اس سے پہلے کہ کسی رسم پہ وارے جائیں

is-sy-phly.jpg

اس سے پہلے کہ کسی رسم پہ وارے جائیں
آ کسی خواب کی تکمیل میں مارے جائیں

نہیں معلوم کہ کیوں مار دیا اسے، بس اتنا معلوم ہے کہ مار دیا.

اتنا معلوم ہے کہ اس گھٹیا سماج کے سینے پر اسکا بوجھ اتنا زیادہ بڑھ گیا تھا کہ اس بوجھ کو سر سے اتار پھینکنا بہت ضروری ہو گیا تھا. نہیں نہیں وہ کوئی پہلی نہ تھی، وہ کوئی آخری بھی نہ تھی. جانے اسکے جیسی کتنی اس سماج کی بھینٹ چڑھ چکیں اور کتنی چڑھتی رہیں گی. جانے کتنی طلاق پا کر زندہ مار دی جائیگی، جانے کتنی جہیز کی کمی کا نا قابل تلافی نقصان کریں گی اور جلا دی جائیں گی، جانے کتنی بیٹا پیدا نہ کرنے کے جرم میں تیزاب سے نہلا دی جائیگی. جانے کتنی……!

جانے اس معاشرے کی عورت کو اسکی قسمت کہاں رکھ کے بھول گئی یا شاید قسمت نے بھی اسے بوجھ سمجھ کر کسی کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دیا.

مانتے ہیں کہ مرد بھی مظلوم ہے، معصوم ہے، ہمیشہ قصور مرد کا نہیں، بہت ظلم ہو رہا ہے مردوں پر بھی لیکن آج مجھے اس عورت کا نوحہ کرنے دو، آج مجھے اس لڑکی کی موت پہ رو لینے دو جسکا قصور یہ کہ اس کے گھر اسکی حفاظت کرنے والا کوئی مرد نہ رہا، جو اس سماج کے ہر ستم کا مقابلہ خود کرنے نکل پڑی کیونکہ سہارا دینے کو تعلیم کے علاوہ اسکا کوئی اور آسرا نہ تھا.

آج مجھے ان تمام عورتوں کی موت کا ماتم کرنے دو جو اس مظلوم اور معصوم معاشرے کے ماتھے پہ کلنک کا ٹیکہ تھیں اور اسی وجہ سے اس کالے سیاہ داغ کو کھرچ کر نوچ پھینکنا بہت ضروری ہو گیا تھا.

یہ میری آنکھوں میں آنسو کیوں ہیں؟ وہ میری کچھ لگتی تو نہ تھی، وہ کوئی پہلی تو نہ تھی. لیکن آہ وہ کس قصور میں مار دی گئی.
یہ معاشرہ تو اتنا پاکیزہ اور معصوم رہا ہے کہ اس میں ایک لمبے عرصے تک سزائے موت پہ پابندی لگا کر انسانیت کو اسکی معراج پہ پہنچایا جاتا رہا. پھر اُسے جینے کا حق کیوں نہ ملا….؟

سنا ہے کہ سزائے موت کے قیدیوں کو بھی اپیل کا حق دیا جاتا ہے، اور کچھ نہیں تو موت کی پیشگی اطلاع کی بدولت وہ اپنے رب سے دعا کرتے، معافی کی امید رکھتے ہوں گے

آہ.. اے ظالم عورت! تو نے یہ کیسی سزا منتخب کر لی کہ نہ تجھے اپیل گزارنے کا حق ملا، نا معافی مانگنے کاموقع ملا.
ہاں تیرے جرم زیادہ ہیں، اسلیے تیری سزائے موت پر کوئی پابندی نہیں، ہاں مردوں کے جرم کم ہیں، وہ مظلوم ہے، اسے غصے میں آ کر، طیش میں آ کر غضب ڈھانے کے تمام تر حقوق حاصل ہیں. مگر تیرے جرائم کی فہرست لمبی ہے اگر تو ماری نہ جاتی تو کسی دن ایسے ہی کسی اور مرد کو جنم دیتی جو تیری جیسی کسی اور عورت کو مار دینے کا کوئی نیا طریقہ، نئی روایت اخذ کر لیتا.

حنا شاہنواز کا قتل بھی اور بہت سے دوسرے جرائم کی طرح وقت کی اس خاک میں دفن ہو جائے گا، جس خاک کے حقدار وہ اونچے شملے تھے جن میں لپٹی روایات خون پی پی کر اتنی جوان اور منہ زور ہو چکی ہیں کہ انکو کچلنا کسی عدالت کے بس کی بات بھی نہ رہی.

اور عدالتیں بھی کیا….؟ ایسے غمگسار کی غمگساری پہ خاک.

اول تو ابھی تک اعلی تعلیم اور اچھی نوکری کے علاوہ اسکا کوئی جرم میری نظر سے نہیں گزرا لیکن اگر کوئی ہوتا بھی تو کیا وہ اس قتل کی صفائی دینے کو کافی ہوتا…؟ کیا وہ قتل ان اونچے شملوں سے اٹھتے تعفن کو ڈھک دیتا…؟ کیا وہ غیرت جسکے نام پر آج تک عورت نام کی جاہل مخلوق بھینٹ چڑھائی جاتی رہی کیا وہ غیرت نامی بلا آج کسی تکمیل کو پہنچی یا نہیں….؟

یقیناً نہیں. جب تک انصاف کے کٹہرے بانجھ رہیں گے، تب تک ظلم یونہی بچے جنتا رہے گا.

جب تک عدالتیں رسمی کاروائیاں کرتی اور روایات پہ چلتی رہیں گی تب تک علاقائی روایات کا خاتمہ نا ممکن رہے گا.
جب تک قانون نافذ کرنے والے ادارے قانون کو اندھا، اور واقعی اندھا ثابت کرتے رہیں گے تب تک معاشرے کی بصارت اور بصیرت ناکارہ رہے گی.

مصباح یوسف

مصباح یوسف ٹیچر اور شعلہ بیاں مقرر ہیں ۔ دہم جماعت سے ہی مقامی اخبار میں کالم لکھنا شروع کر دیا تھا لیکن بیچ میں بوجہ تعلیمی مصروفیت یہ سلسلہ منقطع رہا. اب شوقیہ لکھتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top