مصنوعی ذہانت اور حقیقت کا کھیل

Hqeeqat-ka-khail-.jpg

سائنس فکشن کے پُر اسرار پہلووں کو اجاگر کرتی ایک تحریر

آپ انگلش سیکھنا چاہتے ہیں ۔ اس کیلئے آ پ کو محنت ،وقت اور سرمایہ کی ضرورت ہوگی ۔لیکن اگر انگلش چند منٹ میں آپ کے دماغ میں مادری زبان کی طرح شامل ہوجائے تو آپکو کیسا لگے گا ۔چلئے ایک اور مثال لے لیتے ہیں ۔آپ کا مزاج ہمیشہ سے وزیراعلی سندھ قائم علی شاہ جیساسویاہوا ہے ۔اچانک آپ اتنے ہوشیار دانا اور عقلمند ہوجائیں کہ دنیا حیران رہ جائے تو آپکو کیسا لگے گا ۔

جی ہاں ! مستقبل میں کچھ ایسا ہی ہونے جا رہا ہے ۔گوگل کے انجیئنرنگ ڈرایکٹرمسٹر رے کرزول نے پشین گوئی کی ہے کہ 2030 تک ہم ایسی ڈیوائس بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے جو براہ راست دماغ کے خلیوں سے جڑی ہوگی ۔اسے نینو ربوٹ (neno rebot) کہا جائے گا ۔یہ مصنوعی ذہانت کو فروغ دینے والی ایک چپ ہوگی ۔جسے لگانے کے بعد انسان کا دماغ عام سطح سے بہت اوپر کام کرے گا ۔ مثلا اسے تمام زبانوں پر عبور حاصل ہوجائے گا ۔فیصلہ کرنے کی اہلیت بے مثال ہوجائے گی ۔ دنیا جہاں کے علوم کا ماہر ہوجائے گا ۔سوچنے کا وقفہ ختم ہوجائے گا ۔ اسی ڈیوائس کے ذریعے ایک شخص کی ذہانت دوسرے کو دی جا سکے گی ۔انسان کو نیوز دیکھنا نہیں پڑیں گئیں بلکہ نیوز
الحام کی صورت خود دماغ میں اتر جائیں گئیں ۔

سب سے اہم ترین نقطہ یہ ہے کہ چونکہ یہ ڈیوائس انٹر نیٹ سے جڑی ہوگی ۔اس لیے انسان کے تمام خیالات اور منصوبے محفوظ نہیں ہونگے۔بلکہ انھیں دور پار کہیں کسی خفیہ تہہ خانوں میں دیکھا جا رہا ہوگا ۔انٹرنیٹ کے ذریعے ہی دور پار سے ایک عام انسان کے دماغ کو ایک خاص مقصد کیلئے پروگرام کیا جائے گا ۔اسے عام لفظوں میں برین واشنگ بھی کہتے ہیں۔ یہ بات سچ ہے کہ جب ایک بات ہمارے دماغ میں بیٹھ جاتی ہے تو ہم ایکشن لیتے ہیں ۔یہ ایکشن خود کشی جتنا سنگین بھی ہو سکتا ہے ۔ اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر دنیا کے تمام لوگ ذہین فطین ہو جاتے ہیں تو کیا دنیا کا توازن برقرار رہ سکے گا ۔ذہانت کی بہت ساری اقسام ہیں ۔خدا نخواستہ اگر ایک کرمنل ذہانت عروج پکڑتی ہے تو کیا فساد کو روکا جاسکے گا ۔اگر سائبر کرائمنگ کی ذہانت انتہا کو پہنچی تو کیا دنیا کی کوئی سیکیورٹی کمپنی خود کو محفوظ رکھ سکے گی ۔۔۔۔۔ ہر گز نہیں ۔

آخر یہ تباہی کا سامان کیوں پیدا کیا جا رہا ہے ۔اسکے پیچھے کون لوگ ہیں ۔ان کے مقاصد کیاہیں ۔ یہ وہ اہم سوال ہیں جن کا جواب دینا نہایت ضروری ہے ۔ اس وقت پوری دنیا کی ٹیکنالوجی دو ہاتھوں سے نکل کر آرہی ہے ۔ان ہاتھوں کو ایلو میناٹی اور فری میسن کہتے ہیں ۔ ان کا حقیقی وجود یہودیت ہے ۔ یہ لوگ نہایت امیر اور بااثر ہیں ۔ان کا ماننا ہے کہ بہت جلد ان کا خدا آنے والا ہے جو انھیں پوری دنیا کی بادشاہی بخشے گا ۔اس کی صرف ایک ہی آنکھ ہے ۔جس سے وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے ۔ یہودیوں کی یہ خفیہ تنظیمیں پوری دنیا پر اپنا تسلط قائم کرنا چاہتی ہیں ۔ وہ اس مشن کو’’ ون ورلڈ آرڈر ‘‘ کہتے ہیں ۔ یعنی ایک ایسا غلام معاشرہ جہاں ہمارے خیالات بھی آزاد نہ ہوں ۔بلکہ ہمیں دور پار کی ایک طاقت کنٹرول کر رہی ہو۔

حضر ت عیسی ؑ اور دجال کے زمانے میں یہ ٹیکنالوجی بہت اہم کردار ادا کرے گی ۔اس وقت ہمارے دماغ میں کیا چل رہا ہے ۔یہ دنیا کی کوئی طاقت معلوم نہیں کر سکتی ۔یہاں تک کہ جادو اور پر سرار علوم بھی اس کوشش میں ناکام ہیں ۔لہذا میرے علاوہ کوئی نہیں جانتا میرے نانا کی شکل و شباہت کیسی تھی ۔لیکن جب کل انسان دجال کے سامنے کہے گا اگر تو رب ہے تو میرا باپ دادا زندہ کر کے دکھا ۔یہ کہتے ہوئے لازما اس کے دماغ میں باپ دادا کی صور ت اور آواز گونج رہی ہوگی ۔جسے یہ نینو ربوٹ ٹیکنالوجی فوری ٹرانس کرکے دجالی نظام کی سپرد کرے گی۔جو اس وقت کی جدید ترین 7D ہولوگرام ٹیکنالوجی(اس ٹیکنالوجی کو سمجھنے کیلئے ٹائم لائن پر میری تحریر ’’ تھری ڈی کے بعد اگلا ہدف ‘‘ ملا حظہ فرمائیں ) کی مدد سے ایک صور ت تراشے گی ۔جو بہت حقیقت اور ہوبہو اصل آواز کے ساتھ گفتگو کرے گی ۔ممکن ہے شیاطین بھی اس کام میں کوئی کردار اداکریں ۔لیکن احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ دجال کا نظام زیادہ نظر کا فریب ہوگا ۔یہ سب دیکھ کر انسان کہے گا۔۔۔۔ہاں تو ہی خدا ہے ۔میرے ذاتی خیال کے مطابق خدا بننے کیلئے ضروری ہے کہ دعوی کنندہ خدا کی طرح دل اور دماغ کی اندر کی باتیں بھی جانتا ہو ۔لہذا ہم کہ سکتے ہیں دجال اپنی تخریب کاری میں اس مائنڈ ٹرانس سٹریمنگ ٹیکنالوجی کا استعمال کرے گا ۔جو اپنی ابتدا میں مائنڈ چپ کی طرح ہوگی ۔ایک عرصہ بعد ممکن ہے اسے سکینگ ڈیوائس بنا دیا جائے ۔تاکہ کسی شخص کو معلوم بھی نہ ہو کہ اسکی سوچ سامنے بیٹھا شخص پڑھ رہا ہے ۔

اس ٹیکنالوجی کا دوسرا بڑا مقصد حضرت عیسی کی فوج کو مفلوج کرنا ہے ۔اس طریقہ کار میں ایلومیناٹی اور فری میسن اس ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنی فوج کو منظم کریں گے ۔انھیں ہر طرح کے حالات اور آلات پر دسترس حاصل ہوگی ۔ اس فوج میں ایک بھی کم عقل یا جدید علوم سے خالی نہیں ہوگا ۔ہر فوجی مصنوعی ٹیلنٹ سے بھر پور ہوگا ۔پوری دنیا میں ایک ایک فوجی پر ان کی توجہ ہوگی ۔ جبکہ دوسری طرف حضر ت عیسی ؑ کی فوج ان سہولیات سے محروم ہوگی ۔اس فوج کے مجاہد ٹیکنالوجی سے محروم عام سطح کے لوگ ہونگے ۔ممکن ہے وہ سوچنے اور فیصلہ کرنے میں مصنوعی ذہانت کا مقابلہ نہ کر سکیں ۔دجال کے فوجی ایک مائنڈ پروگرام ربوٹ کی طرح جنگ لڑیں گے ۔جبکہ حضرت عیسیؑ کے فوجی نعرہ تکبیر کی چھاؤں میں آگے بڑھتے چلے جائیں گے ۔یہاں یہ بھی ممکن ہے کہ دجالی فوج اس ٹیکنالوجی کو اگر جنگی منصوبہ بندی کی جاسوسی کیلئے استعمال کر تی ہے۔تو حضرت عیسی کیلئے نہایت مشکلات پیدا ہوجائیں گئیں۔یعنی ایک طرح سے اسلامی فوج ان دیکھے حصار میں آجائے گی ۔

یہودی جانتے ہیں کہ نینوربوٹ (neno rebort) دنیا کیلئے موثر چیز نہیں ہیں ۔یہ چپ بہت بڑے جرائم کو جنم دے گی ۔آج جو جرم حد میں رہ کر کیے جاتے ہیں وہ اس ٹیکنالوجی کی بدولت لا محدود ہو جائیں گے ۔اس دنیا میں اچھائی کم اور برائی زیادہ ہے ۔لیکن وہ لوگ اس چیز کو نہیں سمجھ رہے ۔ انھیں ہر صور ت دجال کو حقیقی خدا کا ہم عصر بنانا ہے ۔تاکہ ان کی حکومت قائم ہو سکے ۔انھیں ہر صورت حضرت عیسیؑ کو شکست دینی ہے ورنہ وہ بے موت مارے جائیں گے ۔یہی وہ حقیقتیں جنھیں سوچ کر ان کی نیندیں حرام ہیں اور وہ دن رات منصوبہ بندی میں لگے ہیں ۔یہ سچ ہے 90% لوگ دجال کے ساتھ ہونگے ۔ حضرت عیسی کے سپاہی نہایت قلیل ہونگے ۔یوں بدر کے میدان جیسا منظر برپا ہوگا

ایم عمران ادیب

ایم عمران ادیب مصنف ہیں

One thought on “مصنوعی ذہانت اور حقیقت کا کھیل”

  1. Asim says:

    سر ” تھری ڈی کے بعد اگلا ہدف ” کا لنک سینڈ کر دیں پلیز۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top