پیمرا کو ’ہم جنس پرستی‘ پر اعتراض، ’ہم‘ ٹی وی کو نوٹس

News-2.jpg

پیمرا کو ’ہم جنس پرستی‘ پر اعتراض، ’ہم‘ ٹی وی کو نوٹس

پیمرا کا کہنا ہے کہ 29 جنوری کی شب 9 سے 10 بجے ہم ٹی وی چینل پر نشر ہونے والی کتنی گرہیں باقی ہیں کی مذکورہ قسط میں ہم جنس پرستی کے موضوع پر مبنی مواد شامل تھا جو پاکستان کی سماجی، اخلاقی اور معاشرتی اقتدار کے خلاف ہے اور تفریح کے نام پر ایسے ناپسندیدہ اور متنازعہ موضوعات کو ناظرین کی کثیر تعداد نے شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔

پیمرا کا کہنا ہے کہ مذکورہ تحریر اور منظر کشی کا نشر ہونا چینل کی ادارہ جاتی نگران کمیٹی کی غیر سنجیدگی، پیشہ وارانہ ذمہ داریوں سے روح گردانی کی عکاس ہیں۔ لہذا چینل اپنے جواب میں واضح کرے کہ اس کی پالیسی کیا ہے جس کے تحت ڈرامہ کا سکرپٹ ڈائرکشن اور موضوعات کا چناؤ کیا جاتا ہے، جواب میں ان کی منظوری کے عمل کا بھی تفصیلی ذکر ہو۔
پیمرا نے اظہار وجوہ نوٹس میں مزید کہا ہے کہ ہم ٹی وی چینل کو اس نوعیت کے حساس اور متنازعہ ڈرامہ سیریل نشر کرنے پر پہلے بھی تنبیہ کی گئی تھی جس کو چینل نے سراسر نظر انداز کرتے ہوئے اس نوعیت کے موضوعات پر مبنی ڈرامہ نشر کیا ہے۔ جو پاکستان کےناظرین کے لیے ناقابل قبول ہے۔

اس نوٹس میں فنڈنگ کے ذرائع کے بارے میں بھی سوالات کیے گئے ہیں اور پوچھا گیا ہے کہ مذکورہ ڈرامہ، چینل کے اپنے مالی وسائل سے مرتب کیا گیا یا اس کی تشکیل ور نشریات میں غیر ملکی فنڈنگ بھی شامل ہے۔ چینل پر نشر ہونے والا مواد اگر بیرونی مالی ذرائع کے تحت حاصل کیا جائے تو اس کی تفصیلات پیمرا اور ناظرین کو فراہم کرنا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔
پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگیولٹری نے ہم ٹی وی انتظامیہ کو 27 فروری شام چار بجے تک جواب دینے کی ہدایت کی گئی ہے بصورت دیگر مناسب سزا کا اطلاق کیا جائے گا۔
ہم ٹی وی نیٹ ورک کی سربراہ سلطانہ صدیقی نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں منگل کو یہ نوٹس ملا ہے وہ اپنے قانونی مشیروں سے رابطہ کر رہی ہیں اس کے بعد ہی جواب دے سکیں گی۔
کتنی گرہیں باقی ہیں کی ڈائریکٹر انجلینا ملک ہیں، انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پیمرا کے الزامات کو مسترد کیا اور کہا ہے کہ ڈرامے میں ایسا کچھ نہیں دکھایا گیا۔
’جب ڈرامہ میں ایک مرد کو کسی خاتون پر لائن مارتے ہوئے دکھایا جاتا ہے تو اس پر کوئی اعتراض نہیں کرتا ، ہم نے تو دو لڑکیوں کی قربت دکھائی ہے۔ اس کو اگر کوئی ہم جنس پرستی سمجھ رہا ہے تو یہ اس کی رائے ہے، در حقیقت میں ایسا کچھ نہیں۔‘
انجلینا ملک کا کہنا تھا کہ اس سے قبل بھی ایسا دکھایا گیا ہے اور دیکھنے والوں نے اس کو قبول کیا ہے۔
یاد رہے کہ ہم ٹی وی کے یو ٹیوب چینل پر اس ڈرامہ کو کچھ لوگوں نے ہم جنس پرستوں کی تحریک سے جوڑا ہے تو بعض نے اس کی شدید مخالفت اور مذمت کی ہے۔

ْ(بی بی سی اُردو )

انتطامیہ اُردو صفحہ

انتطامیہ اُردو صفحہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top