوچ کرجاتے۔کچھ دن اپنے علاقوں میں بھیڑ بکریاں چراتے مگر جب علاقے میں ہر طرف فصلیں لگا دی جاتیں اور بھیڑبکریاں چرانے پرپابندی لگ جاتی تو پھر وہ لوگ اپنی بھیڑبکریوں کولے کر اونچے پہاڑوں،سرسبز وادیوں،ویران جنگلوں اور ماہلیوں سے ہوتے ہوئے وادئ نیلم کے علاقوں؛ شاردہ اور کیل کی سرسبزو شاداب اور وسیع وعریض چراگاہوں میں چلےجاتے۔بکروالوں کی زبان میں شاردہ اور کیل کی چراگاہوں کو”دراوہ” کہاجاتاتھا۔
بکروالوں کی زندگی بظاہر غموں سے دور اور فطرت کی آغوش میں ہوتی تھی مگر اس زندگی کی مشکلات بھی کم نہ تھیں۔موسموں کی شدت؛گرمی،سردی،آندھی،ژالہ باری،برف باری اور سامان خورونوش اوربستروں کےبھاری گٹھڑ اٹھاکرچلنےکی مشقت تو خیر سہہ جاتے مگر اس سےبھی بڑی مشکل یہ تھی کہ بعض دفعہ بکریوں پر جنگلی درندے حملہ آور ہوکرانہیں مارڈالتے یاچور اور ڈاکو بکریاں لےجاتےلہذہ بکروالوں کی راتیں اکثر پہرہ دیتے ہوئے آنکھوں میں کٹتیں۔
خیر،بات لمبی ہوگئی۔مجھے یاد ہےکہ ہمارے بچپن میں کالے ڈھاکے کا ایک ڈاکو بہت مشہور ہواتھا۔”جہانگیراڈاکو”۔لوگوں کےبقول اس کے ساتھ ڈاکوٶں کاایک بہت بڑاگروپ ہوتاتھا اور یہ لوگ بکروالوں سے پورےکےپورے بھیڑبکریوں کےریوڑ چھین کرلےجاتےاور بعض دفعہ تو بکروالوں کوقتل بھی کردیتےتھے۔ یہاں تک مشہور تھاکہ یہ لوگ انسانی لاش کو آگ پر رکھ کر اس کی چربی نکال کر اس کے ساتھ کھانا کھاتے ہیں۔
“جہانگیرے ڈاکو”نے بےشماربکروالوں کو لوٹا اورقتل کیا۔نہ صرف ہماری وادئ کوٹلہ کےپہاڑی علاقوں میں اس کا رعب،دبدبہ اور دھاک تھی بلکہ وادئ کوٹلہ سےملحقہ سرحدی علاقوں؛لاڑی اور بٹسنگڑہ کےلوگ بھی”جہانگیرےڈاکو”کانام سن کر کان کھڑے کرلیتے تھے۔
صوبہ سرحد کےتھانوں میں “جہانگیرےڈاکو”پر بےشمارمقدمات تھے اور اسے اشتہاری قرار دےدیاگیاتھا۔وہ کافی عرصہ تک مفرور رہا مگر بالآخر اسے گرفتار کرہی لیاگیا۔ اس وقت وہ قدرے بوڑھااورضعیف ہوچکاتھا۔ جب اسے عدالت میں پیش کیاگیا تواس نے بیان دیتے ہو ئے کہا”مجھ پہ ان میں سےاکثر الزامات جھوٹےہیں۔میرےنام پہ کسی اورنے لوٹ ماراورقتل عام کیاہے اگربالفرض میرے اوپر یہ الزامات درست بھی ہوں تو مجھے زیادہ سےزیادہ سزائےموت ہی ہوگی۔ موت کی دہلیز پہ تو میں ویسےبھی پہنچ چکاہوں لہذہ یہ نہ سمجھاجائےکہ موت کےڈرسےمیں ان الزامات سےانکارکررہاہوں”۔
بہرحال اس بےچارے کے اوپرچند چھوٹےموٹے الزامات ثابت ہوئے جن کی سزابھگت کر وہ بری ہوگیا۔بکروالوں کو لوٹنے اورقتل کرنے والا شہرہء آفاق اور پراسرار”جہانگیراڈاکو” کون تھا؟ آج تک کوئ معلوم نہیں کرسکا۔
تو دوستو!
یہ جوپاکستان میں قتل وغارت اور بم دھماکے کرکے “داعش”،”داعش”کاشورمچایاجارہاہے کہیں ایساتو نہیں کہ دشمن ہمارے اوپر وار کرکے کمال ہوشیاری سے اپنا مکروہ چہرہ”داعش”کی آڑمیں چھپارہاہے؟کہیں اس داستان خونچکاں کی حقیقت بھی”جہانگیرےڈاکو”کی لوٹ مار اور قتل عام جیسی تو نہیں ؟😢
خدارہ ،اپنےدشمن کوپہچانئیے!​

ملک بابر علی

انتطامیہ اُردو صفحہ

انتطامیہ اُردو صفحہ

loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top